No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
آج کی رات بٹ ہاؤس کے لیئے بہت بھاری تھی سب خاموشی سے اپنے اپنے کمروں میں گھس گۓ تھے۔۔راخیل بٹ(تایاجان) اور مسزراخیل(تائ جان) شرمندہ سے بیٹھے ہوۓ تھے کہ وہ چھوٹے بھائ سے کیسے سامنا کریں گے۔
اور سہیل بٹ(چچاجان) مسز سہیل بٹ(چچی جان) اپنی بیٹی کی خراب قسمت اور اپنی لاپرواہی پر ماتم کر رہے تھے۔۔
ثناءاللہ بٹ عرف سنی پچھتاوے کی وسیع سمند میں غوطے مار رہا تھا اسے آج زویا سے انتہا کی محبت محسوس ہوئ جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔اور وہ زویا سے معافی مانگنے کے طریقے سوچ رہا تھا۔۔۔
رہی سوہا تو وہ سٹڈی روم میں بند ہو گئ تھی وہ آج کی رات رونا چاہتی تھی بہت سارا کیونکہ کل اسے دل پر پتھر رکھ کر کچھ فیصلے کرنے تھے۔۔
سلمان بٹ عرف سیم سٹڈی کا درواذہ کھٹکھٹا کھٹکھٹا کر تھک گیا تھا وہ صیح معنوں میں آج سوہا کے آنکھوں سے جھلکتے مفہوم کو پڑھ کر ڈر گیا تھا۔۔۔
اور صالحہ اسے تو جیسے کوئ پرواہ ہی نہیں تھی اور زویا چاہتی تھی کہ وہ رو دے۔۔۔
پھپھو رو لیں یار دل ہلکا ہو جاۓ گا۔۔۔زویا چاہتی تھی وہ روۓ مگر وہ خاموشی سے اپنی جیولری اتارنے میں مصروف تھی۔۔
صالحہ سکندر بٹ اتنی کمزور نہیں ہوئ ابھی کہ کسی کے لیئے رو پڑے ۔جو چلا گیا اس پر رونا اپناوقت اور زندگی برباد کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔میں اس بات پر یقین رکھتی ہوں جو ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے اور اللہ تو بہتر ہی کرتا ہے۔صالحہ اٹھ کر واش روم میں گھس گئ تو وہ بھی خاموشی سے بیڈ پر ڈھے سی گئ۔۔
ایک ماہ بعد۔۔
زویا زویا پلیز یار میری بات سن لو۔۔۔سنی اس کے پیچھے بھاگتے ہوۓ آیا۔۔۔
تم سے کتنی بار کہا ہے مت آیا کرو یہاں اکیڈمی ہے میری کوئ وِزٹ پوائنٹ نہیں ہے۔۔زویا تو تپ اٹھی تھی۔۔
تو گھر پر بھی تم میری بات سنتی نہیں۔۔تو مجبوری ہے یار اس کی سمجھو۔۔۔سنی نے اتنے سینے پر دل کے مقام پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔۔
بولو۔۔۔زویا کے لہجے میں واضح اکتاہٹ تھی۔۔۔
یہاں نہیں کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔سنی نے گاڑی کی طرف دیکھا۔۔۔
سنی جو بات کرنی ہی یہیں کھڑے کھڑے کرو ٹائم بڑباد مت کرو میرا۔۔۔زویا ادِھراُدھر دیکھنے لگی۔۔۔
اچھا زویا مجھے تم سے معافی مانگنی ہے۔۔۔سنی کی نظریں زویا کے چہرے پر ٹکی ہوئ تھی۔۔۔
تو مانگو۔۔۔
آئم سوری زویا فار ایوری تھنگ۔۔رئیلی رئیلی سوری پلیز مجھے معاف کر دو۔۔
اوکے میں نے کر دیا تمہیں معاف اور کچھ۔۔زویا پرسکون لہجے میں بولی۔۔۔
اتنی جلدی کیسے زویا لڑو مجھ سے شکوہ کرو میرے بھٹک جانے پر. گلہ کرو میری بےاعتنائ کا۔۔۔سنی خیرانگی سے بولا۔۔۔
واصف علی واصف کہتے ہیں۔”تعلق رکھنا ہے تو گِلہ کس بات کا اور اگر تعلق نہیں رکھنا تو گِلہ کس بات کا” زویا نے مسکرا کر اپنی بات مکمل کی.۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔وہ آخری بات پر ٹھٹھکا ۔۔۔۔
کچھ نہیں چھوڑو تم نہیں سمجھو گے۔۔
زویا یار کچھ تو کہو یار ایسے بول کر مجھے تکلیف نہ دو پہلے ہی بہت تکلیف میں ہوں میں یارا۔۔۔سنی بےبسی کی انتہاؤں پر تھا۔۔۔
تکلیف درد اذیت جانتے ہو کسے کہتے ہیں میں بتاتی ہوں مسٹرثناءاللہ بٹ۔”جب تم مجھے جان بوچھ کر نظر اندار کرتے تھے ناں میں اتنا تڑپتی تھی چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی کہ شاید تمہیں میری تکلیف کا انداذہ ہو جاۓ۔تم میری اذیت کو محسوس کرو تم کو مجھ سے بھلے ہی محبت نہ ہو شاید ترس ہی آ جاۓ لیکن تمہیں کوئ فرق نہیں پڑتا تھا میں تم سے مہینوں بھی بات نہ کرتی تو تمہیں کوئ فرق نہیں پڑتا تھا۔مجھے فرق پڑتا تھا اور مسلسل پڑتا تھا اور یہ فرق مجھے بہت رُلاتاتھا “اور یہ تکلیف تھی یہ اذیت تھی۔۔زویا بھراۓ لہجے میں بولی۔۔
زویا میں نکالوں گا تمہیں اس اذیت سے تکلیف سے بھروسہ رکھو یارا۔۔۔سنی نے اس کے دونوں ہاتھ تھامے۔۔۔۔
تم نے میری بات غور سے نہیں سنی مجھے فرق پڑتا “تھا” مجھے تکلیف ہوتی “تھی” اب تمہارے خوالے سے کچھ بھی مخسوس نہیں کرتی میں۔ ۔۔زویا نے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں سے کھینچے۔۔۔۔
زویا بہت پچھتا رہا ہوں میں یار بہت۔ معاف کر دو۔۔۔
سنی محبت تمہارے اور میری طرخ نہیں ہے کہ غلطی کرو اور پھر سوری بولو اور وہ اٹس اوکے بول کر کہے چلو نئ زندگی جیتے ہیں۔محبت بےوفائ اور سیلف ریسپیکٹ کو جوتی کی نوک پر رکھنے والوں سے سوری کے جواب میں اٹس اوکے نہیں بولتی۔۔۔زویا پھر سے۔پرسکون ہو گئ تھی۔۔۔
زویا یارا بہت پچھتا رہا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔
تم پچھتا نہیں رہے محرم کو چھوڑ کر نامحرم کے پاؤں کی دھول چاٹنے والے پچھتاتے نہیں ہیں فی الوقت کے بدلتے ہیں جیسے کوئ دوبارہ آنکھوں کو بھا گئ دوبارہ شکار کرنے چل پڑو گے۔۔۔۔۔
ایک موقع دو زویا۔۔۔وہ التجا کر رہا تھا۔۔۔
معاف کر سکتی ہوں موقع نہیں دے سکتی۔۔ایک ہی جگہ سے دو بار دھوکہ کھاؤں گی تو خدا سوال کرے گا کہے گا تمہیں دماغ دیا تھا اور فیصلے دماغ سے کرتے ہیں۔۔اور دماغ نہ کسی بےوفا کی سوری کے جواب میں اٹس اوکے کہتا ہے نہ تم جیسوں کو دوسرا موقع دیتا ہے۔۔۔میری سنگنگ کلاس کا ٹائم ہو گیا ہے اللہ خافظ۔۔۔زویا کہہ کر چلی گئ اور وہ اسے جاتے ہوۓ حسرت سے بس دیکھتا رہا۔۔۔
جی میڈم آپ ۔۔آئیے۔۔صالحہ سٹوڈیو میں داخل ہوئ تو وہاں کھڑے لڑکے نے اسے اندر آنے کو کہا۔۔۔
گرو کدھر ہے تمہارا۔۔۔وہ اِدھراُھر دیکھنے لگی۔۔۔
اِدھرہی تھے آپ رکیں میں دیکھتا ہوں۔۔۔لڑکا کہہ کر باہر نکل گیا۔۔۔
صالحہ سٹوڈیو میں گھومنے لگی جہاں جگہ جگہ فیصل کی البم کے پوسٹر لگے ہوۓ تھے۔۔وہ پہلے بھی یہاں کئیں بار آ چکی تھی۔اب فیصل کا فون بند آ رہا تھا تو وہ پتہ کرنے چلی آئ۔ان دو ماہ میں بہت اچھی دوستی ہو گئ تھی انکی۔۔وہ چلتے ہوۓ اندر روم میں چلی آئ جس کے اندر بھی ایک روم تھا مگر وہ ہمیشہ لاک رہتا تھا۔۔آج اس نے ہینڈل گھمایا تو کھلتا چلا گیا۔۔تو وہ اندر داخل ہو گئ اور حیران رہ گئ۔۔روم میں جگہ جگہ صالخہ کی خوبصورت تصویریں تھیں۔۔ٹیبل پر اس کی یونی میں کھینچی گئ تصاویر تھیں ان کے آگے بہت سارے انویلپ رکھے گۓ تھے ۔اس نے انویلپز کو اٹھا کر دیکھا جن پر نمبرنگ کی گئ تھی۔۔۔
صالحہ نے پہلا انویلپ کھولا۔۔”ڈئیر صالحہ تمہیں پہلی بار دیکھا اور دیکھتے ہیں دل اٹھکلیاں کھانے لگا ۔زبان سے کچھ کہا نہیں جا رہا اس لئیے خط لکھ رہا ہوں اور خدا سے دُعا کر رہا ہوں کہ مجھے ہمت دے۔۔کہ میں تم کو یہ خط دے سکوں۔۔تم سوچ رہی ہو گی ڈیجیٹل کے زمانے میں خط توڈئیر صالحہ میں ذرا کلاسیکل اور پرانا سا بندہ ہوں بس ڈیجیٹل کو مدِنظر رکھ کر یہ کروں گا خط ڈاک کے ذریعے بیجھوں گا مگر یہ بھی کوئ اتنا ڈیجیٹل نہیں ہے پہلے بھی ہوتا رہا ہے مگر کبوتر پر باندھ کر بیجھنے سے تو بہتر ہے۔اوہ تم سوچ رہی ہو گی کتنا بےکار بندہ ہے۔۔صالحہ بےاختیار مسکرا اٹھی۔۔
تو تمہیں بتا دوں واقعی میں بہت بےکار ہوں میں خط کس مقصد کے لیئے لکھا اور کیا بےکار باتیں لے کر بیٹھ گیا ہوں۔وہ بس مجھے اتنا کہنا تھا تم سے محبت ہو گئ ہے اتنی کہ چاہتا ہوں جب میں نوے سال کا ہو کر بستر سے لگ جاؤں تو تم چھڑی گھسیٹتی میرے لئیۓ دوائ لاؤ۔اور کہو۔فیصل اٹھو اور دوا کھا لو تو میں اچھل کر اٹھ بیٹھوں۔۔تم سوچ رہی ہو گی نوے سال کے عمر اور اوپر سے بیمار کیسے اٹھوں گا تو تم کو بتانا چاہتا ہوں محبت کبھی نئ یا پرانی،بوڑھی یا جوان نھیں رہتی وہ بس محبت رہتی ہے اور کسی بھی بیمار کو تندرست کرنے اور بوڑھے کو توانائ دینے کے لئیے کافی ہے۔۔۔تمہارے جواب کا منتظر رہوں گا۔۔۔تمہارا فیصل سلطان۔۔
صالحہ حط پڑھ کر کھکھلا کر ہنس پڑی۔۔اسی طرح اس نے تمام خط پڑھ ڈالے۔۔اور مسکراتی رہی مگر آخر کے تین خطوط نے اسے ٹھٹھکا دیا لکھا تھا۔۔
ڈئیر صالحہ تمہیں یہ خط دے تو نہیں پاتا مگر اب دل ہلکا کرنے کے لیئے لکھ کر تمہاری تصویروں کے پاس رکھ لیتا ہوں۔آج تم نظر آئ تو بہت خوش ہوا میں خدا کا شکر ادا کیا تمہاری گاڑی خراب ہونے پر۔اور پھر اپنی گاڑی میں تمہارے سنگ ہونے پر۔اور جب تمہاری سانسیں رکنے لگی تو دل چاہا اپنی سانسیں تمہیں دوں اور خود مر جاؤں مگر یہ نہ ہو سکتا تھا۔۔اور جب کسی کے نام سے تمہارے چہرے پر مسکراہٹ آتی دیکھی تو دل ڈوب کر ابھرا مگر کیا کرتا میں تمہیں چھوڑ کر گھر آیا اور بہت رویا سمجھ نہ آئ تمہاری تکلیف پر رویا تھا یا اپنے دلِ بےبس پر۔بس دعا کروں گا تم خوش رہو بہت بہت ذیادہ۔۔
فیصل سلطان۔۔
صالحہ نے حط کو رکھا اور اگلا حظ پڑھنے لگی۔۔۔
ڈئیر صالحہ تمہاری شادی کی خبر ملی تو لگا مر گیا ہوں اپنے زندہ ہونے کی تصدیق کے لیٔیے آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا تو پتہ لگا زندہ لاش بن گیا ہوں۔تمہاری یادوں نے سُر عطا کر دیٔیے مجھے لوگ پوچھتے ہیں آپ کی کامیابی کے پیچھے کون ہے تو تم آنکھوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہو۔۔میں مینیٹوبہ جا رہا ہوں آپا رہتی ہیں وہاں۔۔تم بس بہت سا خوش رہو۔۔۔۔
فیصل سلطان۔۔
آخری خط۔۔
ڈئیر صالحہ یہ کیا ہوا تمہارے ساتھ میں نے تو تم کو خوش رہنے کی دعا دی تھی۔۔مگر جو کچھ بھی ہوا اس میں تمہارا مضبوط رہنا بہت اچھا لگا مجھے۔اب تو ہم دونوں دوست بن گۓ ہیں میں چاہتا ہوں تمہیں پرپوز کروں مگر ڈرتا ہوں تم نے انکار کر دیا تو ہم دوست بھی نہیں رہیں گے۔۔۔کاش کچھ ایسا ہو جاۓ تم میری ہو جاؤ۔۔
تمہارا فیصل سلطان۔۔
صالحہ نے خط وہیں رکھے اور ایک فیصلے پر پہنچ کر دروازہ بند کرتی باہر نکل گئ۔۔۔
حسینہ دردوازہ کھولو یار۔۔۔ فہیم دروازہ کھٹکا کھٹکا کر تھک گیا تھا مگر اندر سے کوئ آواز نہیں آ رہی تھی۔۔۔
میں دروازہ توڑنے لگا ہوں پھر۔۔اس نے پھر آواز لگائ۔۔
جب اندر سے کوئ آواز نہ آئ تو اس نے دروازہ توڑنے کا ارادہ کیا اور دروازے پر دو تین لاتیں ماریں تو دروازہ کھل گیا مگر اندر کا منظر دیکھ کر وہ تڑپ اٹھا۔۔
سامنے ہی حسینہ اوندھے منہ پڑی تھی وہ بھاگ کر اس کے پاس پہنچا اور اسے پکڑ کر سیدھا کیا تو حسینہ کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی اور پاس ہی گولیوں کی خالی ڈبی بھی۔۔
حسینہ حسینہ کیا ہوا تمہیں۔۔وہ ہزیانی ہو کر چلانے لگا۔۔
اٹھو نہ دیکھو ایسا مذاق مت کرو میرے ساتھ۔۔وہ زور زور سے اسے جھنجھوڑ رہا تھا کہ وہ اٹھ جاۓ۔۔
پھر اس نے کچھ سوچتے ہوۓ اس کی نبض پر ہاتھ رکھا۔اور ایک جھٹکے سے پیچھے کو ہٹا۔حسینہ کی نبض ساکت تھی بلکل ساکت جیسے ابھی اس کا دل ساکت ہو رہا تھا دھڑکن رک رک کر چلنے لگی۔۔
ایسے کیسے حسینہ۔۔ہم دونوں نے تو ایک ساتھ بہت ساری زندگی گزارنی تھی۔۔وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔۔تو اس کی نظر پاس پڑے کاغذ کے ٹکڑے پر پڑی۔۔تو اس نے جلدی سے کاغذ کو اٹھایا اور اس پر لکھی تخریر پڑھنے لگا۔۔۔۔
محبت بہت پاکیزہ جذبہ ہے جب میں نے یہ جانا اپنی زندگی کو بےمعنی پایا۔صالحہ نے ٹھیک کہا تھا محبت محبوب کا دوپٹہ کسی کو نیچا دکھانے کے لیئے نہیں اتارتی یہ تو اخترام کرتی ہے اخترام دیتی ہے ہر ذی روح کو۔۔بغض نہیں پالتی یہ دل میں۔۔ صالحہ نے ٹھیک کہا تھا جو جیسا ڈیزرو کرتا ہے اسے ویسا ہی ملتا ہے۔واقعی مجھ جیسی تم جیسے کو ہی ڈیزرو کرتی تھی۔مگر میں یہ زندگی نہیں جی سکتی تھی۔کاش کہ میں صالحہ جیسی ہوتی مظبوط پاکیزہ ہوتی۔مگر آج لگا میں تو دو ٹکے سے بھی ذیادہ کی نہیں خاک ہوں میں۔تمہارے ساتھ مل کر میں نے سنی،زویا،صالحہ سب کی زندگیاں برباد کر دی۔اور نہ جانے کتنی زندگیاں اس گناہ کی بھینٹ چڑھیں گی۔۔صیح کہتے ہیں لوگ کسی کا خوابوں کا محل گرا کر اپنی خوشی کی خویلی قائم کرنا ممکن نہیں۔جا رہی ہوں میں بس میرا الله مجھے معاف کر دے۔
حسینہ۔۔
خط پڑھ کر وہ رو دیا اور پھر کچھ سوچتے ہوۓ آنسو صاف کر دئیے۔اس کے چہرے پر بَلا کی سختی در آئ تھی جو اب کیا کرے گی کسی کو انداذہ بھی نہیں تھا۔۔
تم کب آئ۔فیصل اندر داخل ہوا تو صالحہ کو کرسی پر بیٹھے دیکھ کر بولا۔۔
بس تھوڑی دیر ہوئ ہے۔تم کہاں تھے ۔۔ اس نے دونوں ہاتھ ٹیبل پر ٹکا دیئے۔۔
تھوڑا کام تھا۔۔تم بتاؤ کیسے رونق بخشی اس ناچیز کے سٹوڈیو کو۔۔وہ مسکرایا ۔۔
تم کال پک نہیں کر رہے تھے اس لیئے خود ہی چلی آئ۔۔
سوری یار۔تھوڑا بزی تھا۔وہ معزرت کرنے لگا۔۔
اک بات پوچھوں۔وہ کرسی کو آگے پیچھے کرنے لگی۔۔
ہاں پوچھو۔۔۔
میں کیسی لگتی ہوں تمہیں۔۔وہ اس کی طرف دیکھنے لگی۔۔
اچھی لگتی ہو۔۔اس نے نظریں چرائیں۔جسے صالحہ نے غور سے دیکھا۔۔
اتنی اچھی لگتی ہوں کہ اپنی زندگی کے اگلے پچاس پچپن سال میرے سنگ گزار سکو۔۔وہ کہہ کر غور سے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگی۔۔۔
کک کیا مم مطلب۔۔وہ ہکلا گیا اس بات کی توقع نہیں تھی اسے۔۔
بات کو گھماؤں گی نہیں میں ۔بھائ چاہتے ہیں شادی ہو جاۓ میری تو میں تم کو پروپوز کر رہی ہوں چاہے تو انکار کر سکتے ہو تم۔۔۔ صالحہ کہہ کر پھر سے چئیر کو گھمانے لگی۔۔۔
تو تمہارے بھائ چاہتے ہیں تم نہیں۔۔۔
دیکھو میں پریکٹیکل ہوں جانتی ہوں زندگی گزارنے کے لیئے شادی بہت ضروری ہے۔اور مجھے بہت خوشی ہو گی جب تم نوے سال کے ہو کر بستر تک محدود ہو جاؤ گے جب میں تمہارے لیئے دوائ لاؤں گی تو تم بغیر کسی سہارے کے میری آواز سنتے ہی اٹھ بیٹھو گے۔تو میں بھی جوان ہو جاؤں گی ایک دم۔۔۔وہ کہہ کر مسکرائ۔۔
صالحہ یہ سب تت تم کیسے۔۔۔وہ پھر ہکلایا۔۔
اور تم یقین جانو جب میں لاٹھی ٹیکتی ہوئ تمہارے ساتھ واک پر جاؤں گی تو تمہارا یہ کہنا کہ چھڑی چھوڑ دو اور میرا ہاتھ تھام کر چلو۔اور میں پھر ہاتھ تھاموں گی اور ایک لمبی مسافت تمہارے ساتھ مسکراتے ہوۓ طہ کروں گی تو زندگی کے ہمراہ کھل کر مسکرا اٹھوں گی۔اور بہت خوشی ہو گی۔۔۔۔۔۔وہ ایک دلکش مسکراہٹ سے بولی تو فیصل بھی مسکرا اٹھا۔لیکن کون جانتا تھا آگے کیا ہونے والا ہے۔۔
ماما مجھے پلیٹ پکڑائیں۔۔زویا بولی۔۔۔سب ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے رات کا کھانا کھانے میں مصروف تھے۔۔
مجھے بات کرنی ہے سب سے۔۔سوہا پانی گلاس میں ڈالتے ہوۓ بولی۔۔۔
جی بولو بیٹاجی! تایاجان نے کھیڑا منہ میں رکھا۔۔
میرا کلاس فیلو ہے عادل وہ پرپوزل بیجھنا چاہ رہا میرے لیئۓ۔۔سوہا نے کہہ کر گلاس منہ سے لگایا۔۔جبکہ سیم کو کھانسی لگی نوالہ منہ میں ہی پھنس گیا۔سب نے اس کی طرف دیکھا اور اس نے سوہا کی طرف۔۔۔
یہ کیا کہہ رہی ہو بیٹا آپ جانتی ہیں آپ کو اور سیم کو ہم سب نے ہمیشہ ایک ساتھ دیکھا ہے۔۔تایاجان نے کہہ کر سب کی طرف تائیدی انداذ میں دیکھا۔تو سب نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
یہ میری زندگی ہے تایاجان اسے آپ سب کی سوچوں کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتی۔زویا اور صالحہ پھپھو ہی کافی ہیں۔۔سوہا سخت لہجے میں بولی تو سب نے خیرانگی سے اسے دیکھا جبکہ سیم ایسے بیٹھا تھا کہ ابھی سانس رک جاۓ گی۔۔۔
سوہا کیسے بات کر رہی ہو یہ اور تم اور سیم تو پسند کرتے ہو ایک دوسرے پھر یہ سب ڈرامہ کیوں کر رہی ہو۔۔۔سنی نے سوہا کی طرف دیکھا۔۔۔
پسند بدل جاتی ہے آپ سے بہتر کون جانے گا کل تک حسینہ کے عشق میں جان جا رہی تھی اور آج زویا کے دور چلے جانے کے حیال سے جان جا رہی ہے۔۔۔سوہا چبا چبا کر بولی تو سنی نظریں چرا گیا۔۔۔
بیٹا آپ سوچ لو اک بار پھر۔۔اتنی دیر سے خاموش بیٹھے سہیل بٹ بولے۔۔
میں سوچ چکی ہوں بابا بس آپ سب مجھے یہ بتائیں اس ہفتے کون سے دن بُلاؤں اسے۔۔۔وہ بات کر کے اٹھ کھڑی ہوئ۔۔
سنڈے کو بُلا لو۔۔ سہیل بٹ کہہ کر کھانا کھانے لگے۔۔۔
کیا کہہ رہے ہو تم سہیل تم جانتے ہو سوہا کا رشتہ طہ ہے سیم سے۔۔۔تایاجان تیز لہجے میں بولے۔۔
چھوڑیں بھائ صاحب ایک بیٹی کی زندگی میری لاپرواہی نے خراب کر دی دوسری جہاں چاہتی ہے وہیں اس کی شادی کروں گا اور پلیز بھائ صاحب کوئ بحث نہیں۔۔سہیل بٹ کہہ کر کرسی دھکیلتے چلے گۓ۔جبکہ زویا خوشگواریت سے اپنے باپ کو دیکھے گئ۔۔اور سیم تو ایسے بیٹھا تھا جیسے جسم میں جان ہی نہیں۔۔وہ جلدی سے اٹھا اور بھاگتا ہوا سوہا کے روم کی طرف بڑھ گیا۔۔باقی سب کھانا کھانے میں مصروف ہو گۓ۔۔
★★★★★★★★★★★★★★
سوہا ۔۔وہ دھڑام سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا وہ ٹیرس پر کھڑی تھی مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور پھر سے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔۔۔۔
سوہا پاگل ہو گئ ہو تم پتہ بھی ہے کہ کیا کر رہی ہو تم۔۔۔سیم نے کھینچ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔
اکسکیوزمی۔مسٹر سلمان بٹ۔میں تمہیں جواب دہ نہیں ہوں۔میری زندگی ہے اپنے اچھے برے کی خود ذمہ دار ہوں میں۔اور اچھے سے جانتی ہوں کیا کہا ہے میں نے۔۔۔سوہا نے اس کے ہاتھ زور سے جھٹکے۔۔۔
سوہا دیکھو یار مجھ سے کوئ غلطی ہوئ ہے تو معاف کر دو یہ یہ نہیں یار پلیز۔۔ وہ بےبسی سے بولا۔۔۔۔
میں نے کچھ نہیں کیا جو کیا تم نے کیا تم سے کہا تھا سنی کی وجہ سے زویا کو دکھ ملا تو تمہارا اور میرا راستہ الگ۔اور اب تو اس سارے کھیل میں تم بھی شریک تھے۔نفرت ہے تم سے مجھے۔۔وہ غصے میں تھی۔۔۔
سوہا معاف کر دو پلیز یار۔۔اس نے باقائدہ ہاتھ جوڑ دیئے۔۔
اب کوئ فائدہ نہیں جاسکتے ہو تم۔۔۔۔کہہ کر وہ دوسری طرف مڑ گئ مطلب اب جا سکتے ہو تم۔۔
رکو۔۔۔دروازے کی طرف بڑھتے اس کے قدم رکے۔۔۔
بہتر ہے تم یہاں سے کچھ دن کے لیئے چلے جاؤ۔اگر نہیں جا رہے تو کوئ مسئلہ مت کرنا میرے لیئے۔۔سنڈے کو عادل کی فیملئ آۓ گی سب کچھ خیروعافیت سے ہو جانا چاہییے۔اگر تم نے کچھ کیا تو یقین جانو میری خودکشی کے ذمہ دار تم ہو گے۔۔۔سوہا نے سفاکی سے کہہ کر رخ موڑ دیا۔۔سیم آنکھوں میں ڈھیڑ سارے آنسؤ لیئے باہر نکل گیا۔۔۔
★★★★★★★★★★★★★★
اسلام علیکم آپا۔۔فیصل موبائل کان سے لگا کر بولا۔۔۔
جی آپا سنڈے تک آ جائیں آپ۔۔وہ خوش تھا بہت۔۔
جی آپا سچ کہہ رہا ہوں۔۔آپ بس آ جائیں۔۔
جی آپا بہت خوش ہوں میں۔۔۔
ٹھیک ہے تیاری کریں آپ۔۔۔
اللہ خافظ۔۔اس نے موبائیل کان سے ہٹایا اور خوشی سے جھومنے لگا۔۔جس کے خواب دیکھے تھے وہ اسے مل جاۓ گی اس سے بڑھ کر اور خوشی کیا ہو گی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
