No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
او سوری۔۔سوہا کمرے میں داخل ہو کر واپس مڑنے گلی تھی وہ سمجھی شاید کسی اور کے روم میں گھس ہو کہ اس نے دروازہ بند کر کے اسے کھینچ کر بیڈ پر پٹخا۔۔۔
آ. . آ کیا چیز ہو تم زویا دکھنے میں أنٹی سلیمہ اور طاقت میں پورے انکل سلیم۔۔۔سوہا اس طرح بیڈ پر پٹخنے کی وجہ سے درد کی تکلیف سے بلبلا اٹھی۔۔۔
میں ہوتی فرصت میں تو بتاتی تمہیں چنگے طرح انکل اور آنٹی سلیمہ کا فرق ۔۔۔زویا اس کی طرف دیکھتے دانت پیسے۔۔
وہ سب چھوڑو یہ بتاؤ یہ کمرے کو کباڑخانہ بنا کر میڈم زویا کباریہ بٹ جا کدھر رہی ہیں۔۔۔سوہا کہتی ہوئ خفظ ماتقدم کے طور پر بیڈ سے چھلانگ لگا کر پیچھے کھڑی ہو گئ۔۔۔
میری پیاری بہنا رانی ادھر آؤ۔۔وہ سوہا کی طرف دیکھتے ہوۓ بازو پھیلاۓ۔۔۔
نہیں نہیں میں نہیں آ رہی جو کہنا ہے ادھر سے ہی بولو۔۔سوہا اچھے سے جانتی تھی اسے جاتے جاتے بھی اس کی درگت بنا جاتی وہ۔۔
میں جا رہی ہوں آڈیشن پر۔۔وہ کہتے ہوۓ ڈریسنگ کے آگے کھڑے ہو کر اپنے بال صیح کرنے لگی۔۔۔
کیا. . . . ؟؟؟ سوہا کو تو ہزار والٹ کا کرنٹ لگا تھا اور وہ چھلانگ لگا کر اس کے پاس آ گئ۔۔
اب بتا کباریہ بولا تھا تو نے مجھے اور بھاگ بھی رہی تھی اب تجھے کون بچاۓ گا مجھ سے۔۔۔وہ تو سوہا کے آگے آنے کے انتظار میں تھی آتے ہی دبوچ لیا سوہا کو۔۔۔
میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا تھا میری شہزادی بہن۔۔سوہا تو بھول ہی گئ تھی زبان کی کھجلی سے اس نے شیر کی کھچار میں ہاتھ ڈالا تھا۔۔یاد آنے پر اسے پچکارتے ہوۓ بولی۔۔
چل آج میں بہت خوش ہوں اس لیئے بخشا کیا یاد کرو گئ زویا سہیل بٹ سے واسطہ پڑا تھا تمہارا۔۔۔زویا نے اسے چھوڑ کر ایک بار پھر آئینے میں اپنے سراپے کا جائزہ لیا وائٹ نے ٹراؤزر کے ساتھ گھٹنوں سے اوپر آتی بےبی پنک شرٹ پہنے ،براؤن سلکی بالوں کو کھلا چھوڑے گلابی لپ اسٹک سے ہونٹ رنگے ہمیشہ کی طرح بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔وہ بہت ذیادہ خوبصورت نہیں تھی مگر ڈریسنگ سینس اچھا تھا اور دلکش بنانا جانتی تھی وہ خود کو۔۔۔
تم کس آڈیشن کی بات کر رہی تھی ابھی ابھی۔۔سوہا نے اپنا گلہ ملا جسے زویا نے بہت زور سے پکڑا تھا۔۔۔
مابدولت زویا سہیل بٹ صاحبہ آڈیشن دینے جا رہی ہیں پھر وہ گانا گائیں گی اور بہت بڑی سنگر بن جائیں گی اور تم جیسے چھوٹے لوگ یہیں کے یہیں رہ جانا۔۔۔زویا بالوں کو پیچھے جھٹکتے ہوۓ اک ادا سے بولی۔۔۔خوشی اس کے انگ انگ سے جھلک رہی تھی۔۔
تمہارے سر سے یہ بوت نہیں اترا ابھی تک۔۔تایاجان کی لاسٹ وارننگ یاد نہیں ہے تمہیں۔۔۔سوہا اسے تایاجان کے غصے سے ڈرانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔مگر سامنے بھی زویا سہیل بٹ دی تھی ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دینے والی۔۔۔
زویا تم سے کہہ رہی ہوں اس بخار کو جتنے جلدی ہو سکے اتار دو ورنہ تایاجان تمہارا قیمہ بنا کر سب کو چکن تکہ کھلائیں گے۔۔۔سوہا صدمے کی کیفیت میں اسے جھنجھوڑنے لگی۔۔۔
بخار تو تمہیں ہو گیا ہے بلا گوشت کا قیمہ بنے گا تو چکن تکہ کہاں سے آۓ گا۔۔۔زویا سوچتے ہوۓ بولی۔۔اور یہ مجھے تو چھوڑو لگتا ہے وائبریشن پر لگی ہوئ ہوں میں۔زویا نے سوہا کے ہاتھ جھٹکے۔۔۔
کچھ بھی زویا تم مت جاؤ تایاجان کو پتہ لگا تو تم تو گئ ساتھ میرا بھی چکن فالودہ بنے گا۔۔۔۔سوہا اسے اپنی طرف موڑتے ہوۓ بولی۔۔۔
۔۔ہیں چکن فالودہ نیو ریسیپی ہے خیر. . . . سوہی! کون بتاۓ گا انہیں میں تو کبھی نہیں اور تم ۔ ۔ وہ کہتے ہوۓ اسے معنی خیز انداز میں دیکھنے لگی۔ ۔۔
نہیں نہیں میں تو کبھی نہ بتاؤں ۔۔سوہا اس کی نظروں کے مفہوم سمجھتی تھی اور کئیں بار وہ اس کی درگت بھی بنا چکی تھی۔ ۔۔
گڈ ویری گڈ ۔ ۔ سسٹر ۔ ۔ وہ سوہا کا گال سہلاتے ہوۓ مسکرائ۔
میں بھی بالکل نہیں بتاؤں گا آئ سوئیر ! سیم کمرے کے دروازے سے جھانکتے ہوۓ بولا۔۔۔
کمبخت تم شرم تو آتی نہیں ہے لڑکیوں کی باتیں کان لگا کر سنتے ہو۔۔۔زویا غصے سے سیم کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔
واؤ کان سے بات سننا شرمناک خرکت ہے. . زویا میری گروہ شکریہ اتنی اخلاقی معلومات دینے کے لیئے۔۔باۓ دا وے پھر کون سے اغضاء سے بات سننا غیراخلاقی اور شرمناک نہیں ہو گا۔۔۔سیم معصوم سی شکل بناتے ہوۓ بولا۔۔۔
تمہاری تو ۔۔زویا گلدان اٹھا کر اس کی طرف بڑھی۔۔میں بابا کو بتا سکتا ہوں اگر مجھے ذرا بھی کھڑوچ آئی تو۔۔سیم سوہا کے پیچھے کھڑے ہوتے ہوۓ بولا۔۔۔
بلیک میل کر رہے ہو۔۔۔وہ اس کی طرف تیکھی نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔
آف کورس. . وہ مسکراتے ہوۓ بولا تو زویا نے جوتا اٹھا کر اس کے بازو پر دے مارا۔۔۔
میں جا رہی ہوں خبردار جو ایک لفظ بھی کسی نے اپنی زبان پر لایا تو ورنہ. . . . . . وہ ان دونوں کی طرف انگلی کرتے ہوۓ بولی۔۔۔
بالکل بھی نہیں بتائیں گے ۔۔۔دونوں نے ایک ساتھ نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
گڈ سمجھدار لگتے ہو۔۔۔وہ بالوں کو پھر سے پیچھے جھٹکتے ہوۓ کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئ۔۔۔
اففف کیا ہے یار بہن کہ جلاد تمہاری۔۔۔سیم بیڈ پر ڈھے جانے والے انداز میں بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔
خبردار جو میری بہن کو کچھ بولا تو ۔۔۔سوہا نے جوتا اٹھاتے ہوۓ اسے سیم کی طرف لہرایا۔۔۔
اففف دونوں ہی پوری جلاد ہو۔۔۔کہتے ہی وہ باہر بھاگ گیا پیچھے سے سوہا کا جوتا دروازے پر لگ کر رہ گیا۔۔۔۔۔
ماما مجھے ناشتہ دے دیں۔۔۔اس نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوۓ صدا لگائ۔۔۔
کیوں تمہارے اپنے ہاتھ مارننگ واک پر گۓ ہیں۔۔۔سنی کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوۓ تیکھے انداز میں بولا۔۔۔
ہاتھ مارننگ واک پر نہیں جاتے۔۔۔وہ اس انداز میں جیسے کوئ بہت بڑی انفارمیشن دی ہے۔۔۔
او شکریہ مس زویا۔۔آپ نے تو لاکھوں کی بات بتائ مجھے۔۔۔سنی اخبار کو لپیٹتے ہوۓ بولا۔۔
تم کیوں نہیں بنا دیتے مجھے ناشتہ مس ثناء۔۔۔وہ اسے چھیڑنے کے لیئے اس کا پورا نام لیتی تھی۔۔۔
سنی کہا کرو مجھے کتنی بار کہا ہے تمہیں۔۔۔وہ اخبار کو اس کے منہ پر مار کر اٹھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
اتنی بھی کیا چڑ نام ہے تمہارا ۔۔میں تو پورے نام سے پکارتی ہوں. . نک نیم رکھنا گناہ ہے۔۔۔وہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوۓ بولی۔۔۔
قربان نہ جاؤں میں اس دو ٹکے کی معصومیت پر جیسے بہت الله والی ہو ۔۔گناہ ہوتا ہے۔۔سنی اس کی نقل اتارتے ہوۓ بولا۔۔۔
میں آج بہت خوش ہوں مس ثناء اس لیئے تم چھوٹے لوگوں کو منہ نہیں لگاؤں گی۔ناشتہ میں باہر ہی کر لوں گی۔۔۔وہ اسے اور تپ چڑھاتی ٹک ٹک کرتی ہیلوں کے ساتھ باہر کی طرف بڑھ گئ۔۔۔۔
مجھ سے سو فٹ دور ہی رہا کرو مس زویا زہر سے بھی ذیادہ بری لگتی ہو تم مجھے شادی کرو اور دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔وہ غصے سے بلبلا اٹھا تھا۔اسے غصہ آتا بھی بہت تھا اور زویا پر تو اتنا آتا کہ جان سے مارنے کا دل کرتا تھا۔۔۔وہ جواب میں زبان نکال کر مزید اسے چڑاتے ہوۓ چلی گئ۔۔۔
جی بھائ صاحب آپ نے بلایا۔۔سہیل صاحب اور ان کی بھیگم کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولے۔۔۔
ہاں بیٹھو یہاں کچھ بات کرنی ہے تم لوگوں سے۔۔اور یہ اپنا کاغذوں کا پلندہ اپنے کمرے میں چھوڑ کر آنا تھا نہ۔۔۔راخیل صاحب جو گھر کے بڑے تھے سہیل صاحب کو بولے۔۔۔
وہ بھائ صاحب میں نے سوچا کوئ فلمی سی سیچوئیشن کبھی بھی ہو سکتی ہے تو کہیں مجھ سے کچھ چھوٹ نہ جاۓ۔۔سہیل صاحب اپنے کاغذ اپنے سینے سے لگاتے ہوۓ بولے۔۔۔
اچھا اچھا بھائ صاحب جس بات کے لیئے بلایا ہے وہ تو کریں ۔۔۔چھوٹی پھپھو اپنے جلدی جلدی والے انداز میں بولی جس کی وجہ سے ان کا سانس اکثر پھولا ہی رہتا تھا۔۔۔۔
آرام سے صالحہ آرام سے بیٹھو ۔پانی پیو پھر کرتے ہیں بات۔۔۔تایاجان چھوٹی پھپھو کو صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولے۔۔۔۔
سب آ چکے ہیں تو میں اپنی بات شروع کروں۔۔۔تایاجان نے باری باری سب پر نظر ڈالتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
جی بھائ صاحب سب آ چکے آپ شروع کریں۔سہیل صاحب نے اپنے کاغزوں پر پین رکھتے ہوۓ اشتیاق سے کہا۔۔۔
تو آج میں نے آپ سب کو اس لیئے جمع کیا ہے کہ میں چاہتا ہوں اور امی جان کی بھی یہی حواہش تھی کہ ثناءاللہ اور زویا کی شادی کر دیں۔۔۔تایاجان نے سہیل صاحب کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا جن کا قلم تیزی سے کاغذات پر چل رہا تھا۔۔
جی جی بھائ صاحب جیسے آپ کہیں۔۔سہیل صاحب سر اٹھا کر کہہ کر پھر کاغذات پر گھس گۓ۔۔۔
ٹھیک ہے پھر پہلے نکاح کر لیتے ہیں ان دونوں کا پڑھائ مکمل ہو جاۓ تو رخصتی کر لیں گے۔۔کیا کہتے ہیں آپ لوگ. . تایاجان نے سب کی طرف تائیدی انداذ میں دیکھتے ہوۓ کہا. . .
بھائ صاحب سنی اور زویا سے بھی ایک بار پوچھ لیں۔۔ چھوٹی پھپھو کھڑے ہوتے ہوۓ پھر جلدی جلدی بولی۔۔جنہیں مسزسہیل نے ہاتھ سے کھینچ کر پھر بٹھایا۔۔
ان سے پوچھنے کی کوئ ضرورت نہیں ہے میرے بچے ہیں میرب فیصلہ نہیں ٹالیں گے۔۔تمام والدین کی کہی بات تایاجان نے دہرائ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے سب تیاریاں کرو پھر اگلے ہفتے ان کے نکاح کا فننکشن۔۔۔تایاجان اپنی بات مکمل کر کے ہال سے باہر نکل گۓ. .
۔
آج کے زبردست سینس تیار ہو گۓ۔۔دیکھو ذرا. . سہیل صاحب کاغذات اپنی بیوی کو دکھاتے ہوۓ بولے۔۔۔
رہنے دیں ہر وقت ان میں لگے رہتے ہیں اٹھیں . . مسز سہیل انہیں کہنی مارتے ہوۓ بولی اور کھینچ کر ساتھ لے گئیں۔۔۔
میں بھی تیاریاں کر لوں آخر کو میرے بیٹے کی شادی ہے۔۔۔تائ جان بھی دوڑتے ہوۓ باہر نکل گئیں۔۔۔
جاری ہے
