60.3K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3


ابا آپ تایا جی کو بولیں نہیں کرنی مجھے اس سنی سے شادی۔۔ماں کے منتیں ترلے کرنے کے بعد اس نے باپ کی طرف دوڑ لگائ تھی ۔اسے آس تھی اس کا باپ اسے سمجھے گا۔۔۔۔۔۔۔
کیوں فالتو باتیں کر رہی ہو زویا بیٹا۔۔۔سہیل بٹ نے اسے تیز نظروں سے گھورا۔۔۔
ابا آپ حود دیکھیں میرا اس کا کوئ جوڑ نہیں ۔۔اسے خوبصورت بیوی چاہیئے ہمیشہ سے اور مجھ سے تو قدرتی طور پر بےانتہا چڑتا ہے وہ۔۔۔۔۔۔پلیز ابا زندگی برباد ہو جاۓ گی میری۔۔۔۔وہ اب باقائدہ سہیل صاحب کے گھٹنے پکڑ کر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔
تم بھی کتنی خوبصورت ہو وہ سدھر جاۓ گا۔۔۔سہیل صاحب نے بیٹی کو پچکارنا چاہا۔۔۔
ابا پلیز آپ میرے باپ ہیں آپ کو میں ہر اینگل سے اچھی لگوں گی وہ ثناءاللہ ہے اسے میں ہر اینگل سے بری لگتی تھی لگتی ہوں اور لگوں گی۔۔۔۔وہ اپنی بات سمجھا ہی نہ پا رہی تھی ان کو یا وہ سمجھنا نہیں چاہ رہے تھے۔۔۔
ابھی کچھ نہیں لگتا جب شوہر بنے گا تمہارا تو تم سب سے خوبصورت لگو گی اسے اور ویسے بھی بیٹا نکاح کے بعد محبت ہو ہی جاتی ہے ۔۔۔۔تمام والدین کی طرح ان کا مؤقف بھی وہی تھا محبت ہو ہی جاتی ہے۔۔۔۔
چلیں مان لیا ابا نکاح کے بعد محبت ہو جاتی ہے پر تمام کیسز میں ایسا نہیں ہوتا۔محبت کے لیئے ہر ذی روح نایاب ہے پر ہر ذی روح کے لیئے محبت نایاب نہیں ہے سنی بھی انہیں چند ذی روح میں سے ہے۔۔۔اس کی آواز تھوڑی اونچی ہوئ۔انداذ منت بھرا تھا۔۔
بیٹا آپ جا سکتی ہیں میں مزید بخث نہیں کرنا چاہتا آپ سے اور بھائ صاحب ہی ہمیشہ سے فیصلے کرتے تھے وہی کریں گے۔ان کی عمر اور تجربہ اتنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے اچھے بُرے کو سمجھ سکیں۔۔۔۔۔سہیل صاحب کھڑے ہو گۓ۔انداذ دو ٹوک تھا۔۔
ابا میں تایاجان کی نہیں آپ کی بیٹی ہوں آپ سمجھیں مجھے آپ میری بات کا مان رکھیں۔۔اور ضروری تو نہیں ہے تایاجان کا ہر فیصلہ درست ہو میں تایاجان کے عمر بھر کے تجربے کی نظر اپنی زندگی نہیں کر سکتی۔۔۔۔لہجہ نرم سے سخت ہوا۔انداذ کچھ کر جانے والا تھا۔۔۔۔
تم جا سکتی ہو زویا۔. سہیل صاحب غراۓ۔اور پہلی دفعہ تھی جو اس نے اپنے باپ کو اتنے غصے میں دیکھا تھا ورنہ وہ بہت شانت رہتے تھے۔۔۔۔۔۔۔
ابا نہیں جاؤں گی آپ کو میری بات سننی پڑے گی آپ بھائ کی محبت میں بیٹی کی زندگی جہنم نہیں بنا سکتے میں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔تایاجان ہمیں اون کرتے ہیں اس کب مطلب یہ نہیں ان کے احسانوں کے ملبے تلے اپنی زندگی دفن کر دوں۔۔۔جواب میں وہ بھی غرائ تھی۔۔شدتِ ضبط سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
زویا۔۔چٹاخ۔۔۔۔ایک زوردار تھپڑ زویا کے گال پر پڑا۔۔وہ لڑ کھڑائ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
ابا آپ نے مارا مجھے۔۔۔وہ شکوہ کناں تھی اس کے باپ نے اسے مارا تھا وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
ہاں اس لیئے کہ تمیز ختم ہوتی جا رہی ہے تم میں سے۔۔باپ سے بات کرنے کا طریقہ بھول گئ ہو۔۔۔اس کے لہجے نے انہیں تکلیف پہنچای تھی۔۔وہ صوفے پر ڈھے گۓ۔۔۔۔۔
ابا ابا سوری پلیز معاف کر دیں۔۔۔آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ وہ باپ کے گھٹنے سے آ لگی۔۔اسے احساس تھا وہ تیز بول گئ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ امید نہیں تھی زویا بچے تم سے۔۔۔سہیل صاحب دکھی تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابا سوری۔۔۔وہ بلک بلک کر رو دی۔۔سہیل صاحب کا دل پسیجا۔۔۔
زویا بیٹا تم کچھ الٹا سیدھا کر کے میرا سر شرم سے مت جھکانا۔۔۔بلکتی ہوئ زویا کے سر پر ہاتھ رکھا جو گھٹنے سے لگی زاروقطار رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
باپا میں کچھ نہیں کروں گی آپ میری بات مان لیں۔۔۔اس نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔
زویا اپنے باپ کا سر کیوں جھکا رہی ہو سب کے سامنے۔۔۔۔
بابا میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔ان کے دونوں ہاتھوں پر بھوسہ دیتے ہوۓ وہ رو پڑی۔۔۔۔
تو کچھ الٹا سیدھا مت کرنا پھر ۔۔۔۔۔۔۔
مگر بابا. . . . . . . ۔۔۔۔۔
اگر مگر کچھ نہیں زویا نکاح پڑھو یا اپنے باپ کا مرا منہ دیکھو۔۔۔۔زویا نے تڑپ کر انہیں دیکھا ۔ ۔۔آخری تیر اموشن کا چلایا جو سیدھا دل کو چیڑ گیا۔۔۔
بابا دعا کروں گی وقت اس مقام پر نہ لے جاۓ جہاں آپ غلط ثابت ہوں اور تایاجان کا تجربہ مٹی ہو جاۓ۔۔۔میں ایسا بلکل نہیں چاہوں گی۔۔۔آنسؤں صاف کر کے کہتی وہ کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔


وہ عروسی جوڑا پہنے پارلر میں بیٹھی اپنے ہاتھوں میں لگی مہندی کو دیکھ رہی تھی۔۔
اس نے کتنی منتیں کی تھیں اپنے ماں باپ کی مگر کسی نے اس کی بات پر توجہ نہیں دی۔۔
وہ سب کو بتانا چاہتی تھی وہ خود منوانا چاہتی تھی۔وہ گلوکاری کی دنیا پر راج کرنا چاہتی تھی مگر آخری قصور اس کا بیٹی ہونا تھا۔
اس کا نکاخ تھا آج وہ بھی ایسے شحص کے ساتھ جسے اس میں کوئ انٹرسٹ نہیں تھا۔
جو اسے ایک پاؤں کی جوتی سے ذیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا۔۔
جو مجبوری میں اس کا ہاتھ تھام رہا تھا۔۔
سیم نے اسے پارلر سے پِک کیا کب وہ گھر پہنچی اسے کچھ پتہ نہیں تھا۔۔


ہر طرف گہماگہمی تھی “بٹ وِلا” کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔رنگ برنگے کپڑے پہنے لوگ رنگ بکھیرتے ہوۓ ادھر سے اُدھر پھر رہے تھے۔۔نکاح کی رسم کا انتظام گھر میں ہی کیا گیا تھا۔۔اسٹیج کو سرخ اور سفید گلابوں کے امتزاج سے سجایا گیا تھا ۔۔جس پر سیم تھوڑی دیر پہلے سنی کو بگڑے موڈ کے ساتھ بٹھا کر گیا تھا۔۔
اتنے میں سنی کی امّی اور زویا کی امی اور سوہا کے درمیان جھکے سر کے ساتھ زویا آتی دکھائ دی۔۔۔جو سفید کام دار فراک کے ساتھ سرخ دوپٹہ سر پر ٹکاۓ چلی آ رہی تھی۔جس پر صالحہ پھپھو اس پر پھول برسا رہی تھیں۔۔بڑی پھپھو نے آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوما پھر اسے اسٹیج پر لا کر بٹھایا گیا۔تو مقابل بیٹھے سنی نے بُِرا سا منہ بنایا۔۔چہرہ نہایت سحت جذبات لیئے ہوۓ تھا یا جذبات سے ہی عاری تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تو پرسکون رہیں بھائ نکاح ہے آپ کا۔۔۔سیم نے اس کے سحت تاثرات پر طنز کیا۔۔۔
سارا سکون غارت کر دیا ہے تمہارے باپ نے اور صاحب کہہ رہے ہیں پرسکون رہو۔۔سنی تو بگڑا بیٹھا تھا۔۔۔
آ ہاں اتنا ہی سکون غارت ہو رہا تھا پریزیڈنٹ صاحب کا تو کاہے کو نکاح کے لیئے ہامی بھری نہ کرتے میری بَلا سے۔۔۔وہ ہاتھ ہوا میں نچاتے ہوۓ بولی۔۔۔
مادھوری ڈکشت کی اولاد ہاتھ نیچے رکھ کر بھی بات کر سکتی ہو تم۔۔۔وہ اس کے ہوا میں لہراتے ہاتھوں کو پکڑ کر اس کی گود میں پٹختے ہوۓ بولا۔۔۔
ایکسکیوزمی ذرا تمیز سے ورنہ تمہارے سارے پلان کا بانڈہ پھوڑ دوں گی ابھی سے۔۔۔سب کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوۓ وہ چبا چبا کر بولی۔۔۔
زویا میڈم تمہارے پر تو میں کاٹوں گا۔۔۔وہ بڑبڑایا۔۔۔جسے زویا نے واضح سنا۔۔وہ پرٹینٹ کرتی تھی اسے سنی کی غصے سے کوئ فرق نہیں پڑتا مگر اس کے غصے سے وہ سہم جاتی تھی۔۔۔
اسے اپنے خواب ماہی بےآب کی طرخ تڑپتے ہوۓ دکھائ دے رہے تھے۔۔اک آنسو آنکھ کے کنارے پر آ ٹِکا جسے مسکراہٹ اور شرارت کے لبادے میں چھپا لیا اس نے۔۔۔۔۔۔سنی کیا سلوک کرتا اس کے ساتھ اسے یہ ڈر کھاۓ جا رہا تھا۔۔۔۔
سیم مولوی صاحب کو ذرا دیکھو پہنچے نہیں ابھی تک۔تایاجان(راحیل بٹ) نے سیم کو کہا جو سوہا کی پاس کھڑا اس کے حُسن کے قصیدے پڑھ رہا تھا۔۔۔
تھوڑی دیر میں مولوی صاحب آگۓ۔۔۔۔۔
آج اسے اپنے سارے سپنوں کو دل کے قبرستان میں دفنا کر بیٹی ہونے کا فرض نبھانا تھا۔۔
نکاخ شروع کیا گیا۔۔
زویاسہیل بٹ آپ کو پچاس لاکھ خق مہر ثناءاللہ راخیل بٹ کے نکاح میں دیا جاتا ہے قبول ہے۔۔
اس کا دل چاہا خلق پھاڑ کر انکار کر دے مگر نہ کر سکی آحر وہ ایک بیٹی تھی اسے یہ خق نہیں دیا گیا تھا۔۔وہ انکار کرتی تو اس کا باپ مر جاتا۔۔۔
اس نے آہستہ سے گردن ہاں میں ہلائ۔۔
مبارک باد کا شور اٹھا۔۔ثناءاللہ اور اس کے دستخط لیئے گۓ۔۔
اسے لا کر اس کے پہلو میں بٹھایا گیا۔۔
ثناءاللہ کے تاثرات سرد تھے برف سے سرد۔۔
ثناء نے ہاتھ پیچھے گھما کر اس کی کلائ اتنی زور سے پکڑی کہ اس کے منہ سےچیخ نکلتے نکلتے رہ گئ۔۔
بہت شوق تھا ناں میری بننے کا سارے شوق پورے کروں گا ایسے کہ سدا یاد کرو گی۔اور یہ جو قینچی کی طرح زبان چلتی ہے اسے بھی ایسا کاٹوں گا کہ کھونگھی مشہور ہو جاؤ گی۔۔۔۔وہ سخت وخشیانہ لہجے میں بولا۔۔
وہ ڈری نہیں تھی مگر ساکت ہوئ دھڑکن ساکن ہوئ۔۔اور اس نے نظریں جکھا لی کہ اسے یہ حق بھی نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے مینٹلی ٹارچر کا ڈھنڈورا پیٹتی آخر کو وہ بیٹی جو تھی۔۔۔
۔۔زویا سہیل بٹ سے وہ زویاثناءاللّہ بٹ بنا دی گئ اور اس کے تمام جملہ خقوق سنی کے نام کر دیئے گۓ۔۔سب خوش تھے سواۓ دلہا اور دلہن کے۔۔۔
زویا نے شکوہ بھری نگاہ باپ پر ڈالی جو آج بہت خوش تھے۔۔۔ان کو خوش دیکھ کر وہ ہلکا سا مسکرائ۔۔۔


کتنا کھڑوس آدمی ہے توبّہ۔۔زویا اپنا دوپٹہ اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا۔۔سنی کے رویے سے وہ ڈر گی تھی مگر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
اب ایسا تو نہ کہو اچھا بَلا تو تھا وہ۔۔۔صالحہ پھپھو جو سوہا سے کچھ بات کر رہی تھی زویا کے اس طرح کہنے پر فٹاک سے بولیں۔۔۔
آپ کو تو لگے گا اچھا پر میں بتا رہی ہوں مجھے زہر لگتا ہے وہ ۔اسے زہر دے کر اگلے جہان پہنچا دوں گی میں کسی دن پھپھو۔۔زویا اپنی جیولری کو اتارنے لگی۔۔۔
پھپھو کی حوشی تو برداشت ہی نہیں ہے پاکستانی بھتیجوں کو تو ذرا پھپھی کو خوش دیکھا نہیں اور چلیں زہر دینے۔۔۔۔صالحہ پھپھو کھڑے ہو کر تیز تیز بولنے لگیں جس کے نتیجے میں ہمیشہ کی طرح اُن کا سانس پھول گیا۔۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہیں چھوٹی پھپھو کیوں برداشت نہیں مجھے آپ کی خوشی۔اور تھوڑا آرام سے بات کیا کریں پتہ ہے آپ کو کہ آپ کا دمہ بِگڑ جاتا ہے۔۔۔۔زویا نے انہیں پانی کا گلاس تھمایا۔۔۔
تو پھر فہیم(بڑی بھپھو کا دیور) کو زہر دینے کی بات کیوں کر رہی ہوں۔۔۔صالحہ نے ایک ہی سانس میں پانی پیا۔۔
میں فہیم کی بات نہیں کر رہی تھی پھپھو۔۔۔زویا ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولی۔۔
تو پھر کس کو زہر دے رہی ہو۔۔۔پھپھو یہ سن کر سکون سے بیٹھتے ہوۓ بولیں۔۔
آپ کے بتیجھے صاحب کی بات کر رہی ہے یہ۔۔۔زویا سے پہلے سوہا بول اٹھی۔۔۔
ویسے جتنا وہ سڑیل ہے اثر نہیں کرنا اس پر زہر کچھ اور سوچو۔۔۔چھوٹی پھپھو بولیں تو تینوں نے باری باری ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر کمرہ ان کے فلک شگاف قہقہوں سے گونج اٹھا۔۔۔۔


تم دونوں کی پھر سے لڑائ ہوئ ہے۔۔۔مسزسہیل مارکیٹ سے واپس آئیں تو ان دونوں کے نۓ دنگل کی خبر سن کر زویا کی حبر لینے فوراً پہنچیں۔۔۔
ماماجان میں بتا رہی ہوں لڑائ سنی نے شروع کی تھی۔۔وہ تو ماں کے ہاتھ میں دیسی ہتھیار(جوتا)دیکھ کر بھاگنے کے لیئے پر تولنے لگی۔۔۔
وہ شروع کرتا ہے یا تم مجھے نہیں پتہ مگر اتنا تو تمہیں پتہ ہے کہ بیوی ہو تم اس کی۔۔۔مسزسہیل نے رکھ کر اسے جوتا مارتے ہوۓ کہا جس سے وہ پھرتی سے جُکھ کر بچ گئ۔۔۔
کیا ہو گیا ہے آپ سب کو اچھے سے یاد ہے مجھے اب تو یہی یاد رہ گیا ہے جا کر دیکھ لیں میرا واش روم ہر دیوار پر روشن خروف میں لکھ دیا ہے میں نے نہیں بھولوں گی۔۔وہ ہاتھ جوڑ کر بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔
دیکھو میرا بچہ اب تم بڑی ہو گئ ہو خیر سے نکاح ہو گیا ہے وہ اب شوہر ہے تمہارا اس کی عزت کیا کرو مت لڑا کرو اس سے۔۔۔۔مسزسہیل اس کا سر اپنی گود میں رکھتے ہوۓ بولیں.۔۔
تو ماما وہ بھی تو عزت کرے میری سب کے سامنے کبھی باندری کہتا ہے کبھی شملہ مرچ اسے بھی سمجھنا چاہئیے میں بیوی ہوں اس کی۔۔۔زویا افسردگی سے بولی۔۔وہ انہیں یہ نہیں بتا سکی کہ اس کی باتیں زویا کو مینٹلی ٹارچر کرتی تھیں۔اس کا غصہ اس کی جان نکالتا تھا۔۔۔۔
بیٹا آپ پہل کر لو آپ اپنی طرف سے رشتہ مظبوط کرنے کی کوشش کرو سب ٹھیک ہو جاۓ گا.۔۔۔اور رشتے کی مظبوطی کے لیئے قربانی ہمیشہ لڑکی کو ہی دینی پڑتی ہے۔۔۔مسزسہیل پیار سے اس کے سر میں انگلیاں پھیرنے لگیں۔۔۔۔
جی ماما۔۔اس نے اپنی ماں کی باتیں غور سے سنیں اور مسکراتے ہوۓ اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔
بیٹا تمہیں اس سے رشتہ رکھنا ہے ہر حالت میں اپنوں کے لیئے اپنے لیئے۔اور کبھی کبھی تھورا سا جھک جانے سے اگر خوشیاں آپ کے اور آپ کے اپنوں کی جولی میں آن گریں تو گھاٹے کو سودا نہیں یہ۔ماں کی باتیں اس نے غور سے سنیں اور گِرہ سے باندھ لیں۔
میں یہ رشتہ نہیں توڑوں گی ورنہ میرے بابا ٹوٹ جائیں گے اور میں بھی۔۔اس نے سوچا اور اپنے رشتے کو مظبوط کرنے کا ارادہ کر لیا۔۔۔۔۔


زویا سہیل بٹ جسے سب نے مل کر زویاثناءاللہ بٹ بنا دیا تھا اس نے خود کو سرتاپا بدل ڈالا اتنا کہ وہ خود خیران ہونے لگتی ۔۔اس نے جینز پہننی چھوڑ دی کہ شاید سنی اسے نوٹس کر لے ۔۔کیونکہ سنی کہتا تھا “مجھے ہر وہ لڑکی اٹریکٹ کرتی ہے جو شلوار قمیص پہنے اور دوپٹہ ڈالے رکھے”۔۔زویا نے پورے گھر کو سر پر اٹھانا چھوڑ دیا کہ سنی کو بچگانہ حرکتیں بلکل پسند نہیں۔۔اس نے ہر وہ چیز کری جو ان دونوں کو قریب کرتی..یہاں تک کہ جس حواب(سنگنگ کا خواب) کو اس نے زندگی کا پودا بنا کر پانی دیا تھا اس کو بھی مر جانے دیا کونکہ سنی کو پسند نہیں تھا. زویا نے وہ سب کیا جو سنی کو خوشی دلا سکتا زویا کے قریب لا سکتا۔۔عورت بھی کتنی عجیب ہے سارے جہاں کی سر پھری ہو مگر اپنے پسندیدہ مرد کے لیئے ایک دم تابعدار بن جاتی ہے. سجتی ہے سنورتی ہو اور چاہتی ہے اسے اور نکھارا جاۓ۔۔عورت مرد کو کعبہ سمجھ کر اس کے طواف میں لگ جاتی کسی پجارن کی طرح پوجے جاتی ہے یہ سوچے بنا کہ اس سب کا مستحق ایک انسان نہیں ھو سکتا جو پل بھر میں سارے رشتے ختم کر ڈالے وہ واقعی اس قابل نہیں ھوتا۔۔۔
زویا سہیل بٹ کو اس کو دکھاۓ جانے والے حواب لے ڈوبے۔غلطی اس کی ماں کی نہیں تھی جو اسے حواب دکھا رہی تھی غلطی اس کی تھی جو حواب دیکھنے لگی تھی یہ جانتے ہوۓ بھی کہ اس نے کہا ہے چھوڑ دوں گا تو چھوڑ دے گا۔۔۔
وہ رنگوں سے کھیلنے والی لڑکی ،تتلیوں کا تعاقب کرنے والی، زندگی کو حوابوں کی طرح جینے نالی ،گفٹ میں چاکلیٹس پر خوش ہو جانے والی گھر بھر کو تنگ کرنے والی ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہونے والی تھی اور عورت ٹوٹتی اسی کے ہاتھوں ہے جسے بےپناہ چاہنے لگتی ہے ورنہ کسی میں اتنی ہمت کہاں۔۔اور اس کے ریزہ ریزہ ہو جانے میں قصور اس کے بڑوں کا ہو تھا جو یہ بات سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھے کہ بچپن میں پہنائ گئ انگھوٹی بڑے ہو کر انگلی پر نہیں آتی۔۔۔۔


جاری ہے۔۔۔