No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
گرمیوں نے ناک میں دم کر رکھا تھا اتنے میں آج ہلکی ہلکی پھواڑ کسی معجزے سے کم معلوم نہ ہوتی تھی۔۔۔وہ نہا کر واش روم سے نکلا تو لان میں سے اسے آوازیں آنے لگیں تو وہ کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر نیچے دیکھنے لگا۔۔
نہیں بیٹنگ ہمیشہ میں کرتی ہوں اتنی ہمت جو میری بیٹنگ لو تم۔۔۔حسینہ چھوٹو کے پیچھے اپنا بَلّا لینے کے لیئے بھاگھ رہی تھی تینوں نے لان میں ادھم مچا رکھا تھا۔
آج چھوڑ دیں پھپھو آج میں کروں گا ۔۔۔بھاگتا ہوا چھوٹو بولا۔…
وہ مسکرا کر ان کی نوک جھوک دیکھنے لگا۔نظریں اس حسین لڑکی کے معصوم چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔کہ اتنے میں اس کا موبائل رِنگ کرنے لگا۔۔
ہیلو۔۔زویا کالنگ دیکھ کر اس کے منہ کے زاویے بِگڑ چکے تھے۔ابھی بھی لہجہ کھا جانے والا تھا۔
کدھر ہو بھئ گۓ تھے دو دن کے لیئے ہفتہ ہو گیا صاحب کا کوئ اتا پتہ نہیں۔۔۔دوسری طرف سے زویا کی نرم آواز گونجی۔۔انداذ ایسا تھا جیسے کوئ بہت پکا دوست ہو اس کا ۔۔
تو کیا سیاپا ہے باندری تجھ سے میرا سکون بھرا ایک ہفتہ برداشت نہیں ہوتا۔۔؟؟ وہ موبائل کو کندھے اور سر کے درمیان ٹکا کر شوز پہننے لگا۔۔
ایک تو ہر وقت بم بنے پھرتے ہو اور پھٹتے بھی مجھ پر ہی ہو۔۔۔زویا چاۓ کے کپ کیبن سے نکال کر چاۓ انڈیلنے لگی۔موبائل سپیکر پر لگا کر پاس ہی رکھ دیا۔
دماغ کا دہی نہ کر یہ بتا کال کیوں کی۔۔۔دوسرا جوتا بھی پہن کر وہ کھڑا ہو گیا۔۔۔
موسم بہت مزے کا ہو رہا ہے کڑکٹ کھیلنے کا پروگرام تھا سب کا سوچا تمہیں بھی پوچھ لوں۔۔۔زویا نے چاۓ کپوں میں ڈال کر موبائل کان کے ساتھ لگایا۔۔
شکریہ بہت بہت کوچ صاحبہ پر اتنا نکمّہ نہیں ہوں میں جو فالتو کے کھیل کھیلوں اور وہ بھی تمہارے ساتھ۔اور ارادہ بن بھی جاۓ تو موبائل سے نکلوں کھیلنے کے لیئے کیا۔۔۔۔وہ کھڑکی کے پاس کھڑا لان کا منظر دیکھنے لگا۔جہاں کڑکٹ کیٹ پہنے حسینہ بیٹنگ کے لیئے کھڑی تھی۔۔
اچھا مرضی ہے تمہاری۔۔ویسے آ کب رہے ہو۔۔زویا نے اس کا لہجہ محسوس کیا تھا عام روٹین سے ذیادہ بےزار لہجہ تھا اس کا پھر بھی وہ نظرانداذ کر گئ۔
جب میرا دل چاہے گا آؤں گا۔۔ویسے میرا دل کر نہیں رہا آنے کا کو۔۔اچھا کال بند کرو اب تنگ نہ کرو۔۔۔نظریں بال کو بیٹ کو ہِٹ کر کے بھاگنے والی حسینہ پر تھی ہونٹوں پر مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔
صیح ہے ۔۔۔زویا موبائل کو کان اور کندھے کے درمیان ٹکا کر ٹرے اٹھاۓ کچن سے نکلتی ہوۓ بولی۔۔
اچھا سنو! کال بند کرتے کچھ یاد آ جانے پر وہ بولا۔۔۔
ہاں بولو۔۔
تم نے فیصل کو پروجیکٹ کے لییۓ انکار کیوں کر دیا۔۔۔
ایسے ہی میرا من بدل گیا ہے اب۔۔زویا مسکرا کر معنی خیز انداز میں بولی مگر سامنے محسوس کس نے کرنا تھا۔۔۔
مرضی ہے بھئ تمہاری میں کیا کہہ سکتا ہوں۔۔سنی نے کہتے ہوۓ کال منقطع کر کے موبائل پاکٹ میں ڈال دیا۔۔۔اور نظریں پھر سے لان میں مرکوز کر دیں۔۔۔
ہاۓ۔۔حسینہ کی نظر اس پر پڑی تو اس نے ہاتھ ہلایا۔۔جواب میں اس نے بھی مسکرا کر ہاتھ ہلایا اس کی طرف۔۔۔
آئیں کھیلیں ہمارے ساتھ ۔موسم بھی بہت اچھا ہے۔۔۔حسینہ پیٹ گھماتی اوپر اس کے کمرے کی کھڑکی کو دیکھنے لگی۔
رکو آتا ہوں۔۔وہ جو تھوڑی دیر پہلے اپنی محرم کو اس کے لیئے ڈانٹ چکا تھا ایک نامحرم کے بلانے پر مسکراتے ہوۓ نیچے چل پڑا۔۔۔
انسان عجیب فطرت کا مالک ہے جو شے دسترس میں ہے اسے دیکھنا بھی نہیں چاہتا اور جو شے دسترس سے باہر ہو اس کے لیئے پاگل ہوا پھرتا ہے اور پھر جو شے دسترس میں ہو اور پھر دور جا رہی ہو اس کے پیچھے بھاگنے لگتا۔۔
کس کی کال تھی۔۔صالحہ چاۓ لاتی زویا کو غور سے دیکھنے لگیں شاید کچھ تلاشنا چاہتی تھی۔۔
سنی کی ۔۔۔زویا نے ٹِرے ٹیبل پر رکھی چاۓ کا کپ صالحہ کو پکڑا کر خود بھی سامنے بیٹھ گئ۔
اس نے کی تھی یا تم نے۔
میں نے کی تھی ۔۔۔زویا نے چاۓ کا سپ لیا۔
کیوں۔۔صالحہ سوالیہ انداذ میں اسے دیکھنے لگی۔
پوچھنا تھا کب آئیں گے وہ۔۔زویا تو احترام کے دائرے میں بھی داحل ہو چکی تھی۔۔۔۔
اس نے یقیناً یہی کہا ہو گا جب دل چاہے گا اس کا وہ آ جاۓ گا اور ابھی اس کا دل نہیں چاہ رہا۔۔۔
جی مگر آپ کو کیسے پتا۔۔اس نے چونک کر صالحہ کی طرف دیکھا کہ کہیں اس نے باتیں تو نہیں سن لی ان دونوں کی۔۔
اچھے سے جانتی ہوں اس کی نیچر کو تمہاری ہر بات سے اختلاف کرنا اس کی گُھٹی میں شامل ہے۔۔۔پھپھو کپ کو ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولیں۔۔۔
زویا پکوڑے نہیں بناۓ تم نے ۔۔سوہا بھی پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔لان میں بیٹھی وہ تینوں ہلکی ہلکی رِم جھم انجواۓ کر رہیں تھیں۔۔
بنا لیئے ہیں لانا بھول گئ۔۔۔لاتی ہوں زویا کہہ کر اندر کی طرف بڑھ گیٔ۔۔
کیا ہوا پھپھو کیا سوچ رہیں ہیں۔۔۔سوہا انہیں سوچ میں ڈوبے دیکھ رہی تھی۔۔
کچھ ہونے والا ہے مجھے لگ رہا ہے اتنا بُرا کے بٹ ہاؤس کی درودیوار ہلا دے گا۔۔۔
آپ ایسے ہی ٹینشن لے رہی ہیں پھپھو کچھ نہیں ہو گا چاۓ پئیں آپ۔۔۔سوہا انہیں چاۓ کا کپ پکڑاتے ہوۓ بولی۔۔۔
فہیم کال کرتے ہیں نا۔کال پک کرتے ہیں میری ۔۔پتہ نہیں کیوں۔۔۔پھپھو کا لہجہ خود بخود عجیب ہوا تھا شاید چھٹی حس کچھ سمجھا رہی تھی۔
کچھ بِِزی ہوں شائد وہ پھپھو آپ اتنا مت سوچا کریں۔سوہا چاۓ کے سپ لینے لگی۔۔
ہمممم صالحہ نے چاۓ کا کپ منہ سے لگایا مگر دماغ کچھ سوچ رہا تھا. ۔
کیا کہہ رہے ہو یہ تم۔۔وہ اس کی بات کا مطلب سمجھ کر چلانے والے انداذ میں بولی۔۔۔
جو تم کو سنائ دے رہا ہے فَرنچ نہیں بول رہا میں جو ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو۔۔۔وہ اِدھراُدھر دیکھتے ہوۓ بولا مبادا ادھر کوئ آ نہ جاۓ۔۔۔
پر یہ کرنا ضروری ہے کیا۔۔۔وہ گویا ہوئ۔۔۔
مجھ سے محبت کرتی ہو کہ نہیں یہ بتاؤ۔۔۔وہ اس سے سوال کرنے لگا۔۔۔
ہاں بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولی۔۔۔۔
تو پھر ہم دونوں کو یہ کرنا ہو گا ورنہ صالحہ نامی کانٹا نہیں جاۓ گا ہماری زندگیوں سے۔۔۔وہ اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا۔۔۔
تمہارے لیئے تو کچھ بھی۔۔میں تیار ہوں۔پلان سمجھا دو مجھے۔۔۔وہ بولی تو وہ آہستہ آہستہ اسے اگلا قدم بتانے لگا۔۔۔
تم کال کیوں نہیں پِک کر رہے تھے میری۔۔۔چھوٹی پھپھو موبائل کان سے لگاۓ بولی۔۔۔
بِزی تھا میں اب تم ہر وقت تو کال مت کیا کرو جانم۔۔۔فہیم محبت بھرے لہجے میں بولا۔۔
اچھا یہ سنی کیا کر رہا ہے اُدھر آنے کا نام نہیں لے رہا۔۔۔پھپھو اپنے شک کی تصدیق چاہتی تھیں اس لیئے پوچھنے لگیں۔۔۔
کچھ نہیں وہ اور میں گھومتے پھرتے ہیں ۔۔۔۔فہیم نے جھوٹ بولا۔کیا بتاتا اس کے بھتیجے ک ٹون بدل گئ تھی۔۔۔۔
ہم اچھا ہے کسی کے ساتھ تو گھومتا پھرتا ہے ہمیں تو بس نہیں چلتا اس کا کچا نگل جاۓ۔۔۔پھپھو مسکراتے ہوۓ بولیں۔۔۔
اچھا تم نے سنی نامہ سننے اور سنانے کے لیئے کال کی ہے اپنی کوئ بات نہیں کر سکتے ہم۔۔۔فہیم ناراض انداذ میں بولا تو صالحہ بےساحتہ ہنس دی۔۔اور دونوں باتیں کرنے میں مگن ہو گۓ۔۔۔
زویا جھولے پر بیٹھی کیریاں کھا رہی تھی کہ مین گیٹ کُھلا اور سنی کی گاڑی اندر داخل ہوئ۔۔وہ آج پورے دو ہفتے بعد واپس آیا تھا دو دن کے لیئے جو گیا تو مسافر رستہ بھول رہا تھا مانو گھر کا۔۔۔
آپ آگۓ فائنلی تھینکس گاڈ۔۔۔وہ گاڑی سے اُتر رہا تھا کہ زویا کی آواز پر اس کی طرف مُڑ کر دیکھا۔۔۔
تم تو ایسے خوش ہو رہی ہو جیسے حج سے واپس آیا ہوں اور یہ تمیز کے کیڑے نے کب کاٹا تمہیں۔۔بڑا آپ آپ کہنے لگی ہو۔۔۔سنی نے آج اس کا لہجہ اس کی خوشی کو نوٹ کیا تھا مگر وہ اسے کوئ امید نہیں دلانا چاہتا تھا کہ وہ خود کسی کے دل تک پہنچنے والے راستے کا مسافر تھا۔۔۔۔
اتنے دن کیوں لگا دییئے تم تو دو دن کے لییۓ گۓ تھے۔۔۔زویا نظریں اس پر ٹکاۓ بولی۔۔۔
تم سے مطلب اور بہت سوال نہیں کرنے لگی تم ۔۔۔میری مرضی جہاں آؤں جہاں جاؤں۔۔تم اپنے کام سے کام رکھو تو بہتر ہو گا۔۔۔وہ اس کی نظروں کو خود پر محسوس کر سکتا تھا۔۔وہ کہتے ہوۓ اپنا بیگ گاڑی سے نکال کر اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔اور پیچھے کھڑی زویا کا ایک آنسو روانی سے گال پر بہہ نکلا جسے اس نے سختی سے صاف کر ڈالا۔۔۔۔
کیسی ہو۔۔۔سنی موبائل کان سے لگاۓ خوش اخلاقی سے بولا۔۔۔
میں ٹھیک ہوں تم سنا ہے امریکہ جا رہے ہو۔۔۔حسینہ بولی۔۔۔
ہاں وہاں یونی میں داخلہ ہو گیا ہے تو دو سال کے لیئے جا رہا ہوں۔۔سنی بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔۔
تم نے تو مجھے بتانا بھی پسند نہیں کیا اوروں سے پتہ لگ رہا ہے مجھے تم جا رہے ہو۔۔۔حسینہ خفا سے انداذ میں بولی۔۔۔
یار مجھے پتہ تھا ایسے ہی پریشان ہو جاؤ گی تم اس لیئے نہیں بتایا۔۔۔وہ اس کے روٹھ جانے سے ڈر کر بولا۔۔
اچھا واپس تو جلدی آؤ گے نا۔۔۔حسینہ بولی تو وہ مسکرا دیا۔۔۔
پہلے میرا ارادہ تھا وہاں جا کر وہیں پڑھائ کے بعد سیٹ ہو جانے کا مگر اب واپس آنا ہے مجھے تمہیں لے جانے کے لئیۓ۔۔۔وہ مسکرا کر بولا۔۔۔
وعدہ رہا سنی۔۔۔۔حسینہ نے پوچھا۔۔
وعدہ رہا سنی کی جان۔۔۔۔وہ مسکرا کر ایک نامحرم سے وعدہ وفا کرنے میں مصروف ہو گیا اس محرمِ جاں کو بھول گیا جو اس کے نام پر بیٹھی تھی۔۔۔
کیا کرو گی یار اتنا پڑھ کر ۔۔سیم اس کے کتابوں کے ڈھیر کو دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔
کچھ بھی کروں گی تمہاری طرح جھکتیں نہیں ماروں گی۔۔۔وہ اسے جلاتے ہوۓ بولی۔۔۔
یار سنو نا۔۔۔وہ پیار سے اس کے پاس زمین پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔۔
سناؤ اتنے میٹھے کیوں ہو رہے ہو۔۔۔
بابا سے بات کرتا ہوں شادی کر دیں ہم دونوں کی پھر پڑھتی رہنا تم ۔۔۔کیسا ۔۔۔
بہت ہی کوئ بکواس بات کی اور کتنے نکمّے ہو تم جاؤ اپنا کام کرو اور مجھے بھی کرنے دو۔۔۔سوہا نے ہاتھ سے اسے دھکیلا۔۔
تم نے اچھا نہیں کیا بچہ ایک معصوم دل کے ٹوٹے ٹوٹے کر کے بابا کی بدعا لگے گی تمہیں۔۔۔وہ ڈرامائ انداز میں بولا تو سوہا ہنستی چلی گئ ۔۔اور وہ اسے دیکھنے لگا کہ اس ہنسی میں ہی تو اس کی زندگی تھی. ۔۔۔۔۔
جی آپا بولیں۔۔۔فیصل موبائل کان سے لگاۓ کچن میں داخل ہوتے ہوۓ بولا۔۔۔
کر لوں گا شادی آپا ابھی تو میں بچہ ہوں۔۔۔آگے سے پتہ نہیں کیا کہا گیا کہ وہ معصومیت سے بولا۔۔۔
لڑکی کوئ مجھے پسند آئ ہو۔۔۔اس نے کہتے ہوۓ سوچا تو ایک چہرہ یکدم سے اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا تو وہ مسکرا اٹھا۔۔۔
آپا ایک لڑکی دل میں بس تو چکی ہے پر ابھی اس سے بات کرنی بھی تو باقی ہے ۔۔۔پھر بتاؤں گا آپ کو۔۔۔۔ کال منقطع کر کے وہ مسکراتے ہوۓ چاۓ اپنے کپ میں ڈالنے لگا اور اس دشمنِ جاں کا چہرہ یاد آنے پر بےاختیار گنگنا اٹھا۔۔۔اے خدا اے خدا
تو بول دے میرے بادلوں کو
میرا یار ہنس رہا ہے
بارش کی جاۓ۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
