Haqeeqat By Pareesha Mahnoor Readelle50232

Haqeeqat By Pareesha Mahnoor Readelle50232 Last updated: 13 September 2025

62.2K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haqeeqat

By Paresha Mahnoor Khan

وہ دونوں کچن کی گروسری کر کے گاڑی کی طرف بڑھے۔۔اور فیصل نے سارا سامان گاڑی میں رکھا۔۔ اور کچھ تو نہیں رہ گیا عالی جاہ۔۔فیصل جھک کر ہاتھ سینے پر رکھ کر بولا۔۔ چاہیئے عریشہ ک شاپنگ کرنی ہے تھوڑی بہت سارے کپڑے تنگ ہو گۓ ہیں اس پر اتنی موٹو ہو گئ ہے وہ آپ کی طرح۔۔۔۔صالحہ ہنستے ہوۓ بولی۔۔ عالی جاہ بیٹی باپ پر نہیں جاۓ گی تو پروسیوں پر جاۓ گی کیا۔۔فیصل مسکرانے لگا۔۔ اتنا مت مسکرائیں اور چلیں عالی جاہ۔۔اس بار فیصل کی نقل کرتے ہوۓ وہ بھی جھک کر بولی تو فیصل ہنستا چلا گیا۔۔ساتھ صالحہ بھی مسکرا دی۔۔دونوں ہاتھ تھامے مال کی طرف بڑھ گۓ جب کہ کسی نے دور تک جاتے اس ہنستے مسکراتے جوڑے کو گہڑی نظروں سے دیکھا ۔ماتھے پر پڑتی شکنیں مسکراہٹ میں بدلیں اور ذہن تیزی سے جال بننے لگا۔۔ایسا جال جو بٹ ہاؤس کی درودیوار کو مسمار کرنے کے لیئے ہی کافی تھا۔۔۔ ________________________________________________________ زویا یار اسے تم لے جاتی ہو پیچھے سے میں بور ہو جاتی ہوں۔۔صالحہ زویا کو بولی جو ڈھائ سالہ عریشہ کو اٹھاۓ دروازے سے نکل رہی تھی۔۔۔ تو اپنے میاں کو کال کرو کمپنی دینے آ جاۓ اور میں تو پرائیویسی دے رہی ہوں آپ دونوں کو ۔۔۔زویا مسکرا کر بولی اور ہاتھ ہلاتی ہوۓ دروازے سے نکل گئ۔۔۔ رات کے لیئے فیصل کی پسند کا کھانا بنا لیتی ہوں۔۔وہ خود کلامی کرتی ہوئ کچن میں گھس گئ۔۔ ہمم فیصل کو کال کرتی ہوں ساتھ صیح کہہ رہی تھی زویا پرائیویسی بھی کسی چڑیا کا نام ہے۔۔ کہہ کر وہ مسکرا دی اور فیصل کو کال کرنے لگی۔۔۔ کیا فالتو قسم کے لیرکس ہیں۔ہٹاؤ اسے۔۔فیصل ہاتھ میں پکڑے کاغذ کو سامنے کھڑے لڑکے کے ہاتھ میں دے کر اپنے میوزک روم میں چلا گیا۔کہ اتنے میں صالحہ کی کال آئ تو وہ جو ماتھے پر شکنیں لیئے بیٹھا تھا ایک دم مسکرا اٹھا۔۔۔اور فون کان سے لگا لیا۔۔۔ ہیلو جانِ فیصل۔۔وہ مسکرا کر پیار سے بولا۔۔۔ کہاں ہو تم۔کیا کر رہے ہو۔۔وہ بھی مسکرا اٹھی تھی اس کے لہجے پر۔۔۔ سٹوڈیو میں ہے آپ کا خادم اور کہاں ہونا ہے کہو تو خاضر ہو جاؤں۔۔۔۔وہ مسکرایا۔ نہیں نہیں الہ دین کے جن کوئ ضرورت نہیں جہاں ہو وہی بیٹھے رہو۔۔اس نے پیاز کو کراہی میں ڈالا اور بھوننے لگی۔۔۔ جو حکم میرے آقا۔۔وہ شرارت سے مسکرایا۔۔ کیا کھاؤ گے رات میں تم۔میں کوفٹے،کراہی، اور گھوبی بنا رہی ہوں۔۔۔وہ مصروف انداذ میں بولی۔۔۔۔ جو میری جان کھلاۓ ہم وہی کھا لیں گے سادہ سا بندہ ہوں میں۔۔وہ محبت سے بولا۔۔ اچھا زہر دے دوں تمہ.......اس کی بات منہ میں ہی رہ گئ اور دروازہ زور سے کھلا اور دو نقاب پوش داخل ہوۓ۔۔ کک کو کون ہو تم لوگ۔۔مرے گھبراہٹ کے اس کے ہاتھ سے کوفتوں کی پلیٹ فرش پر گر گئ۔ ۔۔۔ صالحہ کیا ہوا ہے۔ بولو۔ صالحہ۔ ۔فیصل پریشان ہو اٹھا تھا جلدی سے اٹھا اور باہر کی طرف بھاگا۔ ۔فُل اسپیڈ پر گاڑی دوڑاتا ہوا وہ گھر پہنچا مگر سامنے کے منظر نے اسے دہلا کر رکھ دیا وہ فرش پر بیٹھتا ہی چلا گیا۔ ۔,دھڑکن بند ہو رہی تھی اس کے دل کی۔۔وہ ساکت سا بیٹھا اپنی زندگی اپنی صالحہ کے بےجان وجود کو دیکھ رہا تھا۔ ________________________________________________________ ،جاری ہے۔۔۔