Haqeeqat By Pareesha Mahnoor Readelle50232 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
یہ پیپرز کہاں سے آۓ۔۔سنی آفس میں داخل ہوا تو اس کی نظر ٹیبل پر پڑے خاکی لفافے پر پڑی۔۔
پتہ نہیں سر کوئ دے گیا۔۔آفس بواۓ نے جلدی سے کہا۔۔
اوکے جاؤ تم۔اسے جانے کا اشارہ کر کے وہ کرسی پر بیٹھ گیا اور لفافے کو غور سے دیکھنے لگا۔۔
کافی دیر لفافے کو الٹ پلٹ کرنے کے بعد لفافے کو کھولا۔اور پیپرز پڑھنے لگا۔۔جیسے جیسے پڑھتا گیا اس کے ماتھے کی شکنیں بڑھتی گئیں۔پھر زور سے پیپرز کو ٹیبل پر پھینک دیا اور ہاتھ ٹیبل پر ٹِکا کر سر ہاتھوں میں گِرا دیا۔۔۔
ایم کم اِن سر۔اک نسوانی آواز دروازے پر ابھری۔۔
یس۔۔اس نے ہاتھ بالوں پر پھیر کر انہیں سیدھا کیا اور آنے والی کو دیکھنے لگا۔۔۔
سنی سر راخیل سر آپ کو میٹنگ روم میں بُلا رہے ہیں۔میٹنگ کا وقت ہو گیا ہے۔۔کہہ کر وہ لڑکی باہر چلی گئ۔
اس نے پیپرز کی طرف دیکھا اور اٹھا کر دراز میں رکھ دیا۔اور زویا سے گھر جا کر بات کرنے کا پکا ارادہ کر لیا۔۔۔
وقت ٹھہرا نہیں گزر گیا۔کچھ غلطیاں ہوتی ہیں جن کی قیمت ساری زندگی چکانی پڑتی ہے سنی سے بھی ایسی ہی غلطی ہوئ تھی جس کے خسارے بہت بھیانک تھے بہت۔۔
عادل اور سوہا کی شادی ہوگئ۔ساتھ ہی فیصل اور صالحہ کی بھی شادی کر دی گئ۔۔
زویا خلع کا کیس جیت گئ اور پھر سے وہ زویاسہیل بٹ بن گئ۔۔فیصل نے اس کے خوابوں کے جگنو اس کے ہاتھ دینے کے لیئے اس کا بہت ساتھ دیا اور آخرکار اس نے اپنے خوابوں کو پا لیا۔وہ ایک بہت اچھی سنگر ثابت ہوئ۔۔
سنی اکھڑا اکھڑا سا رہنے لگا تھا اپنی غلطیوں کو کوستا زویا کا دور چلے جانا اسے کھا رہا تھا ۔۔
سیم ملک چھوڑ کر چلا گیا اس کے بس میں نہیں تھا اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں کسی اور مرد کے خوالے کرنا۔سب ٹھیک جا رہا تھا۔
لیکن وہ جو ایک غلطی بٹ ہاؤس کے ایک مکین نے کی تھی اس کی سزا باقی سب کے بھگتنے کی باری تھی۔۔
چار سال بعد۔۔
فیصل آپ جلدی آگۓ۔دروازہ کھول کر سامنے کھڑا دیکھ کر اسے بولی۔۔۔۔۔
جی جانِ فیصل جلدی آ گیا لگا میری پیاری وائف مجھے کر رہی ہے ۔۔۔وہ پیار سے اسے اپنے بازوؤں کے حسار میں لے کر اندر بڑھا۔۔
جی یاد تو بہت آ رہی تھی مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ رک کر شرارت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
مگر۔۔فیصل اس کی شرارت سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔
مجھے نہیں گروسری کو تمہاری بہت یاد آ رہی تھی آ گۓ ہو تو چلتے ہیں مارکیٹ۔۔وہ مسکرا کر بولی۔۔اس کے ہاتھ فیصل کے مظبوط ہاتھوں میں تھے۔۔
چلیں جی جیسے ہماری بھیگم کا خکم۔۔وہ جھک کر بولا تو صالحہ بےساختہ ہنستی چلی گئ۔۔۔
ہماری پیاری سی گڑیا عریشہ سلطان کہاں ہے۔۔وہ اِدھر نظریں گھما کر بولا۔۔۔
زویا آئ تھی تو ساتھ لے گئ کہہ رہی تھی رات تک حھوڑ دے گی۔۔۔صالحہ بولی۔۔۔
اوکے۔۔
چلو پھر۔۔ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے دونوں باہر کی طرف چل پڑے۔۔۔
ذہان بہت تنگ کر رہے ہو آپ رکھو باسکٹ میں۔۔سوہا اپنے بیٹے کو پکڑ پکڑ کر تھک گئ مگر وہ بھی ٹھہرا سوہا کا بیٹا۔۔
ذہان میرا بےبی ہم لیٹ ہو رہے ہیں ابھی آپ کے پاپا آئیں گے اور آپ تیار نہیں ہو تو ہم دونوں چلے جائیں گے آپ کو چھوڑ کر۔۔۔سوہا نے اسے ڈرایا تو چھوٹے چھوٹے قدم رکھتا تین سالہ ذہان فوراً اچھا بچہ بن کر بیٹھ گیا۔تو وہ بےاختیار ہنس دی۔۔ذہان کی ساری ادائیں زویا سے ملتی تھیں۔۔اتنے میں اس کا موبائل بجا۔۔
ہیلو زویا کیسی ہو۔۔سوہا مسکرا کر بولی۔۔
بلکل ٹھیک زویا کا پیارا سا گڈا بھی ٹھیک ہے ۔۔۔سوہا اک نظر ذہان پر ڈال کر بولی۔۔۔
کیا ہو رہا ہے۔۔زویا مصروف سے انداذ میں مگر مسکرا کر بولی۔۔۔
ویک اینڈ ہے تو پکنک پلان کی ہے عادل نے۔تم تو جانتی ہو گھومنے پھرنے کا کتنا شوقین ہے عادل اوپر سے ذہان میاں تو سبحان الله ۔۔۔سوہا ہنستے ہوۓ بولی۔۔
سوہا۔۔
ہاں۔۔۔
بہت خوش ہوں میں تمہارے لیئے یار تم کو ایسے خوش دیکھ کر تسکین ملتی ہے دل کو۔۔زویا خلوص سے بولی۔۔
اچھا چھوڑ پگلی رلاۓ گی کیا۔۔سوہا نے کہا تو دونوں بےاختیار ہنس پڑیں۔کہ اتنے میں ڈور بیل بجی۔۔
اچھا سوہا عادل آ گۓ ہیں ہم نکلتے ہیں بعد میں بات ہو گی باۓ۔۔سوہا نے خوشدلی سے الله خافظ کہا اور مسکراتی ہوئ دروازہ کھولنے بڑھ گئ۔۔
اسلام علیکم!ماۓ سوئیٹ وائف۔۔مسکرا کر اندر داخل ہوتے عادل نے اسے اپنے بازوؤں کے خسار میں لے لیا۔۔۔
کیا کر رہے ہو عادل ذہان یہی ہے۔۔۔سوہا کسمسائ۔۔
تو وہ اتنا چھوٹا ہے کہاں سمجھتا ہے۔عادل مسکرا کر اس کے ماتھے سے بال پیچھے کرنے لگا۔۔۔
مگر ذہان کی ماما تو سمجھدار ہیں ناں۔۔سوہا نے ایک دم اسے پیچھے دھکیلا۔۔اب جاؤ فریش ہو جاؤ نکلنا بھی ہے۔۔چلو چلو۔۔سوہا نے کہہ کر اسے کمرے کی طرف دھکا دیا۔۔۔
دیکھ لو ذہان بےبی کتنی ظالم ہیں آپ کی ممی ۔۔ذہان کو پیار کر کے عادل کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔اور سوہا مسکرا کر اسے جاتے دیکھتی رہی۔اتنا لونگ کیئرنگ ہسبنڈ نصیب سے ملتا ہے اور وہ نصیب کی دھنی نکلی تھی کہ سیم بھی مرتا تھا اس پر اور عادل کی تو زندگی اسی سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہوتی تھی۔۔۔
عورت کو عزت خفاظت اور محبت چاہیٔے ہوتی ہے ۔یہ تینوں چیزیں جس سے ملیں وہ اسی سے عشق کرتی ہے۔لوگ کہتے ہیں پہلی محبت بھولی نہیں جاتی سچ ہے بھولی نہیں جاتی مگر اس محبت کی یادوں میں وہ شدت نہیں رہتی اور ایک عورت کے لیئے تو بلکل نہیں جس کی ہوتی ہے بس پھر اسی کی ہوتی ہے۔۔
وہ دونوں کچن کی گروسری کر کے گاڑی کی طرف بڑھے۔۔اور فیصل نے سارا سامان گاڑی میں رکھا۔۔
اور کچھ تو نہیں رہ گیا عالی جاہ۔۔فیصل جھک کر ہاتھ سینے پر رکھ کر بولا۔۔
چاہیئے عریشہ ک شاپنگ کرنی ہے تھوڑی بہت سارے کپڑے تنگ ہو گۓ ہیں اس پر اتنی موٹو ہو گئ ہے وہ آپ کی طرح۔۔۔۔صالحہ ہنستے ہوۓ بولی۔۔
عالی جاہ بیٹی باپ پر نہیں جاۓ گی تو پروسیوں پر جاۓ گی کیا۔۔فیصل مسکرانے لگا۔۔
اتنا مت مسکرائیں اور چلیں عالی جاہ۔۔اس بار فیصل کی نقل کرتے ہوۓ وہ بھی جھک کر بولی تو فیصل ہنستا چلا گیا۔۔ساتھ صالحہ بھی مسکرا دی۔۔دونوں ہاتھ تھامے مال کی طرف بڑھ گۓ جب کہ کسی نے دور تک جاتے اس ہنستے مسکراتے جوڑے کو گہڑی نظروں سے دیکھا ۔ماتھے پر پڑتی شکنیں مسکراہٹ میں بدلیں اور ذہن تیزی سے جال بننے لگا۔۔ایسا جال جو بٹ ہاؤس کی درودیوار کو مسمار کرنے کے لیئے ہی کافی تھا۔۔۔
زویا یار اسے تم لے جاتی ہو پیچھے سے میں بور ہو جاتی ہوں۔۔صالحہ زویا کو بولی جو ڈھائ سالہ عریشہ کو اٹھاۓ دروازے سے نکل رہی تھی۔۔۔
تو اپنے میاں کو کال کرو کمپنی دینے آ جاۓ اور میں تو پرائیویسی دے رہی ہوں آپ دونوں کو ۔۔۔زویا مسکرا کر بولی اور ہاتھ ہلاتی ہوۓ دروازے سے نکل گئ۔۔۔
رات کے لیئے فیصل کی پسند کا کھانا بنا لیتی ہوں۔۔وہ خود کلامی کرتی ہوئ کچن میں گھس گئ۔۔
ہمم فیصل کو کال کرتی ہوں ساتھ صیح کہہ رہی تھی زویا پرائیویسی بھی کسی چڑیا کا نام ہے۔۔ کہہ کر وہ مسکرا دی اور فیصل کو کال کرنے لگی۔۔۔
کیا فالتو قسم کے لیرکس ہیں۔ہٹاؤ اسے۔۔فیصل ہاتھ میں پکڑے کاغذ کو سامنے کھڑے لڑکے کے ہاتھ میں دے کر اپنے میوزک روم میں چلا گیا۔کہ اتنے میں صالحہ کی کال آئ تو وہ جو ماتھے پر شکنیں لیئے بیٹھا تھا ایک دم مسکرا اٹھا۔۔۔اور فون کان سے لگا لیا۔۔۔
ہیلو جانِ فیصل۔۔وہ مسکرا کر پیار سے بولا۔۔۔
کہاں ہو تم۔کیا کر رہے ہو۔۔وہ بھی مسکرا اٹھی تھی اس کے لہجے پر۔۔۔
سٹوڈیو میں ہے آپ کا خادم اور کہاں ہونا ہے کہو تو خاضر ہو جاؤں۔۔۔۔وہ مسکرایا۔
نہیں نہیں الہ دین کے جن کوئ ضرورت نہیں جہاں ہو وہی بیٹھے رہو۔۔اس نے پیاز کو کراہی میں ڈالا اور بھوننے لگی۔۔۔
جو حکم میرے آقا۔۔وہ شرارت سے مسکرایا۔۔
کیا کھاؤ گے رات میں تم۔میں کوفٹے،کراہی، اور گھوبی بنا رہی ہوں۔۔۔وہ مصروف انداذ میں بولی۔۔۔۔
جو میری جان کھلاۓ ہم وہی کھا لیں گے سادہ سا بندہ ہوں میں۔۔وہ محبت سے بولا۔۔
اچھا زہر دے دوں تمہ…….اس کی بات منہ میں ہی رہ گئ اور دروازہ زور سے کھلا اور دو نقاب پوش داخل ہوۓ۔۔
کک کو کون ہو تم لوگ۔۔مرے گھبراہٹ کے اس کے ہاتھ سے کوفتوں کی پلیٹ فرش پر گر گئ۔ ۔۔۔
صالحہ کیا ہوا ہے۔ بولو۔ صالحہ۔ ۔فیصل پریشان ہو اٹھا تھا جلدی سے اٹھا اور باہر کی طرف بھاگا۔ ۔فُل اسپیڈ پر گاڑی دوڑاتا ہوا وہ گھر پہنچا مگر سامنے کے منظر نے اسے دہلا کر رکھ دیا وہ فرش پر بیٹھتا ہی چلا گیا۔ ۔,دھڑکن بند ہو رہی تھی اس کے دل کی۔۔وہ ساکت سا بیٹھا اپنی زندگی اپنی صالحہ کے بےجان وجود کو دیکھ رہا تھا۔
،جاری ہے۔۔۔
