60.3K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

تمہاری چاۓ۔۔وہ آئینے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا جب وہ چاۓ لے کر کمرے میں داخل ہوئ۔۔
رکھ دو اُدھر ٹیبل پر۔۔وہ آئینے کے سامنے کھڑے کھڑے ہی بولا۔زویا نے ایک نظر اسے دیکھا جو ہمیشہ کی طرح ڈیشنگ لگ رہا تھا۔۔۔چاۓ ٹیبل پر رکھی اور مسکراتے ہوۓ باہر نکل گئ۔۔۔
سیم ایک بات بتا۔۔۔وہ سیم کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا جو واش روم سے ابھی ابھی نہا کر نکلا تھا۔۔
جی پوچھو۔۔۔سیم سر تولیے سے سکھا کر تولیہ بیڈ پر اچھال دیا۔۔۔۔۔۔۔
یہ زویا کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے ؟ بہت سدھر نہیں گئ یہ کیا چکر ہے ؟ اسے تشویش ہونے لگی تھی کہ کہیں زویا پاگل نہ ہو گئ ہو۔۔۔۔
کیا ہوا ہے اسے۔۔ویسے صیح کہتے ہیں انسان بھی کسی حال میں نہیں رہتا شرارتیں کرتی تھی پھر آپ کو پسند نہیں تھی اب سدھر گئ ہے پھر آپ کو مسئلہ ہے۔۔۔سیم نے منھ بنایا۔۔۔۔
تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے زویا کے چمچے۔۔۔سنی کہتے ہوۓ اپنا بیگ پیک کرنے لگا۔۔۔
کتنے دن کے لیئے جا رہے ہیں آپ۔۔سیم اسے پیکنگ کرتے دیکھ کر بولا۔۔۔
دو دن کا فنکشن ہے تیسرے دن واپس آ جاؤں گا ۔۔۔وہ کہہ کر بیگ میں کپڑے رکھنے لگا۔۔
صیح ہے آپ کی بھیگم کو تین دن سکون میسر ہو گا۔۔سیم نے شرات کی۔۔۔۔ تو سنی نے ایک دم اسے چھپٹا اور اس کے بنے ہوۓ سارے بال خراب کر دیئے جس سے وہ بہت اریٹیڈ ہوتا تھا۔۔۔
یہ کیا کر دیا بھائ۔۔۔وہ اپنے بال آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر دیکھنے لگا منہ کے زاویے بگڑ چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب لگے رہو اور کرتے رہو اپنی چمچی کے سکون کی دعائیں۔۔وہ کہتے ہوۓ باہر نکل گیا۔۔۔
ماما سے مل لیجییۓ گا کوئ کام تھا انہیں آپ سے۔۔سیم نے پیچھے سے آواز لگائ اور اپنے بال سیٹ کرنے لگا۔۔۔


کدھر ہو زویا کب سے تمہارا موبائل بج رہا ہے۔۔۔سوہا نے بیڈ پر بیٹھے ہوۓ آواز لگائ اور دوبارہ سے کتابوں میں سر دے کر بیٹھ گئ۔۔۔
وہ سنی کو چاۓ دینے گئ تھی کدھر ہے موبائل میرا۔۔وہ آ کر موبائل ڈھونڈنے لگی۔جو سامنے ہی سائیڈ ٹیبل پر پڑا مل گیا اسے۔۔
۔ویسے ایک بات تو بتاؤ۔۔سوہا اسے نے منہ میں پین دباۓ سر تا پیر اس کا جائزہ لیا۔۔
ہاں بولو۔۔زویا موبائل چیک کرنے لگی۔۔
تمہاری ادائیں کچھ بدلی بدلی ہے سچ بتاؤ یہ کون سی ہوائیں ہیں۔سوہا آگے کو ہو کر بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔
کیا مطلب ہے میری ادائیں تو ایک دم ٹھیک ہیں۔۔وہ نظرایں چرا گئ۔۔۔۔
سچ بتاؤ زویا یوں نظریں چرانے سے بات نہیں بنے گی دل گیا اس دلہنیا کا ہے ناں۔۔۔سوہا نے کھینچ کر اسے بیڈ پر گرایا ۔۔جواب میں زویا بس مسکرا دی۔۔۔
اوہ ہو۔۔۔سوہا نے اس کی گدگدی شروع کر دی دونوں کے قہقہے کمرے میں گونجے۔۔۔


یہ کیا ہے ماما! وہ اتنا سامان دیکھ کر بل کھا کر رہ گیا۔۔
اپنی پھپھو کے شہر جا رہے ہو تم ۔یہ سب ان تک پہنچانا ہے تم نے۔۔مسزراحیل نے بیگ بند کر کے اسے پکڑایا۔۔۔
تو ماما میں پھپھو کے گھر تو نہیں جاؤں گا دوست کے جاؤں گا اُدھر سے ہی آ جاؤں گا واپس مجھے مت دیں پلیز۔۔۔وہ اکتاۓ ہوۓ انداذ میں بولا۔اتنا سامان اوپر سے پھپھو کے گھر وہ چکرا گیا۔۔
تمہارے بابا کا حکم ہے نہیں لے کر جانا تو مت جاؤ پھر خود ہی جواب دے دینا ان کو۔۔۔مسزراحیل آرام سے بیڈ پر بیٹھ گئیں جانتی تھیں اب سنی مرتا کیا نہ کرتا کے مترادف لے ہی جاۓ گا۔۔۔
یہ لو جی۔۔۔مسزسہیل بھی ایک چھوٹا بیگ لے کر کمرے میں داخل ہوئیں۔۔
اب چچی جان یہ کیا ہے ۔۔وہ دوسرے بیگ کو دیکھ کر تو غش کھا کر رہ گیا۔۔
اے لیں بھابی چشمہ بنوا لیں اس کے لییۓ سامنے پڑی چیز دکھائ نہیں دے رہی۔۔۔مسزراحیل مسکرا کر کہتی باہر نکل گئیں۔۔
آں بتا دوں یہ چھوٹے شہزادوں کے لیئے گفٹس ہیں۔۔۔مسزسہیل واپس پلٹ کر بتاتے ہوۓ دوبارہ نکل گئیں۔۔
اففف ۔۔وہ آہ بھرتا ہوا بیگز اٹھا کر باہر نکل گیا۔۔۔
سنی سنو سنو۔۔وہ بیرونی دروازے کی طرف جا رہا تھا کے پیچھے سے صالحہ پھپھو کی آواز آئ۔۔
جی اب آپ نے بھی اپنے منگیتر نامدار کے لیئے کچھ بیجھنا ہو گا۔۔وہ سڑ کر بولا۔۔
کتنے سڑیل ہو تم ۔ویسے تمہیں کیسے پتہ چلا۔۔چھوٹی پھپھو ایک ہی سانس میں جلدی جلدی بولیں۔۔۔
آپ کے ہاتھ میں موجود گفٹ ہیمپر اس بات کو چیخ چیخ کر بیان کر رہا ہے۔۔دیں مجھے چلتا ہوں۔۔وہ ان سے شاپر چھیننے والے انداذ میں لے کر باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔
خداخافظ۔۔پھپھو پیچھے سے بولیں۔۔
سارے جہاں کا سامان۔گدھا سمجھ کر مجھ پر لاد دیا ہے اور کہہ رہیں ہیں خداخافظ۔۔اس نے خود کلامی کی۔۔خداخافظ۔۔دراوازے سے نکلتے ہوۓ اس نے جواب دیا اور گاڑی میں سامان رکھتے ہوۓ گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔۔۔


کس کی کال آ رہی ہے بار بار اٹھاؤ ناں۔۔سوہا اس کے باربار بجتے موبائل سے تنگ آ گئ تھی کل اس کا ٹیسٹ تھا اور موبائل کا شور ہی ختم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
پتہ نہیں یار رونگ نمبر ہے۔۔زویا کتاب پڑھتے ہوۓ بولی۔موبائل کال ڈسکنکٹ کر کے واپس ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔
تو پک کرو پتہ تو چلے کون ہے ایویں میرے دماغ کا فیوز اڑ جاۓ گا۔۔۔سوہا غصے سے بھری بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔
جی وعلیکم السلام۔ کون۔۔؟؟۔زویا اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کال پک کر چکی تھی۔۔۔
او فیصل آپ خیریت سے کال کی آپ نے مجھے۔۔۔
اوہ شکریہ مگر میں اب یہ نہیں کر سکتی۔۔اس نے موبائل کو ایک کان سے دوسرے کان پر لگاتے ہوۓ کتاب بند کر کے ٹیبل پر رکھی۔۔
ہاں وہ میرا نکاح ہو گیا ہے تو میرے ہسبنڈ کو یہ پسند نہیں۔۔۔وہ کھڑی ہو گئ تھی اب وہ بات کرتے ہوۓ کمرے کے چکر کاٹنے لگی۔۔۔
بہت شکریہ آپ کا۔۔اس نے کہہ کر کال منقطع کر دی۔۔۔
یہ کیا تھا زویا تم نے سنگنگ کا خواب چھوڑ دیا۔۔سوہا صدمے کی کیفیت میں تھی۔۔
وہ ماما نے کہا ہے مجھے اب ہر وہ کام نہیں کرنا چاہیئے جو سنی کو نہیں پسند ۔۔اور قربانیاں رشتے بچانے کے لیئے عورت کو ہی دینی پڑتی ہے۔انا کو قربان کر دینے سی کئیں زندگیاں بچ جاتی ہیں اور زندگیاں بچانے کے لیئے وہ قربانی عورت کو دینی پڑتی ہے۔۔۔۔وہ اداس سے لہجے میں بولی۔۔
زویا یار تم ایسے ہی چھوڑ دو گی اپنا زندگی کا اتنا بڑا خواب۔۔۔سوہا کو تو یقین نہیں آ رہا تھا وہ تایاجان کی مخالفت کرنے کو تیار تھی اور اب ان کے بیٹے کے ہاتھوں مات کھا رہی تھی۔۔
سوہا اس خواب کو میں نے ایسے پالا تھا جیسے ماں بچے کو پالتی ہے ۔۔مالی جیسے پودوں کو پانی دیتا ہے اس کی آبیاری ایسے کی پر چھوڑنا تو پڑے گا ازدواجی زندگی کے لیئے۔ماما صیح کہتی ہیں نکاح میں بہت طاقت ہے دیکھو میرا دل کیسے بدل دیا ورنہ میں سنی کے بارے میں ایسا سوچوں گی میں نے کبھی سوچا نہیں تھا۔۔۔۔زویا بتاتے ہوۓ رو پڑی۔۔سوہا نے آگے پڑھ کر اسے گلے لگا لیا جبکہ وہاں آتی تائ جان نے سب خرف باخرف سنا اور مسکرا دیں کہ ان کے بیٹے کے لئیے ان کی ساس نے بالکل صیح لڑکی کا انتخاب کیا تھا۔۔۔۔


ہاں یار نہیں پہلے تیری طرف نہیں آؤں کا پھپھو کی طرف جاؤں گا۔۔
نہیں یار وہ ان کے لیئے اتنا سامان دیا ہے وہ پہنچا دوں پھر آؤں گا۔۔۔وہ ساتھ ساتھ گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔
صیح میں پہنچ گیا پھپھو کے گھر بعد میں ملتا ہوں تجھ سے۔۔۔وہ کہتے ہوۓ گاڑی سے اترا اور کال منقطع کر کے سامان نکالنے لگا۔۔۔
سامان لے کر وہ پھپھو کی بڑی سے خویلی کے گیٹ سے اندر بڑھا ہی تھا کہ ایک گیند سیدھی آ کر اس کے سر پر لگی۔۔تو اس نے غصّے سے وہاں دیکھا جدھر سے گیند آئ تھی۔۔۔جہاں کرکٹ کیٹ پہنے سر پر ہیلمٹ لگاۓ بچوں کے جھڑمٹ میں بیڈ لے کر کھڑی لڑکی کو دیکھا۔۔جو پہلے تو سمجھ نہ پائ جب سمجھی تو بھاگتے ہوۓ اس کی طرف آئ اور سر سے ہیلمٹ اتار دیا۔۔۔تو وہ جو غصے میں بھرا ہوا تھا پلکیں چھپکنا بھول گیا۔ وہ تو وہی تھی اس کا خواب اس کی آئیڈیل خوبصورت لڑکی بےانتہا خوبصورت ۔دودھ سی سفید رنگت ،براؤن سلکی بال ،بڑی بڑی آنکھیں۔دل زور زور سے دھڑکنے لگا جس کی آواز اس کے کانوں کو بخوبی سنائ دے رہی تھی۔۔۔۔
آپ کو لگی تو نہیں۔۔۔وہ نرم لہجے میں اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو پٹپٹا کر بولی۔۔۔
نہیں نہیں بلکل نہیں لگی۔۔۔وہ تیزی سے بولا۔۔۔
ویسے یہ بتائیں آپ ہیں کون اور ایسے کیسے گھس آۓ گھر میں۔۔وہ بلّے کو گھما کر کندھے پر رکھتے ہوۓ بولی۔۔
اسلام علیکم. بھائ . پھپھو کے دونوں چھوٹے بھاگ کر اس کے پاس آ گۓ۔۔۔
وعلیکم اسلام کیسے ہو سمیع۔۔وہ بیٹھ کر ایک کو پیار کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
اففف بھائ میں سمیع نہیں ہوں وہ ہے سمیع ۔میں چھوٹو ہوں۔ویسے میں بھی ٹھیک ہوں۔۔چھوٹو نے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کی عقل کا ماتم کیا جو ہمیشہ دونوں کو پہچاننے میں غلطی کر جاتا تھا۔۔۔
اچھا چھوٹو ۔۔ادھر آؤ سمیع ۔۔اس نے دونوں کو پیار کیا اور کھڑا ہو گیا۔۔۔
ویسے آپ کون ہیں جان سکتا ہوں میں۔۔۔وہ اس حسین دوشیزہ سے مخاطب ہوا۔۔
میں حسینہ ہوں ۔۔ان کے بابا کی پھپھو کی بیٹی ۔۔۔وہ چھوٹو اور سمیع کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
بلکل صیح نام رکھا ہے۔۔وہ خود کلامی میں بولا۔۔۔
آپ نے کچھ کہا۔۔وہ اس کی بڑبڑاہٹ نہ سمجھ پا کر بولی .
نہیں چلیں اندر۔۔وہ کہتے ہوۓ اسے أگے بڑھنے کا اشارہ کر کے خود بھی اس کے پیچھے بڑھ گیا۔۔۔وہ اسے دیکھ کر بھول گیا کہ ایک لڑکی اس کے نام پر آس لگاۓ بیٹھی ہے۔۔۔بس اس کا دل جھوما تو وہ مسکرا اٹھا۔۔۔


جاری ہے۔۔