No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
وہ جب آڈیشن سے لوٹی تو جو دھماکہ سوہا نے اس کے سر پر کیا اس کا تو مانو دماغ ہی گھوم گیا۔۔
میری شادی اور سنی سے. . ایسا سوچ بھی کیسے لیا تایاجان نے اور بابا نے کیا کہا یارا۔۔۔زویا بےچینی سے لان میں ادھر ادھر چکر کاٹتے ہوۓ بولی۔۔۔
بابا کو تو حاصی معقول سیچوئیشن لگی. . وہ تو کاغذ پر قلم سے اتارنے میں مصروف تھے. . . ایک ایک بات لکھی ہے جا کر پڑھ لو۔۔۔سوہا بھی پریشانی سے بولی۔۔۔
ایک تو جانے بابا کے اندر سے ناکام ادیب کی روح کب نکلے گی۔۔۔زویا سر پکڑ کر بیٹھ گئ۔
جب تمہارے اندر سے آشابھوسلے کی روح نکلے گی۔۔۔سوہا اس پر طنز کیا۔۔۔
میری سنگنگ کو مت گھسیٹا کرو بیچ میں. . زویا نے انگلی اٹھا کر تیز لہجے میں اسے وارن کیا۔۔۔۔
مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آ رہا میری . . . . یعنی کے میری زویا سہیل بٹ کی شادی اس چھچھندر ،کھڑوس ،اکڑو سے استغفراللہ سوچ کر جان نکل رہی ہے۔۔ ۔۔۔زویا نہ نہ میں سر ہلاتے ہوۓ بولی چلی جا رہی تھی۔۔۔
تمیز نام کی کسی چیز سے تو کبھی واسطہ ہی نہیں پڑا تمہارا ہے نا۔۔۔سنی جو ادھر ہی آ رہا تھا اس کی بات سن کر دماغ گھوم گیا اس کا۔۔۔
او تمیز کے پریزیڈنٹ. . یہ پٹی ضرور اپنے باپ کو تم نے پڑھائ ہو گی۔۔۔وہ بھی بازو چڑھا کر میدان میں اتر آئ۔۔۔
ہاہاہا. . . ہاۓ رے خوش فہمیاں تو دیکھو لڑکی کی. تم نے پٹی پرھائ ہو گی اپنے باپ کو. . . وہ آخر میں اس کی نقل اتارتے ہوۓ بولا۔۔۔
میں بتا رہی ہوں تمہیں جا کر انکار کر دو ورنہ تمہیں جان سے مار دوں گی تم سے کوئ نکاح شکاح نہیں کروں گی آئ سمجھ۔۔۔وہ سنی کو آنکھیں دکھاتے ہوۓ بولی۔۔۔
مجھے بھی کوئ شوق نہیں ہے تم جیسی بدتمیز لڑکی سے شادی کرنے کا. . الله بچاۓ تم جیسی چڑیل سے۔۔۔سنی نے اسی کے لہجے میں جواب دیا۔۔۔
لڑنا چھوڑو یہ سوچو کرنا کیا. . . سیم نے دونوں میں بیچ بچاؤ کی کوشش کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
کیا کرنا ہے یہ انکار کرے جاکر۔۔۔دونوں ایک ساتھ ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولے۔۔۔سیم اور سوہا تو بس دونوں کو دیکھ کر رہ گۓ. . . .
ہاں تاکہ تایاجان مجھے شہید کر دیں۔۔۔زویا جھولے پر گرنے کے انداذ میں بیٹھ گئ۔۔چہرے سے پریشانی عیاں تھی۔۔۔
اور مجھے تو بخش دیں گے نا میرا تو قتل واجب قرار دے دیں گے وہ اور مجھے اس حسین صورت کے ساتھ اس بھری جوانی میں نہیں مرنا اور وہ بھی اس باندری کی وجہ سے۔۔۔سنی نے جھولے پر بیٹھے سیم کو اٹھا کر سائیڈ پر دھکا مارا اور خود زویا کے ساتھ بیٹھ کر صورت حال کنٹرول کرنے کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔۔
خود کیا چیز ہو تم جومجھے باندری کہہ رہے ہو۔۔۔وہ ناک چڑھاتے ہوۓ بولی۔۔آج سنی کے موڈ کی وجہ سے اس نے بھی واپس جوابی چڑھائ شروع کر دی تھی ورنہ سنی کی آنکھیں غصے سے لال ہوتی کہ سامنے والے بندے کو کچا کھا جاۓ گا۔۔۔۔۔
الحمداللہ خود دیکھ لو یونانی دیوتاؤں سا حسن اوپر والے نے دیا ہے۔۔۔سنی اپنے منہ میاں مٹھو بنتے ہوۓ بولا۔۔
ہاہاہاہا. . . زویا کا ہنسی کا فوارہ چھوٹا اس کی بات پر ۔۔بدلے میں سنی نے اسے غصے سے دیکھا۔۔اپنے بھائ کو سنو سیم کیا کیا مست مذاق کرتا ہے۔۔زویا ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنستے ہوۓ سنی کو زہر لگی تھی۔۔۔
نکاخ رکوانے کا سوچو نکاح کا۔۔۔سیم انہیں اصلی مقصد کی طرف لایا۔۔۔
کیا کریں سیم۔۔دونوں ایک ساتھ بولے۔۔
سوچو سوچو کیا کرنا ہے آپ دونوں نے . . آپسی لڑائ کو کچھ دیر کے لیئے پس پشت ڈال دو۔۔۔
ہمممم ہممم۔۔دونوں گالوں کے نیچے ہاتھ رکھ کر سوچنے لگے. . سیم اور سوہا آہستہ سے وہاں سے کھسک لیئے کیونکہ ان دونوں کی وجہ سے وہ اپنا آئس کریم کا پروگرام کینسل نہیں کرنا جاہتے تھے. . .
زویا اور سنی کا جھگڑا اور سنی کا ہمیشہ کی طرخ ناک پر غصہ بیٹھے رہنا وہ سب دیکھ چکے تھے۔ اب اکتا کر بھاگنے میں ہی عافیت جانی۔۔۔۔
“بٹ ہاؤس” میں سکندر بٹ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ مکین تھے۔۔ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔سب سے بڑے راحیل بٹ جو اپنے باپ کی طرح ہی سنجیدہ اور ذمہ دار انسان تھے ۔۔۔ان کی شادی ان کے والد نے اپنے دوست کی بیٹی سے کی تھی جو خود بھی کافی سلجھی ہوئ اور ملنسار خاتون تھیں۔۔ان کے دو بیٹے تھے۔۔ثناءاللہ (سنی) جس سے اگر اس کی آخری خواہش پوچھی جاتی تو وہ یہی کہتا زویا سہیل بٹ کی کبھی شکل نہ دیکھوں_ اور سنی سے چھوٹا سلمان(سیم)۔یہ تھی راحیل بٹ کی فیملی۔
راحیل بٹ سے چھوٹے سہیل بٹ صاحب . جو انمیچورڈ اور لاپرواہ آدمی تھے. . ان کو کالج کے زمانے سےجو شاعری کا شوق لگا تو وہ پروان چڑھتے چڑھتے رائٹر بننے تک پہنچ گیا۔۔لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کی رائٹنگ سکلز کو کوئ مانتا نہ تھا پر وہ بھی اپنا شوق پورا کرنے کے لیئے خاندان کی ہر بات
کو لکھنے کے لیئے کاغزوں کا ایک بڑا پلندہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے۔۔اب بات کریں ان کی بیوی کی تو وہ ان کی کزن تھیں جن سے لکھائ لکھائ میں انہیں عشق ہوا اور پھر شادی۔۔اب ماشاءاللہ سے وہ دو بیٹیوں کے باپ ہیں۔۔بڑی زویا سہیل بٹ جسے ہمیشہ سے گانے کا بہت شوق تھا مگر اس کی سکلز کو بھی کہاں کوئ مانتا تھا جس پر اس کا ایک ہی جواب ہوتا تھا”ٹیلنٹ کی تو قدر ہی نہیں”۔اور اس کا پسندیدہ مشغلہ سیم اور سوہا کو اتنا تنگ کرنا کہ بےچارے رونے والے ہو جاتے۔۔۔زویا سے چھوٹی سوہا تھی جو کالج کی طالبہ تھی۔۔۔
اس کے بعد سکندر بٹ کی تیسری اولاد یعنی شاہینہ پھپھو. . جو شادی کر کے دوسرے شہر میں مقیم تھیں اور دو چھوٹے چھوٹے گولو مولو جڑواں بچوں کی ماں تھی۔۔اور دوسرے شہر شادی کرانے پر ہمیشہ سے بھائیوں کو کوستی رہتی تھیں۔۔۔
اب بات کریں سکندر بٹ کے سب سے آخری پیس چھوٹی پھپھو یعنی صالحہ بٹ کی. . جو شیطان کا چیلہ معلوم ہوتیں تھی کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جلدی کا کام شیطان کا. اور وہ ہر وقت جلدی میں رہتی تھیں اور ان کی اٹیچمنٹ بھائ بہنوں سے زیادہ بھتیجیوں اور بھتیجوں سے تھیں. . کیونکہ وہ سنی سے صرف دو دن بڑی تھیں۔۔
سکندر بٹ اور ان کی بیوی کی وفات کے بعد گھر اور بزنس کا سارا ذمہ راحیل صاحب کے سر آ گیا جسے انہوں نے اچھی طرح سنبھالا اور اپنے بھائ بہنوں کا بھی بہت خیال رکھا. . . اب گھر کے تمام فیصلے وہ کرتے تھے اور ان فیصلوں سے انکار کرنے کی کبھی بھی کسی میں بھی ہمت نہیں تھی۔۔۔
گھر بھر میں نکاح کی تیاریاں ہو رہیں تھیں. بڑی پھپھو اپنے دو جڑواں ہم شکل شیطانوں کے ساتھ آ گئ تھیں۔۔۔ گھر میں خوشی اور مسرت کا سماں تھا مگر ایسے میں دو نفوس اپنے اپنے کمروں میں بیٹھے اپنی قسمت کو کوس رہے تھے۔۔۔
زویا. . یہ جوڑا نکاح کا کیسا ہے مجھے تو بہت پسند آیا تم دیکھو۔۔مسزسہیل ہاتھ میں ایک حوبصورت سفید کامدار فراک لے کر کمرے میں داخل ہوئیں۔۔
یہ کیا زویا تم ایسے کیوں بیٹھی ہو اور اتنی اداس کیوں ہو۔بیڈ پر رف سےخلیے میں بیٹھی زویا سے پوچھا اور مسز سہیل فراک کو صوفے پر رکھ کر اس کے ساتھ بیٹھ گئیں۔۔
ماماجان آپ سب کو نہیں لگتا یہ فیصلہ بہت جلدبازی میں ہو رہا ہے ۔۔زویا مسزسہیل کے ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولی۔۔۔
نہیں زویا آپ کے اور سنی کے رشتے کو تو ہمیشہ سے ایسے ہی سوچا تھا ہم سب نے ۔۔۔مسزسہیل اس کا سر اپنی گود میں رکھتے ہوۓ بولیں۔۔۔
ماماجان ہم لوگ نہیں رہ پائیں گے ایک ساتھ آپ تایاجان سے بات کریں نا۔۔ہماری سوچ ہمارے عادات کچھ بھی نہیں ملتیں ایک دوسرے سے۔۔اور سب سے بڑی بات سنی ہر وقت بھڑکا رہتا ہے مجھ پر ماماجان ایسے میں ہماری شادی نہ کریں ماماجان۔۔۔زویا نے آس سے ان کے دونوں ہاتھ پکڑے ۔۔انداذ منت والا تھا۔۔لہجے میں بےبسی کی رمک تھی۔۔
تم فضول میں اتنا ذیادہ سوچ رہی ہو نکاح کے بعد ٹھیک ہو جاۓ گا سب اور اسے تنگ تو تم ہی کرتی ہو نا تم تنگ کرنا چھوڑ دو وہ غصہ کرنا چھوڑ دے گا۔۔اور ہو سکتا ہے یہ غصہ محبت والا ہو۔۔۔اور اب ذیادہ باتیں مت بنانا اٹھو اور خود پر تھوڑا دھیان دو۔۔مسزسہیل اس کی بات کو نظرانداذ کر کے اپنی بات اسے سمجھاتے ہوۓ کمرے سے چلی گئیں۔۔
ماں باپ اپنی اولاد کے لیئے جو فیصلہ لیتے ہیں ٹھیک ہوتا ہے مگر ہر رشتہ ہر انسان پوری طرح پرفیکٹ ہوتا ہے نہ پرفیکٹ فیصلے کر سکتا ھے کبھی کبھار ماں باپ بھی اپنے بچوں کے لیئے چناؤ میں غلطی کر لیتے ہیں۔۔۔
اور اکثر ایسا ہوتا ہے جہاں ماں باپ کو اپنی اولاد کو سمجھنا چاہیئے اس کے خدشات کو سن لینا چاہیئے وہاں اولاد کو نادان قرار دے کر چپ کر دیا جاتا ہے۔۔۔
اور یہ نہ سننا کبھی کبھی اذیت کی ان دیکھی دلدل میں پھینک دیتا ہے۔۔۔۔
تم کل آڈیشن دینے گئ تھیں سنگنگ کے لئیے ۔۔وہ جو پچھلے لان میں جھولے پر بیٹھی اپنی قسمت کو کوس رہی تھی یہ الفاظ سنتے ہی اسے اچھو لگ گۓ وہ ایک دم پیچھے مڑی تو سامنے سنی کھڑا تھا۔۔۔
نہیں تو میں تو نہیں گئ تھی۔۔۔وہ نظریں اِدھراُدھر گھمانے لگی۔۔صاف لگ رہا تھا چھوٹ بول رہی ہے۔۔۔کبھی کبھار سنی اتنا ظالم ہو جایا کرتا تھا کہ وہ سہم جاتی اس سے خوفزدہ رہتی۔۔ابھی بھی وہ ڈر گئ تھی اگر وہ جا کر گھر میں یہ بات نشر کر دیتا تو قیامت برپا کر دینی تھی تایاجان نے۔۔۔۔۔
تمہارا لہجہ بتا رہا ہے جھوٹ بول رہی ہو تم۔۔۔وہ اس کے اِس طرح اِدھراُدھر دیکھنے پر اکتا کر بولا۔۔۔۔لہجہ انتہائ سرد تھا برف جیسا۔۔۔۔۔۔۔
ہاں تو گئ تھی تمہیں کوئ مسلئہ ہے۔ اور تمہیں ضرور اس سیم کے بچے نے بتایا ہو گا چھوڑوں گی نہیں میں اسے۔وہ ایک دم اپنے انداز میں آ گئ تھی۔۔اپنے ڈر کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا اس نے۔۔۔۔۔۔۔
نہیں مجھے کیا مسئلہ ہو سکتا ہے مجھے تو بہت خوشی ہوئ۔اور سیم نے نہیں بتایا بلکہ وہ جو آڈیشن لے رہا تھا فیصل میرا دوست ہے وہ۔۔۔سنی جھولے پر بیٹھ گیا۔۔اب اس کا لہجہ تھوڑا پانی ہوا تھا۔۔۔۔۔
کیا تمہیں خوشی ہوئ۔۔۔مجھے تمہارے سنی ہونے پر شک ہو رہا ہے۔۔وہ اسے تیکھی نظروں سے دیکھنے لگی کہ سنی تو تایاجان کا پکا خامی اسے کیسے خوشی ہو سکتی ہے۔۔۔۔
دیکھو بات کو گھماؤں گا نہیں میں سیدھی بات کروں گا میں تم سے شادی ہر گز بھی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔وہ اس کی طرف دیکھنے لگا لہجہ پھر سے سرد ہو گیا تھا۔۔۔
کمال ہے بھئ کہہ تو ایسے رہے ہو جیسے میری تو جان نکل رہی ہے تم سے شادی کے واسطے۔۔وہ بھی اسی کے انداز میں بولی۔۔
لیکن بابا کو انکار کرنا میرے بس میں نہیں اس لیئے کرنی پڑے گی ۔ورنہ میری آئیڈل اور لائیف پارٹنر تم جیسی کم شکل لڑکی کبھی نہیں رہی مجھے پرفیکٹ اور خوبصورت لڑکی چاہئیے۔۔۔۔وہ اس کی بات کو نظرانداز کرتے ہوۓ اپنی پسند بتانے لگا۔اس بات سے بےخبر کے اس سی پہلی بات پر زویا کو کتنی تکلیف ہوی ہے۔۔۔۔۔۔
تو۔۔۔وہ اس کی باتوں کا کوئ سِرا پکڑ نہیں پا رہی تھی۔۔۔وہ تکلیف میں تھی صدمے میں نہیں۔۔وہ یہی تو سنتی آ رہی تھی ہمیشہ سے سنی کے منہ سے کہ وہ باقی لڑکیوں کی طرح خوبصورت نہیں ہے۔۔۔اور سنی سو حوبصورتی اٹریکٹ کرتی تھی۔۔۔۔۔۔
میں نے سکالرشپ کے لیئے اپلائ کیا مجھے جواب موصول ہو چکا ہے کچھ فارمیلیٹیز ہیں جن پر تھوڑا وقت لگے گا پھر میں سیدھا امریکہ اور پھر وہیں سیٹ ہو جاؤں گا۔۔۔وہ اس کی طرف بنا دیکھے بولتا چلا جا رہا تھا۔۔۔
تو۔تم یہ سب مجھے کیوں بتا رہے ہو۔۔۔وہ الجھے ہوۓ انداز میں بولی۔وہ اب بھی اس کی بات نہیں سمجھی تھی۔۔۔۔
اس لیئے کہ شور اور سیاپا ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ایک تیر سے ڈو شکا ہو جائیں گے۔۔میں چلا جاؤں گا مناسب وقت ملتے ہی تم کو چھوڑ دوں گا اینڈ فیصل تمہیں اپنی البم کے لیئے اپنے ساتھ شامل کر لے گا۔۔۔تمہارا بھی فائدہ ہے ۔۔۔۔وہ بولا تو زویا کو لگا فرعون جنم لے چکا ہے اس کی صورت۔۔۔۔۔۔
کتنے خودغرض ہو تم ثناءاللہ راحیل بٹ اپنی آسانی کے لیئے مجھے جو ریزہ ریزہ کر ڈالو گے اُس کا کیا۔۔وہ بس دل میں ہی کہہ سکی۔۔
پر مجھے کیا میں کون سا اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔۔اس نے بےپرواہی سے کہا مگر ایک آنسؤ روانی سے گال کو بگھو گیا جسے اس نے خود بھی نوٹ نہیں کیا۔۔۔
یہ جو رشتوں کی ڈور ہوتی ہے بہت قیمتی ہوتی ہے۔۔ایک عورت کے لییے بہت ذیادہ۔۔وہ رشتوں کے معاملے میں حساس ہوتی ہے اس لیئے جو محرم اللہ بنا دیتا ہے اسے دل میں بسا لیتی ہے۔۔۔اور چوٹ کھاتی ہے۔۔۔۔۔۔
بتیسی کیوں نکل رہی ہے تمہاری. . سنی ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر شیروانی ٹھیک کر رہا تھا جب ہنستے ہوۓ سیم پر اس کی نظر پڑی۔۔۔
دیکھ رہا ہوں سڑیل ہو پر لگ اچھے رہے ہو۔۔سیم اس کے بال میں ہاتھ ماڑنے لگا۔۔۔۔
ہزار دفعہ سمجھایا ہے. بال مت خراب کیا کرو میرے مگر اس باندری کی کمپنی میں رہ رہ کر تمہاری خرکتیں بھی بلکل بندروں جیسی ہو گئ ہیں۔۔وہ سیم کو پیچھے دھکیل کر اپنے بالوں کو صیح کرنے لگا جو سیم خراب کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔
اب تو بہت جلد آپ کی بھی ایسی ہی خرکتیں ہوں گی. . میں اس سے بھی ذیادہ کی امید رکھتا ہوں۔۔۔سیم اسے چھیڑنے لگا۔۔۔۔
مجھے لگ رہا ہے میں سوتیلا ہوں ورنہ کوئ اپنی سگی اولاد سے ایسی دشمنی کہاں کرتا ہے۔وہ منخوس اور معمولی سی شکل والی زویا میرے ساتھ کیسے اچھی لگی ان کو۔۔۔اس نے اس ہفتے لاکھ دفعہ بولا ہوا جملہ پھر دہرایا۔وہ زویا کی انسلٹ کہیں بھی کسی کے بھی سامنے کرنے سے نہیں کتراتا تھا۔۔۔۔
بس کر دیِں اب تو مجھے بھی شک ہونے لگا ہے۔اور بھائ پلیز شکل صوڑت سب اللہ نے بنایا ہے وہ جیسا بناۓ اس کی مرضی آپ میں کوئ بھی اس میں نقص نکالنے والے کون ہوتے ہیں۔۔اک اور بات عزت بھائ بھلے نفرت کریں زویا سے مگر اس کے عزت کریں۔۔سیم نے اسے سمجھانا چاہا۔۔اسے برا لگا تھا زویا کے متعلق یہ سب کچھ۔۔۔
اب بھاشن دینے مت لگ جانا آگے ھی بھرا بیٹھا ہوا تم پر پھٹ پروں گا۔۔۔سنی نے آنکھیں دکھائیں۔۔
بھاشن نہیں ہے بھائ کچھ باتیں ہیں جو آپ وقت پر سمجھ لیں تو فائدہ آپ کا وقت گزرنے کے بعد سمجھ آئیں تو حالی پچھتاوا رہ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔سیم چھوٹا تھا مگر باتیں اور عادتیں سنی سے اچھی تھیں اس میں۔۔۔۔۔
چل یار اریٹیٹ مت کر ۔ ۔۔سنی نے برا سا منہ بنایا ۔۔۔۔
سیم اور سنی آگے پیچھے باہر نکل گۓ۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
