60.3K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

یہ بابا اتنے خوش کیوں ہیں زویا۔۔سوہا کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولی۔۔وہ جب سے کالج سے آئ تھی اپنے باپ کو بہت خوش دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
برسوں پرانے خواب کو تعبیر ملے وہ بھی تب جب تعبیر کی امید نہ ہو تو اتنا خوش ہونا تو بنتا ہے سوہا۔۔زویا کپڑے الماری میں رکھ رہی تھی ذرا سی گردن موڑ کر جواب دیا اور پھر سے الماری میں سر دے کر کام کرنے لگی۔۔
مطلب بابا کو ڈرامہ مل گیا ہے۔۔۔سوہا کی خوشی بھری آواز گونجی۔۔۔
ہاں پروڈیوسر کو کہانی اچھی لگی بابا کی اور اوکے کر دیا۔۔۔زویا بغیر رخ موڑے بولی۔۔
واؤ یار یہ تو زبردست ہو گیا پھر۔۔۔سوہا کی بھی خوشی کی انتہا نہ رہی تھی۔۔۔
کیا زبردست ہو گیا میری شہزادیو!چھوٹی پھپھو کمرے میں آتے ہی بولیں۔۔۔
پھپھو بابا کا خواب پورا ہو گیا شکر ہے زبردست ہو گیا میں تو بہت خوش ہوں۔۔سوہا صالحہ کے ہاتھ پکڑ کر گول گول گھومنے لگی۔۔
لیکن راحیل بھائ بلکل خوش نہیں ہیں۔۔۔چھوٹی پھپھو بیڈ سانس پھول جانے کی وجہ سے بیڈ پر ڈھے گئیں۔۔
ہاں پتہ ہے مجھے ان کے اور ان کے صاحبزادے ثناءاللہ بٹ کی کھوپڑی شریف میں ایک ہی بات سماتی ہے فیملی بزنس۔۔باقی خواب جائیں بندے کے باڑ میں۔۔۔سوہا جل بھن گئ تھی۔۔
آہستہ بولو تائ سن لیں گی۔۔۔زویا اسے آہستہ بولنے کا اشارہ کیا۔۔
ایک تو جب سے تمہارا نکاح ہوا ہے بہت کمزور دل والی ہوگئ ہو ۔۔۔اور جو یہ تم بہت تابعدار بنی پھڑتی ہو ان دنوں بیٹا اتنا میٹھا ہونا صحت کے لئیے ٹھیک نہیں۔۔اور اپنے خوابوں کو کسی کے لئیے پسِ پُشت ڈالنا تو بےوقوفی ہے جو تم کر چکی ہو۔۔۔چھوٹی پھپھو منہ بن گیا۔۔زویا کا سنگنگ کے لیئے انکار کا اسے پتہ لگا تھا۔۔
بلکل پھپھو میں بھی یہی کہہ رہی ہوں اتنا تایاجان سے پہلے لڑتی تھی تھوڑا اور لڑ لیتی تو اس کا خواب چند قدم کی مسافت پر اس کے انتظار میں تھا۔۔مگر تایاجان نے بھی صیح نکیل ڈالی اسے۔۔۔سوہا دھڑام سے بیڈ پر صالحہ کے برابر بیٹھ گئ۔۔۔۔
ماما کہتی ہیں اصل بات رشتہ بنانا نہیں رشتہ نبھانا ہے اور مجھے بھی یہ رشتہ تہہِ دل سے نبھانا ہے مانا کہ میں راضی نہیں تھی اس رشتہ کے لیئے مگر دل بدل جانے میں دیر کتنی لگتی ہے۔اور جہاں تک میرے خوابوں کی بات ہے تو اس رشتے کے لیئے انہیں چھوڑنا پڑے گا..رشتے مفت میں نہیں ملتے ۔۔مفت میں تو سانس بھی نہیں ملتی ایک سانس تب آتی ہے جب ایک چھوڑ جاتی ہے۔۔۔زویا نے کپڑے الماری میں رکھ کر الماری بند کی اور ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے سراپے کا جائزہ لینے لگی۔۔
واہ مس زویاسہیل بٹ صاحبہ !آپ کے الفاظ نے تو مجھ کو رُلا ہی دیا میں حکومت کو درخواست کرنا چاہوں گی تمہیں اس بات پر تمغہ امتیاز سے نوازا جاۓ۔۔لیکن سنی نہیں نوازے گا تمہیں نہ محبت سے نہ خوشیوں سے اس لئیے ایٹیز کی ہیروئین بننے کی کوشش نہ کرو۔۔۔پھپھو اٹھ کر اس کے مقابل آ کھڑی ہوئیں۔۔
واقعی بابا کو چھوڑو ڈرامہ تم لکھ لو کیا ڈائیلاگز مارنے لگی ہو۔میری تو آنکھیں بھر آئیں۔مگر زویا احترام کسی بھی رشتے کی بنیاد ہوتا ہے اور وہ تمہیں جوتی کی نوک پر رکھتا ہے۔ساتھی عزت اور اعتبار کے معیار کو پورا نہ کرتا ہو تو زندگی داؤ پر نہیں لگانی چاہیئے۔۔سوہا بھی اس کے مقابل کھڑی ہوئ۔
وہ صرف غصّہ کرتا ہے اور تو کچھ نہیں اور یہ “غصّہ محبت والا” بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔زویا دونوں کی طرف دیکھنے لگی جیسے اپنی بات کی تائید چاہتی ہو۔
چل سوہا پتر ہم دونوں تھک گۓ ہیں کھانا وانا کھا لیں اس لیلا کو سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہی ہے۔۔۔چھوٹی پھپھو نے کہا اور سوہا اور وہ کمرے سے نکل گئیں۔۔۔اور زویا وہ تو سوچ سوچ کر ہی پاگل ہونے لگی تھی۔۔۔


میرا بچّہ سفر صیح رہا تمہارا۔۔وہ جب سے آیا تھا بڑی پھپھو صدقے واری جا رہیں تھیں اس پر ۔۔۔
جی پھپھو ۔۔اور یہ ماما اور چچی نے سمیع،چھوٹو،پھپھا اور آپ کے لییۓ کچھ گفٹس بھیجے ہیں۔۔۔وہ تمام بیگز ان کے سامنے رکھنے لگا۔۔
یہ سنی صاحب راستہ کیسے بھول گۓ ہمارے گھر ۔۔۔ پھپھو کے دیور فہیم جو ابھی باہر سے آۓ تھے اس پر نظر پڑتے ہی مسکراتے ہوۓ لاؤنج میں ہی چلے آۓ۔
وہ میرے دوست کی شادی ہے اسی پر آیا ہوں۔۔۔سنی نے ہاتھ بڑھا کر اس سے مصافحہ کیا۔۔
گرماگرم چاۓ۔۔۔حسینہ چاۓ لے کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوئ جسے سنی کی نظریں کب سے ڈھونڈ رہیں تھی۔۔۔
تو کب تک ہو اِدھر پھر۔۔۔فہیم نے چاۓ کا کپ اسے پکڑایا اور خود بھی کپ اٹھا کر چاۓ کے سِپ لینے لگا۔۔۔
دو دن کا فنکشن ہے۔۔پھر تین چار دن اپنی پھپھو کے پاس گزاروں گا۔پھر جاؤں گا۔کیوں پھپھو صیح ہے نا۔۔وہ جو دو دن کے لیئے آیا تھا دل اسے ہفتے بھر کے لیئے ٹھہرا رہا تھا۔۔۔
میں صدقے میرا بچّہ جتنے دن چاہے رکو تمہارا اپنا گھر ہے۔۔پھپھو واری صدقے جانیں لگیں۔انہیں خوشی تھی ان کا یہ کھڑوس بھتیجا جو کبھی آتا نہ تھا اب کے رہنے آیا ہے۔۔۔۔۔۔
میں تو تاعمر رک جاؤں دل یہی کہہ رہا ہے۔۔۔سنی آہستہ آواز میں حسینہ کو نظروں کے تعاقب میں لیتے ہوۓ بولا جسے حسینہ نے واضح سنا اور منہ پھیر لیا مگر وہاں بیٹھے نفوس میں سے کسی اور نے بھی یہ سنا اور دھیرے سے مسکرا دیا۔۔۔
اور یہ صالحہ پھپھو نے آپ کے لیۓ بیجھا ہے۔۔۔سنی فہیم نے ایک گفٹ ہیمپر فہیم کی طرف بڑھایا۔۔
شکریہ ۔۔فہیم نے مسکرا کر شاپر پکڑا اور اٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔
پھپھو یہ لڑکی کون ہے جو ابھی چاۓ دے گئ میرا مطلب اسے پہلے آپ کے گھر میں دیکھا نہیں۔۔۔وہ اِدھراُدھر دیکھتے ہوۓ بولا کہیں پھپھو آنکھوں سے اس کے دل کا اصل حال نہ پڑھ لیں۔۔۔
ہاں وہ تمہارے پھپھا کی کزن ہے مطلب ان کی پھپھو کی بیٹی۔۔چلو تم آرام کر لو تھوڑی دیر۔۔چلو تمہیں کمرہ دکھا دوں۔۔پھپھو نے سارا سامان ماسی کو بُلا کر کمرے تک لے جانے کی تلقین کر کے اسے بھی کمرے کی طرف چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔
جی پھپھو۔۔۔وہ کہتا ہوا ان کے پیچھے بڑھا مگر اس کی نظریں اب بھی پورے گھر کو کھوج رہیں تھیں کہ کہیں سے وہ دشمنِ جاں نکل آۓ۔۔۔


اے خدا اے خدا
تو بول دے تیرے بادلوں کو
میرا یار ہنس رہا ہے
بارش کی جاۓ۔۔
صالحہ لان میں جھولے پر بیٹھی اپنی مدھم آواژ میں گانے کے سُر چھیڑ رہی تھی۔جھولہ جھولتے ہوۓ گانا گانا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔۔وہ جو زویا سے بات کرنے آیا تھا ٹھہر گیا۔دل عجب تال پر دھڑکنے لگا اس کا۔۔دھڑکن رکی دل تھوڑا ٹھہر کے دھڑکا۔آنکھوں کی چمک تیز ہوئ۔۔
او مسٹر کون ہو اور ایسے کیوں تاڑ رہے ہو۔اور کہاں گھسے چلے جا رہے ہو۔۔چھوٹی پھپھو کی نظر اس پر پڑی تو وہ غصے سے اس کی طرف بڑھی۔۔۔
تاڑ نہیں رہا تھا سن رہا تھا بہت اچھا گاتی ہیں آپ اینڈ میں فیصل سلطان۔۔ہاۓ۔۔اس نے ایک ہی سانس میں آرام سے اس کے سوالوں کے جواب دے ہاتھ مصافحے کے لیئے آگے بڑھایا۔۔
اب تم سلطان ہو یا بادشاہ میں کیا کر سکتی ہوں مجھے تو یہ بتاؤ یہ سلطان ہماری ریاست میں کیا لینے آیا۔۔۔وہ کمر کے نیچے رکھ کر اس کے بڑھے ہوۓ ہاتھ کو نظرانداذ کر کے بولی۔۔انداذ لڑاکا عورتوں والا تھا۔۔
ریاست کی شہزادی کو چرانے۔۔۔وہ ہلکے سے بڑبڑایا۔۔۔
کیا کہا۔۔وہ اس کی بڑبڑاہٹ نہ سمجھ پا کر بولیں۔۔۔
کچھ نہیں وہ زویا کو بولیں فیصل سلطان آیا ہے اس نے آڈیشن دیا تھا اس سلسلے میں ملنے۔۔۔وہ نظریں جھکا گیا تھا۔۔
ہاۓ آپ بھی پھوڑ لو سر اپنا ہم بھی اتنے دن سے پھوڑ ہی رہے ہیں زویا نامی پتھر سے ۔۔۔آ جائیں اندر۔۔وہ اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر کے اندر بڑھ گئیں۔۔وہ بھی مسکراتا ہوا دل کی آواز پر رقص کرتا ہوا اس کے پیچھے چل پڑا۔۔۔


سنی کو گۓ ہفتہ گزر گیا گیا تھا وہ جو دو دن کے لیئے گیا تھا وہ مسافر راستہ بھول گیا تھا شاید یا کہیں بھول بھلیوں میں رہ گیا تھا۔۔۔
پہلے جا نہیں رہا تھا اب آ نہیں رہا کیوں۔۔؟؟ چھوٹی پھپھو مشکوک ہو چکی تھیں۔
مجھے پتہ کرنا ہو گا کس چکر میں ہے سنی۔زویا کو مزید ٹوٹنے نہیں دوں گی میں۔۔۔وہ سوچ رہی تھیں۔۔
کیا سوچ رہیں ہیں پھپھو۔۔سوہا کمرے میں داخل ہوئ تو انہیں ٹہلتے دیکھ کر پوچھا۔۔۔
زویا کو سیرئیس نہیں ہونا چاہئیے تھا اس رشتے کے لیئے ۔۔۔پھپھو پریشانی سے چکر کاٹنے لگیں کمرے کے۔۔
کیوں پھپھو کیا ہوا ہے۔۔سوہا بھی پریشان ہو گئ تھی۔۔۔
مجھے سنی کی خرکت بہت مشکوک لگی گیا دو دن کے لیئے ہفتہ ہو گیا آیا نہیں ۔۔پھپھی کی محبت یوں ایک دم سے تو نہیں جاگ سکتی۔۔۔چھوٹی پھپھو اِدھراُدھر ٹہلتے ہوۓ بولی۔۔ جس سے ان کا سانس پھول گیا تھا۔۔
پھپھو یار آرام سے سانس مت پھولنے دیا کریں آپ کی طبیعت حراب ہو جاتی ہے پھر۔۔اس نے پانی کا گلاس انہیں پکڑایا جس سے ایک گھونث بھر کے واپس ٹیبل پر رکھ دیا۔
تو پھر پھپھو۔۔سوہا اس کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔
کرنا تو پڑے گا کچھ زویا اتنی بےمول نہیں ہے جو یوں سنی کی ناپسندیدگی کی نظر ہو جانے دوں اسے۔۔۔پھپھو نے کہا اور موبائل اٹھا کر کسی کو کال کرنے لگیں۔۔۔


نکمّی لڑکیاں ہو تم لوگ دنیا میں اور بھی کام ہیں افیئرز کے علاوہ وہ کیوں نہیں کرتیں۔۔سوہا دوستوں کی فضول گوسپ سے تنگ آ گئ تھی۔۔کالج کی چھٹی ہو گئ تھی اب وہ کالج کے گیٹ سے باہر نکل رہیں تھیں. .
ہاں یہ تو ہمارا مسئلہ ہے تم کو کیسی فکر اتنا ہینڈسم کزن تمہارا تمہارے آگے پیچھے پھرتا ہے۔۔۔اور لو وہ کھڑا ہے تمہارا ہینڈسم کزن۔۔۔اس کی ایک دوست نے سامنے گاڑی کے ساتھ کھڑے سیم کی طرف اشارہ کیا جو سوہا کا انتظار کر رہا بلاشبہ وہ بہت ہینڈسم تھا۔۔
تم لوگو کی تان یہی آ کر ٹوٹتی ہے۔۔۔وہ انہیں خداخافظ کہتی ہوئ گاڑی کی طرف بڑھ گئ۔۔۔
اتنی دیر کیوں لگا دی آنے میں آدھے گھنٹے سے دھوپ میں کھڑا ہوں۔۔۔ اس کی طرف کا دروازہ کھول کر اسے بٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔
وہ تمام دوستیں اکٹھی ہو گئیں تھیں تو دیر ہو گئ۔۔۔وہ سیٹ بیلٹ باندھنے لگی۔۔
ہاں اور میں یہاں دھوپ میں سڑسڑ کر جو کالا ہو گیا اس کا کیا؟؟ وہ گاڑی اسٹارٹ کی۔
تو نہ آنا آئیندہ احسان جتانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔وہ غصہ ہو گئ تھی۔
ایک تو میرے لیئے غصہ ہر وقت تمہاری ناک پر رہتا ہے سوری! وہ اس کے روٹھ جانے سے ڈر جایا کرتا تھا۔۔۔
تمہارا بھائ نہیں آیا کیوں؟؟ وہ اس کی طرف دیکھنے لگی۔اسے یقین تھا سیم کو پتہ ہوا تو وہ ضرور بتاۓ گا اس سے کچھ نہیں چھپاۓ گا۔۔۔
مجھے کیا پتہ اب ان کا پرسنل اسسٹنٹ تھوڑی ہوں میں۔۔۔سیم اٹک اٹک کر بولا۔۔
تمہارے بھائ کی حرکتیں دن بدن مشکوک ہوتی جا رہی ہیں۔۔
کیوں وہ کسی گینگ کو جوائن کر چکے ہیں۔۔۔سیم نے بات گھمانی چاہی۔۔۔
میں سیرئیس ہو مسٹر سلمان راحیل بٹ۔۔۔وہ اس کا پورا نام چبا چبا کر بولی۔۔۔
اب واقعی لگ رہا ہے تم سیرئیس ہو میرا پورا نام تبھی لیتی ہو تم۔۔
میری بات کان کھول کر سن لو تمہارے بھائ کی وجہ سے اگر میری بہن کو کوئ دکھ ملا اور تم اس سب میں شریک ہوۓ تو اسے بعد میں ماروں گی پہلے تمہیں مار ڈالوں گی۔۔
تمہارے ہاتھوں تو موت بھی قبول ہے سوئیٹ ہارٹ۔۔
میں چھوڑ جاؤں گی تمہیں۔اور یاد رکھنا پسندیدہ شخص کا زندگی سے نکل جانا موت سے بدتر ہوتا ہے۔سوہا بولی تو گاڑی کا اسٹیئرنگ اس کے ہاتھ سے چھوٹا۔۔۔
اتنی بڑی بڑی باتیں کتنی آسانی سے کر لیتی ہو۔۔۔اس نے بے قابو ہوتی گاڑی کو سنبھالا اور سائیڈ پر کھڑا کر دیا۔۔۔
تو تم ان بڑی باتوں کو ہونے کی نوبت ہی نہ آنے دینا۔۔۔سوہا ونڈو سے باہر دیکھنے لگی۔۔
میں کیا کر سکتا ہوں یار تم مجھے کیوں گھسیٹ رہی ہو بیچ میں۔۔۔سیم کی معصوم شکل دیکھنے لائق تھی۔۔
تو پھر اپنے بھائ کو سمجھا دو ۔۔۔۔سوہا نے انگلی اٹھا کر کہا۔۔
کیا سمجھا دوں۔۔۔سیم نے مسکرا کر اس کی انگلی پکڑ لی۔
اس کا اور زویا کا رشتہ ٹوٹا یا اس کی وجہ سے زویا تڑپ کر رو دی تو تمہارے میرے راستے بھی الگ۔۔۔سوہا آرام سے کہہ کر باہر دیکھنے لگی۔۔
اچھا چلو غصہ تو تھوکو۔۔وہ اس بات کو یہی روک دینا چاہتا تو جو اس کی روح تک کو ہلا گئ تھی۔وہ اس بات کو اڑا گیا کہ کچھ بھی ہو سکتا تھا سوہا اسے نہیں چھوڑ سکتی تھی۔
میری بات آئ سمجھ تمہیں۔۔۔
بلکل ماں بدولت اور تم غصے میں کتنی اچھی لگتی ہو مجھے کیا بتاؤں تمہے۔۔۔سیم ان باتوں کا اثر زائل کرنے کے لیئے ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگا۔۔۔
مکھن نہ لگاؤ۔۔سوہا شیشے سے باہر دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔
ویسے ایک بات پوچھو۔۔۔سیم شرارتی لہجے میں بولا۔۔
ہممم بولو ۔۔سوہا اس کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔
یہ “غصہ محبت والا” ہے نا۔۔۔سیم بولا تو سوہا نے اس کی طرف دیکھا اور پھر دونوں بےاحتیار ہنس دیئے۔۔. اس بات سے انجان پہلے پہل کی محبت کا ادھورا رہ جانا اٹل ہے ۔۔۔۔۔۔۔


جاری ہے۔۔۔۔