Haqarat By Isra Rao NovelR50464 Haqarat (Episode - 9)
No Download Link
Rate this Novel
Haqarat (Episode - 9)
Haqarat By Isra Rao
“وہ سمجھتی ہیں میں آپ سے بدلہ لینا چاہتی ہوں، میں نے دولت کے لیے آپ سے شادی کی ہے” مہرین کی آنکھوں میں آنسوں تھے۔
“امی جی نے ایسا کیوں کہا؟” وہ حیران ہوا
“پتا نہیں انہیں کیا ہوا؟ جب سے انہیں پتا چلا ہے کہ میں امید سے ہوں ۔۔۔وہ کہتی ہیں خاور پر زمہ داری مت ڈالو بچوں کی” مہرین روتے ہوئے کہنے لگی۔
“کیا؟ تو۔۔تم۔۔۔؟” وہ یک دم خوش ہوا
مہرین نے اثبات میں سر ہلایا
“تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟”
“مجھے خود کل ہی پتا چلا ہے میں۔۔”
“میں بہت خوش ہوں مہرین۔۔بہت” اس نے مہرین کو گلے لگایا۔
“اب تم پروپر ریسٹ کرو گی آئی سمجھ کچھ بھی چاہیے ہو مجھے بتاؤ ملازمہ کوبتاؤ، امی کوبتاؤ”
“نہیں وہ ناراض ہیں “
“میں بات کروں گا ان سے تم فکر نہیں کرو”
“مہرین نے اثبات میں سر ہلایا
“امی جی آپ کو زرا احساس نہیں ہے اس کی حالت کا”
خاور نے غصہ میں کہا
“اچھا الٹا تم مجھے ہی کہ رہے ہو رے وہ تو تم سے محبت ہی نہیں کرتی۔۔وہ تم سے ںدلہ۔۔”
وہ پوری کرتی اس سے پہلے ہی خاور نے بات کاٹ دی
“بس کردیں آپ۔۔وہ بدلا کیا لے گی؟ اس نے مجھ سے دولت کے لیے شادی نہیں کی۔۔۔میں نے زبردستی اس سے شادی کی تھی۔۔آپ کو تو ہماری خوشی میں خوش ہوانا چاہیے۔۔۔
وہ بیچاری تو ماں بننے والی ہے اور آپ نے اتنے گھٹیاالزام لگائے اس پر؟”
خاور نے غصہ میں کہا
“کیا؟لیکن مجھے تو۔۔ ۔”
“بس امی جی اگر آپ اس کا خیال نہیں رکھ سکتی تو اسے پریشانی اور دکھ تو مت دیں” خاور نے تلخی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔
“سر جی اظہر کے کیس کے سلسلے میں پولیس آئی ہے” میکال نے بتایا
“یہ کیس کب سے ہوگیا” خاور حیران ہوا
“سر ایک نیا افسر ہے اس نے ری وپن کیا ہے”
“تو پیسے کھلا دو بند کردے گا” خاور نے لاپرواہی سے کہا
“نہیں سر جی یہ افسر سر پھرا ہے تھوڑا رشوت نہیں لیتا اور سب سے بڑی بات سر اسے گواہ بھی مل گیا۔۔کوئی آپ کے خلاف گواہی دینے کو تیار ہے”
“کیا؟ اتنی ہمت کس میں آگئی؟”
“معلوم نہیں سر”
“ہوں۔۔” وہ اٹھ کر باہر آیا
عمر شہزاد سامنے ہی کھڑا تھا۔۔
“کیسے آنا ہوا آفیسر؟” خاور نے آتے ہی پوچھا
“آپ کو ساتھ لے جانے آیا ہوں” اس نے مسکرا کر کہا
“پر کس لیے؟”
“اظہر شیخ کے قتل کا کیس ہے آپ پر”
“لیکن کیا ثبوت ہے کہ وہ میں نے کیا ہے؟”
“ثبوت بھی میرے پاس۔۔بہت جلد سامنے آجائے گا”
“اچھا مجھے انتظار رہے گا”
“اور مجھے آپ کو سلاخوں کے پیچھے دیکھنے کا انتظار ہے”
” ثبوت اور وارنٹ لے کر آؤ آفیسر” خاور نے ناگواری سے کہا
“آؤ گا بہت جلد” وہ کہتا باہر کی طرف نکل گیا۔
“میکال؟”
“جی سر جی؟”
“پتا کرو کون گواہی ینے کے لیے تیار ہواہے؟”
“جی بہتر”
میکال کہتا باہر نکل گیا اور وہ گلری سوچ میں ڈوب گیا
وہ سیڑھی سے اتر رہی تھی کہ خاور کی ماں سامنے آئی۔۔
“کیا پٹی پڑھائی تو نے میرا بیٹا میرے خلاف کردیا؟” وہ چیخی
“اور تم امید سے ہو تم نے تو مجھے نہیں بتایا۔۔
دیکھو مہرین اپنا گھر مت خراب کرو خاور کے ساتھ ہنسی خوشی رہو۔۔” وہ نرمی سے کہنے لگی۔
“مجھے پرواہ نہیں میرے پاس اب گوانے کو کچھ نہیں
آپ لوگوں نے سب کچھ چھین لیا مجھ سے”
“بدلہ۔۔ہاہاہا” وہ زور سے ہنسنے لگی
“پاگل مت بنو۔۔۔” اس نے اسے کاندھوں سے پکڑا۔
مہرین جلدی سے جھٹکتے ہوئے سیڑھی اترنے لگی۔۔۔
دو تین سیڑھی اتر کی وہیں بیٹھ گئی۔۔
“آہ۔۔خاور۔۔۔خاور” وہ تیز تیز چلانے لگی۔۔
وہ حیرانے سے اسے دیکھنے لگی۔
خاور کو چیخنے کی آواز آئی تو بھاگا ہوا آیا
“کیا ہوا؟ مہرین ” وہ تیزی سے سیڑھی اترا
“آہ خاور۔۔۔”وہچیخ رہی تھی۔
“کیا ہوا ہے مہرین تم ٹھیک ہو چلو ڈاکٹر کے پاس”
وہ اسے اٹھاتا لے جا رہا تھا اور اس کی ماں حیرانی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
دیکھیں آپ نے ان کا بہت خیال رکھنا ہے، بچہ تو ضائع ہو گیا، میں نے پہلے ہی آپ کی وائف کو کہا تھا اپنا خیال رکھنے کو مگر۔۔۔اب آپ کو ان کابہت خیال رکھنا ہے
وہ بہت کمزور ہے۔۔” ڈاکٹر نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
خاور کو شدید جھٹکا لگا۔
اور ان سب کا الزام اب خاور کی ماں پر تھا۔۔
مہرین نے خاور کو کہا کہ اس کی ماں نے اسے دھکا دے دیا۔
جس کی وجہ سے یہ سب ہوا۔
جس کی وجہ سے دونوں ماں بیٹے میں بدگمانی پیدا ہوگئی۔۔
“پتا چلا کون گواہی دے رہا ہے میرے خلاف؟” اور نے پوچھا
“سر جی وہ مہرین میڈم کی دوست عالیہ۔۔۔وہ گواہی دے رہی ہے آپ کے خلاف” میکال نے بتایا
“کیا؟ اس لڑکی میں اتنی ہمت آگئی۔۔؟””
“ڈرا دھمکا دو ۔۔۔” خاور مے لاپرواہی سے کہا
“سر جی”
“پھر بھی نا مانے تو مار دینا۔۔۔مگر وہ گواہی نا دے پائے۔۔”
خاور نے انگلی اٹھا کر کہا۔
“سر جی وہاس وقت کہا ہے کسی کو نہیں پتا شاید آفیسر نے اسے کہیں چھپایا ہے تا کہ ہم اس تک نا پہنچیں”
“ہوں۔۔۔۔ لگ جائے گا پتا۔۔” خاور نے کہا
اور گہری سوچ میں ڈوب گیا
اکبر شاہ پر دوائیوں کا کچھ اثر نہیں ہو رہا تھا
وقت ایسے ہی گزرتا جا رہا تھا
خاور اپنے کام میں مصروف ہوگیا تھا۔ جو ٹائم ملتا وہ یہ سوچ کر مہرین کا خیال رکھتاکہ یہ بھی دکھ میں ہے
اور اس میں کمزوری ہو گئی۔جبکہ مہرین کبھی امید سے تھی ہی نہیں۔
وہ جب روم میں آیا تو وہ الماری کی سیٹنگ کرنے میں مصروف تھی۔
کیا کر رہی ہوبیوی؟” خاور نے آتے ہی اسے اپنے حصار میں لیا
“بور ہو جاتی ہوںمیں پورا دن کیا کروں سوچا کچھ نا کچھ کر ہی لوں”
“اچھا تو مجھے پیار کرو نا بوریت دور ہوجائے گی” خاور نے شرارت سے کہا
“اس سے تو اور بھی بور ہو جاؤں گی” مہرین نے منہ بنا کر کہا
“اچھا مجھے پیار کر کے تم بور ہوتی ہو؟” خاور نے خفگی سے پوچھا
تبھی مہرین گرتے گرتے بچی۔۔۔
“ملرین کیا ہوا؟”
“پتا نہیں چکر آگیا” مہرین نے سر پر ہاتھ رکھا
“تم اپنا خیال بھی تو نہیں رکھتی نا۔۔۔چلو اٹھو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔” خاور نے فکر مندی ظاہر کی۔۔
مہرین اسے یک ٹک دیکھنے لگی۔۔
اس کی اس طرح فکر کرنا مہرین کو اچھا لگ رہا تھا۔۔
“نہیں اب ٹھیک ہوں میں” مہرین نے کہا
“..نہیں اٹھو ” خاور نے ضد کی تو وہ اٹھ کر اس کے ساتھ چلی گئی۔
لیکن ڈاکٹر کی بات وہ حیران رہ گئی۔
اس بار وہ سچ میں پریگنینٹ تھی۔۔
خاور بہت خوش تھا۔۔
مگر وہ خاور کے چہرے پر وہ خوشی دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔وہ اسے صرف دکھی دیکھنا چاہتی تھی۔۔
