Haqarat By Isra Rao NovelR50464 Haqarat (Episode - 7)
No Download Link
Rate this Novel
Haqarat (Episode - 7)
Haqarat By Isra Rao
“کیا کہا تم نے؟۔ سچ میں؟” اس نے خوشی سے کہا
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
اس نے مہرین کو اپنی گود میں اٹھا لیا اور اسے بیڈ پر لٹایا۔۔
وہ اسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔تبھی لائٹ چلی گئی۔ہر طرف اندھیرہ چھا گیا۔۔
“رکو میں دیکھتا ہوں” وہ جانے کے لیے پلٹا ہی تھا کہ مہرین نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔
“مجھے ڈر لگے گا مجھے اکیلہ چھوڑ کر مت جاؤ”
اس کی بات سن کر خاور کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“اچھا موم بتی جلا دیتا ہوں” وہ کہ کر موم بتی نکالنے لگا
تھوڑی ہی دیر میں اس نے موم بتی جلا دی۔ وہ اٹھا کر بیڈ کے قریب لے آیا۔۔اور سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی۔۔
“اب ٹھیک ہے”خاور نے کہا۔ مہرین مسکرا دی۔
خاور بیڈ پر اس کے قریب آگیا۔۔۔
وہ محبت سے اس پر جھکنے لگا۔۔۔
اس کے ہونٹ اس کی گردن کو چھو رہے تھے۔۔
مہرین نے نظر اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی موم بتی کو دیکھا۔۔۔ ایک عجیب سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کو چھو گئی۔۔۔۔
“خاور۔۔۔خاور” مہرین کی گھبرائی ہوئی آواز اس کی نیند توڑنے کےیے کافی تھی۔ وہ ہڑ بڑا کراٹھا۔۔۔سامنے کا منظر دیکھ اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔
سامنے ہی آگ لگی ہوئی تھی۔۔
سانے کھڑکی کے پردے جل رہے تھے، سائیڈ ٹیبل بھی لکڑی کا ہونے کی وجہ سے جل رہا تھا۔۔۔
آگ آہستہ آہستہ بیڈ کو چھو رہی تھی۔۔۔۔
مہرین پاس سمٹی ہوئی بیٹھی گھبرا رہی تھی۔۔۔
وہ یک دم اٹھا اور مہرین کو بازوں سے پکڑ کر بیڈ سے پرے کیا۔۔۔۔
“یہ آگ کیسے لگ گئی۔۔۔؟” وہ گھبرایا
اس نے ملازموں کو آواز دی۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں گھر میں شور و غل برپا ہوگیا تھا
سب ملازموں نے مل کر آگ بجھائی۔۔۔
وہ سب نیچے بیٹھے تھے۔۔۔
جیسے ہی آگ بجھی خاور کمرے میں آیا۔۔
کمرے کا زیادہ سامان نہیں جلا تھا۔۔۔بس تھوڑے سے پردے،بیڈ شیڈ کا زرہ سا کنارہ اور ساٹیڈ ٹیبل ہی جلا تھا
وہ کمرے کی حالت دیکھ رہا تھا کہ اس کی نظر اپنی فائل پر پڑی۔۔۔وہ فائل خاور آج ہی میٹنگ کے بعد گھر لایا تھا وہ صفدر صاحب کے ساتھ کانٹریکٹ کی فائل تھی۔۔۔
جو اس کے لیے بہت ہی اہم تھی۔۔۔
وہ تیزی سے آگے بڑھا اور سائیڈ ٹیبل سے فائل اٹھائی
“اوہ شٹ! یہ فائل؟” وہ کو اٹھا کر دیکھنے لگا جو تقریباً جل چکی تھی۔۔۔
“کیا ہوا؟” مہرین کی آواز آئی
“یہ فائل بہت ضروری تھی میرے لیے اور یہ کیسے جل گئی میں نے تو دزاز میں رکھی تھی یہ باہر کیسے نکلی؟” وہ پریشان تھا
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے خاور آپ ٹھیک سے یاد کریں۔۔۔آپ نے یہیں رکھ دی ہوگی۔۔۔” مہریں سنجیدگی سے کہنے لگی
“لیلن مجھے تو یاد ہے میں نے یہ دراز میں رکھی تھی۔۔”
“تو باہر کیسے نکلی؟ میں نے تو اسے دیکھا تک نہیں آپ مجھے دے دیتے میں سمبھال کر رکھ دیتی۔۔” مہرین نے ٹھنڈے لہجے میں کہا
“شاید میں نے ہی لاپرواہی کی ہوگی۔۔۔مگر یہ فائل بہت اہم تھی میرے لیے میرا لاکھوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔۔۔” وہ سر پکڑے بیڈ پر بیٹھ گیا
“بس اتنے میں ہی پریشان ہوگئے ابھی تو بہ شروع ہوا ہے ڈئیر ہسبنڈ” اس نے دل میں سوچا
اور مہرین کے چہرے پر پھر سے مسکان آگئی۔
اس فائل کے جل جانے سے واقعہ ہی خاور کا بہت بڑا نقصان ہو گیا تھا۔۔۔
کتنے ہی دن پریشان رہا۔۔پھر یہ سوچ کر صبر کرلیا کہ شاید نصیب میں یہ نقصان تھا۔۔
پھر سے اب وہی روٹین شروع ہوگئی تھی۔خاور ناشتے کے بعد باہر چلا گیا تھا اور اس کی ساس مارکیٹ چلی گئی تھی۔۔گھر پر صرف وہ اکبر شاہ تھے۔ تبھی اس کی نظر ملازمہ پر پڑی جو اکبر شاہ کے کمرے میں جوس اور لے کر جا رہی تھی۔۔
“کہاں جا رہی ہو؟” اس نے ملازمہ سے پوچھا
“یہ جوس بڑے صاحب کو دینے ان کی دوا کا ٹائم ہو گیا ہے نا؟”
“اچھا لاؤ مجھے دو میں دے کر آتی ہوں” وہ اس کے ہاتھ سے جوس لے کر کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
وہ جب کمرے میں گئی تو اکبر شاہ بیڈ پر بیٹھے تھے۔
اس نے دروازہ نوک کیا۔
“ارے آجاؤ بیٹا” انہوں نے مہرین کو دیکھتے ہی مسکرا کر کہا
“یہ آپ کا جوس ہے” اس نے سائیڈ ٹیبل پر جوس رکھ دیا
“ملازمہ۔جوس لے آتی ہے تم نے کیوں تکلیف کی بیٹا؟”
“کیوں میں آپ کی خدمت نہیں کر سکتی؟”
“نہیں ایسی بات نہیں ہے۔۔” وہ ہنسنے لگے
“بیٹا وہ سامنے میری دوائیں ہیں وہ بھی لا دو مجھے”
“جی ” وہ کہ کر دوائیں اٹھانے لگی۔۔
اس نے دوا نکالی۔۔۔
“کون سی دینی ہے ابھی؟” وہ دوا دیکھتے ہوئے کہنے لگی
“نام کا تو پتا نہیں بیٹا میں اتنا زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوں اور ویسے بھی اب تو بوڑھاپا آگیا کہاں دماغ رہ گیا” انہوں نے کہا. مہرین ان کی بات ہنسنے لگی۔
اسنے ملازمہ کو آواز دی ۔۔۔وہ بتا کر چلی گئی
مہرین نے اس ڈبی کو چہرے کے سامنے کیےدھیان سے دیکھا پھر ایک عجیب سی مسکراہٹ ہونٹو پر سجائی۔
“میرا اگلہ شکار ۔۔مسٹر اکبر شاہ۔۔۔”
اس نے دل میں سوچا۔۔۔
“کل آپ فری ہیں؟” اس نے جوتے اتارتے ہوئے خاور کو دیکھ سوال کیا۔
“نہیں بیوی کل مال آئے گا مجھے چیک کرنا ہے” اس نے جواب دیا
“اچھا” اس نے اداسی سے کہا
“کوئی کام تھا تمہیں کل؟”
“نہیں۔۔۔ہاں۔۔میرا مطلب مجھے مارکیٹ جانا تھا تھوڑی بہت چیزیں لینی تھی۔۔۔”
“اچھا سوری بیوی کل نہیں جا سکتا تم ایسا کرنا ڈرائیور کے ساتھ چلے جانا” اس نےپاس کھڑی مہرین کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ پر بٹھایا ۔جیب سے پرس نکالا اور اس میں سے کچھ نوٹ نکال کر اس کے سامنے کیے۔۔
“یہ لو جو پسند آئے لے آنا۔۔ٹھیک ہے؟”
“نہیں مجھے ضرورت نہیں ہے” اس نے کہا
“پھر بھی رکھ لو کام آجائیں گے” اس نے زبردستی کی تو مہرین نے پیسے پکڑ لیے۔۔
“تھینک یو” مہریں دھیمے سے کہا
“آ۔۔ہاں۔۔۔تھینک یو نہیں چاہیے کچھ اور چاہیے”
“کیا؟” وہ حیرت سے پوچھنے لگی
اور نے اپنے گال پر انگلی رکھ کر اشارہ کیا۔۔
جسے مہرین سمجھ گئی تھی۔۔۔
“کھانا لاؤں آپ کے لیے؟” اس خاور کے اشارے کو اگنور کیا اور کھڑی ہوگئی
“نہیں مجھے کچھ نہیں چاہیے میں نے کھا لیا ہے سب۔۔۔تم بیٹھو میرے پاس” اس نے مہرین کا خمبازو پکڑ کر پھر سے بٹھایا۔۔
“دے دو بھی۔۔۔” اس نے اکتا کر کہا
مہرین نے تلخی سے اپنی آنکھیں لمحہ بھر بند کی۔۔۔
“تمہیں تو میں زہر دے دوں میرا بس نہیں چلتا” اس نے دل میں سوچا۔
پھر ہونٹ اس کے گال پر رکھ دیے۔۔۔
یہ سب اس کے لیے ععزیت سے کم نہیں تھا۔۔۔
مگر بدلے کی جس آگ میں وہ جل رہی تھی۔۔۔
اس تکلیف کو مٹانے کے لیے اسے یہ سب کرنا پڑ رہا تھا ۔۔۔
“خاور کے چہرے پر مسکان آگئی
“میں تم سے بہت محبت کرتا ہو بیوی” خاور نے پیار سے اس کا ہاتھ تھاما
“اور میں تم سے نفرت کرتی ہوں” اس نے دل میں کہا
“کیا کہا؟” خاور نے یک دم کہا
“نہیں کچھ نہیں ۔۔۔میں۔۔۔ کہ رہی تھی کہ میں بھی آپ سے بہت پیار کرتی ہوں” مہرین نے یک دم ہڑ بڑا کر کہا اور وہ ہنس دیا۔۔۔
“ڈرائیور گاڑی نکالو” اس نے حکم کیا
“جی بی بی جی” وہ کہتا گاڑی نکالنے لگا
وہ گاڑی میں بیٹھی
” مارکیٹ چلو۔۔۔”اس نے ڈرائیور کو کہا اور ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کردی
تھوڑی ہی دیر میں مارکیٹ پہنچی۔ کچھ سامان لیا
پھر گاڑی میں آکر بیٹھ گئی۔۔۔۔
“میرے سر میں درد ہے” اس نے سر پر ہاتھ لگایا
“سامنےمیڈیکل اسٹور پر روکو گاڑی مجھے سر درد کی میڈیسن لینی ہے” اس نے ڈرائیور کو کہا
تھوڑی دیر اسٹور پر وہ میڈیسن لینے لگی۔۔۔
ڈرائیور دور گاڑی کے پاس کھڑا تھا
وہ میڈیسن لے کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔
“گھر چلو” اس نے ڈرائیور کو حکم دیا
اور میڈیسن کو گھورنے لگی۔۔
“ایکسٹرا سیڈیشن” اس نے زیر لب کہا اور زور سے ہنس دی۔۔۔
