Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haqarat (Episode - 4)

Haqarat By Isra Rao

“خاور” مہرین نے زیر لب کہا

وہ اپنے انداز میں چلتا ان کے قریب آرہا تھا۔مہرین کو لگ رہا تھا جیسے اس کے پاؤ تلے زمین نکل گئی۔

قریب آتے ہی خاور کے آدمیوں نے سب تہس نہس کردیا

ٹیبل ایک سائیڈ پھینکا وہ بورڈ جس پر نفاست سے برتھ ڈے لکھا گیا تھا وہ کہیں پڑا تھا غرض ہر چیز الٹ پلٹ دی۔مہرین کا دل چاہا وہ وہاں سے بھاگ جائے۔

“کیوں بھئی برتھ ڈے منائی جا رہی ہے؟” خاور نے قریب آتے ہی کہا

اظہر جو خاموشی سے سارا منظر دیکھ رہا تھا غصہ سے لال پیلا ہوگیا۔

“کیوں پیچھے پڑے تم اس کے”؟”اظہر نے آگے بڑھ کر کہا

خاور نے ایک نظر اسے دیکھا پھر قہقہہ لگا کر زور سے ہنسا۔

“یہ میری ہونے والی بیوی ہے” خاور نے چبا کر کہا

“ایسا کچھ نہیں ہے سمجھے تم” اظہر چیخا

“تم کیوں اپنی موت کو دعوت دے رہے ہو؟” خاور مسکرا کر کہا

“کیوں کہ میں مہرین سے محبت کرتاہو اور اگر محبت میں موت بھی آجائے نا تو کوئی غم نہیں” اظہر نے سرخ آنکھوں سے کہا. اتنا سننا تھا کہ خاور کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔

اس نے گن نکالی اور اس کے ماتھے پر رکھ دی۔

“مرنے کا زیادہ وق ہے نا تجھے تو مر پھر” اس نے غصہ سے کہا

“نہیں خاور یہ سچ نہیں کہ رہا یہ کچھ نہیں کہ رہا تم۔۔۔تم مجھے لینے آئے ہو نا چلو۔۔۔لیکن اسے چھوڑ دو ” مہرین نے آگے بڑھ کر کہا

خاور نے گن ہٹائی اور ایک ہاتھ سے مہرین کو بالوں سے پکڑا کھینچتے ہوئے لے جانے لگا۔ اظہر نے جیسے سے ہی دیکھا

“چھوڑو مہرین کو” اظہر اپنی جگہ سے ہلا ہی تھا کہ خاور نے مڑ کر گولی اس کے سینے میں اتار دی۔ مہرین کے حواس قابو میں نہیں رہے۔ اسے بس اظہر نظر آرہا تھا جس کے سینے میں گولی لگی تھی۔

“اظہر؟” مہرین چیخی

خاور اسے کھینچتا لے جا رہا تھا مگر اس کی نظر اظہر پر ہی تھی۔ آنکھوں سے آنسوں بہ رہے تھے۔

خاور نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے اندر بیٹھایا اور خود بھی بیٹھ گیا۔

“دیکھو اس لڑکے کو اگر مر گیا تو ٹھیک ہے اور اگر زندہ ہے تو مار ڈو جا کر بچنا نہ پائے وہ۔ اس کی ہمت کیسے ہوئی میری بیوی سے محبت کرنے کی؟” اس نے غصہ سے باہر کھڑے میکال کو کہا

مہرین نے اس کے فاظ سنے تو حیرانی سے اسے دیکھنے لگی

کوئی شخص اتنا بے حس کیسے ہو سکتا ہے؟ آج صحیح معنوں میں اسے خاور سے نفرت ہو رہی تھی۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

ثریا بیگم برآمدے میں بیٹھی مہرین کا انتظار کر رہی تھی۔

کہ دروازے اندر آتا خاور دکھائی دیا جس نے مہرین کو بازو سے پکڑا ہوا تھا وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چلتی آرہی تھی۔ اس نے اندر آتے ہی مہرین کا بازو چھوڑا۔

“یہ کیا طریقہ ہے خاور؟” دادو نے کہا

“اپنی پوتی سے پوچھیں کر کیا رہی تھی یہ اس آوارہ لڑکے کے ساتھ؟ سالگرہ منانے کا اتنا ہی شوق تھا تو مجھے کہتی ساری دنیا کی چیزیں یہاں لا کر رکھ دیتا” خاور دھاڑا

“یہ تم کیا کہ رہے ہو؟” اس نے مہرین کو گلے لگاتے ہوئے کہا

“بس اماں آج یہ بیس سال کی ہوگئی بہتر ہے آپ میرے ساتھ اس کا نکاح کروا دیں” خاور نے کہا

“تم کیوں پیچھے پڑے ہو ہمارے یہ رشتہ تب ہی ختم ہوگیا تھا جب تمہارے باپ سے واسطے ختم ہوئے تھے ہمارے” ثریا بیگم نے غصہ سےکہا

” یہ رشتہ ختم نہیں ہوگا اماں” وہ دھاڑا

“مولوی صاحب کو لے کر آؤ”اس نے پاس کھڑے اپنے ایک آدمی کو کہا

“جی سر” وہ کہتا باہر نکل گیا

“کیا کر رہے ہو تم خاور مت کرو ایسا” ثریا نے کہا

“مانگ تو کبھی چھوڑتے نہیں ہیں اماں آپ جانتی ہیں” خاور نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا

مہرین خاموشی سے دادو کے گلے لگی ہوئی تھی۔

جبکہ ثریا اور خاور کتنی ہی بحث ہوتی رہی۔

تھوڑی ہی دیر میں خاور کا آدمی مولوی صاحب کو لے کر آگیا۔

“نکاح پڑھوانا ہے مولوی صاحب۔۔۔۔شروع کرو” خاور نے کہا

“نہیں ایسا نہیں ہوگا” ثریا نے کہا

“مجھے زبردستی کرنے پر مجبور مت کرو اماں” خاور دھاڑا

“میں آپ سے نکاح نہیں کروں گی” اس بار مہرین نے خاور کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

بدلے میں خاور کا زور دارقہقہہ گونجا۔

“نکاح تو تمہیں کرنا ہی پڑے گا مجھ سے” اس نے کہتے ہوئے اپنے آدمی کو اشارہ کیا۔ وہ گن نکال کر تیزی سے ثریا کی طرف بڑھا اور ثریا کے سر پر تان دی۔

مہرین نے دیکھا تو اس کے حواس قابو میں نہیں رہے۔

“دادو؟ یہ کر رہے ہیں چھوڑیں میری ڈادو کو” وہ گھبرائی

“نکاح کرنا ہے یانہیں ؟” خاور نے اطمنان سے پوچھا

“نہیں یہ نہیں کرے گی نکاح” ثریا چلائی

مہرین کی آنکھوں میں اظہر کی تصویر آئی جس پر گولی چلانے سے پہلے خاور نے سوچا تک نہیں۔۔۔تو یہ ثریا پر بھی گولی چلاتے نہیں سوچے گا نہیں۔

“زیادہ وقت نہیں ہے تمہارے پاس مہرین جلدی جواب دو؟” خاور نے مہرین کی گھبراہٹ کو بھانپتے ہوئے کہا

“میں۔۔۔میں تیار ہوں۔۔دادو۔۔دادو کو چھوڑ دو” مہرین نے روتے ہوتے ہوئے کہا خاور کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

“نہیں مہرین تم ایسا کچھ نہیں کرو گی” ثریا نے کہا

“میں کروں گی دادو شاید میری یہی قسمت ہے مجھے آپ سے زیادہ کچھ بھی پیارا نہیں اپنی زندگی بھی نہیں۔۔۔۔ مگر ایک بات تم سن لو خاور میں تم سے نفرت کرتی ہوں نفرت” اس نے خاور کی طرف دیکھتے ہوئے حقارت سے کہا

“شروع کرو مولوی صاحب” اس نے مسکراتے ہوئے مولوی کو کہا اور ناچاہتے ہوئے بھی مہرین کو وہ الفاظ کہنے پڑے جو وہ خاور کے لیے کبھی نہیں کہ سکتی تھی۔

“قبول ہے” س نے آنکھوں کو بند کرتے ہوئے نفرت سے الفاظ ادا کیے جبکہ اسے خاور کبھی قبول نہیں تھا مگر آج دادو کی جان کے لیے اسے یہ کرنا پڑا۔ دو آنسوں اس کی آنکھ سے گرے۔

“مبارک ہو اماں” نکاح ہوتے ہی اس نے ثریا کو مبارک باد دی

“یہ تم نے نہیں کیا خاور” ثریا نے کہا

“ارے نامعقول انسانوں میری اماں پر پستول تان رکھی ہے تم لوگوں نے پیچھے ہٹو” اس نے پاس کھڑے اپنے آدمیوں کو کہا جو اس کے کہنے پر پیچھے ہٹ گئے۔

“میں اپنی بیوی کو لے جا رہا ہوں اماں” اس نے کہا

“کہاں لے جا رہے ہو یہ کہیں نہیں جائے گی” ثریا گھبرائی

“یہ میری بیوی ہے اور شادی کے بعد لڑکیاں کہاں جاتی ہیں؟” اس نے مہرین کا ہاتھ پکڑا۔

مہرین کو جیسے اپنا ہاتھ جلتا ہوا محسوس ہوا۔

وہ اسے کھینچتا ہوا لے جانے لگا۔

“نہیں۔۔نہیں۔۔یہ۔۔۔”کہتے کہتے ثریا بیگم کی آواز بند ہونے لگی ۔وہ یک دم سے نیچے گری۔

“دادو؟” مہرین نے ہاتھ چھڑوایا اور تیزی سے دادو کی طرف بھاگی۔

خاور بھی پریشان ہوا انہیں دیکھ وہ بھی تیزی سے ان کی طرف بڑھا۔

“دادو۔۔۔دادو اٹھیں” مہرین رو رہی تھی

وہ انہیں ہسپتال لے کر بھاگے مگر پہنچتے ہوئے دیر ہوگئی تھی انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور وہ مہرین کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے جا چکی تھی۔

آج صحیح میں مہرین اکیلی ہوگئی تھی۔ بلکل اکیلی۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

دادو کے جانے بعد وہ خود کو تنہا محسوس کر رہی تھی

تدفین کے بعد گھر پھر سے خالی ہوگیا تھا۔

وہ ساکت بنی وہیں بیٹھی تھی جانے کتنی ہی دیر وہ روتی رہی۔ مگر اسے چپ کروانے والا کوئی نہیں تھا۔ نا ماں نا ںاپ نا دوست احباب نا رشتے دار وہ اکیلی تھی بلکل اکیلی۔

اس کا آخری سہارا اس کی دادو بھی اسے چھوڑ کر جا چکی تھی ہمیشہ کے لیے۔

“میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی خاور کبھی نہیں” اس نے خود کلامی کی۔

پھر ناجانے کتنی ہی دیر روتی رہی اپنی قسمت پر۔۔۔۔۔۔⁦

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“چلو” خاور کی آواز نے اسے چونکایا

اس نے ہیرانی سے اسے دیکھا اور کھڑی ہوگئی

“چلو میرے ساتھ” خاور نے کہا

اس نے خاور کا گریبان پکڑا۔ آنکھوں میں نفرت اور حقارت نظر آرہی تھی۔ انسوں قطرہ قطرہ بہ رہے تھے۔ مگر زبان سے الفاظ ادا نہیں ہوئے۔ آج پہلی بار خاور نے اس کی انکھوں میں خوف کے بجائے نفرت اور درد دیکھا تھا۔

“مہرین؟” خاور نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

مگر تبھی اس کی آنکھیں بند ہونے لگی اور خاور نے اسے سمبھالا اس سے پہلے کہ وہ گر جاتی۔

اس سے پہلے کہ کچھ کہتا وہ بے حوش ہو چکی تھی۔۔۔۔