Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haqarat (Episode - 12) Last Episode

Haqarat By Isra Rao

“خاور؟” اس کی ماں نے پکارا

“امی جی” وہ ماں کی طرف لپکا

“کیسا ہے میرابیٹا” ان کی آنکھوں میں نمی تھی۔

“مجھے معاف کردیں امی جی۔۔۔” وہ ہاتھ جوڑے معافی مانگنے لگا۔

“نہیں بیٹا۔۔”ان کے آنکھوں میں آنسوں تھے۔

“میں نے بہت گناہ کیے ہیں امی جی میرے جانے بعد مری مغفرت کی دعا ضرور کرنا” خاور کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔

“نہیں۔۔۔نہیں تجھے کچھ نہیں ہوگا میرے بیٹے کو کچھ نہیں ہوگا” وہ رونے لگی وہاپنی ماں کو چپ کروانے لگا۔

“مہرین کیسی ہے؟” خاور نے پوچھا

” تمہیں بیٹا ہوا ہے خاور” اس کی ماں نے بتایا۔

“کیا؟ میرا بیٹا؟۔۔۔کیسا ہے وہ امی جی۔۔میرا جیسا ہوگا نا؟” وہ جلدی جلدی پوچھنے لگا۔ خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔

“ہاں ماشاءاللہ بہت خوبصورت ہے۔۔بلکل تمہارے جیسا”

اس نے ماں کے آنسوں تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔

“اس کانام آذر رکھنا امی جی” اس نے اپنی ماں کے ہاتھ تھامتے ہوئے کہا

“ہاں یہی رکھیں گے”

“مہرین کو پچھتاوا ہے خاور میں اس کو لے آتی مگر اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی وہ ہسپتال میں ہے”

“وہ ٹھیک نہیں ہے؟” خاور پریشان ہوا۔

“ٹھیک کیسے ہو سکتی ہے وہ جس کے شوہر کو دو دن بعد پھانسی ہو”

خاور سن کر پریشان ہوا۔

تبھی پیچھے سے پولیس والا آگیا۔

“ملنے کا وقت ختم ہوگیا ہے”۔

اس کی ماں جا چکی تھی۔۔

خاور کو اپنے گناہوں پر پچھتاوا تھا

اس نے وضو کیا اور نماز پڑھی۔۔

رو رو کر دعائیں کرنے لگا۔۔اپنے گناہوں کی معافی رب سے مانگنے لگا۔۔

بےشک رب ہی سب کی سنتا ہے۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“کیسے تھے وہ امی جی وہ” مہرین نے بے چینی سے پوچھا

“جسے دو دن بعد پھانسی لگنی ہو وہ کیسا ہوگا” انہوں نے اداسی سے کہا

“میری نفرت اور حقارت کی جنگ نے مجھے کہاں سے کہاں لا کھڑا کیا” وہ سوچنے لگی

“بچے کا نام آذر بتایا ہے اس نے”

مہرین ان کی بات سن کر بچے کو دیکھنے لگی۔

“کتنا شوق تھا نا انہیں اپنے بچے کا۔ کتنی بے تابی سے انتظار کر رہے تھے۔۔اور آج جب یہ پیدا ہوگیا تو وہ اسے گود میں اٹھانا تو دور دیکھ بھی نہیں سکے۔۔۔”

وہ سوچ کر رہ گئی۔۔۔

اور آنسوں آنکھوں سے رواں تھے۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

آج اسے دوسری جیل لے جایا رہا تھا جہاں کل اسے پھانسی ہونی تھی۔ اسے گاڑی میں بٹھایا گیا۔۔

وہ چپ چاپ بیٹھ گیا۔

(تمہیں بیٹا ہوا ہے خاور)

(مہرین کو پچھتاوا ہے خاور میں اس کو لے آتی مگر اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی وہ ہسپتال میں ہے)

اس کے دماغ میں اس کی ماں کی باتیں گھوم رہی تھی

(ہمارا رشتہ نفرت اور حقارت ہے)

(میں تم سے نفرت کرتی ہوں)

اسے مہرین کی باتیں یاد آرہی تھی

“وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے۔۔۔مجھے اس سے معافی مانگنی چاہیے۔۔۔اس نے جو بھی کیا تھا سہی کیا تھا میں نے۔۔۔میں نے بھی تو اس کے ساتھ کتنا غلط کیا تھا۔۔۔” وہ سوچنے لگا

تبھی اس کے دماغ نے کام کیا۔۔۔

اس نے یک دم پاس بیٹھے دو پولیں والوں کو دیکھا جو اپنی ہی دھن میں بیٹھے تھے۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

مہرین کی طبیعت اب کچھ بہتر ہوگئی تھی۔۔۔

اسے آج گھر جانا تھا۔۔۔

تبھی اس کا فون بجا

اس نے کال رسیو کی۔

“ہیلو” خاور کی آواز سن اسے حیرت کا جھٹکا لگا۔

وہ اگلہ سانس لینا بھول گئی تھی۔

“خاور” اس نے حیرانی سے پوچھا۔

“ہاں۔۔۔کیسی ہو؟”

“خاور آپ کیسے ہیں میں۔۔۔میں کچھ نہیں ہونے دوں گی آپ کو۔۔۔مم۔۔میری غلطی ہے سب میں نے نفرت میں کیا کچھ کردیا۔۔۔میں۔۔۔” وہ رونے لگی۔

“میری بات سنو۔۔میں جیل سے بھاگ گیا ہوں۔۔۔میں کسی پی سی او سے بات کر رہا ہوں۔۔۔میں زیادہ بات نہیں کر سکتا۔۔

میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔” خاور اسے جگہ کا نام بتایا

اور جلدی آنے کا کہا اور ساتھ ہی ایک پستول لانے کو کہا

“ہا۔۔۔ہاں میں۔۔میں آرہی ہوں۔۔”

کہ کر اس نے فون بند کردیا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

۔۔ پورے شہر میں خبر پھیل گئی تھی کہ پھانسی سے ایک دن پہلے مجرم خاور شاہ جیل سے بھاگ گیا۔

اس نے جلدی سے اپنے بیٹے کو اٹھایا۔

اور گھر سے باہر نکل گئی۔ وہ اکیلی تھی

وہ خاور کی بتائی جگہ پر پہنچی

وہ جگہ جنگل کی طرف تھی۔۔

جہاں دور دور کوئی نہیں تھا۔۔

وہ خاور کو ڈھونڈنے لگی۔۔

تبھی خاور اس کے پاس آیا اور اسے اس ٹوٹے پھوٹے سے گھر میں لے گیا جو اس سنسان سی جگہ پر تھا۔

“خاور” وہ اس دیکھ چہکی۔

“کیسی ہو؟” اس نے مہرین کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے پوچھا۔۔

“میں ٹھیک ہوں آپ۔۔۔”

خاور کی نظر مہرین کی گود میں بچے پر پڑی خاور نے لپک کر اسے گود میں لیا اور پیار کرنے لگا۔

مہرین اسے خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔

اس کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے..

“مجھے معاف کردو خاور۔۔۔” وہ ہاتھ جوڑے کھڑی تھی آنسوں روانی سے گر رہے تھے۔

خاور جو اپنے بچے کو پیار کر رہا تھا یک دم اسے دیکھا

“میری نفرت اور حقارت کی جنگ میں ہار گئی۔۔۔خاور میں تمہارا نقصان کرتے کرتے اپنا ہی کر بیٹھی۔۔ مجھے معاف کردو” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔

“معافی تو مجھے مانگنی چاہیے میں نے تمہارے ساتھ جو کیا مجھے سزا مل۔گئی۔۔میں نے جانے کتنے بے قصوروں کو مارا ہے۔۔۔جانے کس کی بددعا لگ گئی۔۔تم معافی مت مانگو تمہارا کوئی قصور نہیں مجھے تو ایک دن پھنسنا ہی تھا۔۔۔وہ میکال۔۔جس پر اتنا اعتبار کیا وہ پولیس کا آدمی تھا۔۔۔

مہرین میرے گناہوں کی سزا ہے یہ۔۔۔تمہارا کوئی قصور نہیں۔۔۔” اس نے مہرین کو اپنے حصار میں لیا۔۔۔

“مجھ سے دور مت جاناخاور ” مہرین نے اس کے سینے سے لگتے ہوئے کہا

“مجھسے نفرت مت کرنا مہرین کبھی بھی۔۔۔” خاور نے نم آنکھوں سے کہا

“نہیں کبھی نہیں” وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔

“یہ ہمارا بیٹا ہے۔۔۔اسے بہت بڑا آدمی بنانا اور نیک بھی۔۔اس کے باپ جیسا نہیں بنانا اسے۔۔۔مگر اسے یہ کبھی نہیں بتانا کہ اس کا باپ ایک بدکار انسان تھا۔۔اس کے سامنے بہت تعریفیں کرنا میری۔۔۔میں نہیں چاہتا میرا بیٹا مجھ سے نفرت کرے۔۔۔” وہ کہتا جا رہا تھا

مہرین کو اس کی باتوں سے الجھن ہونے لگی اس کی حیرانی سے اس کے چہرے کے تعصرات کو دیکھا۔۔

وہ جھٹکے سے اس سے الگ ہوئی۔۔۔

“آپ۔۔ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں۔۔؟ میں آپ کو واپس نہیں جانے دوں گی۔۔۔” وہ چیخی

“میں اپنے شوہر کو ان پولیس والوں کے ہاتھوں مرنے نہیں دوں گی۔۔۔میں۔۔۔میرا شوہر بدکار نہیں ہے۔۔۔”وہحواس کھونے لگی”۔

خاور نے اس کے پرس سے پستول نکالی۔۔اور اس کی طرف بڑھائی۔مہرین اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔۔

“پکڑو” خاور نے کہا

مہرین نے پستول پکڑ لی۔۔اس بات سے بے خبر کہ خاور کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔

وہ اپنے بیٹے کو چومنے لگا۔۔اسے بہت پیار کرنے لگا۔۔اس کی آنکھوں سے آنسوں مسلسل بہ رہے تھے۔

“اپنے پاپا کو معاف کردینا بیٹا۔۔۔اور اپنی ماما کا بہت خیال رکھنا۔۔۔”اس نے بچے کو ماتھے پر بوسہ دیا

ملرین حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

اس نے پاس پرے ایک پتھر پر بچے کو لٹا دیا۔۔۔

اور خود چل کر مہرین کے پاس آیا۔۔۔

“بیوی” خاور نے مسکرا کر کہا

مہرین کو ایسا لگا جیسے اس کے کانوں میں مٹھاس بھر آئی۔۔۔یہی لفظ وہ کتنی بار خاور کے منہ سے سن چکی تھی۔۔مہرین نے اپنی آنکھیں بند کرلی۔

“مجھے معاف کردینابیوی۔۔۔” خاور نے کہا

“مہرین نے یک دم آنکھیں کھولی

“خاور۔۔۔میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔۔۔” مہرین نے منت کی۔

“کیا کہا۔۔۔پھر سے کہو۔۔ تم۔۔۔مجھ ۔۔۔سے۔۔؟”

وہ اٹک اٹک کر کہنے لگا۔۔مہرین اسے دیکھنے لگی۔

“کہو نا پھر سے”

“میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں خاور۔۔”

خاور خوشی سے چہک اٹھا

“بیوی اب میں سکون سے جا سکتا ہو۔۔تم۔۔تم مجھسے نفرت نہیں کرتی محبت کرتی ہو۔۔محبت۔۔” خاور نے آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لے لیا اور بے آواز رونے لگا۔۔

اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ گیا

مہرین بھی رونے لگی۔

جانے کتنی ہی دیر دونوں روتے رہے۔۔۔

پھر خاور نے مہرین کے ماتھے پر اپنی محبت کی ثبت لگائی۔

اور اس سے الگ ہو گیا

“بیوی تم چاہتی ہو نا کہ تمہارا شوہر پولیس ووں کے ہاتھوں نا مرے۔۔۔؟” خاور نے پوچھا

مہرین نے اثبات میں سر ہلایا۔

“تو مجھ پر یہ گولی چلاؤ۔۔” خاور نے اس کے ہاتھ میں پستول پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

“نن۔۔نہیں۔۔۔خاور۔۔۔یہ” وہ ہکلانے لگی۔

“بیوی مجھے ان کے ہاتھوں سے مروانے سے بہتر تم ہی مار دو۔ میں سکون سے چلا جاؤں گا۔۔ “

“نن۔۔۔نہیں خاور۔۔۔آپ کہیں نہیں جا سکتے مجھے چھوڑ کر۔۔”

مہرین نے بدحواسی میں کہا

“بیوی بات مانو اس سے پہلے کہ یہاں پولیس آجائے اور مجھے مار دے۔۔۔میں۔۔۔میں تمہارے ہاتھوں مرنا پسند کروں گا۔۔۔میری آخری خواہش پوری کردو بیوی۔۔۔” وہ منت کرنے لگا۔۔مہرین رورے روتے نفی میں سر ہلانے لگی۔۔

“تمہیں میری قسم ہے بیوی میری یہ آخری بات مان لو۔۔۔”

خاور نے اس کے ہاتھ میں پستول تھما کر اپنے سینے پر پستول رکھی۔۔۔وہ رو رہی تھی سسکیوں کے ساتھ۔۔۔اور نفی میں سر ہلا رہی تھی۔۔

اس کی انگلیاں ٹریگر پر تھی۔۔۔

مہرین کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور وہ تیز تیز رو رہی تھی۔۔

“بیوی ۔۔۔۔پلیز بیوی ۔۔” خاور نے کہا مگر مہرین روتی چلی جا رہی تھی۔۔۔

خاور نے اپنے ہاتھ مہرین کے ہاتھوں پر جمائے اور انگوٹھا ٹریگر پر رکھ کر دبا دیا۔۔۔

ایک بھیانک آواز کے ساتھ گولی اس نے سینے میں اتر گئی۔۔۔

اور خون کی پھوار نکل پڑھی۔۔

خاور کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا درد سے اس کی آنکھیں سرخ ہوگئی۔۔۔

“خاور” مہرین چلائی

خاور زمین پر جا گرا۔۔

“خاور تم نے یہ کیا کیا۔۔۔کیوں۔۔۔کیوں۔۔۔؟” وہ چیخنے لگی۔۔

“بی۔۔بیوی۔۔” خاور نے جبرن مسکرا کر اس کے پاس زمین پر بیٹھی مہرین کے گال کو چھوا۔۔۔

پھر یک دم اس کا ہاتھ بے سدھ ہو کر گرا۔۔۔

“خاور ۔۔۔خاور؟” وہ زور زور سے چیخنے لگی۔

“خاور اٹھو۔۔۔تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے ۔۔۔۔

میں تم سے نفرت نہیں کرتی خاور ایک بار اٹھ جاؤ۔۔۔

میں تم سے محبت کرتی ہوں خاور اٹھو۔۔۔۔” وہ چلائی

وہ شدت سے رو رہی تھی مگر وہ اسے چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے جا چکا تھا۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہاں پولیس آگئی تھی۔۔۔

پولیس کی نظروں میں مہرین بھی مجرم نہیں تھی۔۔۔

شہزاد نے یہ ثابت کردیا تھا یہ بھی پولیس کے ساتھ ملی ہوئی تھی۔۔اور خاور کی جرم سے انہیں با خبر کرتی رہی تھی۔۔اس لیے مہرین پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔۔۔

اس نے ایک مجرم کو مارا تھا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

آج خاور کو پانچ سال ہوگئے تھے۔۔۔

مگر ان پانچ سوں میں بھی وہ خاور کو کسی پل نہیں بھولی تھی۔۔۔

آذر بھی پانچ سال کا ہوگیا تھا ۔۔

سارا دن شرارتیں کرتا

اپنے دادا دادی کو تنگ کرتا۔۔۔

مہرین سارا دن اسے سمنبھالتی اور خاور کے ماں باپ کی خدمت کرتی۔۔۔

خاور کے جانے بعد اسے پتا لگا کہ وہ اس سے کس قدر محبت کرتی تھی۔۔۔

وہ تو اس نفرت کر نہی سکی تھی۔۔۔

بس بدلے کی آگ نے اس سے سوچنے کی صلاحیت اور احساسات کو سمجھنے کا گر چھین لیا تھا۔

وہ خاور کے لیے اپنی محبت کو اب سمجھ چکی تھی مگر اس کے چلے جانے کے بعد۔۔۔۔

⁦⁦ختم شد