Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haqarat (Episode - 10)

Haqarat By Isra Rao

وہ مہرین کا پورا خیال رکھ رہا تھا۔

وہ بہت خوش تھا۔

مہرین کو آستہ آہستہ اس کی فکر ک عادت ہوگئی تھی۔

وقت گزرتا جا رہا تھا مگر مہرین چاہ کر بھی اس کا کوئی نقصان نہیں کر پارہی تھی۔

وہ کمرے میں لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔

“کیا مجھے خاور سے محبت ہوگئی؟” اس نے خود کلامی کی

“کیا مجھے اس شخص کی عادت ہوگئی ہے؟… نہیں نہیں ایسا نہیں ہوگا مجھے کمزور نہیں پڑنا” وہ سوچ کر رہ گئی

سوچتے سوچتے اس کی کب آنکھ لگ گئی اسے پتا ہی نہیں چلا۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو اس ہاتھ تھامے خاور بڈ کراؤن سے ٹیک لگائے سورہا تھا۔

وہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“خاور” اس نے سامنے پرفیوم لگاتے خاور کو پکارا۔

“ہاں” اس نے مڑ کر کہا

“باہر چلیں میرا گھر میں دل گھبرا رہا ہے” اس نے اداسی سے کہا

“کیوں طبیعت ٹھیک ہے؟”وہ پریشان ہوا

“ہاں بس میرا گھر میں دل نہیں لگ رہا” مہرین نے کہا

اس کی پریگنینسی کو چھٹا مہینہ لگ چکا تھا

“اچھا کہاں چلو گی بتاؤ؟”

“کہیں بھی” اس نے کہا

“اچھا چلو پھر چلتے کھانا کھانے” اس نے افر کی

“ٹھیک ہے” وہ کہ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ چپ چاپ کھانا کھا رہا تھا ایک سکون اور مسکراہٹ اس کے چہرے پر تھی۔مہرین کی نگاہیں اس کے چہرے پر تھی۔

اس نے نظر اٹھا کر مہرین کو دیکھا اور ہنس دیا۔

“ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟”

“نہیں کچھ نہیں ” مہرین نے نظریں جھکا لی

اور کھانا کھانے لگی۔

“کیا تم خوش ہو؟” خاور نے یک دم پوچھا

مہرین نے اثبات میں سر ہلایا

“میں بہت خوش ہوں مہرین۔۔۔ہمارا بے بی اس دنیا میں آنے والا ہے تمنے مجھے ہر خوشی دے دی۔۔میں نے تمہیں کبھی کچھ نہیں دیا”

“میں نے اپنی پراپرٹی تمہارے نام کردی ہے ۔۔۔” خاور ٹھنڈے لہجے میں کہا

“مجھے نہیں چاہیے کچھ بھی” مہرین نے سادگی سے کہا

خاور اسے دیکھ کر رہ گیا۔

پھر کھاناکھاتے ہی وہ لوگ باہر نکل آئے سامنے ہی ایک بچہ کھلونے لگائے زمین پر بیٹھا تھا۔

“خاور مجھے وہ کھلونے دیکھنے ہیں” مہرین نے کہا

“اچھا چلو” خاور نے کہا

اور دونوں سڑک پار کرنے لگے۔ تبھی سامنے سے ایک بچہ آرہا تھا۔ آس پاس گاڑیاں چل رہی تھی مگر وہ بچہ بے خوف سڑک پر کھڑا ہوگیا۔

مہرین اسے دیکھ حیران ہوئی اور جلدی سے آگے بڑھی

وہ اس بچے کو بچانا چاہتی تھی مگر خود بے خبر تھی کہ سامنے سے گاڑی آرہی ہے۔

خاور کی نظر گاڑی پر پڑی تو وہ چیخا۔

“مہرین” وہ بھاگتا ہوا قریب آیا اور مہرین کو پیچھے کیا

تبھی گاڑی سے اس کی ٹکر ہوئی۔ اور وہ زمین پر جا گرا۔

مہرین کے حواس اڑ گئے۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“کیا ضرورت تھی گاڑی کے سامنے آنے کی؟” وہ غصہ سے کہنے لگی

“یہ سوال میں تم سے بھی کر سکتا ہوں”

“مجھے کچھ نہیں ہوا اور ہو بھی جاتا تو کیا ہو جاتا؟” وہ چیخی

“خاور زندہ نہیں رہتا پھر” اس نے سنجیدگی سے کہا

مہرین نے یک دم اسے دیکھا۔۔

پھر اس کے پاؤں کو دیکھنے لگی

اس کے پاؤں میں چوٹ لگی تھی

“اس نے میری جان بچانے کے لیے خود کی پرواہ نہیں کی؟” وہ سوچ کر رہ گئی۔

وہ بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا کہ ملازم نے عمر شہزاد کے آنے کی خبر دی۔ وہ اندر آتا دکھائی دیا

“خاور شاہ اریسٹ وارنٹ کے ساتھ آیا ہوں آج” آتے ہی شہزاد نے کہا

خاور نے اطمنان سے اسے دیکھا۔

“کس جرم میں؟” خاور نے پوچھا

“ہاہاہا تم پوچھ رہے ہو خاور شاہ جرم کی دنیا کا بادشاہ ہے”

وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا

خاور خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔

“یہ رہا تمہارے گناہوں کے ثبوت” اس نے فائل آگے بڑھائی

خاور نے فائل کو دیکھا۔۔اس میں اس کے کچھ غیر قانونی

کاموں کے کانٹریکٹ کی کاپی تھی اور اظہر ساتھ کھڑے کچھ تصویریں۔۔۔

وہ دیکھ کر حیران ہوا۔۔

اس نے میکال کی طرف دیکھا۔۔

جو شہزاد کے ساتھ کھڑا مسکرا رہا تھا

“ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟ یہ ہمارا آدمی تھا جو تمہاری ساری خبریں ہم تک پہنچاتا تھا اور سارے ثبوت بھی” شہزاد نے مسکرا کر کہا

اس نے ایک نظر میکال کودیکھا پھر شہزاد کو۔۔

تبھی مہرین بھی وہیں آگئی تھی۔۔

اپنے بھاری وجود کے ساتھ وہ آہستہ آہستہ سیڑھی اترتی آرہی تھی۔

“پولیس؟”اس نے زیر لب کہا

“یہ کیا ہو رہا ہے یہاں؟” اس نے آتے ہی کہا

شہزاد ٹھٹکا۔۔۔وہ اس کی آواز پہچان گیا تھا

“آپ۔۔آپہی نے مجھے فون کیا تھا؟” اس نے مہرین سے پوچھا

مہرین کے پاؤ تلے زمین نکل گئی۔۔ اس کا یہ سچ صرف آفیسر کو معلوم تھا کہ اس نے ساری انفارمیشن آفیسر تک پہنچائی تھی۔۔۔۔۔

وہ گھبرا گئی تھی۔۔۔