Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haqarat (Episode - 3)

Haqarat By Isra Rao

(ماضی)

کچھ ٹائم تو آرام سے گزر گیا تھا ماموں کی طرف سے بلکل سناٹا تھا انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ مگر وہ جانتے تھے کہ وہ آرام سے بیٹھنے والا نہیں۔ نائمہ (شاہ نواز کی بیوی) بھی آرام سے رہ رہی تھی۔ کیونکہ وہ امید سے تھی اور سب اسکا بہت خیال رکھتے تھے۔پھر ایک دن ماموں آگئے بہت سے بندوں کے ساتھ بہت سے ہتھیاروں کے ساتھ وہ ان سب کے لیے تیار نہیں تھے۔

“تم لوگ کیا سمجھتے ہو میری بیٹی کو زبردستی اپنے ساتھ رکھو گے؟” انہوں نے غصہ سے کہا

“ہم نے باقاعدہ کروایا ہے کوئی زبردستی نہیں ہے” اکبر نے کہا

“تم نےزبردستی کی ہے میری بیٹی کے ساتھ ہمارے ساتھ” وہ دھاڑے

“اچھا تو پوچھ لو اپنی بیٹی سے؟” شاہ نواز نے کہا

“چلو نائمہ میرے ساتھ” اس نے دور کھڑی نائمہ کو پکارا

“نہیں ابا میں نہیں جاؤں گی آپ کے ساتھ میں یہاں خوش ہوں” اتنا سننا تھا ان کا غصہ آسمان کو پہنچا اور انہوں نے بندوق نکالی

“ارے ماموں ان ان کھلونوں سے ہمیں مت ڈرانا دن رات کھیلتے ہیں ہم اس کے ساتھ” اکبر نے کہا

“یہ سب تم نے کیا ہے نقلی کاغذات بنوا کر تم نے ہمیں دھوکہ دیا” وہ غصہ سے بولے

” میں نے کوئی نقلی نہیں بنوائے کاغذ” اکبر نے ناگواری سے کہا

“جھوٹ بولتا ہے تو”

“ٹھیک ہے اگر یہ جھوٹ بھی ہے تو ہمیں قبول ہے یہ ہمارا معاملہ ہے اپ کا نہیں” شاہ نواز نے کہا

“اور مجھے میرے بھائی پر پورا یقین ہے” اس کی آنکھوں میں پختہ یقین تھا۔

“ایک دن تم پچھتاؤ گے بہت جب تمہارا اعتبار ٹوٹے گا” وہ کہ کر وہاں سے نکل گئے۔

وقت آرام سے گزرنے لگا سب ہنسی خوشی رہنے لگے

کچھ ٹائم کے بعد انہیں ماموں کا پتا چلا وہ بہت بیمار تھے نائمہ کا بہت دل کر رہا تھا اپنے باپ کو دیکھنے جائے مگر کسی سے کچھ نہیں کہا۔ مگر ثریا نے خود ہی ناراضگی ختم کی اور سب کو لے کر طبیعت معلوم کرنے چلی گئی ۔وہ سچ میں بہت بیمار تھے کچھ ہی دنوں میں وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ وہ دکھ ثریا اور نائمہ کے لیے بہت بڑا تھا آخر کو وہ ثریا کا اکلوتا بھائی اور نائمہ کا باپ تھا۔

پھر جب کچھ وقت کے بعد نائمہ نے ایک بچی کو جنم دیا تو سب بہت خوش ہوئے خوشیاں پھر سے لوٹ آئی تھی۔

خاور اس وقت دو سال کا ہونے والا تھا۔

خاور سارا دن بچی کے ساتھ کھیلتا رہتا۔

ایک دن ثریا نے ہی کہ دیا کہ ہماری بچی گھر میں ہی رہے گی ہم اس کو خاور کے نام کرتے ہیں جس پر سب ہی بہت خوش ہوئے اور اس طرح وہ خاور کی مانگ کہلانے لگی۔

وقت تیز تیز گزر رہا تھا سب اسی طرح خوش تھے۔

ایک دن کسی نے شاہ نواز کو کچھ پیپرز دکھائے اور ثبوت کے ساتھ اسے اکبر کی سچائی سے آگاہ کیا۔اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ۔ اس نے گھر جاتے ہی ثریا کو سب بتایا۔

انہوں نے اکبر کو بلایا اور سارے ثبوت دکھائے۔

“کیا یہ سچ ہے؟” ثریا نے پوچھا

“ہاں سچ ہے ان سب پر میرا حق ہے میں شاہ نواز کو کیوں دوں؟” اکبر نے کہا

اتنا سننا تھا کہ ثریا نے اس کے منہ تمانچہ لگایا

“ذلیل تجھے زرا شرم نہ آئی اپنے بھائی کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے؟” ثریا نے چیخ کر کہا

“میں نے اسے گھر سے تو نہیں نکالا؟ یہ رہے یہی “

“نہیں بھائی میں یہاں نہیں رہو گا میں چلا جاؤ گا بس مجھے آپ سے امید نہیں تھی اس بات کی” شاہ نواز نے کہا

“نہیں تو کہیں نہیں جائے گا یہ جائے گا یا تو ابھی کہ ابھی بٹوارہ کرے گا” ثریا نے کہا

“میں ایسا کچھ نہیں کروں گا” اکبر ڈھٹائی سے کہا

اور اس دن شاہ نواز بنا کچھ کہے اپنا سامان اور بچی کو لے کر جانے لگا کہ ثریا بھی اس کے ساتھ ہو لی۔

وہ لوگ شہر میں آکر بس گئے۔ شاہ نواز چھوٹی موٹی نوکری کر کے گزر بسر کرنے لگا۔ اس وقت مہرین پانچ سال کی تھی۔ وہ دن ان کے لیے بہت پریشانی کے تھے اور نائمہ ایک بار پھر سے امید سے تھی۔ اکبر نے جو ان کے ساتھ کیا وہ اس سب سے بہت دکھی تھے۔ چھوٹی موٹی نوکری سے گھر کا گزارا مشکل تھا۔ پھر جب کچھ وقت کے بعد نائمہ کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو وہ ہسپتال لے کر بھاگے مگر کچھ ہی دیر میں انہیں نائمہ اور اس کے بچے کی موت کی خبر مل گئی تھی۔ انہیں بہت بڑا صدمہ لگا تھا۔ پانچ سالا بچی اپنی ماں کو بہت یاد کرتی مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ سب بھولتی گئی وہ ہر وقت دادو کے ساتھ رہتی۔

اکبر کو جب نائمہ کی موت کا پتا چلا تو وہ شہر آکر معافی مانگنے لگا ثریا نے اسے معاف نہیں کیا اور گھر سے نکال دیا

اس کے بعد انہوں نے کبھی رابطہ نہیں کیا وہ بھی ان سے رابطہ نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ شاہ نواز اب اکثر بیمار رہتا تھا

علاج کے پیسے ہوتے نہیں تھے ان کے پاس۔ جب مہرین بارہ سال کی ہوئی تو اسکا باپ بھی اسے چھوڑ گیا تھا ۔ماں تو اسے ٹھیک سے یاد نہیں تھی مگر باپ یاد تھا۔ جس کی کمی اسے ہر وقت محسوس ہوتی۔ جب مہرین اٹھارہ سال کی ہوئی تو پہلی بار خاور کو اس نے اپنے گھر میں دادو سے بات کرتے دیکھا تھا۔

وہ دروازے پر کھڑی حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی اس نے اس شخص کو پہلی بار دیکھا تھا۔

وہ آہستہ قدموں سے چلتی اندر آئی جب خاور کی نظر اس پر پڑی تو وہ حیران رہ گیا اس نے بس بچپن سے مہرین کا نام سنا تھا اور آج اسے دیکھا تھا تو دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔

ثریا بیگم نے اسے اندر جانے کا اشارہ کیا وہ تیزی سے اندر بڑھ گئی مگر وہ حیران تھی آج سے پہلے تو اس نے کبھی دادو کو اس شخص سے ملتے نہیں دیکھا تھا پھر آج؟

اس کے جانے بعد دادو نے اسے ساری سچائی بتائی جس سے آج تک وہ لاعلم تھی۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

(حال)

“دادو؟” اس نے ثریا کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا

“جی بیٹا؟” ثریا نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

“دادو کیا وہ کل سچ میں آکر مجھے لے جائے گا؟” وہ اداسی سے کہ رہی تھی

“نہیں بیٹا کچھ نہیں ہوگا تمہاری دادو ہے نا تمہارے پاس

تمہیں کچھ نہیں ہونے دے گی” ثریا بیگم نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا

“اماں ابا اتنی جلدی کیوں چلے گئے مجھے چھوڑ کر؟”

“بس بیٹا شاید ان کی زندگی ہی کم تھی رب کی یہی رضا تھی ورنہ جانے کی عمر تو میری تھی” ثریا نے دکھ سے کہا

“دادو میں آپ کے بنا نہیں رہ سکتی” اس نے دادو کو دیکھتے ہوئے کہا

“مجھے ہمیشہ اپ کے ساتھ رہنا ہے” وہ ان کا ہاتھ تھام کر کہنے لگی

“میں کہیں نہیں جاؤں گی تمہیں چھوڑ کر” ثریا نے اسے تسلی دی اور وہ یونہی باتیں کرتی جانے کب سوگئی۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“ہیپی برتھ ڈے بیٹا” ثریا نے اسے دیکھتے ہی کہا اور وہ زور زور سے ہنسنے لگی۔

” دادو آپ کو کس نے یہ سکھایابولنا آپ تو سالگرہ مبارک کہتے ہیں” اس نے مزاق سے کہا

“تم کیا مجھے اب اتنا گیا گزرا سمجھ رہی کہ مجھے یہ بھی نا بولنا آئے؟” دادو نے خفگی سے کہا

“میری پیاری دافو آپ تو سب سے بہتر ہیں” اس نے دادو کے گلے لگتے ہوئے کہا

“اچھا چلو اب کالج کے لیے لیٹ ہورہی ہو جاؤ یار ہو جاؤ میں ناشتہ لگاتی ہوں”

“اوکے دادو” وہ کہتی اندر چلی گئی۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“ہیپی برتھ ڈے مہرین” عالیہ نے اسے کالج آتے ہی کہا

“تھینک یو” مہرین نے کہا مگر اس کے چہرے پر مسکراہٹ یا کوئی خوشی نہیں تھی۔

اس کے دل میں ایک ڈر تھا خاور کو لے کر ۔

“کیا ہوا؟ پریشان لگ تہی ہو؟”

“نہیں “

“ہو تو اب بتاؤ کیا بات ہے؟”

“مجھے ڈر لگ رہا ہے کہیں خاور آگیا تو؟”

“تم پھر وہی سوچ رہی ہو کچھ نہیں ہوگا اس کی وجہ سے اپنا دن تو خراب مت کرو”

“ہوں۔۔۔” وہبس اتنا کہ سکی

“تمہارے لیے ہم نے پارٹی ارینج کی ہے کالج کے بعد پارک میں” عالیہ نے کہا

“پارک میں؟” پارٹی؟”

وہ حیران ہوئی

“ہاں کیوں کہ ریسٹورنٹ تم جاتی نہیں تو پارک میں ہی رکھ لی”

“لیکن مجھے نہیں جانا پارٹی وغیرہ میں میری دادو پریشان ہوجائیں گی”

“زیادہ وقت نہیں لگے گا بس تھوڑی دیر میں ختم کردیں گے چھوٹا سا سلیبریشن ہے اظہر نے سارے ارینجمنٹ کرلیے”

“اظہر نے؟ مگر کیوں؟”

“کیوں کا کیا مطلب تمہاری برتھ ڈے ہے”

“مگر وہ کیوں کر رہا ہے میرے لیے سب ؟”

“ظاہر سی بات ہے یار وہ تمہیں پسند کرتا ہے کوئی نا سمجھ بھی سمجھ جاتی مگر تم نہیں سمجھی اب تک”

“عالیہ اسے منا کرو وہ مجھ سے دوررہے تو ہی بہتر ہے وہ خاور کو نہیں جانتا۔۔۔”

عالیہ نے اس کی بات کاٹی

“کیا تم خاور کی وجہ سے اپنی فیلنگس کا گلا گھونٹ دو گی کب تک آخر کب تک تم اس غنڈے سے ڈرتی رہو گی؟”

“میرے دل میں اظہر کے لیے کوئی فیلنگس نہیں وہ بس ایک اچھا دوست ہے میرا۔۔۔اسے منا کرو تم” اس نے جتایا

“سوری میں ایسا کچھ نہیں کروں گی” عالیہ نے بے رخی سے کہا

“ٹھیک ہے میں خود کہ دوں گی” مہریں نے کہا اور اٹھ کر کلاس کی سمت بڑھ گئی۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“اب اتنا انتظام کیا ہے اس نے تمہارے لیے” عالیہ مے چھٹی کے وقت اسے کہا

“تو میں نے تو نہیں کہا تھا؟”

“مہرین تم تھوڑی دیر کے لیے جا کر کیک کاٹ کر واپس آجانا اور اسے منا کردینا کہ آئندہ وہ تمہارے لیے کچھ نا کرے”

“ٹھیک ہے چلو” مہرین اس کے ساتھ چل دی

وہ پاس والے پارک میں آگئی تھی جہاں انہوں نے انتظام کیا تھا۔ سامنے ایک ٹیبل سجا ہوا تھا پھولوں سے جس پر بہت خوبصورت سا کیل رکھا تھا جس پر اس کا نام لکھا تھا

ٹیبل کے پاس ہی بہت سے غبارے پڑے تھی اور بھولوں سے راہ داری کو سجایا گیا تھا جہاں وہ اس وقت کھڑی تھی

سانمنے ہی بڑا سا ہیپی بڑتھ لکھا ہوا تھا جسے بہت ہی خوبصورت طریقے سے سجایا گیا تھا۔ وہ حیرانی سے چلتی قریب ائی اسے وہ سب اچھا لگ رہا تھا اس کے لیے کبھی کسی نے اس طرح برتھ سلیبریشن نہیں کی تھی۔ اتظام بہت عام سے تھے مگر دل سے کیے گئے تھے جو اسے بہت پسند آئے تھے۔وہ اظہر کو منا کرنے آئی تھی مگر خوشی میں اسے کچھ یاد نہیں رہا۔ وہ چلتی ہوئی کیک کے قریب آئی تبھی کسی نے چھری بڑھائی اس کی۔طرف۔اس نے یک دم سر اٹھا کر دیکھا وہ اظہر ہی تھا جو چہرے پر مسکان لیے اسے کیک کاٹنے کا کہ رہا تھا۔ اس نے چھری کو پکڑ لیا اور کیک کاٹنے لگی۔ تبھی سب کی آوازیں اس کے کانوں سے ٹکرائی جو اسے برتھ ڈے وش کر رہے تھے۔

وہ بہت خوش تھی اتنی خوش کہ پہلے کبھی نہیں ہوئی۔

وہ جب کیک کاٹ کر فارغ ہوئی تو سب کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوگئی تھی انہوں نے بہت کچھ کھایا انجوائے کیا ۔

وہ کھڑی عالیہ سے بات کر رہی تھی کہ اظہر نے پکارا

“مہرین؟”

اس نے پلٹ کر دیکھا اظہر نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا ہاتھ میں رنگ تھی چہرے پر مسکان اور خوشی ۔

وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“Will you Merry me?”

اظہر کے الفاظ اس کے کانوں سے ٹکرائے

“مہرین؟Say yes” عالیہ نے کہا

وہ بلکل ساکت کھڑی تھی۔اچانک اس کے دماغ نے کام کیا

“یہ کیا کہ رہا ہے خاور کو پتا لگ گیا تو ؟ نہیں ایسا نہیں ہوگا مجھے گھر جانا ہوگا” اس نے دل میں سوچا

تبھی کچھ لوگ قریب آتے نظر آئے انہیں، جن کے بیچ ایک روب دار نوجوان ایک انداز دکھاتا چلتا آرہا تھا۔ اظہر کھڑا ہوگیا مہرین نے پلٹ کر دیکھا ۔وہ اور کوئی نہیں خاور ہی تھا۔۔۔