Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haqarat (Episode - 11)

Haqarat By Isra Rao

وہ ہکی بکی آفیسر کو دیکھ رہی تھی۔

“آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اب یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا” شہزاد نے مہرین کی گھبراہٹ دیکھ کر کہا

خاور نے یک دم اسے دیکھا۔۔

“آپ نے ہماری بہت مدد کی ہے تھینکس ” شہزاد نے کہا

“مہرین؟” خاور نے اسے حیرت سے دیکھا

“خاور وہ۔۔” مہرین گھبرائی

“کیا تم بھی ان کے ساتھ ملی ہوئی تھی؟” خاور کو شاکڈگا تھا

“ہاں” مہرین بس اتنا کہ سکی

“کیوں؟۔۔۔” وہ چیخا

“میں نے تم سے اتنی محبت کی اتنا اعتبار اور تم نے ہی۔۔” خاور کو دکھ ہوا تھا

“کیوں کہ میں آپ سے بدلہ لینا چاہتی تھی۔۔۔” مہرین نے ہمت سے جواب دیا

“لے لیا؟ ” خاور نے پوچھا

“خاور۔۔۔وہ۔۔” مہرین کچھ کہتی اس سے پہلے ہی خاور کی آواز گونجی

“آفیسر چلو۔۔۔” وہ ان کے ساتھ باہر جانے لگا

“کہاں جا رہے ہیں اپ خاور؟” وہ اس کی طرف لپکی

“تم یہی چاہتی تھی نا؟ تمہارا بدلہ پورا ہوا” وہ کہتا باہر نکل گیا۔۔۔اور وہیں کھڑی اسے جاتا دیکھنے لگی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات گہری تھی مگر نیند اس کی آنکھوں سے اوجھل تھی۔۔

اسے خاور کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔

“میں نے بدلہ لے لیا۔۔۔خاور کو اس کے انتقام پر پہنچا دیا” اس نے خود کلامی کی۔۔۔

“پھر مجھے اس کی کمی کیوں محسوس ہو رہی ہے؟کیا مجھے اس سے محبت ہوگئی۔۔۔؟”

“نہیں۔۔مجھے اس سے نفرت تھی۔۔ تھی مطلب؟ کیا اب بھی ہے؟” وہ سوچوں کے سمندر میں ڈوبی تھی۔۔

دو آنسوں اس کی آنکھوں سے گرے۔۔

اس نے بےساتہ اپنے گال کو چھوا۔۔۔

آنسوں کے قطرے اس کے ہاتھوں میں جذب ہوگئے۔

“میں رو کیوں رہی ہوں۔۔؟” وہ حیران ہوئی۔

وہ اپنے احساسات سے خود ہی بے خبر تھی۔

،⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

” تم نے میرے ساتھ ایسا کیا مہرین؟ میں نے کتنا چاہا تمہیں۔۔۔۔میں نے اپنی امی کی بات پر یقین نہیں کیا۔۔بس تم پر اندھا اعتبار کیا۔۔۔ مانا میں مجرم ہوں، قاتل ہوں مگر تمہارے معاملے میں میں ہار گیا” وہ اداسی سے سوچنے لگا

” اس نے پیار کا ناٹک کیا۔۔وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی۔

۔نفرت کرتی ہے؟” اس کی سرخ آنکھوں میں نمی تیر آئی۔

“ہمارا رشتہ نفرت اور حقارت ہی تو تھا محبت تو مجھے تھی بس اسے نہیں۔۔” وہ کرب سے کہنے لگا

اور آنکھیں بند کی۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

مہرین جیل میں ملنے بھی آئی خاور سے مگر اس نے ہر بار ملنے سے انکار کردیا۔۔

عالیہ نے عدالت میں خاور کے خلاف گواہی دے دی۔

اس نے عدالت میں اپنے گناہ خود ہی قبول کرلیے۔۔۔

سب حیران تھے کہ خاور شاہ نے اپنے گناہ خود ہی کیوں قبول کرلیے۔ خود شہزاد بھی حیرت زدہ تھا۔

مگر یہ صرف خاور جانتا تھا۔

وہ جس کرب سے گزر رہا تھا بس وہی جانتا تھا۔

مہرین کی سچائی سے اسے گہرا صدمہ ہوا تھا ۔اس نے مہرین سے واقع محبت سچی کی تھی۔۔

اور اسے بہت تکلیف ہوئی تھی۔

وہ اب مہرین کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا

اس لیے اس نے اپنے سارے گناہ قبول کرلیے۔۔۔

عدالت نے پھانسی کی سزا سنا دی تھی۔۔۔

وہ سزا سے انجان نہیں تھا۔۔وہ جانتا تھا اس کی سزا یہی ہوگی۔۔۔اس کے جرم بہت بڑے تھے۔۔۔

خاور کے ماں باپ بھی آگئے تھے۔

مہرین نے جب یہ خبر سنی تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ اور وہ بے اختیار رونے لگی۔۔۔

اس کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی۔ اسے ہسپتال لے کر گئے۔۔کچھ ہی دیر میں اس نے ایک خوبصورت بیٹے کو جنم دیا۔۔ مگر اس خوشی کے ساتھ سب کو اور کا دکھ بھی تھا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

مہرین کو جب ہوش آیا تو خاور کی ماں نے اسے بیٹے کا بتایا مگر اس نے ایک بار بھی اپنے بیٹے کو دیکھنے کی خواہش نہیں کی اسے یاد تھا تو بس خاور۔۔۔

“اب تو تم خوش ہو نا؟” خاور کی ماں نے کہا

“میں نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ اسے۔۔ ” مہرین نے کہا

“خاور نے اپنے گناہ خود ہی قبول کرلیے۔۔جانتی ہو کیوں؟ کیوں کے وہ اب تمہاری خواہش پوری کر رہا ہے تم یہی چاہتی تھی کہ اسے سزا مل جائے تو مل گئی۔۔۔” وہ کہتی چلی جا رہی تھی

مہرین کے پاس جواب نہیں تھے وہ بس خاموش تھی اس کی آنکھیں برسنے کو تیار تھی۔۔

“میں مانتی ہوں ہم سے غلطی ہوئی ہے ہم نے ٹھیک نہیں کیا تھا تمہارے ماں باپ کے ساتھ مگر ہم پچھلے وقت کو واپس نہیں لا سکتے نا ہی اسے ٹھیک کر سکتے ہیں ہم بس اپنے گناہوں کی معافی مانگ سکتے ہیں۔۔۔

ہمارا قصور تھا، خاور کی بھی غلطی تھی۔۔وہ بھی تمہارا گناہ گار تھا مگر تمہارا بچہ اس کی کیا غلطی تھی وہ کیوں سزا بھگتے؟” انہوں نے سنجیدگی سے کہا

مہرین چپ چاپ سن رہی تھی۔ ان کی ہر بات اس کے دل پر مزید زخم کر رہی تھی۔۔۔