Haqarat By Isra Rao NovelR50464 Haqarat (Episode - 1)
No Download Link
Rate this Novel
Haqarat (Episode - 1)
Haqarat By Isra Rao
اس نے کالج سے آتے ہی صوفے پر بیگ پھینکا اور کچن کی طرف بھاگی
“دادو۔۔۔۔دادو؟” وہ آوازیں دیتی کچن میں آئی
جہاں ثریا بیگم کھانا بنا رہی تھیں۔
“دادو کیا بنایا ہے بہت بھوک لگی ہے” اس نے قریب اتے ہی کہا
“بس بیٹا بن گیا تم کپڑے تو بدل لو ہاتھ منہ دھو کر آؤ تب تک میں لاتی ہوں کھانا” انہوں نے اسے ڈریس میں دیکھ کر ٹوکا
“دادو بعد میں بدل لوں گی نا ابھی بہت بھوک لگی ہے”
“نہیں بدل کر آؤ ورنہ کھانا نہیں ملے گا ” انہوں نے ڈانٹا
“اب آپ ایسے کریں گی دادو؟” اس نے پیچھے سے دادو سے لپٹتے ہوئے کہا
“مہرین ضد نہیں کرتے جاؤ” دادو نے پیار سے گال تھپتھپایا
“اچھا جا رہی ہوں” وہ دادو کے گال پر پیار کرتی کچن سے نکل گئی۔
ثریا بیگم نے کھانا ڈالا اور لاکر باہر برآمدے میں چارپائی پر لگایا۔ تبھی وہ فریش ہو کر آگئی
“دادو یہاں کیوں لگا رہی ہیں کھانا اندر لگائیں نا” اس نے چارپائی پر رکھا کھانا دیکھا
“لائٹ نہیں ہے بیٹا اندر تجھے گرمی لگے گی”
“ایک تو یہ لائٹ اسی وقت جاتی جب میں کالج سے اتی ہوں” اس نے ناگواری سے کہا
“شکر ادا کرتے ہیں بیٹا اللہ کا…آؤ کھانا کھاؤ” دادو نے کہا
اس نے دادو کے ساتھ کھانا کھایا مگر ناک منہ چڑھا کر کیوں کہ آج جو سالن بنا تھا اس سے بھی وہ نا خوش تھی اور دادو کی وہی تاکید کہ شکر ادا کر کے کھاؤ۔
وہ کھانے سے فارغ ہوئی تو لائٹ کا انتظار کرنے لگی تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔
اس نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے شخص کو دیکھ کر ٹھٹکی۔
وہ کاٹن کے کپڑوں میں روب دکھاتا کوئی گورا چٹا خوبرو نوجوان تھا ہاتھ میں گھڑی پہنے پیچھے دو گارڈ کھڑے
وہ کوئی بہت امیر شخص معلوم ہو رہا تھا۔
اس نے جیسے ہی اسے دیکھا اس کے حواس اڑنے لگے چہرے پر پسینہ آنے لگا وہ حیرانی سے دیکھ رہی تھی
“مہرین” اس شخص نے زیر لب اس کا نام لیا اور عجیب سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آگئی۔
مہرین نے جلدی سے دروازہ بند کرنا چاہا مگر اس نے دروازے کو ہاتھ سے پکڑ لیا۔مہرین نے زور دے کر بند کرنا چاہا مگر اس کی طاقت زیادہ تھی بند نا کر پائی تو دروازہ چھوڑ تیزی سے اندر بھاگی۔
“دادو۔۔۔دادو۔۔وہ۔۔وہ آگیا” اس کے حواس قابوں میں نہیں تھے۔ ڈر اس کے چہرہ کو اپنی زد میں لیے ہوئے تھا
اس کے چہرے سے پسینہ بہنے لگا اور اس پر بری طرح خوف طاری تھا
“کیا ہوا مہرین ؟” ثریا بیگم باہر آئی
“دادو وہ آگیا” وہ کہتی ثریا بیگم کے قریب بھاگی
تبھی صحن سے اندر اتے شخص پر ثریا کی نظر پڑی
وہ تمسخرانہ مسکراہٹ لیے اندر ارہا تھا مہرین نے اسے اندر آتے دیکھا تو ثریا کے پیچھے چھپ گئی
“سلام اماں جی سلام” اس نے اندر آتے ہی ثریا کو کہا
“کیوں آئے ہو؟” ثریا نے غصہ سے کہا
“ارے اماں جی گھر آئے داماد کو چائے ٹھنڈا پوچھنے کے بجائے آپ سوال کر رہی ہیں؟” اس نے پاس پڑی کرسی گھسیٹ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھتے ہوئے کہا
“دیکھو خاور تم ہمارا پیچھا چھوڑ دو کیوں تم اس معصوم یتیم بچی کے پیچھے پڑے ہو؟” ثریا نے سوال کیا
“ارے اماں آپ تو عجیب سوال کر رہی ہیں جیسے آپ ہمارے رشتے کے بارے میں جانتی ہی نہیں؟” اس نے ماتھے پر بل لاتے ہوئے کہا
مہرین دادو کے پیچھے چھپی سہمی کھڑی تھی اس میں اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ اسے کوئی جواب دے۔
“وہ رشتہ بچپن کا تھا جو اب ختم ہو چکا ہے اب تم بھی اس کا پیچھا چھوڑ دو” ثریا نے کہا
“ہاہاہا اماں کیا آپ نہیں جانتی کہ ہمارے خاندان میں مانگ چھوڑتے نہیں اپنی۔۔۔۔۔ چاہے ہمیں قتل و غارت ہی کیوں نا کرنے پڑ جائیں” اس نےالفاظ چباتے ہوئے کہا
“اور تم…ڈرنے کی ضرورت نہیں میری ہونے والی بیوی ہو تم میرے ساتھ ہی آگے کی زندگی گزارنی ہے تمہیں ہاں اگر یہ شرم ہے تو بہت اچھی بات ہے” وہ مہرین سے مخاطب تھا
مہرین نے لمحہ بھر نظر اٹھا کر اسے دیکھا پھر واپس جھکا لی۔
“تم جاؤ یہاں سے خاور۔۔۔” ثریا نے کہا
“جا تو میں رہا ہو مگر پھر آؤں گا میں بس یاد دلانے آیا تھا کہ یہ بیس سال کی ہوجائے گی اگلے مہینے اور میں اسے لے جاؤں گا یہاں سے، میری امانت ہے آپ کے پاس”اس نے کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
ثریا بیگم کچھ بول نہیں سکی وہ جانتی تھی اس کی طاقت اور رتبے کو وہ ضد کا پکا تھا جو کہتا کر گزرتا۔
“چلتا ہوں اللہ حافظ” وہ کہتا باہر نکل گیا
اور وہ دونوں سہمے اسے جاتا دیکھنے لگے۔
“اگلے مہینے تمہاری برتھ ڈے ہے نا؟” اقصیٰ نے کہا
“ہوں۔۔۔” اس نے بس اتنا کہا
“تو ہم سلیبریٹ کریں گے کتنا مزہ ائے گا نا؟ پچھلی برتھ ڈے بھی تو منائی نہیں تھی اب میں کچھ نہیں سنوں گئی” عالیہ نے منہ بنا کر کہا
“نہیں مجھے نہیں منانی کوئی برتھ ڈے وغیرہ” اس نے صاف انکار کیا
“مہرین تو ہر بار ایسے ہی کرتی ہے یہ ہمارا آخری سال ہے پھر پتا نہیں کب ملاقات ہو؟ پلیز سارا خرچہ میں خود کروں گی”
“بات خرچے کی نہیں میں منانا نہیں چاہتی”
“مگر کیوں ؟ میری برتھ ڈے پر تونے خرچہ کیا تھا نا تو اب میں بھی کردوں گی”
” تو سمجھ نہیں رہی یار میرے پاس ایک پریشانی نہیں ہے کاش کہ میری برتھ ڈے ہی نا آئے، کاش میں چھوٹی ہی رہتی، کاش میں میں نہیں ہوتی کوئی اور ہوتی” اس نے بھرے لہجے سے کہا
“کیا ہوا ہے مہرین؟” عالیہ نے اسے پریشان دیکھ کر پوچھا
“مجھے اپنی برتھ ڈے کے دن سے خوف آرہا ہے عالیہ”
“مگر کیوں؟ ہوا کیا؟”
“وہ۔۔۔وہ پھر آیا تھا ” مہرین نے اسے سارا قصہ سنا دیا
“ارے تو گھبرا مت کچھ نہیں ہوگا ایسے خنڈے پتا نہیں کتنے گھوم رہے ہیں” عالیہ نے اسے تسلی دی
“نہیں تو نہیں جانتی اسے وہ بہت خطرناک ہے”
“ہم پولیس میں خبر خبر کردیں تو؟۔۔۔ تب تو وہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا نا؟”
“پولیس؟”
“ہاں پولیس اگر ہم پولیس کی مدد لیں تو وہ تیرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا”
“یہ تو میں نے کبھی نہیں سوچا” اس نے حیرانی سے کہا
“تو اب سوچ لے” عالیہ نے کہا
اور وہ اس کی بات میں آکر سوچنے لگی
اظہر عالیہ کا کزن تھا جو اس کے کہنے پر مہرین کی مدد کرنے کے لیے تیار ہو گیا تھا اس کا دوست پولیس میں تھا
تو عالیہ چاہتی تھی کہ وہ ہماری مدد کرے۔
“چلو مہرین رپورٹ کروانے پولیس اسٹیشن چلتے ہیں”
عالیہ نے کہا
اور وہ کالج سے سیدھے پولیس اسٹیشن جانے کے لیے تیار ہوگئی
اظہر گاڑی لیے باہر کھڑا انتظار کر رہاتھا۔ انہیں آتا دیکھ اس کی نظر مہرین پر ٹھہر گئی۔
وہ سفید سلوار قمیض میں پتلی دبلی سی لڑکی اس کی نظر میں ٹھہر گئی بالوں کی لیفٹی چٹیا بنائے، گلے میں دوپٹا ڈالےہاتھ میں کتابیں تھامے اور بیگ کاندھے پر لٹکائے وہ عالیہ سے باتیں کرتی کالج کے گیٹ سے نکل رہی تھی۔
اظہر اس کی سادگی کو دیکھ حیران تھا کوئی سادگی میں اس قدر خوبصورت کیسے لگ سکتی ہے؟
وہ دونوں اس کے قریب اکر رک گئیں۔
“چلیں؟” عالیہ نے اظہر کو کہا
“ہوں چلو” اظہر نے بس اتنا کہا ہالانکہ دل میں کئی ساری باتیں سوچ چکا تھا جو اسے مہرین کو دیکھتے ہی زہن میں ائی تھی مگر اپنے آپ پر قابو پاتا وہ مسکراتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا۔
“تو آپ کو وہ ادمی تنگ کر رہا ہے؟” اظہر نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے خود ہی بات شروع کی
“جی ہاں” مہریں نے جواب دیا
“تو آپ نے اپنے پاپا کو نہیں بتایا؟”
“میرے ممی پاپا نہیں ہیں اس دنیا میں” اس نے اداسی سے کہا
“اوہ سوری مجھے پتا نہیں تھا”
وہ خاموش رہی
“تو آپ کس کے ساتھ رہتی ہیں؟”
“دادو کے ساتھ”
“اچھا چلیں گھبرانے کی ضرورت نہیں سب ٹھیک ہوجائے گا”
اس نے کہا اور گاڑی روک دی وہ اسٹیشن پہنچ گئے تھے
“اچھا تو آپ کو وہ تنگ کرےا ہے؟” پولیس والے نے پوچھا
“جی”
” کیا نام ہے؟”
“مہرین”
“آپ کا نہیں اس آدمی کا”
“جی۔۔۔وہ۔۔۔خاور شاہ” اس نے نام بتایا
پولیس والا نام سنتے ہی ٹھٹکا اس کا پین رک گیا
“کیا؟ خاور شاہ؟”
“جج۔۔۔جی” وہ حیران تھی
پولیس والے نے رجسٹر بند کیا اور اپنی کرسی سے کھڑا ہوا
“ہوگئی رپورٹ گھر جائیں اب آپ”
مہریں ہیرانی سے کھڑی ہوئی۔ اظہر آگے بڑھا
“مگر ؟” اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ اس کے دوست جو وہ پولیس والا تھا ہاتھ کے اشارے سے روک دیا
وہ خاموش ہوگیا
“میں رپورٹ لکھوانے آئی ہوں یہاں” مہرین نے کہا
“پتا ہے مجھے۔۔۔ہوگئی آپ کی رپورٹ اب اپ جا سکتی ہیں”
اس اتنا کہا اور جانے کا اشارہ کیا
“چلو” عالیہ نے کہا
اور وہ لوگ باہر آگئے
مگر اظہر نہیں آیا
وہ حیران تھے دونوں کہ پولیس والے نے رپورٹ کیوں نہیں لکھی؟
تبھی اظہر باہر اگیا
“کیا ہوا کچھ بتایا کہ کیوں رپورٹ نہیں لکھ رہا؟”
عالیہ نے اظہر سے پوچھا
“خاور شاہ ایک بہت بڑا آدمی ہے وہ بہت پاور فل ہے اس کے خلاف رپورٹ کرنا یا لکھنا اپنی موت کو دعوت دینا ہے اس کی پہنچ آگے تک ہے”
“میں نے کہا تھا نا عالیہ وہ بہت خطرناک ہے ” مہرین کی آنکھوں میں نمی تیر آئی۔
“تو گھبرا مت کچھ نہیں ہوگا کچھ نا کچھ حل نکل آئے گا” عالیہ نے حوصلہ دیا جبکہ۔اب خود عالیہ بھی سوچ میں پڑ گئی تھی کہ کیا کیا جائے۔
وہ گھر آئی تو شام ہوگئی تھی
“کہاں گئی تھی اتنی دیر لگادی؟” ثریابیگم نے کہا
“میں۔۔۔وہ دادو۔۔”
“سچ بتا کہاں گئی تھی؟”
“پولیس اسٹیشن”
“کیوں؟”
“خاور شاہ کے خلاف رپورٹ درج کروانے”
“کیا؟۔۔۔۔تیرادماغ خراب ہے مہرین؟۔۔۔کس سے پوچھ کر تووہاں گئی تھی؟”
“مگر دادو۔۔۔ہو سکتا ہے پولیس ہماری مدد۔۔۔” وہ کچھ کہتی اس سے پہلے دادو نے بات کاٹی
“پولیس کچھ نہیں کرسکتی اس کا۔۔۔ پولیس تو اس کی جیب میں رہتی ہے۔۔۔ اگر پولیس کچھ کرسکتی تو میں کب کا مدد لے چکی ہوتی”
“مگر دادو۔۔۔؟”
“اب پتا نہیں کیا ہوگا یا خدایا اس تک یہ خبر نا پہنچے بس” ثریا بیگم ڈر رہی تھی اور وہ دادو کو یوں پریشان ہوتادیکھ حیران تھی۔۔
