Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haqarat (Episode - 8)

Haqarat By Isra Rao

“سر جی اس راستے پر پولیس کھڑی ہے۔۔۔ہم مال کیسے پہنچائیں گے؟” میکال نے کہا

“کیا؟ آج کسی صورت مال ڈلیور کرنا ہے میکال۔۔ورنہ بہت بڑا نقصان ہو جائے گا”

“ہوں۔۔۔جنگل کے راستے سے لے جاؤ” خاور نے کہا

“جی بہتر سر” میکال کہ کر چلاگیا۔۔

وہ سگریٹ نکال کر پینے لگا۔۔

سیڑھیوں پر کھڑی مہرین یہ باتیں سن رہی تھی۔۔

وہ کافی دیر کھڑی سوچتی رہی پھر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

عمرشہزاد ایک قابل اور ایماندار افسر تھا۔ مگر ہر جگہ رشوت اور بے ایمانی سے تنگ اس نے ہر جگہ سختی برتی۔

کتنے ہی غنڈوں کو مجرموں کو اس سلاخوں کے پیچھے دھکیلا تھا۔۔۔ وہ جہاں جرم دیکھتا کنٹرول سے باہر ہو جاتا غصہ اس کی کمزوری تھی۔۔ بعض جگہ سے اس کا ٹرانسفر کر دیا جاتا۔۔۔

جب وہ اس شہر کی حدود میں آیا تو اسے سب سے پہلے خاور کا نام سننے کو ملا۔ مگر آوا کا آوا بگڑا تھا۔ وہ چاہ کر بھی خاور کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ ۔

اظہر کے قتل کا کیس بھی اسے ہی دیا گیا۔۔

مگر پوچھ تاچھ کے بعد بھی ثبوت نہیں ملا۔۔۔

کوئی خاور کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔

کل ہی اسے پتا چلا کہ خاور کا اسمگلنگ کا مال جا ئے گا اس نے اس راستے پر پولیس فورس لگا دی۔۔۔

آج صبح سے خود بھی وہیں کھڑا تھا کیوں کہ انفارمیشن پکی تھی۔۔۔

مگر عین ٹائم پر خاور کو پتا لگ گیا اور نے مال جنگل کے راستے بھیجنے کا حکم دیا۔

وہ کتنی ہی دیر سے پریشان کھڑا تھا کہ اس کا فون بجنے لگا۔۔

“ہیلو” اس نے لاپرواہی سے فون اٹھایا

“آپ خاور کے مال کا انتظار کر رہے ہیں؟۔۔۔مگر مال جنگل کے راستے ڈیلیور ہوگا” بتانے والی عورت کی آواز تھی۔

“کیا؟۔۔۔مگر آپ کون ہیں؟”

“میں جو بھی ہوں انفارمیشن پکی ہے”

“مگر۔۔۔ہیلو۔۔۔ہیلو ” کال کٹ گئی تھی۔۔

وہ حیران ہوتا فون کو گھورنے لگا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ جب کمرے میں آیا تو مہرین تیار ہو رہی تھی۔۔

“کیا بات ہے بیوی آج تو غضب ڈھا رہی ہو” خاور نے قریب آکر کہا

“اچھا؟” مہرین نے مسکرا کر پوچھا

“ارادہ کیا ہے؟” اس نے شرارت سے پوچھا

مہرین نے اس کر گلے میں باہیں ڈالی اور قریب آئی۔

“تباہ کرنے کا” مہرین نے آہستگی سے کہا

“کیا؟” وہ چونکا

“میرا مطلب ہے تمہارے ہوش اڑانے کا ارادہ ہے”

“اوہ اچھا۔۔” وہ ہنسنے لگا

“ویسے تیار ہو کیوں رہی ہو؟”

“ایسے ہی آپ کے لیے” اس نے چہک کر کہا

“ہائے مجھے ضروری کام سے جانا ہے ورنہ۔۔۔” اس نے مہرین پر جھکتے ہوئے کہا

“اچھا جائیں” مہرین نے فوراً کہا

اور اس کا زور دار قہقہہ گونجا

“بیوی ناراض نہیں ہوتے شام کو جلدی آجاؤں گا”

خاور نے پیار سے کہا

“نہیں ہوں ناراض آپ جائیں ” مہرین نے کہا

“پکی بات؟” خاور نے پیار سے پوچھا

اور مہرین نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

تبھی اور کا فون بجنے لگا۔

“ہیلو” خاور نے فون کان سے لگایا

“کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔” وہ پریشان ہوا

اس نے فون کاٹتے ہی کمرے سے تیزی سے نکل گیا

اور کمرے میں مہرین کا زور دار قہقہہ گونجا۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“ہمارا کروڑوں کا مال پکڑا گیا ہے میکال” خاور نے غصہ سے کہا

“مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ پولیس کو اس راستے کا کیسے پتا لگا؟” اس کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا

“سر جی کہیں کوئی ہمارا کوئی بندہ غدار تو نہیں؟” میکال نے سوچتے ہوئے کہا

“تو تم کس لیے ہو؟ معلوم کرو یہ خبر کس نے باہر پہنچائی اور کون ہے وہ غدار؟” وہ چلایا

“جی سر جی” میکال گھبرایا

“میں چھوڑوں گا نہیں اسے ایک بار پتا چل جائے بس۔۔۔” وہ دھاڑا۔

اور اٹھ کر کمرے کی طرف چل دیا۔۔

مہرین بیڈ پر لیٹی تھی اسے کمرے میں آتا دیکھ بیٹھ گئی۔

وہ آکر بیڈ پر بیٹھ گیا سر دونو ہاتھوں میں گرا لیا۔

“کیا ہوا؟” اس نے خاور کے کاندھے پر ہاتھ رکھا

“ہمارا بہت بڑا نقصان ہوگیا ہے ” اس نے اداسی سے کہا

“تم لوگوں نے بھی تو اسی دولت کے لیے میرے ماں باپ دادو سب کر دکھ پہنچایا تھا کسی کا حق کھانے والے کبھی خوش نہیں رہتے” مہرین نے دل میں سوچا۔

“کوئی بات نہیں دولت تو آنے جانے والی چیز ہے۔۔۔اللہ سب ٹھیک کردے گا” مہرین نے تسلی دی

“وہ بہتر انصاف کرنے والا ہے” مہرین کے دل نے بے اختیار کہا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“میں آپ کو خاور کے خلاف سارے ثبوت دوں گی اسے سزا دلوانا آپ کا کام ہے” مہرین نے کہا

“اس بات سے بے فکر رہیں آپ مجھ پر اعتبار کر سکتی ہیں” شہزاد نے کہا

“آپ ایک قابل افسر ہیں اسی لیے میں نے اعبار کیا آپ پر”

“ہوں۔۔مگر آپ ہیں کون اور ہماری مدد کیوں کر رہی ہیں؟”

وہ تجسّس سے بولا۔

“میں خاور سے بدلہ لینا چاہتی ہوں۔۔۔میں نے بہت کچھ سہا ہے۔۔میں۔۔۔۔۔۔” وہ کہتے کہتے رکی۔ سامنے خاور کی ماں کو دیکھ اس کے حواس اڑ گئے۔۔

وہ ششدر رہ گئی۔۔

وہ چلتی ہوئی مہرین کے قریب آئی۔ مہرین نے فون بند کردیا۔ انہوں نے قریب آتے ہی مہرین کے گال پر تھپڑ جھڑ دیا۔

“تو تم بدلہ لینا چاہتی ہو میرے خاور سے؟” اس نے غصہ سے کہا

“ارے اپنے شوہر سے بدلہ لو گی تم جو تم سے اتنی محبت کرتا ہے” اس نے چبا کر کہا

” محبت؟ ارے وہ تو نفرت کے بھی قابل نہیں، آپ سب نے مل کر میرے ماں باپ کو مارا ہے۔۔اکبر شاہ کے دھوکے نے مارا ہے میرے ماں باپ کو۔۔۔اور رہی سہی کسر آپ کے بیٹے نے پوری کردی۔۔۔ارے کیا قصور تھا میری دادو کا؟وہ میرا آخری سہارا تھیں۔ خاور کی وجہ سے میری دادو مجھے چھوڑ کر چلی گئیں۔۔میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔آپ سب کو معاف نہیں کروں گی کبھی۔” اس نے چیخ کر کہا

“آنے دو خاور کو تمہارا اصلی روپ دکھاتی ہوں اسے میں”

وہ غصہ سے کہتی باہر نکل گئی۔

اور مہرین پریشان ہوئی۔

“اب کیا ہوگا؟ اانہوں نے سچ میں خاور کو بتا دیا تو۔۔۔”

وہ سوچ میں ڈوبی۔۔۔

مگر اچانک مسکرا دی جیسے کوئی آڈیا آگیا دماغ میں۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ کچن میں گئی تو ملازمہ جوس کے گلاس ٹرے میں رکھ رہی تھی۔

“کیا کر رہی ہو؟” مہرین نے پوچھا

“وہ جی جوس صاحب اور بیگم صاحبہ کو دینے جا رہی ہوں۔۔” ملازمہ نے کہا

“اچھا۔۔ پہلے مجھے ایک گلاس دودھ بنا دو ” اس نے حکم دیا

“جی” ملازمہ کہ کر دوسری سائیڈ رکھا دودھ نکالنے لگی

اور مہرین نے جوس میں دوا ملا دی۔۔

ملازمہ نے پلٹ کر دودھ اس کی طرف بڑھایا۔

مہرین نے گلاس پکڑا۔اور ملازم جوس اٹھا کر باہر نکل گئی۔

“اب بڑی امی جی آپ تو سکون سے سوجائیں کیوں کے خاور آکر پہلے مجھ سے ملے گا۔ آپ سے وہ ملے گا تو ہی آپ سچ بتاؤ گی نا؟” مہرین نے مسکرا کر کہا۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

خاور جب لوٹا تو ملازمہ نے بتایا کہ بڑی بیگم صاحبہ تو سو گئیں۔وہ سیدھا کمرے میں آیا۔۔

مہرین چادر اوڑھے بیڈ پر لیٹی تھی۔۔

وہ اسے دیکھ چونکا۔۔

“کیا ہوا خیریت اتنی جلدی تم بستر میں؟ امی بھی سوئی ہوئی ہیں حالانکے وہ نہیں سوتی اتنی جلدی۔۔”

اس نےآتےہی پوچھا

“وہ مجھ سے جھگڑا کر کے گئی تھیں۔۔” مہرین نے نم آنکھوں سے کہا

“کیا؟مگر کیوں؟” وہ حیران ہو۔