Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haqarat (Episode - 6)

Haqarat By Isra Rao

“مہرین تم ٹھیک ہو؟” خاور نے اسے دیکھتے ہی پوچھا

“مری نہیں ہوں۔۔۔زندہ ہوں” یہ کہ کر وہ چلتی ہوئی ڈریسنگ کے سامنے آگئی۔ وہ چپ چاپ اسے دیکھتا رہا پھر اس کے قریب آکر کھڑا ہوگیا۔

“ناراض ہو؟” خاور نے پوچھا

“نہیں جن نفرت کا رشتہ کا رشتہ ہوتا ہے نا ان سے ناراضگی اہمیت نہیں رکھتی” اس نے تلخی سے کہا

“تم مجھ سے اتنی نفرت کیوں کرتی ہو؟”

“پیار ہونے لائق آپ میں کچھ نہیں” اس پلٹ کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

“لیکن میں تو تم سے کرتا ہوں۔۔۔”

“لیکن میں نہیں کرتی مجھے آپ سے صرف نفرت ہے صرف نفرت” وہ اس کا گریبان پکڑ کر چیخی

“قبول ہے” اس نے آہستگی سے کہا

مہرین کے ہاتھ اس کے گریبان پر ڈھیلے پڑ گئے۔

اور خاور کا زور دار قہقہہ گونجا۔

وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا واش روم میں گھس گیا اور وہیں ساکت کھڑی رہی۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ تیارہو کر نیچے آگئی تھی وہاں کوئی نہیں تھا ہر طرف خاموشی تھی”اتنے بڑے گھر میں کوئی نہیں ہے؟” اس نے دل میں سوچا۔ پھر کچن کی طرف بڑھ گئی۔وہاں ملازمہ ناشتہ بنانے میں مصروف تھی۔ اسے کچن میں چونکی۔

“ارے بی بی جی آپ یہاں؟ کچھ چاہیے آپ کو؟” ملازمہ نے کہا

“نہیں ” اس نے مختصر جواب دیا

“پھر آپ باہر بیٹھیں میں ناشتہ لاتی ہوں”

“میں ہیلپ کرواؤں؟”

“ارے نہیں نہیں بی بی جی صاحب تو مجھے مار ہی دیں گے آپ سے کام کروایا تو؟” ملازمہ نے ڈرکرکہا

وہ تھوڑی دیر سوچتی رہی پھر باہر آگئی۔

وہ باہر آکر صوفے پر بیٹھ گئی۔ تبھی باہر سے ایک عورت اور ایک آدمی جو وہیل چئر پر تھا۔ آتے دیکھائی دیے۔ وہ انہیں نہیں پہنچانتی تھی۔وہ عورت قریب آتے ہی اس کے گلے لگی۔

“مہرین بیٹا کیسی ہو؟” وہ انہیں حیرانی سے دیکھ رہی تھی

“میں خاور کی ماں ہوں ” اس عورت نے کہا

مہرین اب بھی خاموش تھی۔

“ماشاءاللہ بہت پیاری ہو۔۔۔تم تو بچپن میں بھی بہت پیاری تھی۔۔۔ ” اس نے اسے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا

” ارے امی جی۔۔۔ آپ لوگ یہاں؟” پیچھے سے خاور کی آواز آئی۔

“میرابچہ کیساہے؟” اس نے خاور کو پیار کیا

“بہو کیسی لگی آپ کو؟” خاور مہرین کو دیکھتے ہوئے کہا

“ماشاءاللہ بہت پیاری ہے۔۔۔ میرے خاور کے ساتھ تو بچپن سے ہی اچھی لگتی ہے یہ۔۔۔” اس نے خوشی سے کہا

مہرین کو ان سب کو دیکھ اپنے ماں باپ دادو کے ساتھ کی ایک ایک زیادتی یاد آنے لگی۔مگر وہ مجبور تھی۔ انہیں کچھ نہیں کہ سکتی تھی۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

ناشتے کے بعد خاور میٹنگ کے لیے نکل گیا تھااور وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی اسے ان لوگوں کے بیچ بیٹھ کر اکتاہٹ ہو رہی تھی۔

“تم سب نے مل کر میرے ماں باپ کو مارا ہے، میری دادو کو اظہر کو سب کو، ایک ایک زیادتی کا بدلہ لوں گی تم لوگوں سے میں ” اس نے خود کلامی کی

وہ گہری سوچ میں تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔سامنے خاور کی ماں تھی۔

” مصروف تو نہیں تھی بیٹا؟” انہوں نے قریب آکر کہا

مہرین جبرن مسکرائی۔

“میں نیچے بور ہو رہی تھی سوچا اپنی بہو کے پاس بیٹھ جاؤں” انہوں نے بیٹھتے ہوئے کہا۔

مہرین خاموش تھی۔

“پہلے کا وقت تھا سب ساتھ رہتے تھے ہم اب تو وہ وقت ہی نہیں رہا۔۔۔۔اللہ جنت نصیب کرے بہت اچھے تھے وہ لوگ”

وہ کہتی چلی جا رہی تھی۔

“پھر ایسا کیا ہوا جو الگ ہونا پڑا؟” مہرین نے تلخی سے کہا

وہ یک دم ہڑ بڑائی۔

“بس وقتی ناراضگی تھی لوگوں نے غلط فہمیاں ڈال دی تھی دلوں میں۔۔۔تم تو بہت چھوٹی تھی اس وقت۔۔۔۔ سچ پوچھو تو آج بھی ہمیں بہت یاد آتی ہے ہمیں ان کی بہت اچھے تھے” انہوں نے اداسی سے کہا

مہرین خاموشی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔

“ہم بھی کیا پورانی باتیں لے کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔تم کچھ کھاؤ گی؟” انہوں نے پیار سے پوچھا۔ مہرین نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔۔

“کس قدر چال باز ہیں یہ سب پیار کا ڈھونگ رچا کر کیا سوچ رہے ہیں میں سب بھول جاؤں گی؟۔۔۔۔۔میں تم لوگوں کو کبھی معاف نہیں کروں گی” اس نے دل میں سوچا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات کا کھانا کھا کر وہ سیدھی کمرے میں آگئی۔۔۔

تیز ہوائوں سے پردے ہل رہے تھے۔ وہ چلتی ہوئی کھڑکی کے پاس گئی ۔۔ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے اسے اپنی زد میں لے لیا۔ وہ آنکھیں بند کیے اس ٹھنڈک کو اپنے اندر اتار رہی تھی۔۔کہ اپنے کاندھے پر کسی کا لمس محسوس ہوا۔ اس نے فوراً آنکھیں کھولیں۔

اس نے پلٹ کر دیکھا وہ اس کے بلکل پاس کھڑا تھا۔

“تم نے کبھی مجھے سکون سے نہیں رہنے دیا مجھ سے میرا سکون چین میرے اپنے سب چھین لیے خاور” وہ دل میں سوچنے لگی۔۔

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔

خاور کے ہاتھ اس کی کمر کو چھو رہے تھے۔ مگر وہ یک ٹک اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔سرخ آنکھیں جن میں اس کے لیے صرف نفرت تھی۔

خاور نے اسے قریب کیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔

“ان آنکھوں میں میرے لیے اتنی نفرت کیوں ہے بیوی؟” اس نے مسکرا کر کہا

مہرین اسی طرح اسے گھور رہی تھی۔

“میں جانتا ہوں میں نے تمہارے ساتھ غلط کیا مگر تم میری ضد تھی میری مانگ جسے میں چھوڑ نہیں سکتا تھا۔۔۔ میں نے بچپن سے تمہارے ساتھ کے خواب سجائے تھے۔۔پھر کیسے چھوڑ دیتا بتاؤ؟” خاور سنجیدگی سے کہنے لگا وہ خاموش تھی

“چاچو کے ساتھ جو ہوا اس میں میرا قصور نہیں تھا جیسے تم انجان تھی میں بھی ہر چیز سے انجان تھا۔۔۔ مجھے ایسے نفرت سے مت دیکھو یار۔۔۔تمہاری یہ حقارت مجھے برداشت نہیں۔۔۔ خاور شاہ نے کسی معافی نہیں مانگی کبھی مگر تم میری کمزوری ہو۔۔۔مجھے معاف کردو پلیز” وہ کہتا چلا جا رہا تھا۔۔۔

“میں نے آپ کو معاف کیا” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہنے لگی۔

خاور کو اپنے کانوں سنی بات پر یقین نہیں آیا۔وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا۔۔یک دم مسکراہٹ نے اس کے ہونٹوں کو چھو لیا۔۔۔