Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haqarat (Episode - 5)

Haqarat By Isra Rao

جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ کمرے میں تھی جہاں نیم تاریکی چھائی تھی

اس نے ادھر ادھر دیکھا وہاں اس کے علاوہ کوئی نہیں تھا

وہ بیڈ سے اٹھ کر دروازے کی طرف گئی اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا بے ساختہ کسی سے ٹکراؤ ہوا مہک اس کے اندر اتر رہی تھی۔ شاید اس شخص نے فرفیوم لگایا تھا جس کی خوشبو اسے محسوس ہورہی تھی۔

اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ اسے دیکھ نہیں پا رہی تھی۔

“کہاں جا رہی ہو؟” ایک بھاری آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی

اس آواز کو وہ کبھی نہیں بھول سکتی تھی ۔ جس نے اس کی زندگی کو کہاں سے کہاں لا کر چھوڑا تھا۔

وہ یک دم پیچھے ہٹی۔ تبھی خاور نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کی۔ وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“میں یہ کمرہ۔۔۔؟” وہ یہاں وہاں دیکھنے لگی

“یہ میرا کمرہ ہے تم میرے۔۔۔اوہ سوری ہمارے گھر میں ہو” اس نے مسکرا کر کہا

“بیوی تمہیں کچھ چاہیے تو بتاؤ؟” اس نے پیار سے کہا

مہرین خاموش کھڑی تھی۔

“میں کھانا بھیجتا ہوں تم تب تک فریش ہونا چاہتی ہو تو سامنے الماری میں تمہارے لیے نئے کپڑے رکھے ہیں” وہ کہ کر باہر کی طرف بڑھ گیا

وہ بیڈ پر بیٹھ گئی اور یہاں وہاں دیکھنے لگی

پر المری کی سمت قدم بڑھائے۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“میکال ؟” اس نے پکارا

“جی سر جی” وہ سامنے کھڑا تھا

“مال آگیا ہمارا؟”

“جی سر جی”

“صفدر صاحب کے ساتھ میٹنگ رکھو”

” سر جی دو دن بعد کی رکھنے کو کہا ہے انہوں نے”

“اب ہم ان کے کہنے پر میٹنگ رکھیں گے کیا؟ کل صبح کی رکھو” اس نے حکم دیا

“جی سر جی” وہ کہ کر چلا گیا

“سکینہ بی” اس نے ملازمہ کو آواز دی

“جی صاحب؟”

“کھانا اوپر پہنچادو میرے کمرے میں” وہ کہ کر کھڑا ہوگیا

“جی صاحب جی” وہ کہ کچن کی طرف چلی گئی

اور خاور اوپر سیڑھیاں چڑھنے لگا۔

جب وہ کمرے میں آیا تو کمرے میں کوئی نہیں تھا

وہ شاید واش روم میں تھی۔ وہ آکر بیڈ پر بیٹھ گیا

جب وہ نہا کر باہر نکلی تو خاور بیڈ پر لیٹا موبائل میں مصروف تھا۔

“آپ یہاں؟” وہ حیران ہوئی

“اب اپنے کمرے میں نہیں آسکتا کیا میں؟” وہ اسے دیکھ کھڑا ہوگیا

“نہیں” اس نے نفرت سے کہا

“کیوں؟”

مہرین خاموش رہی ۔وہ ہمیشہ اس سے گھبراتی تھی ڈرتی تھی مگر ناجانے اس میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی تھی کہ وہ اسے جواب دینے لگی تھی اب۔

وہ چلتا ہوا اس کےقریب آنے لگا۔ مہرین یک دم پیچھے ہٹی

اس کی نظر مہرین پر ہی جمی تھی۔

تبھی دروازے پر دستک ہوئی خاور دروازے کی طرف بڑھ گیا اور مہرین کی سانس میں سانس آئی۔

دروازے پر ملازمہ تھی جو کھانا رکھ کر چلا گئی تھی مہرین بال بنانے میں مصروف ہوگئی۔

“آؤ کھانا کھاؤ” وہ بیڈ پر بیٹھا تھا

“مجھے بھوک نہیں” اس نے حقارت سے کہا

وہ اٹھا اور اس کی طرف تیزی سے بڑھا۔

اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور بیڈ تک لے آیا

“بیٹھو” اس نے غصہ سے کہا وہ اس کی آنکھوں میں غصہ دیکھ رہی تھی۔

وہ چپ چاپ بیٹھ گئی

“مجھے بھوک نہیں ہے” مہرین نے پھر کہا

“چپ چاپ کھاؤ” خاور نے نوالہ اس کی طرف بڑھایا

“ہمارا رشتہ نفرت اور حقارت کا ہے یہ جھوٹی محبت دکھانے کی ضرورت نہیں پھر یہ سب کچھ یہ کیوں کر رہا ہے؟” مہرین نے دل میں سوچا

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات کے بارہ بج رہے تھے وہ اکیلی بیڈ کمرے میں لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔

اظہر کا مسکراتا چہرہ اس کی آنکھوں میں اتر آیا

“میری وجہ سے سب ہوا ہے” اس نے خود کلامی کی

“تم نے ٹھیک نہیں کیا یہ خاور میں نفرت کرتی ہوں تم سے”

وہ سوچتی سوچتی جانے کب سوگئی۔

خاور جب روم میں آیا تو وہ بیڈ پر گہری نیند سو رہی تھی

اسے دیکھ خاور کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

اس نے دروازہ بند کیا اور واشروم چلا گیا۔

وہ جب نکلا تب بھی وہ اسی طرح سو رہی تھی۔

وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا بیڈ پر آکر بیٹھ گیا

اس کی نظر مہرین کے چہرے پر گئی جس پر معصومیت جھلک رہی تھی اسے بے انتہا اس پر پیار آیا۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے گال کو چھوا

وہ گہری نیند سو رہی تھی۔

خاور کی نظر اب اس چہرے سے ہوتی ہوئی اس کی صاف شفاف گردن پر آ ٹھہرہ۔خاور کا ہاتھ چہرے سے پھسلتا اس کی گردن کو چھو رہا تھا۔ تبھی اس کی آنکھ گئی۔

خاور اس پر جھکا ہوا تھا اسے اپنی گردم پر اس کا لمس محسوس ہوا۔ وہ جھٹکے سے اس پیچھے کرتی اٹھ بیٹھی

اور دوپٹا سیٹ کرنے لگی۔

خاور کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی۔

مہرین اسے اتنا قریب دیکھ گھبرا رہی تھی۔

“بیوی تم تو میرا انتظار کیے بنا ہی سو گئی” اس نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا

وہ کچھ کہے بنا تھوڑی اور سمٹ کر بیٹھ گئی تھی

“بیوی تم اتنا دور کیوں بیٹھی ہو؟” خاور نے اسے کلائی سے پکڑ کر کھینچا

اور اسے اپنے حصار میں لے لیا۔

“چھو۔۔۔چھوڑیں مجھے” وہ یک دم گھبرائی اور خود کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی۔

“بیوی شور مچا کر کچھ نہیں ہوگا بہتر ہے تم مجھے زبردستی کرنے پر مجبور نا کرو” وہ اس پر جھکتے ہوئے کہنے لگا۔

“خاورپلیز پیچھے ہٹیں یہ آپ کیا کر رہے ہیں” وہ چیخی

مگر وہ اور اس کے قریب تر آتا جا رہا تھا۔ اور کی نظر اس کے ہونٹوں پر ٹکی تھی وہ جیسے ہی جھکا مہرین نے چہرہ پیچھے کرلیا۔ خاور کے چہرے پر بے ساختہ وحشیانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔

اس کے بعد مہرین نے خود کو چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہی۔ وہ وحشی بن چکا تھا اس کی طاقت آخر کو ایک مرد کی تھی اور وہ ٹھہرہ ایک عورت جو چاہ کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ گہری نیند سو رہا تھا اور وہ اس کے برابر میں گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی اس کے آنسو اب شدت اختیار کر چکے تھے۔ اس کی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھی۔

اس کی سسکیوں سے اس کی نیند ٹوٹ گئی تھی اس نے سر اٹھا کر پاس بیٹھی مہرین کو دیکھا

“یار کیا ہوگیا ہے؟” اس نے اکتا کر کہا

وہ ساکت بنی بیٹھی روتی جارہی تھی۔

“دیکھو بیوی جو ہونا تھا وہ ہوگیا اب رونے سے کیا ہوگا بتاؤ” اس نے لاپرواہی سے کہا

“یار اگر تم میرے ساتھ سیدھی طرح پیش آتی تو مجھے ایسا نا کرنا پڑتا۔۔۔” اس نے کہا مگر اسی طرح بیٹھی رہی

“بیوی اب رونا بند کرو یار نیند خراب ہو رہی ہے” اس نے اسے تپانے کے لیے کہا

مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

“بیوی؟” اس نے اس کا بازو پکڑا

وہ یک دم ہاتھ چھڑواتی کھڑی ہوئی

وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگا

وہ تیزی سے واش روم کی طرف بڑھی

اور واش روم کا دروازہ بند کرلیا۔ آئینے کے سامنے کھڑی وہ خود کو دیکھ رہی تھی۔ اسے خود کو دیکھ گھن آرہی تھی۔

اس نے بے ساختہ اپنے ہونٹوں کو چھوا۔ اسے رات کا منظر یاد آیا۔وہ ہونٹوں کو دانتوں سے کاٹتی نل کھولنے لگی۔

پانی اپنے چہرے پر تیزی سے پھینکتی رہی۔

اچانک اس کی نظر آئینے میں اپنی گردن پر پڑی۔ تبھی رات کا منظر اس کی آنکھوں میں لہرایا۔ اس نے پانی بھر کر اپنی گردن پر پھینکا۔بے بسی کے آنسوں اس کی آنکھوں سے بہ رہے تھے۔ وہ کس چہز کو صاف کرتی اپنے جسم کو اپنی روح کو دماغ کو اسے ہر خود سے گھن آرہی تھی وہ دم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اسے پچھتاوا ہو رہا تھا کہ اس نے اس شخص سے نکاح کیوں کیا؟ مگر وہ مجبور تھی لاچار تھی۔ اسے خاور سے نفرت تھی بے حد نفرت جتنی کسی نے کسی سے نا کی ہو۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

اس کی نیند ٹوٹ چکی تھی وہ کتنی ہی دیر انتظار کرتا رہا مگر مہرین واش روم سے باہر نہیں آئی تو اسے پریشانی ہونے لگی وہ اٹھ بیٹھا۔

کچھ سوچنے کے بعد وہ کھڑا ہوا اور واشروم کے دروازے پر گیا

“مہرین؟” اس نے پکارا

اندر سے کوئی جواب نہیں آیا اسے اب سچ میں پریشانی ہونے لگی

“مہرین تم ٹھیک ہو؟” وہ دروازہ بجانے لگا

“باہر آؤ یار۔۔۔ مہرین تم سن رہی ہو۔۔۔مہ۔۔۔” وہ کہتا اس سے پہلے ہی دروازہ کھل گیا