Haqarat By Isra Rao NovelR50464 Haqarat (Episode - 2)
No Download Link
Rate this Novel
Haqarat (Episode - 2)
Haqarat By Isra Rao
“کیا؟” وہ حیران ہوا۔
“ایک لڑکی آپ کے خلاف رپورٹ لکھوانے آئی تھی “
“ہوں۔۔۔ کون تھی؟”
“مہرین نام بتا رہی تھی اپنا اس کے ساتھ ایک لڑکا اور اسی کی عمر کی لڑکی بھی تھی۔ کالج کے ڈریس میں تھیں دونو۔۔۔”
“لڑکا؟”
“جی شاہ صاحب میں سچ کہ رہا ہوں وہ لڑکی آئی تھی رپورٹ لکھوانے۔۔۔مگر میں نے نہیں لکھی۔۔۔ہم تو آپ کے ہمیشہ سے وفادار رہے ہیں۔۔۔لیکن آپ کچھ کریں کہیں وہ دوبارہ۔۔۔” پولیس والے نے خبر دی
اس نے اتنا سننا تھا کہ فون بند کرتے ہی اس نے فون دیوار پر دے مارا اور قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔
“تم کیا سمجھتی ہو مہرین تم مجھ سے جان چھڑواسکتی ہو؟ تم صرف میری ہو۔۔۔صرف میری” اس نے خود کلامی کی
“میکال؟” اس نے آواز دی
“جی سر پتا کرو مہرین کے بارے میں وہ کہاں جاتی ہے؟ کس سے ملتی ہے؟سب معلوم کرو”
اس نے حکم سنایا
“جی سر بہتر” اس نے کہا اور باہر نکل گیا۔
جیسے جیسے اس کی سالگرہ کا دن قریب آرہا تھا اس پر خوف طاری ہو رہی تھا۔ وہ ہر وقت ڈری رہتی ،سوچ میں پڑی رہتی کہ کیا کرے؟ کہیں وہ سچ میں اسے لے گیا تو؟
اس دن بھی وہ بنا سوچے سمجھے بنا دادو کو بتائے پولیس اسٹیشن چلی گئی تھی۔ مگر خاور کی طرف سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا تھا۔ اظہر بھی اکثر کالج کے بعد عالیہ کو لینے آتا اور اسے ڈروپ کردیتا یا ہوں کہیں کہ وہ بہانے سے اس سے دوستی کرنا چاہتا تھا جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوگیا تھا۔ وہ اب اظہر کو دیکھ جھجھکتی نہیں تھی۔ اظہر کو رفتہ رفتہ محبت ہونے لگی تھی نا جانے کیوں وہ اس کی طرف کھچتا چلا گیا۔
آج بھی کالج کے بعد اظہر نے اسے ڈروپ کرنے کی آفر کی اور وہ عالیہ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی
“اب تو وہ آپ کو پریشان نہیں کرتا نا؟” اظہر نے کہا
“نہیں ابھی تک تو کچھ نہیں کیا اس نے”
“ہو سکتا ہے اسے خبر ہی نا ملی ہو؟” عالیہ نے کہا
“ہاں شاید” مہرین نے کہا
“آپ بلا وجہ ہی گھبرا رہی تھی وہ کچھ نہیں کرے گا اور کچھ کرے گا بھی تو نے چوڑیاں تو نہیں پہنی ہوئی” اظہر نے تلخی سے کہا
مہرین نے یک دم اسے حیرانی سے دیکھا وہ سمجھ نہیں سکی تھی کہ وہ کیا کہ رہا ہے
“آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں میں ہوں نا اگر وہ تنگ کرے تو بتانا اور بہت سے راستے ہیں میرے ایسے بندوں سے جان چھڑانے کے مگر جب اس نے کوئی اسٹیپ نہیں لیا تو ہم بلا وجہ ہی اس سے بھیڑیں یہ تو ٹھیک نہیں”
اظہر نے کہا
مہرین اس کی باتیں سن کر حیران رہ گئی وہ اتنا شریف دکھنے والا ایسی باتیں کر رہا تھا جیسے وہ خاور جیسے بندوں سے روز نبٹتا ہے مہرین ہو اس کی باتوں پر حیرانی کے ساتھ نسی بھی آرہی تھی مگر اس نے مہارت سے دبا لی۔
“تھینک یو” مہرین نے کہا اور اظہر کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“برتھ ڈے کب ہے آپ کی؟” اظہر نے پھر پوچھا
“دو دن بعد” مہرین نے مختصر کہا
“تم نے گفٹ دینا ہے اسے؟” اس بار عالیہ نے اسے وکا
“ہاں دے بھی سکتا ہوں” اظہر نے جواب دیا
“تم میری فرینڈ کے ساتھ زیادہ ٹچی نہیں ہونے کی کوشش کر رہے؟” عالیہ بھڑکی
“ارے میں نے کبھی ٹچ نہیں کیا I swear” اس نے شرارت سے کہا
“بد تمیز تم۔۔۔۔”عالیہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی اظہر کا فون بجا
“ہیلو؟”
“نہیں یار میں پرسو نہیں آسکتا کچھ کام ہے۔۔۔”
“بس ہے کسی خاص کی برتھ ڈے”اظہر نے جتاتے ہوئے کہا
“میرین نے یک دم چونک کر اسے دیکھا
اور عالیہ بھی حیران تھی۔
“چلو ٹھیک ہے خدا حافظ” اس نے کہ کر فون بند کردیا
اس سے پہلے کہ وہ دونوں کچھ پوچھتی اس نے گاڑی روک دی
“آپ کا گھر آگیا۔۔۔” اظہر نے کہا
“جج۔۔۔جی” وہ یک دم باہر نکلنے لگی
“تو پرسو برتھ ڈے سلیبریٹ کریں گے ” اظہر نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
مہرین باہر نکل کر کھڑی تھی کہ اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔بہت معصوم سی ۔
مہرین کچھ بول نہیں سکی۔
“خدا حافظ”اظہر نے کہا اور گاڑی اڑاتا لے گیا اور مہرین وہیں کھڑی گاڑی کو گھورتی رہی
“سر جی میڈم کی ایک دوست ہے کالج میں عالیہ نامی اس کے یلاوہ ان کی کوئی دوست نہیں البتہ کالج سے چھٹی پر اکثر عالیہ کو لینے اس کا ایک کزن آتا ہے ۔میڈم اکثر انہیں کے ساتھ گھر جاتی ہیں اکثر انہیں آپس میں باتیں کرتے بھی دیکھا گیا ہے۔ مگر لگتا نہیں کہ ان کے بیچ کوئی خاص بے تکلفی ہے۔ اس کے علاوہ وہ لوگ کبھی باہر نہیں ملے۔”میکال نے معلومات دی
“ہوں۔۔۔” خاور اسکی بات سن رہا تھا
“ایک اہم بات سر جی ہم نے معلوم کیا ہے اس دن پولیس اسٹیشن میں بھی یہی لڑکا اظہر اور لڑکی عالیہ تھی میڈم کے ساتھ”
“ہوں۔۔۔اور؟”
“اور سر جی میں اپنے آدمیوں کو ان کے پیچھے لگایا ہے جیسے ہی کوئی بات ہوگی وہ مجھے انفارم کردیں گے”
“ٹھیک ہے تم جاؤ” خاور نے اشارہ کیا
اور میکال باہر نکل گیا
اور خاور گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
(ماضی)
ثریا بیگم کےاکبر شاہ اور شاہ نواز دونوں بیٹے تھے۔ وہ دونوں بھائی مالی حیثیت میں کافی آگے تھے ان کی بہت فیکٹریاں تھیں زمینیں تھیں۔ وہ گاؤں کے بڑے آدمی مانے جاتے تھے جن کا روب اور رتبہ پورے گاؤں میں مشہور تھا۔ مگر وہ دونوں اپنی ماں کے فیصلے کو کبھی رد نہیں کرتے تھے۔ ثریا کا ایک ہی بھائی تھا جس کی بیٹی کی منگنی اس کی چھوٹے بیٹے شاہ نواز سے طے ہوئی تھی۔
دونو بھائیوں میں بہت محبت تھی۔ اکبر کے ہاں جب لڑکا پیدا ہوا تو بہت خوشیاں منائی گئی مٹھائیاں بانٹی گئیں
کیوںکہ چھ سال پہلے انہیں بیٹی ہوئی تھی جو کچھ دن کی تھی تب ہی وفات پاگئی تھی چھ سال انہوں نے دکھ میں گزارے پھر جب خاور پیدا ہوا تو خوشیاں پھر سے لوٹ آئیں۔ تبھی ثریا کے بھائی کی کال آئی اس نے شاہ نواز اور اپنی بیٹی کے رشتے سے انکار کردیا۔
انہوں نے اپنے ماموں کو بلایا تا کہ ان سے بات کر سکیں اور صلح کرسکیں۔
“بہن ہو کر تو نے آج تک کیا دیا ہے ثریا جبکہ تو نے میری بیٹی اپنے اس بیٹے کے لیے مانگی جس کی کوئی اہمیت نہیں گھر میں” ان کا اشارہ شاہ نواز کی طرف تھا
“یہ کیا کہ رہے ہیں آپ؟” اکبر نے کہا
“ہاں ساری جائیداد تو تمہارے نام ہے میں اپنی بیٹی کی شادی نہیں کرسکتا ایسے”
“کیا؟ مامو ں ہمارا جو بھی ہے ہم۔دونو بھائیوں کا ہے” اکبر نے کہا
“تو ٹھیک ہے کردو شاہ نواز کے نام زمین جائیداد “
کچھ دیر سوچنے کے بعد اکبر نے ہامی بھرلی
“ٹھیک ہے میں کردوں گا”
“لیکن مجھے نہیں چاہیے نام ہم بھائیوں میں بٹوارہ نہیں ہو سکتا” شاہ نواز نے کہا
“نہیں شاہ نواز، اکبر ٹھیک کہ رہا ہے آگے جا کر جھگڑے ہوں گے جائیداد پر ابھی سب ہوجائے گا تو ٹھیک ہے” ثریا نے فیصلہ کیا
اور سب کو ماننا پڑا۔
کچھ دنوں میں اکبر نے پیپرز تیار کروائے اور سائن کردیے۔
اس نے آدھی جائیداد شاہ نواز کے نام کردی۔
کچھ دنوں میں شاہ نواز کی شادی طے ہوگئی۔
سب بہت خوش تھے شادی کی تیاریاں کیں
شادی کے دن ثریا کے بھائی کو کسی نے بتا یا کہ اکبر شاہ نے نقلی کاغذات بنوا کر سب کو بے وقوف بنایا ہے اس نے شاہ نواز کے نام کچھ بھی نہیں کیا۔
بارات آنے کو تھی اور وہ بہت پریشان تھا اس نے فون کر کے شادی روک دی۔ شادی کے دن گھر میں شادی ٹوٹنے کا ہنگامہ مچ گیا اور وجہ اس نے پھر جائیداد بتائی۔ انہیں بہت غصہ آیا کہ ان کے کہنے پر بٹوارہ کیا اور انہوں نے شادی کے دن شادی ہی توڑ دی۔
“اپنی مانگ تو ہم کسی صورت نہیں چھوڑیں گے” ثریا نے کہا
اکبر نے ثریا سے اجازت لی اور شاہ نواز کے ساتھ ماموں کے گھر پہنچے۔
کافی ضد بحث کے بعد اکبر نے گم نکالی اور اپنے ماموں پر تان دی
“ماموں آپ جانتے ہیں مانگ ہم نہیں چھوڑیں گے”
اکبر نے کہا
اور شاہ نواز کا نکاح زبردستی کروا دیا اور لڑکی کو گھر اٹھا لائے۔
