Ek Hai Aafat Season 1 By Binte Hawa Readelle50337 (Ek Hai Aafat) Episode 9
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 9
کیا ہوا بریرہ؟۔۔
ریا کمرے میں داخل ہوتی بولی مگر بریرہ کی حالت دیکھ کے حیران ہوئ۔۔۔۔
یہ دیکھے پھپھو عارب نے میرا میک اپ توڑ دیا۔۔۔
بریرہ نے روتے ہوئے بتایا تو بچاری ریا سر پکڑ کے بیٹھ گئ اس رشی اور عارب نے اسے کہی کا نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔
میں دیکھتی ہوں اسے بیٹا تم ایسا کرو کپڑے بدلو ۔۔۔
ریا اسے خاموش کرا کے جانے لگی تو بریرہ زور زور سے رونے لگی۔۔۔
اب کیا ہوا بیٹا۔۔
ریا نے پریشانی سے پوچھا تو بریرہ نے منہ پہ ہاتھ مارتے آنسو رگڑے تب ہی منہ پہ لگا رنگ پھیل گیا اور وہ پوری بھوتنی لگنے لگی ۔۔۔
پھپھو میرا میک اپ۔۔۔
بریرہ نے روتی صورت بنا کے کہا تو ریا کو واقع فکر لاحق ہوئ ۔۔۔
تم رو مت رشی نے ابھی شادی کے لیئے میک اپ لیا ہے اسکا لا دیتی ہوں تم کپڑے بدلو شاباش۔۔
ریا کی بات مانتی بریرہ دوسرا ڈریس لے کے واشروم گھس گئ اور ریا تن فن کرتی عارب کے کمرے میں داخل ہوئ جہاں وہ اپنے کپڑے استری کر رہا تھا۔۔۔
یہ تم نے اور رشی نے قسم کھا رکھی ہے کہ کسی کو دو گھڑی آرام سے جینے نہیں دینا چاہتے کیا ہو۔۔۔۔۔۔
ریا کمرے میں آتے ہی غصے سے بولی تو عارب سمجھا شاید ہنسنے پہ ڈانٹ پڑھ رہی ہے۔۔۔۔
سوری ریا آنی۔۔۔
عارب نے منہ پہ ہاتھ رکھتے ہنسی روک کے کہا تو ریا کو مزید غصہ آیا بجائے شرمندہ ہونے کے اب بھی ہنس رہا ہے۔۔۔ اب کیا بے شرمو کی طرح دانت نکال رہے ہو تنگ کرکے رکھ دیا ہے تم دونوں نے مجھے افف۔۔۔۔۔
ریا سر پہ ہاتھ رکھے بیڈ پہ بیٹھ گئ تب ہی کمرے میں شازیب داخل ہوا۔۔
کیا ہوا آنی؟۔۔
شازیب نے پوچھا تو ریا نے عارب کا کارنامہ اسے سنایا جسے سن کے بچارہ عارب بھی سکتے میں کھڑا تھا کہ یہ اسنے کب کیا اور اگر نہیں کیا تو اتنے دنوں سے بریرہ سے بدلہ لینے کا یہ انداز اسے کیوں خیال نا آیا۔۔
پل کے ہزارویں حصے میں عارب کو سمجھ آگیا یہ عظیم کارنامہ اسکی پارٹنر کا ہے تب ہی اسکے لبوں پہ مسکراہٹ آگئ یہ جانے بغیر کہ یہ مسکراہٹ بہت بھاری پڑھنے لگی ہے اسے۔۔
عارب خیالوں سے تب باہر آیا جب اسے گردن پہ دباو محسوس ہوا جیسے ہی اسنے مڑ کے دیکھا شازیب خطرناک تیور لیئے اسکی گردن دبوچے کھڑا تھا اسنے مدد طلب نظر پورے کمرے میں ڈالی مگر اسے ریا کہی نظر نا آئ تب ہی شازیب نے جھٹکے سے اسے کندھے پہ اٹھایا اور ٹیرس پہ لے آیا عارب ہائے ہائے کرتا رہ گیا مگر شازیب نے اسے صفائ کا موقع دیئے بغیر ٹیرس سے نیچے لٹکا دیا پورا گھر عارب کی ہائے ہائے سے گھونج اٹھا مگر سب اپنے کاموں میں لگے رہے کیونکہ یہ تو ہر چھے مہینے بعد کی بات تھی شازیب ایسی ہی کوئ سزا دیتا تھا عارب کو جس سے عارب کم از کم کچھ وقت بنا شرارت کے سکون سے گزار لیتا تھا۔۔۔ عارب نے فورأ وہ جرم بھی قبول کر لیا جو اسنے کیا ہی نہیں تھا کیونکہ شازیب وہ جلاد تھا جو اسے تب تک نا چھوڑتا جب تک عارب قبول نا کر لیتا کہ ہاں یہ اسی نے کیا ہے۔۔۔۔
آخر ایک گھنٹہ چینخ چینخ کے بے گناہی ثابت کرنے پہ بھی نا کام ہونے کے بعد آخر بے بسی سے بولا ہاں میرے بھائ یہ میں نے ہی کیا ہے اور میرے باپ کی توبہ آج کے بعد ایسا کچھ نہیں کروں گا ۔۔۔۔
تب شازیب نے اسے واپس کھینچا تو عارب فرش پہ سیدھا لیٹ گیا اور گہرے گہرے سانس لینے لگا۔۔۔۔
چل میرا بیٹا اب اگر دوبارہ کوئ ایسی حرکت کی تو چھت سے لٹکا دوں گا اور اتارنا بھول جاوں گا ۔۔۔ شازیب سیدھے لیٹے عارب کے پاس بیٹھ کے اسکے کپڑوں سے نا نظر آنے والی گرد جھاڑتا آرام سے بولا۔۔ مگر لہجے میں چھپی وارنگ عارب نے جی جان سے محسوس کی اور زور زور سے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔ شازیب مسکرا کے اسکا گال تھپتھپاتا کمرے سے باہر نکل گیا تو عارب نے ایک لمبا سانس لیا کہ جان بچی جلاد سے ۔۔۔۔۔
رشیییییی۔۔۔۔ عارب بس رشی کا نام ہی دانتوں میں چبا سکا اس کے علاوہ وہ بچارہ کر بھی کیا سکتا تھا۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧
رشی وہ جو میک اپ لیا ہے تم نے دینا وہ بریرہ نے۔۔۔۔
ریا کمرے میں داخل ہوتے بولی مگر سامنے کھڑی عجیب مخلوق کو دیکھ کہ اس پہ سکتا طاری ہوگیا۔۔۔۔
یہ تم نے کیا کیا؟۔۔۔
ریا کچھ وقت بعد خود پہ قابو پاتے بمشکل بولی تو رشی نے معصوم شکل بنا کے اسکو دیکھا۔
میک اپ۔۔۔۔
رشی کے بولتے ہی ریا نے ماتھا پیٹا وہ کونسی گھڑی تھی جب اسنے رشی سے کہا تھا میک اپ کرنے کا۔۔۔
رشی بمشکل ساڑھی کا پلو سنبھالتے گول گھومی ۔۔ کیسی لگ رہی ہوں۔۔ بولتے ساتھ ہی ایک سائیڈ سے پلو پاوں میں آیا تو رشی بیڈ پہ گری۔۔
آئ شیڈ بھی کالی ساڑی کی میچنگ کی لگائ۔۔ لال لپ سٹک لگائے ۔۔ گالو پہ گہری گلابی لالی لگائے وہ پتا نہیں کیا چیز بنی ہوئ تھی۔۔۔
اوپر سے ساڑی جو اسکو بہت لمبی تھی چھوٹا قد ہونے کی وجہ سے اور پہلے کبھی نا پہننے کی وجہ سے رشی نے ڈبل کرکے لپیٹ رکھی تھی اور بالوں کا اونچا جوڑا بنا رکھا تھا۔۔ اوپر زیادہ سارا ہیئر سپرے کرنے کی وجہ سے جو لٹے جوڑے سے باہر تھی وہ تاریں بن کے لٹک رہی تھی ۔۔۔ دیکھا جائے تو رشی اس وقت پوری کارٹون لگ رہی تھی۔۔
اسکی بات سن کے اور حرکتیں دیکھ کیا ریا کا دل کیا اپنا سر دیوار میں دے مارے بچاری کاموں میں مشین بنی ہوئ تھی اوپر سے اسکی بیٹی نے اسکے ناک میں دم کر رکھا تھا وہ تو شکر ہے وہ ایسا حلیہ لے کے مہمانوں کے سامنے نہیں آئ ورنہ کیا عزت رہ جاتی۔۔۔ رشی جلدی سے چینج کرو اسے ورنہ مجھ سے برا کوئ نا ہوگا۔۔۔۔ ریا نے غصے سے اسکے کپڑے اسکے پاس بیڈ پہ پھینکے جو ایک ڈیسنٹ سا جوڑا تھا شارٹ شرٹ کیپری اور شیفون کا ڈوپٹہ تھا۔ خبر دار اب تم نے میک اپ کو ہاتھ بھی لگایا تو ۔۔
ریا نے اسے کپڑے دئیے اور سارا میک اپ بوکس میں ڈالتے بریرہ کے پاس لے گئ۔۔
رشی بھی منہ بناتی اٹھی ۔۔
ایک تو میرے گھر والے کسی حال میں خوش نہیں ہوتے پہلے کہتی ہے میک اپ کرو اب کر لیا تو کہتی ہے نا کرو ہننن۔۔۔
رشی بڑبڑاتے ہوئے کپڑے لے کے واشروم گھس گئ ۔۔
ہننن انی سوہنی تو لگ رہی ہوں پوری ہیروئن لگ رہی ہوں۔۔
دوبارہ باہر آتے رشی شیشہ دیکھ کے بولی ساتھ ہی شرما کے منہ پہ ہاتھ رکھے۔۔
اس وقت اسے اگر کوئ ہیروئین یہ کہتے دیکھ لیتی تو غش کھا کے گر جاتی کہ کیا وہ ایسی لگتی ہیں اگر ایسی لگتی ہیں تو فلموں سے پکا پکا انکار۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
سب ہال میں پہنچ چکے تھے زرتاشہ بہت پیاری لگ رہی تھی بالکل گڑیا جیسی اسنے پنک کلر کا شرارہ پہن رکھا تھا ساتھ سکن کلر کی شرٹ اور ہلکے مگر نفاست سے کیئے گئے میک اپ میں وہ بے حد حسین لگ رہی تھی ۔۔ ہماہ نے کالے رنگ کی میکسی پہن رکھی تھی جو اسکے لمبے قد پہ بہت جچ رہی تھی ساتھ رشی کے کیئے گئے کارنامے کی وجہ سے اسنے آج بھی حجاب کر رکھا تھا۔۔ لمبا قد کالی میکسی ترکش حجاب وہ بھی بہت ہی پیاری لگ رہی تھی بالکل پری جیسی۔۔۔ بریرہ نے لانگ فراک پہن رکھا تھا سی گرین کلر کا اور بال کرل کیئے ہوئے وہ بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی نازک سی ہیل پہنے وہ بہت نزاکت سے چل رہی تھی۔۔
پھر بات آتی ہے ہماری رشی کی ۔۔ رشی نے سکن کلر کی کیپری اور مہرون شرٹ پہنی تھی ساتھ بالوں کی پونی ٹیل بنائے بنا میک اپ کے بھی وہ دیکھنے لائق لگ رہی تھی کیونکہ ریا نے بڑھی مشکل سے اسکے منہ سے میک اپ اتارا تھا۔۔ چھوٹا قد ہونے کی وجہ سے رشی نے بھی ہیل پہن رکھی تھی مگر کبھی ادھر گرتی تو کبھی ادھر اسکو دیکھ کے بچاری ریا بس افسوس ہی کر سکی جو ٹک کے بیٹھنے کی بجائے پورے ہال کے ایک ایک کونے کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔ آخر ایک کونے میں جاکے رشی نے آس پاس دیکھا جب کوئ نظر نا آیا تو پونی کھنچ کے اتار دی جو بال اونچے کیئے لگی تھی اور سر دبانے لگی کیونکہ بال کھینچ کے باندھنے کی وجہ سے درد کر رہے تھے۔۔ اور بیگ سے دو چھوٹی پونیاں لیتی سامنے شیشے میں دیکھ کے اسنے ڈیلی سی ہمیشہ جیسی دو پونیاں بنا کے بال آگے کیئے اور رلیکس سی واپس آئ۔۔۔ ریا اسے دیکھ کے دانت پیستی رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عارب عازب اور شازیب تینوں نے کالے رنگ کے کاٹن کے سوٹ پہن رکھے تھے کلائ پہ گھڑیاں باندھی ہوئ تھی اور پشاوری سینڈل میں وہ تینوں بھی دراز قد اور ورزشی جسم کی وجہ سے شہزادے لگ رہے تھے سب میں واحد ایک پیس ایسا تھا جو کہی سے بھی انکی فیملی کا حصہ نہیں لگتا تھا اور وہ تھی رشی۔۔ جو تھی تو خوبصورت مگر بیس سال کی ہونے کے باوجود دکھتی پندرہ کی تھی اور حرکتیں دس سال کے بچوں والی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر دو عاربے کے بچے ورنہ قیمہ بنا کے کے ٹو کے پہاڑ پے باز کی دعوت کردوں گی ۔
رشی عارب سے پیکٹ چھین کے بولی ۔
کیا کر رہی ہو رشی ایک لو ۔
ریا نے اسے دس پیکٹ اٹھاتے دیکھ کے غصے سے کہا۔۔
نکاح کے بعد بٹنے والے پیکٹ جس میں ہر خاندان اپنی ریت کے مطابق چیزیں ڈالتے ہیں اور نکاح کے بعد مہمانوں میں بانٹ دیئے جاتے ہیں یہ بہت ہی خوبصورت سا پیکٹ ہوتا ہے جس کے سرے پہ ایک ڈوری سی بندھی ہوتی ہے۔۔۔
عازب کا نکاح ہو چکا تھا سب مہمانوں میں پیکٹ بانٹتے ہوئے رشی نے دس پیکٹ عارب سے چھین لیئے تب ہی ریا نے غصے سے اسے کہا اور پیکٹ واپس لینے لگی مگر رشی نے گود میں رکھتے ہی دونوں ہاتھ اوپر رکھ لیئے۔۔
نا نا نا نا ریا بہن ایک بھی واپس نہیں کروں گی میری پہلے دادا جی سے ڈیل ہوئ تھی کہ دس پیکٹ میرے ہونگے اور اس عاربے نے ہر پیکٹ میں صرف ایک ایک aclear ڈالی ہے کنجوس مکھی چوس۔۔ رشی نے دونوں ہاتھوں سے پیکٹ چھپاتے کہا تو ریا سر پکڑ کے بیٹھ گئ۔۔
کرتی بھی تو کیا کرتی آخر۔۔
رشی کو اسکے حال پہ چھوڑتے ریا نے عارب کو اشارہ کیا کے کھانا کھلوا دو ۔۔
تب ہی رشی بھی سارے پیکٹ بیگ میں رکھتے کھانے کے ساتھ انصاف کرنے لگی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر تین دن گزر گئیے اور آج مہندی کا دن آن پہنچا آج بھی گھر میں خوب رش تھا پورے شاہ ہاوس کو برقی قمقموں سے سجھایا ہوا تھا ۔۔ سب اپنی اپنی تیاری میں مصروف تھے۔۔
ریا بہن کپڑے دےدیں۔۔ رشی کمرے میں آتے بولی تو ریا نے اسے مہندی کا ڈریس دیا جو ریا نے ہی پسند کیا تھا پیلا لہنگا ساتھ گلابی شرٹ تھی ۔۔ آج رشی کو کوئ کارنامہ کرنے کا موقع ہی نا ملا تھا کیونکہ ریا نے پارلر والی لڑکی کو کال کردی تھی جو بریرہ اور رشی کو تیار کرنے شام میں ہی آگئ تھی۔۔
رشی جو تھی ہی پیاری سرخ و سفید ہی آج پہلی بار ہلکے میک اپ میں لہنگا پہنے وہ سب سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی بلکل پہچانی ہی نہیں جا رہی تھی دونوں ہاتھوں پہ گجرے پہنے بالوں کی مانگ نکال کے بندیاں لگائے وہ واقع ہیروئن لگ رہی تھی آج ریا نے اسکی نظر اتاری آج تو اسے اپنی بیٹی پہ بار بار پیار آرہا تھا مگر ستیاناس تب ہوا جب کھانا ڈالتے وقت ساتھ والی نے رشی کو کہنی ماری تو سالن کی پوری پلیٹ رشی کے کپڑوں پہ گری۔۔ پہلے تو رشی ساکت سی کھڑی رہی پھر اپنے سالن سے بھرے ہاتھوں سے اس لڑکی کے دونوں گال کھینچ لیئے وہ بچاری تو چلا اٹھی ۔۔
عازب نے وہاں موقع پہ پہنچ کے اسکو چھڑایا جسکے منہ کا نقشہ سالن کی دیگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔۔ بریرہ رشی کو کمرے میں لے گئ ۔۔ ریا نے لڑکی سے معذرت کی اور کمرے میں لے جاکے منہ دھلوایا۔۔
ریا سوچ ہی سکی بیشک اسکی بیٹی بظاہر جتنی بدل جائے عادتیں نہیں بدلنے والی اسکی ۔۔
آخر رات دو بجے فنکشن ختم ہوا سب بہت تھک گئے سب نے اپنے اپنے کمروں کی راہ لی کیونکہ کل اس سے بھی زیادہ تھکا دینے والا دن تھا کیونکہ بارات اور ولیمہ ایک ساتھ ہی رکھا گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بریرہ رشی کو دوسرے کپڑے دیتی ہلکان ہوگئ کیونکہ رشی نے بھاں بھاں لگا رکھی تھی کہ ہائے اسکا لہنگا ہائے اسکا لہنگا اسنے صرف ابھی دو سو تصویریں بنائ تھی اس میں۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧
جاری ہے۔۔۔
