Ek Hai Aafat Season 1 By Binte Hawa Readelle50337 (Ek Hai Aafat) Episode 13
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 13
یہ کیسی گاڑھی ہے جس میں سانگ سسٹم ہی خراب پڑھا ہے۔۔
گھر سے تھوڑا دور آتے ہی رشی نے سانگ پلے کرنا چاہا مگر وہ ناراض محبوبہ بن کے بیٹھا تھا۔
چپ کرکے بیٹھ جاو ورنہ پل سے نیچے پھینک دوں گا۔۔
شازیب اسکی مسلسل چلتی ٹرین سے تنگ آکے بولا تو رشی نے ایک نظر پیچھے بیٹھے عارب کو دیکھا۔۔
پتا تھا مجھے اسی لیئے ساتھ گواہ لائ ہوں تاکہ آپ حادثے کا نام دے کے بچ نا جاو۔۔
رشی ناک سے مکھی اڑانے والے انداز میں بولی تو شازیب نے دانت پیسے۔۔
چپ کرتی ہو یا۔۔
شازیب سٹیرنگ پہ ہاتھ مار کے بولا تو رشی کے ساتھ ساتھ بریرہ اور عارب بھی اچھلے۔۔
عارب اگر تمھارے بھائ نے میرےکو واقع پھینک دیا نا تو میری سنیپ چیٹ سے اچھی اچھی تصویریں بنا کے نیٹ پہ دینا اور کیپشن بھی اچھا سا ڈالنا پکچرز اچھی نا لی تو میری روح تمھیں چین سے جینے نا دے گی۔۔
بجائے چپ کرنے کے رشی کو مرنے کے بعد پکچرز کی فکر لگ گئ کہ پتا نہیں اچھی آئے گی بھی یا نہیں۔۔۔
اسکی بونگیاں سن کے عارب نے ڈرتے ڈرتے شازیب کو دیکھا جس نے سختی سے منہ بند کیا ہوا تھا۔۔
گاڑھی ایک جھٹکے سے رکی تو رشی کا سر شیشے سے ٹکرایا۔۔
ہائئئئئئئئ ماما جی میرا دماغ پیٹ میں چلا گیا۔۔
رشی نے سر پہ ہاتھ رکھ کے کہا تو عارب نے ہنسی روکی۔۔
شازیب نے رشی کے منہ پہ سختی سے ٹیپ لگائ اور سیٹ بیلڈ سے ہاتھ باندھ دیئے۔۔
رشی نے مدد طلب نظروں سے عارب کو دیکھا تو وہ پہلے ہی منہ پھیر کے بیٹھ گیا کہ بیٹا میں کچھ نہیں کر سکتا اور بریرہ کی تو دلی خواہش پوری ہوگئ تھی۔۔۔
تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد رشی نے پاوں سامنے مارتے ڈھول بجانا شروع کر دیا تو بچارہ شازیب سر پکڑ کے رہ گیا۔۔۔
آخر کار بریرہ کے گھر آتے ہی شازیب نے سکھ کا سانس لیا اور گاڑھی سے اتر گیا ۔۔
عارب اور بریرہ بھی اتر گئے رشی کو سب گاڑھی میں ہی بھول گئے۔۔
رشی نے غصے سے سب کو دیکھا اور ہاتھ کھولنے کی کوشش کرنے لگی مگر ناکام رہی۔۔
آخر کچھ دیر بعد گارڈ نے اسے دیکھا اور آکے اسکے ہاتھ کھولے۔۔
رشی تن فن کرتی اندھر داخل ہوئ جہاں سب بیٹھے جوس پی رہے تھے۔۔
آہہہہہہہ آہہہہہہہ۔۔۔
رشی دروازے میں کھڑی ہوکے زور زور سے رونے لگی تو ممانی اسکے پاس آئ ۔۔
ارے رشی بیٹا تم بھی آئ ہو اندھر آو۔۔
ممانی پیار سے بولی تو رشی نے شازیب کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
تم ہو ہی کالے باندر سڑئل افریقی پانڈے بھوت دیو دیکھنا ابھی جاکے دادا جی کو شکایت کرتی ہوں انکا پوتا ایک نمبر کا سڑو کھڑوس ہے۔۔
رشی شازیب کو سناتی واپس بھاگی تو شازیب کے ساتھ ساتھ عارب کو بھی ہوش آیا اور دونوں اسکے پیچھے بھاگے۔۔۔
بھاگ کے باہر نکلتے ہی رشی نے گاڑھی کے ٹائر سے ہوا نکالی اور گیٹ کی طرف دوڑ لگادی۔۔
باہر آتے ہی شازیب نے گاڑھی کا پنچر ٹائر دیکھا تو عارب کو ٹائر بدل کے گاڑی لانے کا کہا اور خود رشی کے پیچھے بھاگا جو پاگلوں کی طرح روڈ کے درمیان میں بھاگتی زور زور سے رو رہی تھی ۔۔
رشی رکو میری بات سنو۔۔
شازیب اس کے پیچھے بھاگتا بولا۔۔
نہیں سننی کوئ بات جاو اب اپنی کچھ لگتی اس بریرہ کے پاس۔۔
رشی روتے روتے بولی تو شازیب حیران ہوا ایسا کب ہوا تھا ۔
رشی رکو سوری تم جو کہو گی سنو گا رکو تو۔۔
شازیب گہرے گہرے سانس لیتا بولا مگر رشی ان سنا کرتی بھاگتی رہی۔۔
عارب گاڑھی لایا تو شازیب اسمیں بیٹھا اور رشی کو بھی زبردستی بٹھایا۔۔
بہت منانے کے بعد آخر رشی گول گپے اور آئس کریم پہ مانی تو دونوں کے شکر ادا کیا اور گاڑی گول گپے کی ریڑھی کے پاس روکی۔۔۔
بس کردو رشی کیا ساری دوکان تم نے ہی ختم کرنی ہے۔۔۔
رشی کو پانچویں پلیٹ ختم کرتے دیکھ کے شازیب دانت پیس کے بولا ۔۔
آپکا کام ہے گول گپے کھلانا میرے نوالے نا گنو اور نا ہی میرے گول گپوں پہ نظر رکھو ایک ذرا سا بھی نہیں دوں گی 😒😒۔۔
رشی گول گپے کی پلیٹ گود میں رکھتی منہ پھلا کے بولی تو شازیب نے صبر کا گھونٹ بھرا۔
آخر چھ پلیٹ کھانے کے بعد رشی نے ہاتھ صاف کیئے اور آئس کریم پیک کرانے کی ضد کرنے لگی۔۔
شازیب آئس کریم لینے گیا تو عارب ہینڈ فری لگا کے رلیکس سا ہوکے آنکھیں موندے بیٹھ گیا۔۔
آےےےےے رکو ذرا ۔۔
رشی جو گاڑھی کی کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی ایک شخص کو دیکھ کے باہر نکلی جو چھوٹی سی روتی ہوئ بچی کو زبردستی اٹھائے لے جا رہا تھا ۔۔۔
پاس جاتے ہی رشی نے اسکو مارنا شروع کر دیا رشی کی دیکھا دیکھی پاکستان کی جذباتی عوام بھی بنا پوچھے اس کو پیٹنے لگے۔۔
شور کی آواز پہ باہر آتے شازیب نے رشی کو دیکھا تو بھاگ کے آیا اس شخص کو چھوڑایا جس کے کپڑے پھٹ گئے تھے اور منہ سے بھی خون بہہ رہا تھا۔۔
کیا ہوا؟۔۔
شازیب نے سبکو پیچھے کرکے رشی سے پوچھا۔۔
یہ شخص بچی اغواہ کر رہا تھا۔۔
رشی غصے سے بولی تو وہ شخص فورأ بولا ۔۔
وہ بچی بیٹی ہے میری ۔۔
اسکے کہتے ہی شازیب نے غصے سے رشی کو دیکھا تو رشی سر کھجانے لگی۔۔
اب مجھے کیا پتا بچی رو ہی ایسے رہی تھی۔۔۔
رشی دانت دکھاتی بولی ۔۔۔
وہ چاکلیٹ لینے کی ضد کر رہی تھی ڈاکٹر نے منع کیا ہے اسے تب ہی رو رہی تھی ۔
وہ شخص منہ سے خون صاف کرتا غصے سے بولا تو شازیب نے رشی کو گھورا جو بدلے میں کندھے اچکا گئ۔۔
تب ہی وہ بچی چاکلیٹ کے دو ڈبے مشکل سے اٹھائے آہستہ آہستہ باپ کے پاس آئ تو شازیب کو چھوٹی رشی لگی۔۔
شازیب اس شخص سے معذرت کرتا رشی کو لے کے گاڑی میں بیٹھا اور رشی کی اچھی خاصی کلاس لی ساتھ ہی عارب کی بھی رشی منہ پھلا کے بیٹھ گئ…
♧♧♧♧♧♧♧
گھر آتے ہی رشی صوفے پہ پاوں رکھ کے بیٹھ گئ اور شازیب کمرے میں چلا گیا۔۔
شکر ہے یہ بریرہ نامی بلا ٹلی اب بتاو ہماہ کا کیا کرنا ہے؟۔۔
عارب رشی کو دیکھتا بولا۔۔
فکر نا کرو اسے منا لوں گی۔
رشی شرارت سے بولی تو عارب بس دیکھتا رہ گیا۔۔
رشی کچن میں آو جلدی۔۔
ریا نے کچن سے آواز لگائ تو رشی مرے مرے قدم اٹھاتی کچن میں داخل ہوئ۔۔
چلو آج سے تم بھی کھانا بنانا سیکھو گی اسی لیئے میں نے تمھاری رخصتی دو ماہ بعد رکھی ہے تاکہ تم بھی کچھ ڈھنگ کا بنا سکو دیکھو زری عازب کے لیئے خود ناشتہ بنائے گی کل سے اسنے ابھی آتے ہی کہا تم بھی کچھ سیکھ لو۔۔
ریا نے سمجھایا تو رشی نے منہ بنایا کھانا بنانا اسے سب سے مشکل کام لگتا تھا۔۔
ریا بہن ابھی میری پڑھائ مکمل نہیں ہوئ تو شادی کینسل ۔۔
رشی کرسی پہ بیٹھتی میز بجاتی بولی۔۔
ہاں جو تم پڑھ رہی ہو وہ بھی پتا ہے کل آئ ہے تمھاری پرنسیپل کی کال ناک میں دم کر رکھا ہے تم نے وہاں بھی۔۔
ریا جتا کے بولی تو رشی نے منہ بنایا ۔
ایک تو ٹیچر کے پیٹ میں کوئ بات نہیں ٹکتی۔۔
رشییییی۔۔۔
رشی کو بڑبڑھاتے دیکھ کے ریا نے گھورا ۔۔
تب ہی رشی کے دماغ میں شرارت کلیک ہوئ۔۔
ٹھیک ہے کھانا شازیب بھا ۔۔
ابھی رشی پورا بولی ہی نہیں تھی کے پیچھے سے آتے شازیب نے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا۔۔
آنی اسکو سمجھائے پہلے ہی نکاح کے چکر میں اسنے مجھے آدھا کنگال کر دیا ہے اب کیا بچی کچی جمع پونجی مجھے کفارہ ادا کرنے پہ لگانی پڑھے گی۔۔
شازیب منہ بنا کے بولا تو ریا نے ہنسی چھپائ جبکہ رشی بات سمجھنے کی کوشش میں تھی۔۔
رشی تم آج سے شازیب کو شاہ بولا کرو بس۔۔
ریا رشی کو سمجھاتی بولی۔۔
اور جی بھی ساتھ لگانا ۔۔ شاہ جی۔۔
عارب نے باہر سے ہانک لگائ۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہااہا شاہ جی ہاہاہاہاہاہاہاہااہاہ شاہ جی ہاہاہاہاہاہاہاہااہا 😹۔۔۔
رشی پیٹ پہ ہاتھ رکھے ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہونے لگی تو عارب بھی اسکے ساتھ ہنسنے لگا۔۔ ریا نے بہت مشکل سے ہنسی روکی جبکہ بچارہ شازیب خوامخواہ شرمندہ سا ہوگیا۔۔
ٹھیک ہے ۔۔
رشی ایک دم چپ ہوکے بولی۔۔
تو میں کہہ رہی تھی کھانا صرف شاہہہہہہہہہہہ جیییییییی کے لیئے بنانا ہے تو میرا بنا ہوا کھانا اور کوئ چکھے گا بھی نہیں ڈن۔۔۔
رشی شاہ جی کو لمبا سا کھینچ کے بولی تو ریا نے ہامی بھری جبکہ شازیب نے اپنے میدے کی خیر منائ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بتاوں گی بچو میرکو باندھا
تھا نا۔۔ رشی بازو فولڈ کرتی کھانا بنانے آئ اور دل میں شازیب سے مخاطب ہوئ۔۔۔
۔۔۔
رشی نے سب سے پہلے چائے بنانی سیکھی جس میں آٹھ چمچ نمک ڈالا اور اچھے سے ہلا کے شازیب کے کمرے میں گئ شکل سے چائے بالکل ٹھیک لگ رہی تھی۔۔۔
کمرے میں آتے ہی اسے شازیب کہی نظر نا آیا اور ہاتھ میں پکڑا نمک اسنے پانی کے جگ میں ڈالا اچھے سے ہلا کے چائے میز پہ رکھتے معصوم شکل بنا کے کھڑی ہوگئ۔۔
شازیب واشروم سے باہر آیا تو رشی کھڑی تھی وہ آکے بیڈ پہ بیٹھا تو رشی نے اسے چائے پکڑائ جو شکل سے کافی اچھی لگ رہی تھی۔۔
شازیب نے گھونٹ بھرا تو چائے اسکے منہ سے فوارے کی صورت باہر آئ۔۔ اور نفاست پسند شازیب کا سارا کمرا گندا کر گئ۔۔
کپ سائیڈ پہ رکھتے شازیب نے جلدی سے پانی کا گلاس بھرا اور ایک ہی سانس میں پی گیا مگر یہ کیا ۔۔ پانی چائے سے بھی دو ہاتھ آگے تھا۔
شازیب کو قے آنے لگی وہ بھاگ کے واشروم گیا تو رشی مسکراتے ہوئے چائے کا کپ اٹھائے باہر آئ اور گملے میں ڈال دی۔۔
اب پنگا نا لینا شاہہہہہ جیییی ورنہ جمالگوٹا پیلا دوں گی۔
رشی پونیا کستی کچن میں آئ اور ریا کو بتایا کے شازیب کو چائے بہت پسند آئ ہے😂۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب شازیب کو رشی سے نمٹنے کے لیئے رشی جیسا بننا تھا سو وہ بھی اب بن گیا تھا۔
اب دیکھو رشی میڈم۔۔
رات کے آخری پہر شازیب رشی کے کمرے کے دروازے سے اندھر داخل ہوا اور ایک گفٹ باکس رشی کے پاس رکھا جو سو رہی تھی😝۔۔
اور ساتھ کارڈ بھی جس پہ ہیپی برتھ ڈے لکھا تھا😜۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧
جاری ہے۔۔۔۔
