Ek Hai Aafat Season 1 By Binte Hawa Readelle50337 (Ek Hai Aafat) Episode 4
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 4
رشی کی بچی اب دیکھوں میں کرتا کیا ہوں چڑیل ۔۔۔۔۔۔۔ عارب کمرے میں چکر کاٹتا دانت پیس کے بولا آج اسکا ٹیسٹ تھا بہت امپارٹنٹ مگر رشی کے مزاک کی وجہ سے اب وہ جا نہیں سکتا تھا اسکے منہ پہ ابھی بھی رنگ لگا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ عارب یار میرا ایک کام تو کردے۔۔۔۔۔۔۔ شازیب کمرے میں آتے بولا۔۔۔۔۔۔ بھائ گھر کے اندھر کا کام ہوا تب باہر میں نہیں جا رہا۔۔۔۔۔۔۔ عارب ہاتھ ہلا کے بولا تو شازیب نے غصے سے پاوں پٹخا۔۔۔۔ گھر کے اندھر کیا تمھارے سر پہ کپڑا باندھ کے کونوں سے جالے اتارنے ہے میں نے۔۔۔۔۔۔ شازیب غصے میں بولتا باہر نکل گیا جبکہ اسکی بات سمجھ آتے ہی عارب صدمے سے شیشے کے سامنے آیا ۔۔۔۔۔ اتنا بھی لمبا نہیں ہوں میں۔۔۔۔۔۔ شیشے میں اپنا جائزہ لیتے عارب برا سا منہ بنا کے بولا مگر نظر اپنی شکل پہ جاتے ہی رشی یاد آئ جس سے بدلا لینے کے لیئے یہ پلان بنا رہا تھا۔۔۔۔۔۔ گڈ یاہوووووو اب بچ کے دکھاو پتر ۔۔۔۔۔۔۔ پلان بناتے ہی وہ خوشی سے اچھلا اور منہ پہ ہاتھ پھیرتے رشی کو مخاطب کیا۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
رشی کب تک یہاں کھڑے رہے گے مان جا بہن چل رکشہ پہ چلے جاتے ہیں۔۔۔۔۔ حرم جو رشی کی دوست بنی تھی کالج میں۔ اس کے ساتھ کالج سے چھٹی کے بعد باہر کھڑی تھی کیونکہ رشی میڈم کو آج بس پہ گھر جانے کا شوق چڑھا تھا۔ نہیں نہیں نہیں آج تو ہم بس پہ ہی جائے گے ۔۔۔۔۔ رشی نے ضدی لہجے میں کہا اور سامنے سے آتی بس کی طرف بڑھی جہاں بس رکتے ہی بہت سی لڑکیاں بس میں چڑنے لگی تھی حرم نے بھی بس کو دیکھ کے شکر کا کلمہ ادا کیا پچھلے آدھے گھنٹے سے کھڑے ہو ہو کے اسکی ٹانگے دکھ گئ تھی۔۔۔۔۔۔ اےےےےے رشی نے دو دفعہ بس پہ چڑھنے کی کوشش کی مگر لڑکیوں کے جھرمٹ نے پیچھے دھکیل دیا۔۔۔۔ رکو ابھی بتاتی ہوں۔۔۔۔ رشی سرخ پڑتے چہرے سے پاس کھڑی لڑکیوں کو دونوں باووں سے پیچھے کرتی درمیان سے جگہ بناتی اوپر چڑھی مگررررر۔۔۔۔۔۔۔ اےےےے رکو ۔۔۔۔۔ رشی جو بس کے دروازے تک پہنچ کے اوپر چڑھی اسکے پیچھے کھڑی دو ہٹی کٹی لڑکیوں نے اسے دونوں بازووں سے پکڑ کے بچوں کی طرح ہوا میں لہراتے پیچھے کھڑا کیا جہاں سے وہ جگہ بناتی آگے بڑھی تھی اور خود بس میں چڑھ گئ۔۔۔۔ ساتھ ہی بس چل پڑھی۔۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہااہا۔۔۔۔۔ رشی کی حالت دیکھ کے حرم ہنستے ہوئے فٹ پاتھ پہ بیٹھ گئ۔۔۔ ہنس ہنس کے اسکے پیٹ میں درد ہو
نے لگا ان دونوں لڑکیوں نے رشی کو بچے کی طرح اٹھا کے نیچے کھڑا کر دیا تھا۔۔۔۔۔ دانت اندھر کرو ورنہ سارے خلق میں اتار دوں گی۔۔۔۔۔ حرم کو کب سے ہنستے ہوئے دیکھ کے رشی دانت پیستے بولی تو حرم منہ پہ ہاتھ رکھے ہنسی روکنے لگی۔۔۔۔ اب ہم گھوڑا گاڑی پہ جائے گے بس۔۔۔۔ رشی نے دور سے آتے گھوڑا گاڑی کو دیکھتے ہوئے کہا تو حرم سر پکڑ کے بیٹھ گئ۔۔۔۔۔ رشی آنکھوں کا علاج کراو اندھی یہ گھوڑا نہیں گدھا ہے۔۔۔۔ حرم دانت پیس کے بولی۔۔۔۔ گھوڑا ہے۔۔۔۔۔ رشی اسے گھورتے غصے سے بولی ۔۔۔۔۔ اففف میرے اللہ یہ یہ غور سے دیکھو۔۔۔۔ حرم نے اسکا بازو پکڑ کے سامنے موڑتے ہوئے غصے سے کہا ۔۔وہ واقع گدھا گاڑی تھی جس پہ کوئ چیز بوریوں میں بند کر کے لادی گئ تھی۔۔۔۔۔ یہ گھوڑا ہی ہے شاید کافی ٹائم سے نہایا نہیں ہو تب گدھا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔ رشی سامنے دیکھتے ہوئے منمناتے ہوئے بولی تو حرم نے حیرت سے اسے دیکھا جو گدھے کو گھوڑا کہہ رہی تھی کے نا نہانے کی وجہ سے گدھا لگ رہا ہے۔۔۔۔ چلو ۔۔۔۔ اس سے پہلے کے رشی مزید کوئ بونگی مارتی حرم نے زبردستی اسکا ہاتھ پکڑا اور سامنے سے آتے ہوئے رکشہ کو روکتی اس میں بیٹھی ۔۔۔۔ رشی بھی منہ بناتی بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔۔۔ کرایہ تم دو گی میں نہیں۔۔۔۔ رشی رکشے میں بیٹھتے ہی حرم کے کان میں آہستہ سے بولی۔۔۔۔۔ اچھا نا۔۔۔۔۔ حرم دانت پیستی بولی اور بیگ سے پیسے نکالنے لگی۔۔۔۔۔ شٹ یار نہیں نہیں۔۔۔۔ حرم پریشانی سے بولی تو رشی نے اسے دیکھ کے پوچھا۔۔۔۔۔ کیا ہوا؟۔۔۔ میرے پیسے کہی گر گئے ہیں۔۔۔۔۔ حرم نے رونے والی شکل بنا کے کہا تو رشی کو جھٹکا لگا کیونکہ اسکے پاس جتنے پیسے تھے وہ چاکلیٹ خرید چکی تھی۔۔۔۔۔ اب کیا کریں گے۔۔۔۔۔ حرم نے رشی سے پوچھا مگر آواز آہستہ تھی۔۔۔۔ رکو کچھ سوچتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ رشی نے گال پہ انگلی رکھتے ہوئے کہا تو حرم نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔۔ آئیڈیا ۔۔۔۔۔ رشی نے خوشی سے کہا تو حرم نے اسے دیکھا۔۔۔۔ رکو۔۔۔۔ رشی نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔ بھائ ذرا یہ آگے جو درزی کی دوکان ہے اسکے پاس رکشہ روکنا۔۔۔۔ رشی نے کہا تو ڈرائیور نے سر ہلا کے کہا جی ٹھیک۔۔۔ رکشہ رکتے ہی رشی نے باہر کا جائزہ لیا۔۔۔۔ او ہو یہاں تو اتنے مرد کھڑے ہیں اب کیا کریں آج کپڑے بھی لے کے جانا ضروری ہے اللہ کسی لڑکی کو ایسی آزمائش میں نا ڈالے بابا اس شہر ہوتے تو ہم یہ لڑکوں والے کام نا کر رہی ہوتی۔۔۔۔۔۔رشی نے مصنوعی آنسو صاف
کرتے ہوئے کہا تو حرم نے اس ڈرامے کو دیکھتے اپنی ہنسی روکی جو شکل سے اس وقت واقع مسکین لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ باجی کیا کام ہے آپ مجھے بتائے میں کر دیتا ہوں۔۔۔۔ رکشہ ڈرائیور کو اس چھوٹی سی لڑکی پہ بہت ترس آیا۔۔۔۔۔ ہائے بھائ آج بھی آپ جیسے لوگ سے ہی دنیا آباد ہے۔۔۔۔۔ رشی نے مکھن لگاتے ہوئے کہا تو حرم کو ہنسی روکنا مشکل لگا۔۔۔۔۔ بھائ اس دوکان پہ ہمارے کپڑے ہیں جو آج ہی ہمیں چاہئیے حاجی غفور کے نام سے ہم نے پیسے دے دیئے ہیں بس کپڑے لانے ہیں۔۔۔۔ رشی مسکین سی شکل بناتی بولی تو ڈرائیور سر ہلاتا باہر گیا میں ابھی لے آتا ہوں ۔۔۔۔۔ وہ بولتا ہی دوکان کے اندھر چلا گیا۔۔۔۔۔
اسکے جاتے ہی رشی نے حرم کا ہاتھ پکڑا اور رکشے سے اترتے ہی دوڑ لگا دی انکا گھر تھوڑا ہی دور تھا اس دوکان سے بھاگتے ہوئے رشی اپنے گھر کی گلی میں مڑ گئ اور حرم ہنستے ہوئے ہاتھ بائے میں ہلاتی اپنے گھر کی طرف دوڑی۔۔۔۔۔۔
باجی وہ دوکان والا کہہ رہا ہے کہ حاجی غفور کے نام سے یہاں کوئ کپڑے نہیں ہے یاد کرے کسی اور نام۔۔۔۔۔۔ رکشے والا اپنی دھن میں بولتا ہوا سامنے آیا تو وہاں باجی تو کیا حاجیوں کے بھوت بھی نہیں تھے۔۔۔۔۔ صدمے سے وہ آس پاس دیکھتا رہا وہ آفت اسے بےوقوف بنا کے نکل گئ تھی۔۔۔۔ کوئ نہیں دیکھ لوں گا تم دونوں کو۔۔۔۔۔ وہ سر جھٹکتا رکشہ لے کے واپس مڑ گیا۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
رشی نے گھر میں داخل ہوتے ہی اندھر سے کنڈی لگائ اور گھٹنوں پہ ہاتھ رکھ کے لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا رشی کیا کارنامہ کر کے آئ ہو اب۔۔۔۔۔ اسے گھٹنو پہ جھکا دیکھ کے ریا کی چھٹی حس نے کچھ غلط کرنے کا اشارہ دیا۔۔۔۔۔ کچھ نہیں کر کے آئ میں ریا بہن ہر وقت شک مت کیا کریں آپ کتا پیچھے لگ گیا تھا اسی سے بھاگ کے آئ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ رشی نے سیدھے ہوتے ہوئے کہا اور اپنا بیگ اٹھاتی کمرے میں چلی گئ۔۔۔۔۔ ریا کو اسکی بات پہ یقین تو نا آیا مگر پھر بھی خاموش ہوتی کچن میں گئ ۔۔۔۔۔۔۔
افف شکر ہے بچ گئے۔ ۔۔۔ کمرے میں آتے ہی رشی نے بیگ بیڈ پہ پھینکا اور خود بھی گرنے والے انداز میں لیٹتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔ کیوں میڈم اب کس معصوم کا جینا حرام کر کے تشریف لا رہی ہیں۔۔۔۔۔ عارب نے کمرے میں آتے اسکی بات سن کے مسکراتے ہوئے میٹھا سا طنز کیا۔۔۔۔۔۔ رشی فورأ اٹھ بیٹھی ۔۔۔۔۔ آج ٹیسٹ تھا وہ نہیں ہوا اسی کی بات کر رہی ہوں ایک تو اس گھر میں سب کو میں معصوم مشکوک ہی لگتی ہوں۔۔۔۔۔ رشی نے خفگی سے
کہا ۔۔۔ اور یہ تم کیا ڈنگروں کی طرح منہ اٹھا کے بنا اجازت کمرے میں ٹپک پڑھتے ہو۔۔۔۔۔ عارب کو اپنی طرف مشکوک نظروں سے دیکھتے رشی نے گڑبڑھا کے غصے میں اس سے کہا۔۔۔۔۔ اچھااااااااا ڈنگروں کی طرح ہمممممم۔۔۔۔۔ عارب ایک ایک لفظ کو کھینچ کے بولا تو رشی نے ناسمجھی میں اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ تم کیا رات میرے کمرے میں اجازت نامہ لے کے اپنے گندھے مینڈک جیسے ہاتھوں سے میرا میک اپ کرنے آئ تھی۔۔۔۔۔ عارب کے بولتے ہی رشی نے صدمے سے اپنے ہاتھ دیکھے جو بہت خوبصورت نرم سے تھے اور عارب گندھے مینڈک بول رہا تھا۔۔۔۔۔ رک عاربے تجھے ان ہی ہاتھوں سے اوپر بھیجتی ہوں۔۔۔۔ ہوش میں آتے ہی رشی چلاتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگی جو کمرے سے نکل کے اپنے کمرے میں بند ہوگیا۔۔۔۔۔۔ موٹا ہاتھی۔۔۔۔ کالا باندر ۔افریقی پانڈہ ڈرپوک چیمچرک۔۔۔۔۔ رشی اسکے دروازے کو لات مارتی بولی اور واپس اپنے کمرے میں اکے بیڈ پہ بیٹھتے ہی پاوں دبانے لگی دروازے پہ مارنے کی وجہ سے اسے انگلیوں میں بہت درد ہوا تھا۔۔۔
اسکی گالیاں سن کے کمرے میں بند عارب اور ڈرائنگ روم میں بیٹھے دادا جی دونوں ہنس رہے تھے۔۔۔۔۔ جبکہ ریا بچاری سر پکڑ کے بیٹھ گئ تھی ۔۔۔۔ صبح سے سکون رشی کے آتے ہی کسی کونے میں منہ چھپا کے بیٹھ جاتا تھا ۔۔۔۔ گھر تو گھر پڑوسیوں کو بھی پتا چل جاتا تھا کہ رشی میڈم تشریف لا چکی ہیں۔۔۔۔۔۔
♧♧♧♢♢♢♢
سوری ۔۔۔۔۔۔ رات کھانا کھانے کے بعد جب رشی کمرے میں آئ تو حیران رہ گئ اسکے پورے کمرے میں غبارے لگے ہوئے تھے جن پہ سوری لکھا تھا اور بیڈ کے درمیان گلابی رنگ کی شیٹ میں بہت ہی خوبصورت سا پیکٹ پڑا تھا جس میں کوئ گفٹ پیک تھا شاید ۔۔۔۔ اس پہ بھی سوری رشی لکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔ سوری یار تمہیں بہت تنگ کرتا ہوں نا مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہے۔۔۔۔ عارب نے سامنے آتے ہی کان پکڑ کے کہا تو رشی بے ہوش ہوتے ہوتے بچی کہ عارب اور معافی وہ بھی اتنے اچھے انداز میں۔۔۔۔۔ اٹس اوکے رشی نے مسکرا کے کہا تو عارب دل ہی دل میں بہت ہنسا۔۔۔۔۔ اچھا گفٹ تو دیکھوں میں بہت پیاری چیز تمھارے لیئے لی ہے۔۔۔۔۔۔ عارب نے مسکراتے ہوئے کہا تو رشی جلدی سے بیڈ پہ بیٹھی اور گفٹ گود میں رکھ کے کھولنے لگی۔۔۔۔۔۔ آہہہہہہہہہہہہہہ ماماااااااااا جیییییییییی۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی رشی نے گفٹ کھولا ایک موٹا سا چوہا چھلانگ لگا کہ رشی کی گود میں آیا… چینخ مارتی رشی بیڈ سے دوسری طرف کودی جب کے چوہا بھی اسکی مردوں کو جگانے والی چینج سن کے کچھ پل تو بہرہ ہو گیا مگر ہوش آتے ہی بیڈ کے نیچے بھاگ گیا۔۔۔۔۔۔ رشی کی حالت دیکھ کے عارب ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوگیا۔۔۔۔۔ کیا ہوا رشی؟۔۔۔۔ رشی کی چینخ سن کے عازب بھاگ کے اسکے کمرے میں آیا اور پریشانی سے پوچھا باقی سب بھی بھاگ کے آئے کہ پتا نہیں کونسی آفت آن پڑھی ہے مگر سب بھول گئے تھے کہ رشی اور عارب سے بڑی کونسی آفت نے اور آنا ہے..
بھااااآائ چوہاااااا۔۔۔۔۔۔۔ رشی نے روتے ہوئے بیڈ کے نیچے ہاتھ سے اشارہ کیا جبکہ عارب وہاں عازب کو دیکھ کے غائب ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔ حد ہوگئ ہے ایک پل سکون نہیں ہے یہاں لوگ گھر آتے ہیں کہ سکون سے سو سکے جبکہ مجھے گھر آتے ہی لگتا ہے چڑیا گھر میں آگیا ہوں۔۔۔۔۔ شازیب جو پوری رات درد کی وجہ سے سو نا سکا ابھی دوا لے کے سویا تھا مگر رشی کی چینخ پہ آنکھ کھل گئ اور وہ بھی بھاگ کے باہر آیا مگر سامنے کی حالت دیکھ کے غصے سے کہتا کمرے میں چلا گیا اور غصے کا اظہار زور سے دروازہ بند کرکے کیا تو ریا نے دکھ سے دیکھا وہ بچارہ کل سے نہیں سویا تھا اب انکی آفت کی مہربانی سے آج بھی اسنے جھاگ کہ ہی رات گزارنی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
لو مر گیا ہے یہ اب۔۔۔۔۔۔ عازب چوہے کو مار کے باہر پھینک آیا جبکہ رشی ابھی بھی شو شو کر کے رو رہی تھی اور روتے روتے دادا جی کو عارب کی ساری کارستانی سنائ تو دادا جی نے اس سے وعدہ
کیا کہ عارب کو سزا ملے گی۔۔۔۔۔ جبکہ ریا بس افسوس کر کے رہ گئ ۔۔۔۔
سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تو رشی تھوڑی دیر بیڈ کے درمیان ڈر کے بیٹھی رہی مگر کچھ ہی دیر میں اسکا ڈر ختم ہوا اور اندھر کی آفت نے انگڑائی لی تو وہ شرارت سے مسکراتے سارے غبارے بیڈ پہ رکھنے لگی پھر درمیان میں بیٹھتے ہی اسنے چار غباروں کو دونوں ہاتھوں میں دبوچ کے پھوڑا ۔۔۔۔۔ ٹھاہ کی آواز پہ باہر بیٹھ کے لیپ ٹاپ پہ کام کرتا عازب اچھل گیا۔۔۔ جبکہ رشی صدمے میں بیٹھی سب سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔ رشی تم ٹھیک۔۔۔۔۔۔ عازب نے دروازہ کھولتے کہا مگر باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔۔۔۔۔ بیڈ کے درمیان بیٹھی اس عجیب مخلوق کو کچھ بھی کہا جا سکتا تھا سوائے رشی کے۔۔۔۔۔ کیونکہ عارب نے غباروں میں گلابی رنگ بھرا تھا اسے پتا تھا رشی کو غبارے پھوڑنا بہت پسند تھا۔۔۔۔۔۔۔ رشیییییی۔۔۔۔۔۔ ریا بابا اور دادا جی جو ٹھاہ کی آواز سن کے آئے تھے سامنے کی حالت دیکھ کے دادا جی نے بمشکل ہنسی روکی۔۔۔۔ رشی کے ہاتھ منہ کپڑے بال اور بیڈ سب گلابی ہوئے تھے اور وہ بیڈ کے درمیان بیٹھی روتی شکل بنا کے سب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ شازیب نے غصے سے دروازہ کھولا اور گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔۔ ریا افسوس سے اسے دیکھتی رہ گئ عارب اور رشی شروع سے ہی لڑتے تھے مگر یہ رنگیلے بننے کا شوق پہلی بار ہوا تھا دونوں کو۔۔۔۔۔۔
ان دونوں کی حرکتیں دیکھ کے اب تو عازب بھی سر پکڑ کے بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ ٹھاہ کی آواز پہ کمرے میں بیٹھا عارب رشی کی گلابی صورت تصور کرکے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
پوری بونی لگ رہی ہوگی۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
