Ek Hai Aafat Season 1 By Binte Hawa Readelle50337 (Ek Hai Aafat) Episode 12
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 12
صبح جو تم نے بولا رشی کیا وہ سچ تھا؟
زرتاشہ نے سوال کیا تو رشی کے بھوت بھی بھول گئے تھے اسنے کیا کہاتھا۔
کیا؟
رشی نے سوال کیا تو زرتاشہ نے ہماہ والی بات یاد کرائ۔
ہاں بالکل سچ تھا آپی یہ بڑھا میسنا ہے۔۔۔
رشی نے عارب سے بدلہ لینے کے لیئے کہا ۔۔
اس سے پہلے زری کوئ اور سوال کرتی عازب نے آکے بتایا کہ wi_fi کنیکٹ ہوگیا ہے رشی خوشی سے اپنے کمرے میں بھاگی۔۔۔۔
بیڈ پہ گرتے ہی اسنے موبائل انلاک کیا تو سگنل آگئے رشی نے خوشی سے کارٹون سرچ کیئے مگر تب ہی اسے واٹس ایپ پہ فیملی گروپ کے کچھ میسجز موصول ہوئے۔۔
رشی نے جیسے ہی گروپ اوپن کیا غصے سے اسکا چہرہ لال ہوگیا۔۔
عارب نے اسکی اور شازیب کی نکاح والی پکچر شیئر کی تھی جس میں رشی منہ کھولے رو رہی تھی عارب نے اسکا نکاح والا جوڑا سکول یونیفارم میں چینج کر دیا تھا اور دو پونیاں بنا دی تھی کمال ایڈیٹنگ سے اب پک دیکھنے میں واقع ایسے لگتا تھا جیسے سکول گرل ہو جسے شازیب زبردستی سکول چھوڑنے جا رہا ہو ۔۔
ساتھ لکھا تھا بھابھی سکول جانے سے انکاری کہ ٹیچر میرا لنچ کھا جاتی ہے مگر بھائ بھی ضد پہ اڑ گئے کہ مجھے پڑھی لکھی بیوی چاہیئے جو کچن کا سامان صاف رائٹنگ میں لکھ سکے۔۔
سب دیکھ کے ہنس رہے تھے۔
رشی نے عارب کو پرسنل میسج کیا۔
بیٹا اب خیر منا تو کنورا ہی دنیا سے رخصت ہوئے گا ۔
جبکہ شازیب کے بھی دھمکیوں والے میسجز آ رہے تھے کہ گھر آنے دے تجھے ایک بار ہی کے ٹو پہ چھوڑ آتا ہوں۔۔
ہماہ عارب جھوٹ بول رہا ہے اسنے بریرہ کو پرپوز کر دیا ہے۔۔
رشی نے ہماہ کو میسج سینڈ کیا اور ساتھ عازب کی شادی کی کچھ پکچرز بھی جن میں عارب اور بریرہ ساتھ کھڑے ہنس رہے تھے۔۔
ہماہ نے میسج دیکھتے ہی عارب کو غصے میں دنیا کے سارے الٹے القابات دے ڈالے اور اچھی خاصی سنانے کے بعد اسکی کوئ بات سنے بغیر بلاک کر دیا۔۔
آج رات گھر میں پھپھو لوگوں کی دعوت تھی جس میں سب نے شرکت کرنی تھی اور عارب کے پاس ایک ہی موقع تھا ہماہ کو منانے کا۔۔
اس میں عارب کی مدد صرف ایک ہی بندہ کر سکتا تھا اور وہ ہے دی گریٹ رشی۔۔
عارب رشی کے کمرے میں گیا اور بہت ساری منتیں کرنے کے بعد چاکلیٹس بھی آفر کی مگر رشی نے بھی عارب کو ویسے ہی روم سے نکال دیا جیسے عارب نے نکالا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا بتاوں یار میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی یہ سب ہو جائے گا کل سے میرا بی پی لو ہے پھپھو نے اچھا نہیں کیا ۔۔
بریرہ رو رو کے فون پہ کسی سے بات کر رہی تھی رشی جو کچن میں پانی لینے جا رہی تھی بریرہ کی آواز پہ رک کے باتیں سننے لگی۔۔
ہاں شازیب کافی امپریس تھا مجھ سے اور تو اور مجھے لگتا ہے وہ مجھے پسند بھی کرنے لگا تھا ویسے بھی شازیب مجھ جیسی لڑکی ڈزرو کرتا ہے کہا وہ اتنا ہینڈ سم اور سیریس لڑکا اور کہا بونگی رشی ذرہ سوٹ نہیں کرتی اسکے ساتھ۔۔
بریرہ نے آنسو صاف کرتے رشی کی شان میں قصیدہ پڑھا تو رشی کا دل کیا اسکا سر الماری میں دے دے۔۔
ہاں تم ٹھیک کہتی ہو ریا پھپھو نے غلط کیا شازیب کے ساتھ دیکھنا دو دن نہیں برداشت کر پائے گا وہ رشی کو اور میں بہت جلد اسے پا لوں گی پھر وہ صرف میرا ہوگا۔۔
بریرہ ایک عزم سے بولی تو رشی نے منہ پہ ہاتھ پھیرا کہ دیکھ بچو اب میں کرتی کیا ہوں آئ بڑھی میری شادی توڑوانے والی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں آتے ہی رشی چکر کاٹنے لگی بیشک شادی جیسے بھی حالات میں ہوئ ہو اور رشی شازیب کو جتنا مرضی برا بولے تنگ کرے مگر کسی اور کا اسپے حق جتانا اسے بالکل برداشت نہیں تھا۔۔
چکر کاٹتے ہی اسے آئڈیا ایا وہ جلدی سے عارب کے کمرے میں آئ ۔۔
میں نے بہت سوچا مجھے تمھاری آفر قبول ہے مگر میری ایک شرط ہے۔۔
رشی گردن اکڑا کے بولی تو عارب فورأ سیدھا ہوا ۔۔
کیا شرط؟۔۔
میں تمھیں ہماہ کو منانے کا پلان بتاوں گی مگر تم وعدہ کرو بعد میں ایک مسلے میں میری مدد کرو گے ۔۔
رشی کی بات سنتے ہی عارب نے وعدہ کیا تو رشی نے اسے پلان بتایا جو عارب کو بھی بہت پسند آیا۔۔
پلان ڈن کرتے دونوں رات کا انتظار کرنے لگے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باس ریڈی ہو؟
رشی جیسے ہی تیار ہوئ تو عارب کا میسج ملا اسے۔
یس۔
رشی نے رپلائے دیا اور کمرے سے نکل کے باہر آگئ جہاں پھپھو بھی موجود تھی اور ہماہ بھی منہ پھلائے ایک طرف بیٹھی تھی ۔۔
ریا نے آکے بتایا کھانا لگ گیا ہے تو سب اٹھ گئے۔۔
کھانا کھاتے ہی رشی ہماہ کو زبردستی لان میں لے آئ ۔۔ باہر آتے ہی اسے بریرہ دیکھائ دی پیچ کلر کے فراک میں آج وہ رشی کو کوئ ہوائ مخلوق لگی۔۔۔
ہنننن چمگادڑ۔۔۔
اسپے دو لفظ بھیجتی رشی لان میں پچھلی سائیڈ آئ تو اچانک اندھیرے حصے میں لائٹ آن ہوئ رشی اور ہماہ ڈر کے اچھلی۔۔
تب ہی چھت کی منڈیر پہ کھڑا عارب بولا۔۔
ہماہ میں تم سے پیار کرتا ہوں اور شادی کرنا چاہتا ہوں جواب ہاں میں دینا اگر تمھارا جواب نا میں ہوا تو یہاں سے کود کے جان لے لوں گا میں اپنی۔۔
اسکو بالکل کونے پہ دیکھ کہ ہماہ کا سانس رکا جبکہ رشی نے عارب کی اوور ایکٹنگ پہ ہاتھ سے 👎 اشارہ کیا😒۔۔
ٹھ ٹھیک ہے عارب مگر یہاں سے ہٹو گر جاو گے ۔۔
ہماہ آنکھوں میں آنسو لے کے بولی تو عارب خوشی سے اچھلا مگر توازن کھو بیٹھا۔۔
اسکو گرتا دیکھ کے سبکی چینخ برآمد ہوئ اور ہماہ نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لیئے مگر یہ کیا ۔۔۔۔
عارب نیچے نہیں گرا ۔۔
جی ہاں عارب اور رشی کے پلان کے مطابق عارب کے پاوں میں رسی بندھی تھی جو چھت پہ کس کے باندھی گئ تھی تاکہ اگر گرے بھی تو نیچے نا جائے۔۔ مرنا تھوڑی تھا وہ تو بس پھپھو کی بیٹی امپریس کرنی تھی۔۔
عارب ہوا میں کٹی پتنگ کی طرح ہائے ہائے کرتا جھول رہا تھا ایک ٹانگ پہ رسی بندھی تھی دونوں بازو ہوا میں کھلے ہوئے تھے اور وہ جھولے کی طرح ادھر ادھر جا رہا تھا۔۔
رشی دونوں ہاتھ پیٹ پہ رکھے جھکے ہوئے ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی جبکہ ہماہ بچاری حیران کھڑی سب دیکھ رہی تھی۔۔
گھر میں داخل ہوتے شازیب نے عارب کو ہوا میں جھولتے دیکھا تو لان میں آیا اور رشی کو ہنستے دیکھا تو سمجھا یہ سب رشی نے کیا ہے تصویر کا بدلہ لینے کے لیئے۔۔
واہ میرے آنے سے پہلے ہی سزا پا لی گڈ۔۔
عارب جو شازیب کو مدد طلب نظروں سے دیکھ رہا تھا شازیب کی بات سن کے ساکت رہ گیا اور شازیب اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
عازب عارب کی چینخیں سن کے چھت پہ آیا اور بڑھی مشکل سے احرام چاچو اور عازب نے کھینچ کے اسے چھت میں لائے۔۔
ہماہ عارب پہ غصہ کرتی اندھر چلی گئ کہ عارب نے اسے چیٹ کیا ہے۔۔
چھت پہ عارب پہلے سیدھا لیٹا رہا پھر چکراتے سر کے ساتھ کمرے میں بھاگا۔۔
چھت سے لٹکنے کی وجہ سے اسکی حالت بری ہوگئ اور بار بار قے آرہی تھی ۔۔
عازب ڈاکٹر کو بلا لایا چیک اپ کے بعد ڈاکٹر ایک انجیکشن لگا کے اور ایک پرچی پکڑا کے چلا گیا۔۔
سب پریشان تھے مگر ایک پیس ایسے حالات میں بھی ہنسی روکنے کے چکر میں لال ہو رہی تھی اور وہ تھی رشی۔۔
عازب جو دوائ لینے گیا واپس آتے ہی پرچی عارب کو پکڑا دی سبنے حیرانی سے پوچھا کے دوائ کیوں نہیں لائے۔۔
تو عازب نے پرچی کی طرف اشارہ کیا۔۔ ریا نے عارب سے پرچی لے کے کھولی تو لکھا تھا۔۔
ایسی واحیات حرکت دوبارہ نا کرنا ۔۔
ریا نے اونچی آواز میں پڑھا تو سب سے پہلا قہقہہ رشی کا تھا ۔۔ باقی سب بھی ہنسنے لگے تو عارب نے خون خوار نظروں سے رشی کو دیکھا جسکا پلان تھا خودکشی کا ڈرامہ کرنے کا اور اب جنگلیوں کی طرح ہنس رہی تھی۔۔
سب آہستہ آہستہ چلے گئے بس رشی رہ گئ جو اب بھی ہنس رہی تھی ۔۔۔
منہ بند کرو پنچر ٹائر یہ تمھارہ ہی پلان تھا۔۔
اسکو مسلسل ہنستا دیکھ کے عارب غصے سے بولا۔۔
ہاں جہاں تک میرا پلان تھا وہ کامیاب بھی ہوا ہے باقی یہ اوور ایکسائٹمنٹ تم نے خود دکھائ ہے بچی بھی بھگا دی۔۔
رشی نے کھری کھری سنائ تو عارب نے روتی شکل بنائ۔۔
اب کیا کریں؟۔۔
عارب نے سوال کیا تو رشی گال پہ انگلی رکھ کے سوچنے لگی۔۔
پہلے میرا مسلہ حل کراو پھر کچھ کرتے ہیں ہماہ کا بھی۔۔
رشی نے جیسے ہی کہا عارب فورأ مان گیا۔۔
رشی نے بریرہ کی سنی ساری بات بتائ اور بریرہ کے ارادوں سے آگاہ کیا۔۔
اسکی بات سنتے ہی عارب تالی مار کے ہنسا۔۔
تو مطلب بھابھی جی آپکو میرے سڑیل + کھڑوس+مسٹر غصیلے بھائ سے محبت ہوگئ ہے ہاہاہاہاہاہاہاہااہا ۔۔
عارب ہنس ہنس کے دوہرا ہوگیا تو رشی نے خفت مٹانے کے لیئے جوتا اٹھا کے عارب کے سر پہ مارا تو اسکی ہنسی کو بریک لگی ۔۔۔۔۔
محبت وحبت نہیں ہوئ بس ضد ہے اب میری اور بریرہ کو جیتنے نہیں دینا میں نے مدد کرنی ہے تو بتاو ورنہ میں اکیلی ہی کافی ہوں ۔۔
رشی غصے سے بولی تو عارب جلدی سے اچھے بچوں کی طرح مان گیا۔۔
اور دونوں پلان بنانے لگے۔۔۔
پلان ڈن کرتے ہی رشی خوشی سے اچھلی اور اپنے کمرے میں چلی گئ دونوں رات کے پچھلے پہر کا انتظار کرنے لگے پلان پہ عمل کرنے کے لیئے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے بارہ بجے سب سوگئے زری اور عازب پھپھو کے ساتھ چلے گئے تو عارب نے رشی کو میسج کرکے بلایا اور دونوں پلان کے مطابق ریڈی ہوئے۔۔
رشی جیسے ہی عارب کے کمرے میں داخل ہوئ عارب کی چینج نکلی رشی کو دیکھ کے تو رشی نے اسے رکھ کے مکا مارا اور چپ رہنے کا کہا۔۔
بریرہ جن بھوتوں سے بہت ڈرتی تھی تو ان دونوں کا پلان بھوت بن کے اسے ڈرانے کا تھا۔۔
رشی نے ریا کا کالا عبایا پہن کے بال کھول کے دونوں سائیڈ سے منہ پہ ڈالے پورے منہ پہ کالا رنگ لگائے ہونٹوں پہ سرخ رنگ لگایا جو بہہ رہا تھا جیسے خون ہو👹۔۔
ہاتھوں پہ نکلی لمبے ناخن لگائے جو سفید ہی چھوڑے تھے باقی پورے ہاتھوں پہ بھی کالا رنگ لگائے وہ پوری چڑیل لگ رہی تھی۔۔
عاربے چپ کرجا افریقی پانڈے یہ میں ہوں رشی۔۔
رشی نے غصے سے کہا تو عارب کو یقین آگیا کہ یہ رشی ہی ہے ایسے نایاب القابات صرف رشی ہی دے سکتی ہے۔۔
اس کے بعد عارب نے بھی سفید رنگ کی چادر لپیٹی منہ پہ کالا رنگ لگایا نکلی دانت جو تھوڑی سے بھی نیچے جا رہے تھے اور بال سپرے سے ایسے کھڑے کیئے جیسے تارے👻💀۔۔
دونوں نے ایک نظر شیشہ دیکھا تو خود ہی ڈر گئے۔
اس وقت کوئ اور انہیں دیکھ لیتا تو کبھی یقین نا کرتا کہ یہ انسان ہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں تیار ہوکے بریرہ کے کمرے کی کھڑکی کے پاس آئے پردہ ہٹا ہوا تھا عارب نے ایک سائیڈ پہ چھوٹی سی لائٹ لگائ جو تین رنگ سرخ پیلا اور جامنی میں جل بج رہی تھی اور اسنے ایسی جگہ لگائ کہ کمرے کے اندھر سے دیکھنے پہ ایسا لگتا تھا کھڑکی کے پاس کھڑے خولوں سے روشنی پھوٹ رہی ہے۔۔
پھر دونوں نے اپنے لمبے لمبے ناخنوں سے آہستہ آہستہ کھڑکی بجانا شروع کی اور ساتھ ہی رشی نے موبائل میں ساؤنڈ سسٹم آن کیا جس میں چڑیلوں کی جیسی آوازیں تھی۔
ہوہو ہاہاہاہا ہوہو ہاہاہاہاہاہا ہوہو ہاہاہاہاہاہا ۔۔
بریرہ جیسے ہی جاگی کھڑکی کے پاس جن دیکھ کے ڈر گئ اور اونچی آواز میں کلمہ پڑھنے لگی۔۔
سنو لڑکی یہ ہمارا کمرہ ہے ہمارا گھر ہے یہاں سے چلی جا ورنہ جلا کے تکے بنا دے گے تیرے ااااا ہوہوہو ہاہاہاہاہاہاہاہااہا ۔۔۔۔
عارب عجیب سی آواز نکال کے بولا تو رشی نے بڑھی مشکل سے ہنسی روکی کوئ اور وقت ہوتا تو شاید بریرہ انہیں پہچان جاتی مگر اس وقت وہ اتنا ڈری تھی کہ ہوش ہی نا رہا۔۔
بریرہ ہچکیوں سے رونے لگی اور سر زور زور سے ہاں میں ہلانے لگی۔۔
اور ہمارا کسی کو بتانا مت ورنہ گھر جانے کا بھی موقع نہیں ملے گا اااا ہوہو ہاہاہاہاہاہا ۔۔
عارب بولا تو رشی نے اسکے پاوں پے پاوں مارا کہ اوور ایکٹنگ نا کرو پکڑے جاو گے۔
مگر تھوڑی دیر میں بریرہ بے ہوش ہوکے ایک سائیڈ لٹک گئ تو دونوں اپنا سامان اٹھاتے بھاگے۔۔۔۔
اگر اسے کچھ ہوگیا تو۔۔
کمرے میں آتے ہی عارب پریشانی سے بولا ۔۔
کچھ نہیں ہوتا تم سو جاو۔۔
رشی منہ پہ ہاتھ رکھے جمائ روکتی بولی اور اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔
عارب بھی سر جھٹکتا واشروم گیا اور منہ ہاتھ دھو کے سو گیا۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧
صبح صبح ریا اٹھی تو دیکھا بریرہ اپنا سامان پیک کر رہی تھی۔۔
بخار سے اسکا جسم تپ رہا تھا۔
ریا نے اسے پکڑ کے بیڈ پہ لٹایا۔۔
کیا ہوا بیٹے؟۔
ریا پریشانی سے اسکا ماتھا چیک کرتی بولی۔۔
کچھ نہیں پھپھو ماما یاد آ رہی ہیں گھر جانا ہے۔۔
بریرہ آنکھوں میں آنسو لے کے بولی تو کمرے میں داخل ہوتی رشی نے ہنسی روکی۔۔
اچھا بیٹا ناشتہ کرو دوائ لو پھر شازیب تمھیں چھوڑ آئے گا۔۔
شازیب کے نام پہ رشی کے مسکراتے ہونٹ خاموش ہوئے۔۔
آ ماما میں بھی جاوں گی بریرہ کو چھوڑنے ۔۔
رشی جلدی سے بولی تو ریا مان گئ کہ چلو اسی بہانے رشی اور شازیب ایک دوسرے کو سمجھ سکے گے جبکہ بریرہ نے دانت پیسے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
رشی کہہ تو آئ تھی مگر اسے ڈر تھا واپسی پہ شازیب اسے کہی پھینک ہی نا آئے ۔۔
تو اسنے عارب کو بھی ساتھ جانے کا کہا اور دونوں تیار ہوئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناشتے کے بعد ریا نے سبکو اللہ حافظ کہا ۔۔
بریرہ نے جیسے ہی فرنٹ ڈور اوپن کیا پلان کے مطابق رشی جلدی سے بیٹھ گئ اور بریرہ کو ایک جلانے والی سمائل پاس کی۔۔
شازیب بھی اس بدلی آفت کی پڑھیا کو دیکھ کے حیران ہوا۔۔ یہ جانے بغیر کہ یہ سب بس بریرہ کے جانے تک ہے پھر سب پہلے جیسا ہو جائے گا
♧♧♧♧♧♧♧♧
جاری ہے۔۔
