438K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 7

ارے بھائ میرے گردھے بہت اداس ہیں وہ والا گانا لگا دے اسا چڑیاں دا چنبا ہے بابل اساں تڑ جانا نا۔۔۔۔۔
گاڑھی گھر سے تھوڑی ہی دور آئ تو رشی کھڑکی سے سر اندھر کرتی بولی اسکی بات سن کے عارب اور عازب دونوں نے حیرانی سے رشی کو دیکھا کہ یہ کیا چیز ہے جسکے گردھے اداس ہیں۔۔۔۔
بابل اساں اڈ جانا ہوتا ہے تڑ جانا نہیں عقل سے پیدل سٹپنی۔۔۔۔
عارب نے ہنس کے اس پہ طنز کیا اور اسکے چھوٹے قد پہ چوٹ کی۔۔۔۔
اےے الو کے آخری پیس جو بھی ہوتا ہے بات تو ایک ہی ہے نا اور یہ سٹپنی کسے بولا گاڑھی کے ٹوٹے ہوئے پائپ۔۔۔۔
رشی نے غصے سے کہا اور دونوں سیٹس کے درمیان سے آگے ہوکے خود سانگ پلے کرنے لگی جبکہ عارب ابھی تک اسکی اوٹ پٹانگ بات سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا اور عازب ان دونوں کی نوک جھونک انجوائے کر رہا تھا۔۔۔۔۔
اساااااااااااااا چیییییییییڑیاااااااااااا دااااااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔
رشی نے جیسے ہی میوزک سسٹم اون کیا سانگ پلے ہی اتنی آہستہ آواز میں ہوا کہ کچھ سمجھ نا آئ رشی نے دو چار تھپڑ مارے تو سسٹم بمشکل تین خرف کھینچ کے ادا کر سا پھر رشی کے تھپڑوں کی تاب نا لاتے ہوئے وہی ڈیر ہوگیا۔
جبکہ گانا ایسے پلے ہوتے دیکھ کے عارب اور عازب کا قہقہہ بلند ہوا اور وہ دونوں ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوگئے تو رشی بھی منہ پھلا کے بیٹھ گئ۔۔۔۔
تو اڈا لی اپنی چڑیا یا اور اڈانی ہے ہاہاہاہاہاہاہاہااہا ۔۔۔۔۔
عارب نے ہنستے ہوئے طنز کیا تو رشی اسکی کمر پہ ایک زوردار مکا رسید کرتے پیچھے ہوگئ اور عازب کا موبائل لے کے کارٹون دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔جب اسے کارٹون بھی مزے کے نا لگے اور اسکے اندھر کی آفت انگڑائی لینے لگی تو رشی کو شرارت سوجھی وہ پھپھو کے گھر کے پاس پہنچ چکے تھے۔۔۔۔
رشی نے عارب اور عازب کے سفید کاٹن کے سوٹ کا ایک ایک کونہ پکڑا اور آہستہ سے آپس میں باندھ دیا اور کھڑکی سے باہر لٹکنے لگی۔۔۔ دل ہی دل میں خوش ہوتے وہ باہر سر کیئے نظارے کرنے لگی تب ہی اسکی نظر تھوڑا دور ایک لڑکے پہ پڑھی جو موبائل یوز کرتے تقریبأ روڈ پہ آ چکا تھا مگر درمیان میں نہیں تھا گاڑھی جیسے ہی اس کے پاس پہنچی رشی نے رکھ کے ایک تھپڑ اسکے سر پہ مارا لڑکا ڈر کے مارے زور سے اچھلا اور سیدھا فٹ پاتھ پہ جا گراروڈ کے درمیان نا چلا کرو کوئ گاڑھی والا چوزا سمجھ کے تھلے دے جاوے گا ۔۔۔۔
اسکی حرکت دیکھتے ہی عازب نے گاڑھی کی سپیڈ بڑا دی جبکہ رشی سر باہر نکالے ہی زور سے آدھی اردو اور آدھی پنجابی میں بات کرنے لگی۔۔۔۔
لڑکے نے غصے سے اسے دیکھا اور پاس پڑا پتھر زور سے گاڑھی کی طرف اچھالا مگر تب تک گاڑی کافی دور آ چکی تھی رشی نے اسے زبان چڑائ تو وہ بچارہ بس پیچ و تاب کھا کے رہ گیا جبکہ عارب ہنس ہنس کے دوہرا ہو رہا تھا اور عازب بچارہ بس افسوس ہی کر سکا اور گاڑھی کے شیشے بند کر دیئے ۔۔۔۔
کچھ دیر رشی چپ رہی مگر پھر اسکے پیٹ میں درد ہونے لگا تو سیٹ سے دونوں ہاتھ آگے کرکے دوبارہ میوزک سسٹم کو چیک کرنے لگی مگر وہ بھی روٹھی محبوبہ کی طرح ڈھیٹ بنا رہا ایک لفظ ادا نا کیا تو رشی زور سے تھپڑ مارتی پیچھے بیٹھ کے ہاتھ دبانے لگی تو عارب اور عازب نے بمشکل ہنسی روکی۔۔
آخر کار پھپھو کا گھر آگیا اور رشی جلدی سے دروازہ کھولتی باہر نکلی اور دونوں ہاتھوں سے عازب کی طرف کا دروازہ کھولنے سے روک کے کھڑی ہوگئ
عارب اور عازب نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔
وہ کیا ہے نا دولہا اگر شادی سے پہلے دولہن کو دیکھ لے تو دولہن پہ روپ نہیں آتا چلو شاباش واپس جاو دونوں۔۔۔۔ اور عاربے تم ہماری ڈیل پھپھو کے گھر تک ہوئ تھی اندھر جانے کی نہیں تے چل شاباش میرا بچہ تو وی نکل تے پل جا میں تینو ہماہ نال ملن دینا ہے۔۔
رشی اپنی بات مکمل کرتے بھاگ کے پھپھو کے گھر داخل ہوئ جو ہارن کی آواز سن کے دروازہ کھول چکی تھی
عارب اور عازب اسکی نانیوں دادیوں والا رویہ دیکھ کے حیران ہوئے اور اسکے اندھر جاتے ہی گاڑھی سے باہر نکلنے لگے مگر یہ کیا۔۔
چرررر کی آواز سے دونوں کی قمیض کا پچھلا حصہ گاڑی میں ہی رہ گیا۔۔۔
دونوں حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھتے اور غصے سے ایک نظر بند دروازے کو دیکھتے واپس گھر کی طرف مڑے اب اس حالت میں پھپھو کے گھر جانے سے رہے دونوں۔۔۔۔ارے ارے کہاں میں یہاں ہوں زرتاشہ رشی سے مل کے دروازے کی طرف بڑھی تو رشی فٹ سے سامنے آتی اپنے سارے دانتوں کی نمائش کرتی بولی تو زرتاشہ شرمندہ سی ہوگئ جبکہ رشی کی اس حرکت پہ پھپھو اور ہماہ دونوں مسکرانے لگی۔۔۔۔
وہ میں۔۔۔۔۔
زرتاشہ سے کوئ بات نا بنی تو بس وہ میں کرنے لگی۔۔۔
ہا ہائےےے دیکھ رہی ہو سیمہ بہن کیا زمانہ آگیا ہے ہمارے وقتوں میں جب لڑکی کا رشتہ طے ہوتا تو وہ شرم کے مارے اپنے ماں باپ تک کے سامنے نا آتی اور اگر اسکے سامنے اسکے ہونے والے آااااان کا نام لے لیا جاتا تو شرما شرما کے اپنا آدھا ڈوپٹہ کھا جاتی تھی مگر آج کل کے بچے توبہ توبہ ذرا جو شرم ہو دیدے پھاڑ پھاڑ کے شادی سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔ ۔۔۔۔سیمہ پھپھو اور ہماہ اسکے بڑھی عورتوں والے انداز میں بات کرتے دیکھ کے ہنسنے لگی جبکہ زرتاشہ منہ کھولے اس چھوٹا پیکٹ بڑھا پٹاخہ کو دیکھتی رہ گئ جو دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے بلکل چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی اور منہ کے زاویے بگاڑ بگاڑ کے بات کر رہی تھی۔۔۔
بس کرو دادی اماں ۔۔۔۔ چلو آو اندھر۔۔۔۔
پھپھو بمشکل ہنسی روک کے آہستہ سے رشی کے سر پہ چپت مارتی بولی اور زرتاشہ کو اشارہ کیا کہ اس آفت کے لیئے کچھ کھانے کو لاو۔۔۔۔
ہا ہائےےے سیمہ بہن ذرا آج کل کے بچوں کی بے شرمی تو دیکھو ہاہاہاہااہاہاہ۔۔۔۔۔
ہماہ رشی کی نقل اتارتی زرتاشہ کو دیکھ کے بولی اور زرتاشہ کو اپنی طرف آتے دیکھ کے ہنستی ہوئ رشی اور ماما کے پیچھے بھاگ گئ..۔۔
زرتاشہ بھی اس نمونی کی باتوں پہ مسکراتی ہوئ کچن میں چلی گئ جبکہ حیران بھی تھی کہ عازب اندھر کیوں نہیں آیا۔۔۔
اسے کیا پتا بچارے عازب کو رشی نے اندھر آنے کے قابل چھوڑا ہی نہیں تھا۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
السلام علیکم۔۔۔۔۔
عارب اور عازب نے گھر آتے ہی سبکو سلام کیا اور وہی دروازے میں کھڑے ہوکے بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔۔
ہال میں بیٹھے دادا جی ریا شازیب اور چاچو نے ناسمجھی سے ان دونوں کو دیکھا۔۔۔۔
وعلیکم السلام بیٹا اندھر آو وہاں کیوں کھڑے ہو؟۔۔۔
چاچو نے دونوں کو کہا تو دونوں نے رونی صورت بنا کے ایک دوسرے کو دیکھا اور اپنے کمرو ں کی طرف دوڑ لگا دی۔۔۔۔
سب نے حیران ہوکے ان دونوں کو بھاگتے دیکھا ۔۔مگر جب نظر جب ان دونوں کی قمیضوں پہ گئ تو سبکا فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا اور ہنستے ہی چلے گئے سب ۔۔۔
جبکہ عازب اور عارب نے جلدی سے اپنے اپنے کپڑے چینچ کیئے اور رونی صورت بنا کے باہر آئے۔۔۔
انکو دیکھتے ہی ایک بار پھر سب انکی حالت یاد کرتے زور سے ہنسے۔۔۔
دادا جی۔۔۔
عارب نے دادا جی کے پاس بیٹھتے ہی معصوم شکل بنائ اور پھر انکے پوچھنے پہ گھر سے لے کے پھپھو کے گھر تک کی ساری روداد سنا دی جسے سنتے ہی سب پیٹ پہ ہاتھ رکھ کے پھر ہنسنے لگے….
ہاہاہاہااہاہاہاہاہاہاہاہاہاہ اور ہنسو جب جاتے ہوئے اسنے میرے ساتھ جو کیا بڑھی ہنسی آرہی تھی نا دونوں کو اب ہنسو چلو شاباش ہاہااہاہاہاہاہاہاہ۔۔۔۔
شازیب نے مزے سے ان دونوں سے ہنستے ہوئے بدلہ لیا تو دونوں بچارے اپنا سا منہ لے کے رہ گئے اور بچاری ریا بس رشی کی ہدایت کی دعا ہی کر سکی جبکہ دادا جی خوش تھے شازیب کو آج اپنی عادت کے خلاف جاکے اتنا
ہنستے ہوئے دیکھ کہ ورنہ انھیں نہیں یاد تھا کہ انہوں نے اسے کبھی مسکراتے ہوئے بھی دیکھا ہو ۔۔۔ دل میں ہی تسلی سی ہوئ کہ شازیب کے لیئے رشی کا فیصلہ بلکل ٹھیک کیا انہوں نے وہ شازیب کو بھی خوشیوں کی طرف لا سکتی تھی۔۔۔ ہاں جب رشی کو پتا چلنا ہوگا تو طوفان آ جائے گا مگر اسے دادا جی سمجھا لے گے۔۔۔۔
دل میں ہی فیصلہ کرتے دادا جی نے اپنے سارے بچوں کو خوش رہنے کی دعا دی اور پھر عارب اور عازب کو دیکھا وہ بھی اب شازیب کی دن والی حالت یاد کرکے ہنس رہے تھے اور اسکو تنگ کر رہے تھے مگر شازیب بھی اپنے نام کا ایک تھا دوبدو جواب دے رہا تھا ۔۔۔ ریا اور چاچو بھی انکی نوک جھونک انجوئے کر رہے تھے اور ہنس رہے تھے ۔۔۔ بیشک اس ہنسی کا سبب بنے والی اس وقت پاس نا تھی مگر ان سبکو اچھی یاد دے کے وہ کسی اور کا جینا حرام کرنے پہنچ چکی تھی۔
♧♧♧♧♧♧♧
ہماہ یار میں بور ہو رہی ہوں۔ آو امرود توڑتے ہیں ۔۔۔۔
اگلے دن زرتاشہ اور پھپھو کے شاپنگ پہ جاتے ہی رشی نے کہا تو ہماہ ساری آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
نا بابا نا سوچنا بھی مت یہ جو امرود تم توڑنے کی بات کر رہی ہو اسکی مالکن اتنی سخت ہے کے ہاتھ ڈال کے تمھارے گلے سے امرود نکال لے گی۔۔۔
ہماہ نے اسے اپنی پڑوسن سے ڈرانا چاہا مگر سامنے بھی رشی تھی۔۔۔
ہاں تو ہم گلے میں رکھے گے ہی نہیں سیدھا پیٹ میں بیج دے گے۔۔۔۔
رشی نے زبان دکھاتے ہوئے کہا تو ہماہ بچاری بس اسے دیکھ ہی سکی۔۔۔۔
ارےےے رشیییییی۔۔۔۔
اس سے پہلے کے ہماہ کوئ جواب دیتی رشی نے اسکا ہاتھ پکڑا اور باہر بھاگ آئ جہاں سے امرود کا پیڑ انکے گھر میں لٹک رہا تھا اور اسکے ساتھ لگے ڈیر سارے امرود دیکھ کے رشی کے منہ میں پانی آیا۔۔۔۔۔
رشی ن ن نہیں پلیز۔۔۔۔
ہماہ بچاری منع کرتی رہی مگر رشی ان سنا کرتی دیوار کو پکڑ کے درخت پہ چڑھی اور ایک موٹی سی شاخ پہ بیٹھ کے امرود توڑنے لگی۔۔۔
اسنے پانچ چھ امرود توڑ کے ہماہ کی طرف پھینکے جو اسنے کمال مہارت سے کیچ کیئے ۔۔۔۔
گڈ کیچ۔۔۔۔۔
رشی اسکو داد دیتی باقی امرود توڑ کے اپنی جھولی میں ڈالنے لگی۔۔۔۔
اےےےے لڑکی۔۔۔
دوسرے گھر سے ایک عورت کی گرج دار آواز آئ اور ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑی لاٹھی سیدھی رشی کی کمر میں لگی۔۔۔
آہہہہ اتنی تیز آواز اور لاٹھی پڑنے پہ رشی ڈر سے اچھلی اور نیچے جاتے جاتے بچی مگر اسکی جھولی میں موجود سارے امرود سیدھے اس عورت کے سر پہ جاکے لگے جو ہائے ہائے کرتے دونوں ہاتھ سر پہ رکھے وہی بیٹھ گئ۔۔۔ رشی نے ڈر کے نیچے دیکھا تو عورت جو 45 یا 50 سال کی ہوگی نیچے بیٹھی تھی لاٹھی اور عینک دور جا گری وہ دکھنے میں ہی کافی موٹی تازی تھی۔۔۔۔
رشی نے جیسے ہی اپنے گھر کی طرف اترنے کی کوشش کی تو دیکھا ہماہ کا دور دور تک کوئ نام و نشان نا تھا۔۔۔۔ جو شاید اس عورت کی آواز سن کے سارے امرود وہی پھینک کے اندھر جا چکی تھی۔۔۔۔ رشی نے غصے سے نیچے چھلانگ لگی اور سارے امرود اٹھا کے جھولی میں ڈالتے اندھر بھاگ آئ جہاں ہماہ دونوں ہاتھ کانوں پہ رکھے سر گھٹنو میں دیئے رو رہی تھی ۔۔۔۔
کیا ہوا ہماہ؟۔۔۔۔
رشی نے پاس آتے ہی اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے پریشانی سے پوچھا تو وہ چینخ مارتی اچھل کے دور ہوئ۔۔۔
آ آ آنٹی م میرا ق قصور ن نہیں ہے نا نا رشی کا و وہ مہمان ہے پ پلیز معاف کر د دیں ….
ہماہ نے دونوں ہاتھ
آنکھوں پہ رکھے روتے ہوئے بمشکل حملہ مکمل کیا تو رشی اسکی بات سمجھتی قہقہہ لگا کے ہنسی اور پھر دونوں ہاتھ پیٹ پہ رکھے ہنستی چلی گئ۔۔۔
افففف ہماہ تم کتنی ڈرپوک ہو ہاہاہاہااہاہہااہ۔۔۔۔۔
رشی نے بمشکل ہنسی روکتے کہا اور پھر سے ہنسنا شروع کر دیا جبکہ اسکو ہنستے دیکھ کے ہماہ نے دونوں ہاتھ آنکھوں سے ہٹا کے اسے دیکھا اور یو ہنستے دیکھ کے پھر سے رونے کی تیاری کرنے لگی۔۔۔۔
اچھا اچھا رو مت میں مزاک کر رہی تھی اب نہیں ہنستی۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہا۔
اسکو پھر سے روتے دیکھ کے رشی نے کہا اور اسکی حالت دیکھتے ہی ہنسی خود بخود نکلی۔۔۔۔
رشییی۔۔۔۔
ہماہ نے رونی صورت بنا کے کہا تو رشی نے منہ پے ہاتھ رکھ کے ہنسی روکنے کی کوشش کی۔۔
میں کیا کروں میں نہیں ہنس رہی ہنسی خود بخود نکل رہی ہے۔۔۔
رشی نے مشکل سے کہا تو ہماہ ناراض ہوکے جانے لگی مگر رشی نے اسکا بازو پکڑ لیا۔۔۔۔
اچھا بابا اب نہیں ہنستی پکا آو امرود کھاتے ہیں۔۔۔۔
رشی نے کان پکڑ کے کہا پھر دونوں امرود اٹھا کے کچن میں چلی گئ۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہااہاہ ۔۔۔۔ وہاں جاتے ہی رشی کو پھر ہنسی کا دورہ پڑا جو ہماہ کے مکا مارنے پہ رکا۔۔۔۔
آہہہہ جنگلی کتنا زور سے مارتی ہو آگے تمھاری اس ہٹلر آنٹی نے اتنے زور سے چھڑی ماری ہے۔۔۔۔۔
رشی نے معصوم سا منہ بنا کے کہا تو ہماہ ہنسنے لگی ۔۔۔۔۔(رائٹر بنتءحوا )
♧♧♧♧♧♧♢♧
رشی یار میرا ایک کام کردے پلیز۔۔۔۔۔۔۔
ہماہ کمرے میں آتے ہوئے بولی جہاں رشی کارٹون دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
ہاں بولو۔۔۔۔۔۔
رشی نے نظریں ٹی وی پہ جمائے ہی کہا۔۔۔۔۔۔
وہ کل میرے کالج میں فن فیئر ہے میرے آئ برو بنا دے پلیز۔۔۔۔۔۔۔
ہماہ اسکے سامنے بیٹھتے بولی۔۔۔۔۔
ہہہہہہہہہہہیں۔۔۔۔۔۔۔
رشی حیرانی سے ہماہ کو دیکھتے بولی۔۔۔۔۔
ہاں نا بہن کہوں گی پلیز کردے کل جانا ہے آپی بھی گھر نہیں ہے شاپنگ پہ گئ ہے رات لیٹ واپس آئے گی۔۔۔۔۔۔
ہماہ نے منت بھرے لہجے میں کہا تو رشی نے غور سے اسکے آئ برو دیکھے جو تقریبأ بنے ہوئے ہی تھے بس چھوٹے چھوٹے بال پھر سے نکل رہے تھے باقی شیپ بنی ہوئ تھی۔۔۔۔
اچھا لاو دھاگا دو۔۔۔۔۔
رشی نے دھاگہ مانگا تو ہماہ نے خوش ہوتے فورأاسے دھاگہ پکڑایا۔۔۔۔۔۔
اب آنکھیں بند کرو تب تک نا کھولنا جب تک میں نا کہوں۔۔۔۔۔
رشی کے کہتے ہی ہماہ نے آنکھیں بند کرلی اور رشی آئ برو بنانے لگی۔۔۔۔۔۔
دونوں کو برابر کرکے اسنے پیچھے ہوکے دیکھا تو اسے لیفٹ والا تھوڑا بڑھا لگا۔۔۔۔۔ اسنے اسکے کچھ مزید بال نکالے تب ہی ٹی وہ پہ ماشا اینڈ دی بیئر کی نیکسٹ ایپیسوڈ شروع ہوئ جس میں ماشا پھول اگھٹے کر رہی تھی۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔ ماشا کے ہاتھوں بیئر کی کٹ لگتے دیکھ کے رشی زور سے ہسی ۔۔۔۔۔۔۔
رشی دھیان سے کرو کہی کٹ نا لگ جائے۔۔۔۔۔۔
ہماہ نے اسکی توجہ اپنی جانب کرائ تو رشی کی چینخ نکلتے نکلتے بچی اپنے دھیان میں وہ ہماہ کا لیفٹ آئ برو غائب کر چکی تھی شروع میں بس گنے چنے بال بچے تھے۔۔۔۔۔۔
رشی نے پریشانی میں ادھر ادھر دیکھا تو سنگھار میز پہ اسے کالی آئ برو پینسل نظر آئ۔۔۔۔۔۔
رکو دھاگہ ٹوٹ گیا ہے نیا بنانے دو۔۔۔۔۔۔
ہماہ سے کہتے ہی رشی میز کے پاس آئ اور آئ لیشز گوند اور پینسل اٹھا کے واپس ہماہ کے پاس آئ جو ابھی تک آنکھیں بند کیئے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔ رشی نے آئ لیشز گوند اسکے آئ برو کی جگہ لگائ اور نئ آئ لیشز کاٹ کے اسکے بال اوپر چپکا دیئے مگر وہ ابھی بھی کم لگ رہے تھے تو رشی نے پینسل سے دونوں آئ برو کو برابر کر دیا۔۔۔۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہو رشی درد ہو رہا ہے بہت جیسے کچھ چپک رہا ہو۔۔۔۔۔۔
ہماہ نے آنکھیں بند کیئے ہی کہا تو رشی نے روم کی بڑھی لائٹ آف کردی۔۔۔۔۔
کچھ نہیں تھوڑے سے بال بہت چھوٹے تھے تو ٹیوزر سے نکالے
رشی نے مطمئن سا جواب دیا۔۔۔۔ ہماہ نے آنکھیں کھول کے شیشے میں دیکھا ۔۔۔۔۔
ارے واہ رشی تم تو کمال ہو اتنی پیاری سیب بنائ۔۔۔۔
ہماہ نے کہا تو رشی دل میں شکر ادا کرتی ہلکا سا مسکرائ ۔۔۔۔۔
اچھا میں کھانا بنا لوں شام ہونے والی ہے ماما لوگ آجائے گی۔۔۔۔
ہماہ نے کہا اور باہر نکل گئ جبکہ رشی دعا کر رہی تھی اسکا آئ برو چپک جائے۔۔۔۔۔۔۔( رائٹر بنتءحوا )
♤♤♤♤♤♤♤
ارے آپی یہ فیس واش دکھائے ذرہ ۔۔۔۔۔
جب زرتاشہ اور سیمہ پھپھو واپس آئ تو ہماہ اور رشی دونوں انکے پاس بیٹھی شاپنگ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
ہاں یہ لو۔۔۔۔۔۔
زرتاشہ نے اسے پکڑایا تو وہ چیک کرنے واشروم بھاگی۔۔۔۔۔۔
آہہہہہہہہہ ماما۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد ہماہ کی زوردار چینخ سن کے تینو بھاگ کے واشروم تک آئ۔۔۔۔۔
کیا ہوا ہماہ۔۔۔۔۔۔۔
ہماہ جو شیشے میں دیکھتے رو رہی تھی مڑ کے ماں کو دیکھا تو رشی نے دل میں کلمہ پڑھنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔
یہ کیا ہوا؟۔۔۔۔۔۔
زری پریشانی سے آگے بڑھی کیونکہ ہماہ کا ایک آئ برو غائب تھا۔۔۔۔۔۔
یہ یہ فیس واش خراب ہے آپی دیکھے میرا آئ برو اتر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماہ نے روتے ہوئے بتایا تو زری نے فیس واش کی ڈیٹ اور لیبل سب چیک کیا مگر سب ٹھیک تھا۔۔۔۔۔۔
کیا تم نے آئ برو بنوائے تھے؟۔۔۔۔۔
زری کے اچانک سوال پہ ہماہ نے حیرانی سے رشی کو دیکھا جبکہ رشی کا دل باہر آنے کو تھا۔۔۔۔۔
جی رشی سے بنوائے تھے آج ۔۔۔۔۔
ہماہ نے بتایا تو پھپھو اور زری دونوں نے رشی کو دیکھا۔۔۔۔۔
اس نے کچھ نہیں کیا دیکھے بال ابھی اترے ہیں۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کے رشی کچھ بولتی ہماہ نے روتے ہوئے اپنا ہاتھ دکھایا جس پہ آئ برو کے بال لگے تھے۔۔۔۔۔
رشی نے اپنے دماغ کو سو بار سدقے واری کہا جسکی وجہ سے وہ بچی اگر وہ آئ لیشز کاٹ کے نا لگاتی تو پکڑی جاتی۔۔۔۔۔
(مگر سچ زیادہ دیر نہیں چھپتا خود ہی سامنے آجاتا ہے)۔۔۔۔۔۔۔
زری نے پریشانی سے دوبارہ فیس واش کو ٹٹولہ۔۔۔۔۔۔
میں صبح ہی جاکے خبر لیتی ہوں اس دوکان دار کی غضب خدا کا یہ کیا حال ہوگیا میری بچی کا۔۔۔۔۔
پھپھو غصے سے کہتی ہماہ کو لیئے روم سے نکل گئ تو رشی بھی اپنے کمرے میں گئ۔۔۔۔
کمرے میں آتے ہی پہلے جان بخشی پہ اسنے شکر ادا کیا پھر ہماہ کی شکل یاد آتے ہی اسے افسوس ہوا مگر ہنسی بھی آئ بنا آئ برو کے وہ کارٹون لگ رہی تھی۔۔۔۔۔(رائٹر بنتءحوا )
♧♧♧♧♧♢♢♢♢
جاری ہے۔۔۔۔۔۔