438K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 10

ہائے ہائے ہائے۔۔۔
ریا جو صبح صبح کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی اچانک عارب کے ہائے ہائے کرتے کچن میں داخل ہوتے دیکھ کے پریشان ہوگئ اور سب کام چھوڑ کے اسکے پاس آئ۔۔
کیا ہوا بیٹا تمھاری طبیعت ٹھیک ہے؟۔۔
ریا کے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے پوچھا تو عارب نے زور سے ہائے کی۔۔
ہائے کیا بتاوں آنی میرا سب کچھ درم برہم ہوگیا ہے..
عارب نے ہائے ہائے کرتے بتایا تو ریا نے ناسمجھی سے اسکو دیکھا۔۔۔
کیا مطلب؟۔۔
ارے آنی کل شازیب بھائ نے ٹیرس سے الٹا لٹکایا تو دل گردھے پھیپھڑے سارے بائے روڈ دماغ میں ایسے داخل ہوئے جیسے جنگ کے دنوں میں افغانستان پاکستان میں اور میرے بچارے رحم دل دماغ نے کسی کو واپس بیجنے کی بجائے سبکو جگہ نا ہوتے ہوئے بھی جگہ دی۔۔ اور اب جگہ کم ہے مٹیریل زیادہ تو بلکل وہی حال ہے جو وسائل کم اور آبادی زیادہ کا ہوتا ہے۔۔
عارب کی اتنی بڑھی تقریر پہ ریا سر جھٹک کے ناشتہ بنانے لگی وہ بھول گئ تھی کے رشی اور عارب کو سیریس لینا فضول ہے۔۔
ہائے ہائے کسی کو پرواہ ہی نہیں آج بیوی ہوتی تو چائے ہی پلا دیتی۔۔۔
عارب نے ایک آنکھ کھول کے دیکھا تو ریا کو کام میں مگن پایا پھر سے اپنے دکھڑے رونے لگا اسکی اوور ایکٹینگ پہ ریا بمشکل ہنسی روکتی کام میں لگی رہی۔۔
آہہہہ جنگلی۔۔
تب ہی کچن میں رشی داخل ہوئ اور ایک زوردار مکا عارب کی کمر میں رسید کرتے فروٹ کی ٹوکری سے سیب اٹھا کے کھانے لگی جبکہ عارب اسکو دیکھ کے دانت ہی چبا سکا رشی بھی اسکا غصہ ہوا میں اڑاتی پاس براجمان ہوئ۔۔
کیا ہوا کیوں صبح صبح خالہ رشیدہ کی طرف بین کر رہے ہو۔۔
رشی نے سیب کھاتے ہوئے پوچھا تو عارب کا منہ کھل گیا کہ کہاں وہ سمارٹ ہینڈ سم سا لڑکا اور کہا وہ خالہ رشیدہ جس کا منہ ہر وقت پان سے لال رہتا تھا۔۔ اسکا عکس ذہن میں آتے ہی عارب نے جھرجھری لی اور اپنے خیال پہ دو لفظ بیجتے دونوں بازو فولڈ کرتے میدان میں کودا ۔۔
اب یہ کیسے ممکن تھا کہ رشی اور عارب بیٹھے ہو اور لڑائ نا ہو۔
ریا نے دونوں کو تیار ہوتا دیکھا تو پاس پڑھی روئ دونوں کانوں میں ٹھونس کے ناشتہ بنانے لگی۔۔
خود کو دیکھا ہے خالہ رشیدہ کے پان والے خالی ڈبے جیسی شکل ہے تمھاری اور قد دیکھو جیسے باندروں کے لشکر میں سب سے چھوٹا اور کمزور بچہ ہو جسے پولیو ہوا ہو۔۔ عارب کے کہتے ہی رشی نے اسے غصے سے دیکھا اور دونوں بازو پیچھے کرتی کرسی پہ چڑھ کے عارب کے بال پکڑ گئ۔۔
آہہہہہہ چھوڑو جنگلی بلی کی دم۔۔
عارب نے خود کو چھوڑوانے کی کوشش کی مگر نا کام رہا رشی نے بہت مضبوطی سے بال پکڑے تھے جس کے نتیجے میں بچارے عارب کے آدھے بال تو رشی کے ہاتھوں میں لگے پسینے سے چپک گئے تھے۔۔
چھوڑ دو پیاری رشی دیکھو میرے بھائ کی بارات ہے گنجا اچھا تھوڑی نا لگوں گا۔۔
عارب نے آس پاس نظر دوڑائ مگر دور دور تک کوئ مددگار نا پا کے فورأ لائن پہ آیا ۔۔
پہلے گن کے پورے سو بار بولو پیاری رشی سوری تم اچھی ہو عارب باندر ہے۔۔
رشی کی فرمائش پہ عارب کا دل کیا اس آفت کو دیوار پہ رکھ کے کیل ٹھوک دے مگر اس وقت بال چھڑانے تھے بچارہ بولنا شروع ہوا۔۔۔
پیاری رشی سوری تم اچھی ہو عارب باندر ہے۔۔ عارب انگلیوں پہ گن گن کے بول رہا تھا جبکہ باہر سے گزرتی بریرہ نے بس الفاظ سنے منظر نا دیکھا تو سمجھی شاید عارب کو جن چمڑ گیا ہے۔۔ وہ جو پہلے ہی جنوں سے ڈرتی تھی بھاگ کے کمرے میں گئ اور دروازہ بند کرکے منہ پہ کمبل لیتی اونچا اونچا کلمہ پڑھنے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو بار پورا ہونے پہ رشی نے عارب کے بال چھوڑے اور کرسی پہ گردھن اکڑا کے بیٹھ گئ عارب نے خون خوار نظروں سے اسے دیکھا اور اپنا سر دبانے لگا جبکہ اسکے دیکھنے پہ رشی معصوم شکل بنا کے آنکھیں ٹمٹماتے مسکرانے لگی۔۔۔۔
اچھا اب بتاو کیا ہوا تھا؟۔۔
رشی نے پوچھا تو عارب کو ایک بار پھر کل والا غم یاد آیا ہاں رشی کے بال پکڑنے سے ایک فائدہ ہوا تھا اوور لوڈ چیزیں جو دماغ میں گھسی تھی واپس اپنی اپنی جگہ سیٹ ہوگئ تھی۔۔
عارب نے رشی کو بتایا تو رشی پیٹ پہ ہاتھ رکھ کے ہنس ہنس کے پاگل ہوگئ ۔۔۔ کیا اسکا بھگتنا عارب کو پڑھا یہ سوچ آتے ہی رشی نے پھر قہقہہ لگایا۔۔
بس کرو منہ پھاڑ پھاڑ کے نا ہنسو پھٹ گیا تو شادی میں منگول کی آخری ورژن لگو گی۔۔
عارب نے خفگی سے کہا تو رشی پھر گلہ پھاڑ پھاڑ کے ہنسنے لگی صرف عارب کو چڑانے کے لیئے۔۔۔
اففف عاربے کتنا ڈرتے ہو تم اپنے اس منگول بھائ سے ہاہاہاہاہاہاہاہااہاہ ۔۔
رشی کرسی پہ کھڑی ہوتی بولی تو عارب کی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے باہر آنے کو تھی اس سے کچھ بولا نا گیا۔۔
پتا ہے عاربے مجھے لگتا ہے نا تمھارہ بھائ کسی دن اپنے غصے کی وجہ سے گھر میں منگولوں کی طرح اڑواڑواڑواڑو کرتا داخل ہوگا اور سامنے کھڑے ہر شخص کو دیکھ کے ایسے بولے گا اہم اہم۔۔
نویان کی جہنم میں خوش آمدید ہاہاہاہاہااہ۔
رشی مردوں کی آواز نکالتی میز کے کونے پہ بیٹھتے ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے ایک بازو دونوں ٹانگوں پہ ٹکا کے بولی اور اپنی بات سے محظوظ ہوتی خود ہی ہنسنے لگی جبکہ عارب ہنسنی روکنے کے چکر میں دوھرہ ہوگیا تھا۔۔
اور پتا ہے عاربے تم اسکے الو بیلچی ہو گے وہ جو اسکے پیچھے پیچھے ڈھول بجاتا آ رہا ہوتا ہے ہاہاہاہاہاہاہاہااہا ۔۔
رشی ہاتھ پہ تالی مارتی بولی جبکہ عارب کا چہرہ سرخ ہوگیا ہنسی روکنے کے چکر میں جبکہ وہ معصوم شکل بنائے کھڑا تھا ۔۔۔
عارب شاہ ارتغرل کو خاضر۔۔۔۔
رشی نویان کی نقل اتارتے پیچھے مڑی مگر شازیب کو کھڑا دیکھ کے آدھی بات اسکے منہ میں ہی رہ گئ جبکہ شازیب سرخ چہرہ لیئے اسے گھور رہا تھا جیسے ابھی چھت سے نیچے پٹخ دے گا۔۔
شازیب نے زور سے کرسی کو پاوں مار کے دور اچھال دیا۔۔
جس سے عارب اور رشی اپنی جگہ سے اچھل گئے جبکہ رشی کی ہلکی سی چینخ نکل گئ۔۔
کرسی کے دیوار کے ساتھ زور سے لگنے کی وجہ سے ریا بھی ڈر گئ اور کانوں سے روئ نکال کےمعاملہ سمجھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
شازیب نے میز پہ پڑھی ساری پلیٹیں زمین پہ دے ماری اور تن فن کرتا کمرے میں چلا گیا جبکہ رشی آنکھوں پہ ہاتھ رکھے زور زور سے رونے لگی۔۔ ڈر تو عارب بھی گیا تھا شازیب کے اتنے شدید ریکشن سے۔۔۔
ریا سمجھ گئ تھی شازیب ابھی دادا جی کے پاس سے واپس آیا تھا اور دادا جی کے حکم نے اسکا دماغ ہلا دیا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شازیب۔۔
عازب کمرے میں داخل ہوتا بولا تو شازیب جو بیڈ پہ اوندھے منہ لیٹا تھا سیدھا ہو بیٹھا جبکہ پورا کمرہ کباڑخانے کا منظر پیش کر رہی تھی۔۔
جی بھائ۔۔
شازیب نے سر جھکائے کہا تو اسکی آواز سے محسوس ہوا جیسے وہ رو رہا ہو۔۔
یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے؟۔۔
عازب نے اسکے بال سنوارتے ہوئے کہا تو شازیب نے عازب کی گود میں سر رکھ لیا ۔۔
عازب کو خوشگوار حیرت ہوئ ایسا زندگی میں پہلی بار ہوا تھا۔
بھائ دادا جی بہت مشکل کام کہہ رہے ہیں جو نا ممکن ہے۔۔
شازیب نے کہا تو عازب نے اپنی ہنسی روکی کیونکہ وہ اس وقت ہنس کے شازیب کو مزید غصہ نہیں دلا سکتا تھا۔۔
اس میں مشکل کیا ہے؟۔
عازب نے ہنسی دباتے کہا تو شازیب نے دانت پیسے۔۔
بھائ آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ مشکل فیصلہ کیا ہے اس سے بہتر ہے آپ لوگ مجھے بارڈر پہ بھیج دے ۔۔
شازیب نے غصے سے کہا تو عازب کا قہقہہ بلند ہوا۔۔۔۔
بھائ آپ ہنس رہے ہیں۔۔
شازیب نے شکوہ کیا تو عازب ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ کے ہنسی روکنے کی کوشش کرتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگا۔۔
بھائ آپکو پتا ہے وہ مجھے سڑئل منگول اور پتا نہیں کیا کیا بولاتی ہے ذرا عزت نہیں کرتی اور بات کرتے ہوئے میڈم کو خود ہی اندازہ نہیں ہوتا سیدھا میز پہ چڑھ جاتی ہے اور غصے میں سامنے والے کے بال تک نہیں چھوڑتی افف۔۔۔
شازیب رشی کی خوبیاں بیان کرتے کرتے سر پکڑ گیا جبکہ عازب ہنسا اور ہنستا ہی چلا گیا۔۔
شازیب نے ناراض محبوبہ کی طرح منہ پھلایا تو عازب نے اسے گلے لگایا۔۔
میرا بچہ تمھارہ دکھ سمجھ سکتا ہوں ہاہاہاہاہاہاہاہااہاہ ۔۔۔
عازب کی ہنسی نہیں رک رہی تھی شازیب کی شکل دیکھ کے۔
بھائ۔۔
شازیب نے سنجیدہ سا منہ بنا کے کہا تو عازب بھی سیریس ہوا۔
دیکھو شازیب جہاں تک رشی کی شرارتوں کی بات ہے تو وہ وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ جائے گی باقی تو کوئ مسلہ نہیں ہے نا تم بھی جانتے ہو وہ بچگانہ ذہنیت کی مالک ہے دادا جی چاہتے ہیں وہ ہمیشہ اسی گھر میں رہے تم بھی دیکھے بھالے ہو اور دادا جی کو تم دونوں ایک دوسرے کے لیئے بیسٹ لگے تب ہی دادا جی نے فیصلہ کیا ہے۔۔ کل کو باہر سے بہو لاتے ناجانے وہ کیسی ہوتی اور رشی بھی ناجانے کیسے لوگوں میں جائےتب ہی دادا جی نے تم دونوں کو ایک ساتھ باندھنے کا فیصلہ کیا ہے ہاں مانتا ہوں رشی تھوڑی شرارتی ہے مگر دل کی اچھی ہے۔۔
شازیب عازب کی بات سن رہا تھا مگر آخری بات پہ زوردار جھٹکا لگا۔۔
تھوڑی شرارتی یہ کہنا چاہیئے اس پورے میں رشی کم ہے شرارتیں زیادہ۔۔
شازیب نے منہ بنا کے کہا تو عازب زورسے ہنساپھر باہر آگیا۔۔
شازیب بھی آگے کا سوچنے لگا اس جن کی دم کو بوتل میں کیسے بند کرنا ہے جو کچھ دیر بعد اسکے گلے پڑھنے والی تھی
♧♧♧♧♧♧♧♧
شازیب کو تو منا لیا گیاتھا اب باری تھی رشی کو منانے کی جو سب مشکل پہ بھاری تھی۔
دادا جی اور ریا رشی کے کمرے میں داخل ہوئے ریا کے ہاتھ میں تین شاپنگ بیگز تھے۔۔۔
رک جائیں وہی خبردار کوئ کمرے میں داخل ہوا تو میں کسی کو اجازت نہیں دینی یہاں میں اکیلی تیار ہونگی ۔۔
اسکی پہلی بات سنتے ہی دادا جی اور ریا ڈر کے دروازے میں ہی کھڑے ہوگئے کیونکہ رشی ہاتھ میں ہیئر برش تھا جو ان دونوں کی طرف کیئےوارن کر رہی تھی۔۔
مگر اسکی اگلی بات سن کے دادا جی مسکرائے اور ریا نے سر پکڑا اسکی آفت افف۔۔
بیٹا ہم نے بس آپ سے بات کرنی ہے۔۔
دادا جی ہاتھ کھڑے کرتے بولے تو رشی نے دونوں کو کمرے میں آنے کی اجازت دی اور ایکسرے کرتی نظروں سے شاپنگ بیگ میں جھانکا مگر کچھ نظر نا آیا تو شرافت سے بیڈ پہ ٹک گئ۔۔
بیٹا آپ سے ایک بات کرنی تھی۔۔
دادا جی صوفے پہ بیٹھتے بولے تو رشی نے ماتھے پہ ہاتھ مارا۔۔
افففو دادا جی میرےکو پتا ہے بات کرنے آئے ہے میں نے کب کہا آپ لوگ فروٹ بیچنے آئے ہیں۔۔
رشی نے ہاتھ نچا کے کہا تو ریا نے اسے دیکھ کے گھورا اور شرمندگی سےسر جھکایا جبکہ دادا جی اپنے لاڈ پیار کا نتیجہ دیکھ کے مسکرانے لگے۔۔
رشی تمیز نامی کوئ چیز ہے تمھارے پاس۔۔
ریا نے گھور کے کہا تو رشی نے معصوم شکل بنائ۔۔
نہیں ریا بہن آپ نے لے کے ای نہیں دی تھی شاپنگ کرتے ہوئے۔۔
رشی نے کہا تو ریا نے سر پکڑا کیا کرے وہ اس لڑکی کا۔۔۔
رشی بیٹا بات یہ ہے کہ ہم نے آپ کے لیئے ایک فیصلہ کیا ہے ہم چاہتے ہیں آپکی شادی کردے اور آپ ہمارے پاس ہی رہے اس لیئے ہم نے آپکی شادی شازیب سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔ رشی جو دادا جی کی پہلی بات پہ شرما کے ڈوپٹے کا کونہ منہ میں دبائے بیٹھی تھی آخری بات سن کے شاکڈ رہ گئ ۔
ایک نظر دادا جی کو دیکھا ایک ریا کو اور بیڈ پہ کھڑے ہوتے زور زور سے چلانے لگی نا نا نا۔ مجبورأ دادا جی اور ریا کو کانوں پہ ہاتھ رکھنے پڑھے یہی ریا کی بس ہوگئ اور ایک جوتا اٹھاتی رشی کی کمر پہ رسید کر گئ۔۔
جوتا پڑھتے رشی کی نا نا کی چلتی ٹرین کوبریک لگی۔۔
دیکھو ریا بہن یہ زور زبردستی کرکے آپ لوگ مجھ مظلوم پہ ظلم نہیں کر سکتے۔۔
رشی نے ہاتھ نچا نچا کے کہا تو ریا نے دوسرا جوتا اتارا مگر دادا جی نے اسکا ہاتھ پکڑ کے روک لیا۔۔
تب ہی عارب بھی کمرے میں داخل ہوا اور رشی کی حالت دیکھ کے مزے لینے لگا۔۔
دیکھے ریا بہن یہ اکیسویں صدی ہے اس میں زور زبردستی نہیں چلے گی۔ آپنے اپنی مرضی سے شادی کی دادا جی نے بھی دادی کو لڈو گیم میں پسند کرکے شادی کی اور اب عازب بھائ بھی پسند کی کر رہے ہیں یہ چوہا عاربہ بھی ہماہ پہ اپنے ڈورے ڈال رہا ہے پسند کی شادی کرنے کے لیئے تو میں کیوں یہ ظلم سہوں۔۔
رشی نے غصے میں سب کے پول کھول دئیے اسکی چلتی مشین دیکھ کے عارب تو وہاں سے غائب ہوگیا جبکہ بچارے دادا جی خود پہ لگا لڈو کا الزام لے کے ہی رہ گئے۔۔
اسکی ٹرین پٹڑی سے اترتی دیکھ کے ریا نے دوسرا جوتا بھی اسکی کمر میں رسید کیا جبکہ رشی پہ کوئ اثر نا ہوا تھوڑی دیر کمر دبانے کے بعد پھر سیدھی ہوگئ۔۔۔
دیکھو بیٹا ہم چاہتے ہیں ہماری بیٹی ہمیشہ ہمارے پاس رہے ہماری آنکھوں کے سامنے۔۔
دادا جی نے پھر سے سمجھانے کی کوشش کی تو رشی نے ناک سے مکھی اڑائ۔۔
دیکھو دادا جی بات صاف سی ہے مینو ذرا وی شوق نہیں ساری عمر اس گھر تے رہن دا تے آپکی اس جلاد بہو کی جوتیاں کھانے کا جسکی مہنگی چپل ایسے نا ٹوٹے تو مجھ بچاری کی کمر پہ مار مار کے توڑتی ہے۔۔
رشی نے ہاتھ ہلا کے کہا تو بچارے دادا جی اپنی خفت مٹانے کے لیئے ادھر ادھر دیکھنے لگے جبکہ ریا نے پاس پڑھی رشی کی چپل بیڈ پہ اچھالی جسے اس دفعہ رشی نے کیچ کر لیا۔۔
دادا جی سوچ کے رہ گئے کہ انکی جذباتی بات پہ انکی پوتی انکے گلے آ لگے گی اور کہے گی جیسے آپکی مرضی دادا جی مگر بھول گئے تھے سامنے رشی ہے دنیا کی آخری آفت۔۔
رشی بس بہت ہوگیا پارلر والی آرہی ہے چپ چاپ تیار ہو جاو آج تمھارا نکاح ہے اور دو ماہ بعد رخصتی آئ سمجھ۔۔
ریا غصے سے بولی تو رشی بیڈ پہ اچھلی اور زور سے نا بولا۔۔
رشییییی۔۔
ریا نے زور سے اسکا نام چبایا تو رشی بیڈ پہ آلتی پالتی مار کے بیٹھ گئ اور انگلی سوچنے کے انداز میں گال پہ رکھی۔۔
وہ جو مرضی کر لیتی یہ تو طے تھا اسے بڑھو کی بات ماننی تھی۔۔
میں نہیں کروں گی بس کوئ گنجائش ہی نہیں۔۔
کچھ دیر سوچنے کے بعد پھر سے بیڈ پہ کھڑی ہوتی بولی تو ریا اور دادا جی نے سر پکڑا وہ سوچ رہے تھے اب مان جائے گئ مگر یہ دنیا کا آخری بگڑھا پیس ہے۔۔
ابا جی آپ جائیں سب کام دیکھے شام تک یہ آپکو نکاح کے لیئے تیار ملے گی وہ سنا تو ہوگا لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔۔
ریا نے بازو فولڈ کرتے کہا تو دادا جی باہر چلے گئے جبکہ رشی ریا کے خطرناک تیور دیکھ کے بھاگنے لگی مگر ناکام ہوگئ ریا نے پہلے ہی دروازہ بند کر دیا۔( اب رشی کو دولہن کیسے بنایا گیا وہ رہنے دے ورنہ کچھ لوگ پھر کہنے آجائیں گے کہ لکھنا نہیں آتا تمہیں سمجھ تو گئے ہونگے کچھ عظیمممممم رائٹر 😎 چلے اب ڈائریکٹ نکاح پہ چلتے ہیں سب تیار ہوجائیں اچھے اچھے کپڑیں پہن کے آئیے گا اور خبردار جو کھانے میں کسی نے ہاتھ مارے تو اس کے لیئے ہماری رشی کافی ہے)۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧
ریشال شاہ ولد احرام شاہ آپکا نکاح شازیب شاہ ولد یارم شاہ سے حق مہر دس لاکھ سکہ رائج الوقت کے طے پاتا ہے کیا آپکو قبول ہے۔۔
مولوی صاحب کے الفاظ ہال میں گونجھے تو چادر لیئے بیٹھی شو شو کرتی رشی نے آنکھیں ٹمٹمائ۔۔
نہیں۔۔
رشی کے انکار پہ سبکو سانپ سونگھ گیا۔۔ ریا کا دل بند ہوتا اس سے پہلے رشی نے منہ سے چادر ہٹائ۔۔
سبکی نظریں اس پہ ٹک گئ وہ بالکل معصوم گڑیا لگ رہی تھی مگر صرف شکل سے۔۔
نہیں قبول مولوی مجھے۔۔ رشی نے غصے سے کہا تو شازیب نے دانت پیسے یہ لڑکی اسکا تماشہ بنا رہی تھی۔۔
کیوں نہیں قبول۔۔
عازب کی سنجیدہ آواز پہ رشی نے مڑ کے اسے دیکھا اور چادر صوفے پہ رکھتی کھڑی ہوگئ۔۔۔
کیوں کروں قبول جب میری کوئ شرط نہیں مانی گئ نا رسمیں پوری ہوئ۔۔
رشی نے کمر پہ ہاتھ رکھ کے کہا تو ریا نے ناسمجھی سے اسے دیکھا کہ کونسی رسم چھوڑی تھی اس آفت کی پڑیا نے۔۔
کونسی شرط اور رسمیں۔۔
عازب نے پوچھا تو رشی نے ماتھے پہ ہاتھ مارا۔۔
ارے بھائ شرط نہیں شرطیں شرطیں۔۔
رشی کے بولتے ہی سب نے اپنی ہنسی چھپائ سوائے ریا اور شازیب کے جنکا بس نہیں چل رہا تھا اس آخری نمونے کو ایفل ٹاور سے نیچے پھینک دے۔۔۔
اچھا بتاو کونسی شرطیں۔۔
عازب نے ہنسی روک کے پوچھا۔۔
سب سے پہلے ابھی کے ابھی اپنی اس جلاد چچی سے بولے میری بھی نظریں اتارے جیسے زرتاشہ آپی کی اتاری تھی نکاح کے ٹائم۔۔ رشی کے کہتے ہی سب ہنسنے لگے جبکہ ریا نے اسے جوتا دیکھایا باقی سب سے نظریں بچا کے اور سیمہ پھپھو نے نظر اتاری تو رشی نے دانت دکھائے۔۔
اب آگے بولو۔۔
عارب اس دفعہ بولا تو رشی نے گلہ صاف کیا۔۔
میرے کمرے میں ابھی کہ ابھی دو سو چاکلیٹ پہنچائے ایک بھی کم نا ہو ہاں زیادہ ہو سکتی ہے۔۔ رشی کی اگلی شرط پہ سب نے ہوش ہوتے ہوتے بچے۔۔ اچھا منظور ۔۔ عازب نے چاکلیٹ کا آرڈر دے کے کہا۔۔ گھر کے سارے کام آپکا یہ جلاد بھائ کرے گا یہ نکاح نامے پہ لکھوائے۔۔
اسنے شازیب کی طرف انگلی کرکے اشارہ کیا تو سبکا قہقہہ بلند ہوا جبکہ شازیب بچارہ پہلو بدل کے رہ گیا۔۔
آگے۔۔
عازب پھر بولا تو رشی نے گردھن اکڑائ۔۔
اور ہنی مون۔۔
اس سے پہلے کہ رشی اپنی بات مکمل کرتی شازیب کھڑا ہوتا اچھا ٹھیک ہے دانت پیس کے بولا تو رشی اسکا غصہ دیکھ کے شرافت سے بیٹھ گئ اور نکاح قبول کیا۔۔
اسکے بعد دعا ہوئ (شازیب کی بخشش کی😂) ساتھ ہی شازیب اٹھ کے کمرے میں چلا گیا اسکے پیچھے ہی عارب بھی چلا گیا ریا بچاری بھی ان دونوں کے پیچھے گئ جبکہ رشی میڈم کو نئ فکر لاخق ہوئ کھانے کی فکر اپنی میکسی دونوں ہاتھوں سے اٹھاتے ہی رشی بھی کھانا ڈالنے لگی جبکہ سب اس عجوبے کو حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا وہ سمجھ جائے گی تم اسے تھوڑا ٹائم دو پلیز۔۔
ریا اسے سمجھاتے ہوئے بولی تو شازیب اٹھ کے کھڑکی کے پاس آیا پچھلے آدھے گھنٹے سے عارب اور ریا اسے سمجھا رہے تھے۔۔
آپ اسکا کہہ رہی ہیں کہ سمجھ جائے گی۔۔
شازیب نے کھڑکی سے باہر اشارہ کرکے کہا تو ریا نے کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں رشی مہمانوں کو کہنیوں سے پیچھے ہٹاتی کھانا ڈال رہی تھی۔۔ اسکو دیکھتے ہی عارب نے اپنی ہنسی روکی جبکہ ریا تن فن کرتی صحن میں آئ اور رشی کو بازو سے پکڑ کے کمرے میں لے جاکے بند کردیا جبکہ وہ بچاری کہتی رہ گئ ریا بہن دو نوالے کھانے دو بڑھی بھوک لگی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فنکشن شاہ ہاوس میں ہی تھا پھپھو بھی وہی آئ تھی فنکشن ختم ہوتے ہی رشی نے جیسے تیسے کرکے کھانا کھایا اور دولہن بنی بیٹھی پورے بیڈ پہ پھلائ چاکلیٹس گن رہی تھی۔۔
زرتاشہ کو عازب کے روم میں پہنچا دیا گیا جو بہت اچھا ڈیکوریٹ تھا عازب پھپھو اور ہماہ کو انکے گھر چھوڑنے چلا گیا تو پھپھو نے اسے وہی روک لیا کچھ مہمان بچے جن کو ریا نے کمروں میں پہنچا دیا اور خود بھی آرام کرنے چلی گئ آج بہت تھک گئ تھی دادا جی بھی آرام کرنے چلے گئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عازب نے شادی سے پہلے پورشن الگ بنا لیا تھا جس میں عازب عارب اور شازیب رہتے تھے گھر ایک ہی تھا بس سب کے پورشن الگ الگ ہوگئے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شازیب نے راستہ صاف دیکھا تو سیدھا رشی کے کمرے میں آن دھمکا جو چاکلیٹس گننے میں مصروف تھی۔۔
آپ یہاں کیوں آئے۔۔
رشی شازیب کو دیکھتے ہی بولی ۔ اس سے پہلے کہ شازیب نے انگلی اٹھا کے اسکو وارن کیا۔۔
آج جو تم نے کیا اسکی سزا تو ملے گی اور اگر آج کے بعد کچھ بھی الٹا کرنے کی کوشش کی تو چھت سے نیچے الٹا لٹکا دوں گا اور مجھے ذرا رحم نہیں آئے گا ۔۔
شازیب کی آواز پہ رشی یک ٹک اسے دیکھے گئ تو شازیب نے اسکو سمجھنے کا موقع دیئے بغیر چاکلیٹس کا بوکس اٹھایا اور روم سے نکل گیا بچاری رشی چلاتی رہی مگر اس جلاد نے ایک نا سنی اور ساری چاکلیٹس بچوں میں بانٹ دی..۔
تمہی ں یہ پنگا بڑھا مہنگا پڑھے گا مسٹر غصیلے۔۔
رشی دل میں سوچتی بولی اور اگلا پلان سوچنے لگی۔۔
♧♧♧♧♧♧
اچھا میں یہاں انگاروں کی طرح جل رہی ہوں اور یہ مسٹر یہاں گدھے گھوڑے گائے بھینس بیچ کے سو رہا ہے مسٹر غصیلہ ہنننن۔۔۔۔۔۔ وہ آہستہ سے دروازہ کھول کے اندھر جھانکتی دیکھ کے غصے میں بولی مگر آواز اسکے علاوہ کسی تک نہ پہنچی۔۔۔۔۔ بیٹا ابھی بتاتی ہوں یاد رکھو گے پنگا کس کے ساتھ لیا تم نے۔۔۔۔۔۔ آرام سے اندھر داخل ہوتے اسنے دروازہ بند کرتے احتیاط سے پاوں اٹھائے اور واشروم میں داخل ہوئ سامنے شیمپو کی بوتل دیکھ کے اسکی آنکھیں چمکی ۔۔۔۔ اب دیکھنا بچو نانی نہ یاد کرائ تو کہنا۔۔۔۔۔ اپنے کوٹ کی پاکیٹ سے انڈے نکال کے بیسن پہ رکھے شیمپو کی بوتل بیسن میں خالی کرکے انڈے توڑ کے بوتل میں ڈالے اور اچھے سے ہلا کر ڈکن دے دیا۔۔۔۔۔ بیسن میں پڑھا شیمپو پانی سے بہا کے بوتل اسکی جگہ پہ رکھی اور انڈے کے چھلکے شاپر میں ڈال کے پاکٹ میں رکھے اور احتیاط سے باہر نکلی۔۔۔۔ وہ سامنے ابھی بھی ویسے ہی سو رہا تھا۔۔۔ سو لو سو لو بچو جاگو گے تو طوفان ہی لانا ہے تم نے۔۔۔۔۔ چہرے پہ شرارتی مسکراہٹ سجاتی جیسے کمرے میں داخل ہوئ ویسے ہی باہر نکل گئ۔۔۔۔۔ شازیب ابھی بھی ویسے ہی سویا ہوا تھا یہ جانے بغیر کے اسکی منکوحہ اپنا عظیم کارنامہ انجام دے گئ ۔۔۔۔۔
انڈے کے چھلکے باسکٹ میں پھنکتی سب سے چھپتی چھپاتی وہ کھڑکی میں کھڑی ہوگئ جہاں سے شازیب کے کمرے کی ہر چیز واضح دیکھائ دے رہی تھی۔۔۔۔ ٹھیک 6:00 بجے شازیب کا موبائل الارم ہوا تو وہ جو کھڑکی کے پاس کھڑی اسکے جاگنے کا انتظار کر رہی تھی ایک دم اچھلی اور دونوں ہاتھ منہ پہ رکھ کے چینخ کا گلہ دبایا۔۔۔۔۔۔ شازیب الارم آف کرتا اٹھ کھڑا ہوا اور آنکھیں ملتا اپنے کپڑے اٹھاتا واشروم گیا تو وہ بھی الرٹ ہوئ۔۔۔۔۔ ابھی شازیب کو گئے 5 منٹ گزرے اسنے شازیب کے روم میں پانی بند کر دیا ۔۔۔۔۔ وہ جو واشروم میں شیمپو سمجھ سر پہ ڈال گیا مگر عجیب سی سمیل سے خطرے کی گھنٹی اسکے کان میں بجنے لگی اور بال سارے آپس میں چپک گئے تھے۔۔۔۔۔ مگر جیسے ہی شاور آن کیا پانی کا دور دور تک پتا نا تھا غصے سے وہ دروازہ ٹٹولتا باہر آیا کیونکہ انڈے آنکھوں میں جانے سے آنکھیں بند تھی۔۔۔۔۔۔ کھڑکی کے پاس کھڑی آفت اسکی حالت دیکھ کے ہستے ہوئے فورأ وہاں سے ہٹی کے کوئ دیکھ ہی نہ لے۔۔۔۔۔
شرفو شرفو۔۔۔۔۔۔ وہ روم میں آتا زور زور سے چلانے لگا بچارہ شرفو بھاگتا ہوا کمرے میں گیا مگر سامنے اپنے غصے سے بھرے صاحب کی حالت دیکھ کے ہنسی
روکنا مشکل ہوگیا مگر ڈرتے ہوئے بولا جی صاحب۔۔۔۔۔ صاحب کے بچے پانی کھولو جلدی۔۔۔۔۔ شرفو بھاگتا ہوا باہر نکلا اور پانی کھولا جو کسی نے باہر سے بند کیا تھا۔۔۔۔ پوری بوتل شیمپو کی سر پہ ڈال کے اسنے گھنٹہ لگا کے سر دھویا مگر سمیل ابھی بھی آرہی تھی۔۔۔۔ اسے انڈوں سے الرجی تھی چھنکیں اسکو پاگل کر رہی تھی۔۔۔۔ شازیب سوچ کے رہ گیا کہ گھر میں سب کو معلوم تھا پھر یہ حرکت کسنے کی وہ بھی اسکی موجودگی میں اسکے کمرے میں گھس کے کیونکہ رات جب سونے سے پہلے اسنے شاور لیا تھا تو وہاں شیمپو ہی تھا مگر اب انڈے۔۔۔۔۔ پرفیوم کی سپرے خود پہ کرتے اسکے ذہن میں ایک ہی آفت کا نام آیا تو اسکا پارا ہائ ہوا۔۔۔۔۔ تن فن کرتا وہ خالہ کے گھر داخل ہوا مگر سامنے کسی کو نہ پا کر سیدھا آفت کے کمرے میں گیا۔۔۔۔۔ اسکو گہری نیند میں دیکھ کے شازیب حیران ہوا۔۔۔۔۔ یہ بھی نہیں تھی تو پھر کون ہو سکتا ہے عارب تو گھر ہے ہی نہیں ۔۔۔۔۔ وہ آہستہ سے بولتا دروازہ بند کرتا واپس مڑا ۔۔۔ دروازہ بند ہوتے ہی اسنے پٹ سے آنکھیں کھولی اور شرارتی مسکراہٹ سجائ ۔۔۔۔۔ ابھی کہا شوہر جی ابھی تو شروعات ہے۔۔۔۔۔ وہ مسکراتی سونےلیٹ گئ ۔۔۔۔ آج مسٹر غصیلے کو لیٹ کراکے اسے دلی سکون ملا تھا۔۔۔۔۔