438K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 11

آنی ناشتہ دےدے میری بہت امپارٹنٹ میٹنگ ہے آج۔۔
شازیب نے کچن میں آتے ہی کہا تو ریا جلدی جلدی ناشتہ میز پہ رکھنے لگی۔۔
آنی کیا آپ نے صبح کسی کو میرے کمرے میں جاتے دیکھا؟
شازیب نے ریا سے پوچھا تو ریا نے نفی میں سر ہلایا۔
شازیب مزید الجھ گیا۔
کیوں کیا ہوا بیٹا؟۔
ریا نے اسے پریشان ہوتے دیکھا تو پوچھا۔۔
ناچار بھی شازیب نے ساری بات ریا کو بتائ۔
اففف رشی کیا کروں میں تمھارا؟
ریا نے آہستہ سے کہا مگر شازیب نے سن لیا۔
نہیں آنی وہ سو رہی ہے میں ابھی دیکھ کے آیا ہوں۔
شازیب نے کہا تو ریا کو شازیب کی معصومیت پہ ہنسی آئ۔
بیٹا تم ابھی نہیں جانتے ہو اسے۔
ریا سر نفی میں ہلاتی بولی تو شازیب نے خود کو روزانہ کوئ کارنامہ دیکھنے کے لیئے تیار کیا۔۔
اچھا ریا چلتا ہوں دیر ہوگئ ہے۔
شازیب تھوڑا سا ناشتہ کرکے اٹھ گیا وہ سوچ رہا تھا اب رشی کو لائن پہ لانا بہت ضروری ہوگیا ہے ایسے ساری زندگی نئے نئے تماشے برداشت سے باہر ہے اور شازیب کے لیئے تو نا ممکن۔
ہہہہم اب تم دن سکون سے گزارو نا تم کارٹون دیکھو نا کارٹونو جیسی حرکتیں کرو😏۔۔
جاتے ہوئے شازیب گھر میں wi-fi کا کنیکشن اتار گیا 😜۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریا بچےناشتہ دے دو اور یہ احرام کہا غائب ہے گھر میں فنکشن میں بھی مہمانوں کی طرح شرکت کی اسنے۔۔۔
دادا جی نے تھوڑا غصے سے کہا کیونکہ احرام صاحب گھر سے مکمل کٹتے جا رہے تھے۔۔
ایسی بات نہیں ہے ابا جی وہ مصروف ہیں کام بہت زیادہ ہے نا اس لیئے ۔۔
ریا نے صفائ دی تو دادا جی بس ہمم ہی کر سکے۔۔
اصلی بات تو دادا جی ریا بہن کو بھی نہیں بتا انکے شوہر صاحب ہاتھ سے نکلے جا رہے ہیں دوسری شادی کرلی ہے نا انہوں نے 😐۔۔
رشی کچن میں داخل ہوتی بولی تو ریا نے دانت پیسے جبکہ دادا جی ریا کو غصے میں دیکھ کے ہنسی چھپانے لگے اب رشی نے رج رج کے تنگ کرنا تھا۔۔
سوچ کے بولا کرو رشی پاپا ہیں تمھارے ماں باپ کے بارے میں کوئ ایسے بات کرتا ہے کیا😠۔۔
ریا نے غصے سے کہا۔۔
لو جی میرے پاپا ہیں تو کیا ہوا میرے پاپا پے کونسا پابندی ہے کہ وہ دوسری شادی نہیں کر سکتے😜۔۔
رشی دادا جی کو دیکھتے شرارت سے مسکرا کے بولی تو ریا مزید تپی کیا آفت تھی یہ توبہ۔۔۔
ہائےےےےےے دادا جی کیا کھایا تھا آپ نے اتنا تیز پیلا یرکان ہوگیا ہے آپکو ہائےےے اس میں تو
بندہ گیا😱😱۔۔
رشی کے چینخ کے بولتے ہی دادا جی کا منہ کی طرف جاتا ہاتھ رک گیا اور ہاتھ میں پکڑا نوالا پلیٹ میں گر گیا موت کے خوف سے رنگ پیلا پڑھنے لگا دادا جی نے ڈرتے ڈرتے دونوں ہاتھ چہرے پہ رکھے اور محسوس کیا انکو ٹھنڈا پسینہ آنے لگا😨😨۔۔
افففف🙆۔ ریا نے دادا جی کی غیر ہوتی حالت دیکھی تو رشی کے پاس آئ اور کھینچ کے اسکی آنکھوں سے پیلا چشمہ اتارا جس سے رشی کو سب پیلا پیلا نظر آ رہا تھا۔۔
کچھ نہیں ہوا ابا جی یہ چشمے میں اسے سب پیلا نظر آ رہا تھا۔۔
ریا دادا جی کو پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے بولی جنکی حالت پل میں مریضوں جیسی ہوگئ تھی😂۔۔
ہی ہی ہی ہی میرے کو یاد ہی نہیں رہا میں پیلا چشمہ لگایا ہے😁😁😁۔۔
رشی دانت دکھاتی بولی ۔۔
دادا جی نے چہرے پہ آیا پسینہ صاف کیا اور ناشتہ چھوڑ کے شیشے میں اپنا جائزہ لینے لگے کہی سچی کا یرکان تو نہیں ہوگیا😜😂( یہ وہم بھی نا اچھا بھلا بندہ بیمار کر دیتا ہے )۔۔
آہہہہہ آہہہہ😭😭۔۔
کچھ یاد آتے ہی رشی کرسی پہ پاوں رکھتے زور زور سے رونے لگی تو شیشہ دیکھتے دادا جی زور سے اچھلے😂 اور ناشتہ بناتی ریا بھی کھلے سپیکر پہ ڈر گئ۔
کیا ہوا رشی کیوں صبح صبح محلے والوں کو اپنی موجودگی کا بتاتی ہو😠۔
ریا اسکو دیکھ کے غصے سے بولی تو رشی مزید زور زور سے رونے لگی گھر میں داخل ہوتا عارب اسکا سپیکر کھلا دیکھ کے وہی دروازے پہ کھڑا ہوکے تماشہ دیکھنے لگا۔۔
ریا بہن شازیب بھا ۔۔۔
ابھی رشی کی بات پوری نہیں ہوئ تھی جب ریا نے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھ کے اسے شازیب کو بھائ کہنے سے روکا😜۔
رشی خبردار جو تم نے اب شازیب کو بھائ بولا نکاح ٹوٹ جاتا ہے کفارہ ادا کرنا پڑھے گا گناہ ہے شوہر کو بھائ کہنا یہ بندھے ہاتھ دیکھ لو میرے🙏۔۔ ریا با قاعدہ ہاتھ باندھ کے بولی تو رشی نے منہ بسورا😐۔۔
جبکہ دادا جی اور عارب ہنسنے لگے۔۔
ویسے رمضان میں سحری کے وقت رشی چھت پہ کھڑی ہوکے ایسے رویا کرو بچارے مولوی کا لوگوں کا جگانے کے لیئے سپیکر پہ بولنے والا ٹائم بچ جائے گا اور سحری کرلے گا😜۔۔ عارب اندھر داخل ہوتا بولا تو رشی نے اسے غصے سے گھورا۔ مگر سامنے عارب تھا رشی کو تنگ کرنے کا موقع کیسے ہاتھ سے جانے دے سکتا تھا۔۔
اسکی ایک ہی آواز پہ مردے بھی اٹھ جایا کریں گے ہاہاہاہاہاہاہاہااہا ۔۔
عارب ہنستا ہوا بولا تو رشی سارا رونا دھونا بھول کے عارب کی خبر لینے اسکے پیچھے بھاگی دادا جی ان دونوں کو دیکھ کے
ہنسنے لگے جبکہ ریا بچاری😐( اب ریا کے لیئے میں کیا ہی لکھوں الفاظ ختم ہوگئے ہیں میرے اس مظلوم کے لیئے😜😂)۔۔
ایک دوسرے کے بال کھینچ کے اب دونوں تھک ہار کے اگھٹے بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔۔
ویسے آنی مجھے اب تو اور بھی پکا یقین ہوگیا ہے مکافات عمل پہ۔۔
عارب ناشتہ ختم کرتا بولا تو ریا نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا کہ وہ کیسے۔۔
دیکھے نا شازیب بھائ نے مجھے سزا دی اس بات کی جو میں نے کی ہی نہیں اور اللہ نے شازیب بھائ کو ساری عمر کی سزا دے دی یعنی مجھ غریب کی آہ لگ گئ ہے انہیں😜۔۔
عارب ایک آنکھ دباتا شرارت سے بولا تو ریا نے رشی کو دیکھ کے ہنسی دبائ جب تک بات رشی کے پلے پڑھی عارب کمرا لاک کر چکا تھا اندھر سے😂۔۔
رک جا عاربے تجے بتاتی ہوں کوہے قاف سے اترے آخری دیو😠۔ خود کو دیکھا ہے ہر وقت ہماہ کو امپریس کرنے کے چکر میں رہتے ہو بھیا کی شادی پہ بھی تم اسے ترسی ہوئ مخلوق کی طرح دیکھتے رہے تھے اور پھپھو کے سارے کام بھی اسی لیئے کرتے ہو تاکہ پھپھو اپنی بیٹی تم جیسے لنگور کو دے دے 😒۔۔
رشی جو شروع ہوئ تو بریک لگانا بھول گئ اسکی زبان سے نکلتے بچارے عارب کے راز جو اس نے خوشی میں رشی سے شئیر کر دئیے تھے بھول کے نا صرف دادا جی اور ریا نے سنے بلکہ کمرے سے آتے عازب اور زرتاشہ بھی حیرانی سے سن رہے تھے جبکہ پھپھو اور ہماہ دروازے پے بت بنے کھڑے تھے اتنے بڑھے انکشاف پہ😂۔۔ اور کمرے میں بیٹھا بچارا عارب سر پکڑ کے پچتا رہا تھا اس نے اس پھٹے ڈھول کو اپنے راز بتائے ہی کیوں اور اگر بتا بھی دیئے تو اس شہد کی مکھی کے چھدے کو چھیڑا ہی کیوں😂۔۔
ہماہ غصے سے دروازے سے واپس چلی گئ اور جب رشی میڈم کی زبان تھکی تو وہ چپ ہوتی سب کو دیکھنے لگی تھی جو سب ایسی اسے دیکھ رہے تھے جیسے جنگل کی کوئ مخلوق شہر والوں میں آجائے جسے وہ پہلی بار دیکھے😂۔۔
رشی معصوم بنتی اپنا کالج بیگ اٹھاتی باہر نکل گئ ۔۔ جبکہ کمرے میں عارب خود کو دادا جی اور ریا کی عدالت کے لیئے تیار کر رہا تھا اس بات سے انجان کے رشی میڈم اس کے لیئے اصل مسلہ ہماہ کو بنا گئ ہے جو سب کارنامے سن چکی تھی😜۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧
کیا ہے😐۔۔
کالج میں داخل ہوتے ہی رشی کو حرم نظر آئ رشی اسکی طرف بڑھی مگر حرم اسے دیکھتے ہی کلاس میں چلی گئ رشی کلاس میں آئ تو حرم ایک کرسی پہ بیٹھی دوسری پہ پاوں رکھے رشی کو گھورنے لگی۔۔
تم نے نکاح کر لیا اور مجھے بتانا بھی گوارا نہیں کیا😢۔۔
حرم آنکھوں میں آنسو لے کے بولی تو رشی بیگ سائیڈ پہ رکھتی رلیکس سی حرم کے پاوں پہ بیٹھی جبکہ حرم کی مردوں کو جگانے والی چینخ برآمد ہوئ😱😂۔۔
اففف بھوتنی😠۔۔
حرم اسے دیکھ کے غصے سے بولی تو رشی کے ہننن کیا😏۔۔
تمھیں کیا بتاتی میں خود اپنے نکاح پہ مہمانوں کی طرح شامل ہوئ😕۔۔
رشی معصوم سا منہ بنا کے بولی تو حرم نے اسے حیرانی سے دیکھا ۔۔
وہ کیسے؟😳۔۔
رشی نے ساری بات بتائ تو حرم نے ہنستے ہوئے اسکی کمر میں تھپڑ مارا ۔۔ حرم کا بھاری ہاتھ رشی کے کمر پہ پڑتے ہی رشی کو بچپن کا سبق یاد کرا گیا😹۔۔
آہہہہ جنگلی😠۔۔
رشی غصے سے بولی تب ہی کلاس میں میم وریشہ داخل ہوئ اور رشی کو غصے سے دیکھا جو کلاس کا ڈسپلن خراب کر رہی تھی۔۔
ریشال شاہ سٹینڈ اپ😠۔۔
مس وریشہ زور سے بولی تو رشی اپنی جگہ پہ اچھلی اور منہ بسورتے ہوئے کھڑی ہوئ۔۔😐۔۔
کیا ہوتا ہے جنگی ذرا تعریف بتانا پسند کریں گی😠۔۔
مس وریشہ ایک ایک لفظ چبا کے بولی۔۔
میم جو جنگل سے گھوم کے آئے وہ جنگلی ہوتا ہے😕۔۔
رشی نے منہ بسور کے کہا تو پوری کلاس کا قہقہہ بلند ہوا جبکہ میم وریشہ اتنی نایاب معلومات پہ بے ہوش ہوتے بچی😂۔۔
اچھاااا تو آپ بھی جنگل گھومنے گئ کبھی😏۔۔
مس وریشہ نے اسے شرمندہ کرنا چاہا مگر انہیں کیا پتا انجانے میں کسے چھیڑ بیٹھی ہیں😜۔۔
نہیں ٹیچر میرے پاپا جی کی خاتون کہتی ہیں تم وہاں گئ تو پہچاننا مشکل ہوجائے گا کے رشی کونسی ہے😕۔۔
رشی معصومیت سے بولی تو مس نے دانت پیسے جبکہ پوری کلاس ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوگئ۔۔
ریشال شاہ گریڈ کیا ہے آپکا 😠۔۔
مس وریشہ نے پھر رشی کی چلتی ٹرین کو بند کرنے کی کوشش کی کہ کسی طرح وہ شرمندہ ہو مگر۔۔
ٹیچر میرے دادا جی کہتے ہے گریڈ نہیں بتانا کسی کو نظر لگ جاتی ہے😐۔۔
رشی بولی تو مس وریشہ کی یہی بس ہوگئ😂۔۔
ریشال شاہ کلاس سے باہر چلی جائیں😠۔۔
میم وریشہ دروازے کی طرف اشارہ کرکے بولی۔۔
ٹیچر بیگ لے کے جاوں😕؟۔۔
رشی معصومیت کی ساری حدیں پار کرکے بولی تو میم وریشہ نے خود کو پر سکون کرنے کے لیئے گہرا سانس لیا جبکہ پوری کلاس مس کو غصے کی دیکھ کے ہنسی روکنے کے چکر میں لال ہو رہی تھی کچھ نے تو دبا کے منہ پہ ہاتھ رکھ لیا تھا کہ کہی قہقہہ ہی نا نکل جائے اس نمونے کی بونگیوں پہ😂۔۔
ہاں اپنا بیگ لے اور نکل جائیں کلاس سے😠۔۔
میم وریشہ پھر خود کو کنٹرول کرتی بولی ۔۔
ٹیچر دوست کو بھی لے جاوں؟😕۔۔
رشی پھر سے بولی تو میم
کا دل کیا اسے دوسرے سیارے میں پٹخ آئے جو دماغ کا دہی بنا رہی تھی۔۔
ہاں ہاں پوری کلاس کو لے جاو😠۔۔
مس وریشہ نے غصے سے کہا تو رشی نے دوبارہ بیگ کرسی پہ رکھا۔۔
تو ٹیچر ایسے بولے نا آج آپ نے کلاس ہی نہیں لینی۔۔😕۔
رشی جیسے ہی بولی تو میم وریشہ اسکے پاس آئ اور بازو سے پکڑ کے دروازے کی طرف بڑھی😂۔۔
ٹیچر ٹیچر میری بات تو سن لو😐۔۔
رشی زور سے بولی تو میم وریشہ اسے چھوڑتے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
ٹیچر میری اٹینڈس تو لگا دو😐۔۔
رشی معصومیت سے بولی تو پوری کلاس جو کب سے ہنسی روک رہی تھی زور سے ہنسی اور میم وریشہ اسے باہر نکالتے دروازہ بند کر دیا اور غصے سے کلاس کی طرف دیکھا تو سب خاموش ہوگئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی پانچ منٹ گزرے تھے کہ رشی دروازہ کھول کے سر اندھر کرتی بولی۔۔
ٹیچر اندھر آ جاوں باہر بہت گرمی ہے😐۔۔
رشی منہ بسور کے بولی تو میم وریشہ نے اپنا سر پکڑا۔
اچھا اچھا ٹیچر میری بات تو سن لو پکا بس آخری بات😕۔۔
رشی بچوں کی طرح بولی تو دروازہ بند کرتی میم نے رک کے اسے دیکھا اور پوچھا کیا بات۔۔
ٹیچر اندھر آنے دو گھر سے چل کے آئ ہوں رکشہ والے میرے کو دیکھ کے رکشہ ہی نہیں روکتے😐۔۔
رشی معصومیت سے بولی تو نا چاہتے ہوئے بھی میم وریشہ ہنس دی جبکہ اسکی بونگیوں پہ پوری کلاس پیٹ پہ ہاتھ رکھے ہنس رہی تھی ۔۔
ایک شرط پہ۔
مس کے بولتے ہی رشی سیدھی ہوئ۔۔
اب آپ ایک لفظ بھی نہیں بولیں گی۔۔
مس کو اس پہ ترس آیا۔
ٹیچر کتنی دیر نہیں بولنا😐۔۔
رشی کلاس میں داخل ہوتی بولی۔۔
ابھی 30 منٹ باقی ہیں کلاس کے اس میں آپ نے نہیں بولنا۔۔
میم وریشہ گھڑی دیکھتے بولی۔۔
ٹیچر ایک لفظ بھی نہیں بولنا😐۔۔
رشی نے غم سے پوچھا۔۔
نہیں۔
میم وریشہ کتاب کھولتی بولی۔۔
ٹیچر یہ میرے کو اشارے کر رہی ہے اسکو ڈنگر بھی نہیں کہہ سکتی😕۔۔
رشی حرم کی طرف اشارہ کرکے بولی تو حرم گڑبڑھا گئ۔۔
ریشال شاہ چپ کرکے بیٹھ جاو😠۔۔
مس وریشہ کو نئے سرے سے غصہ آنے لگا رشی پہ جو انکا امتخان لے رہی تھی اور میم پچھتا رہی تھی اسکو دوبارہ اندھر بلا کے۔۔
ریشال شاہ آپ بتائے دنیا کی پہلی ویکسین کس نے بنائ؟۔۔
مس وریشہ لیکچر کے دوران سوال بھی پوچھ رہی تھی تو جب رشی سے پوچھا تو رشی انگلی ہونٹوں پہ رکھے کھڑی ہوگئ ۔۔
بتائیں۔۔😠
مس وریشہ تھوڑی زور سے بولی تو رشی ویسے ہی انگلی رکھے سر نفی میں ہلانے لگی۔۔
ٹیچر آپ نے کہا تھا نہیں بولنا😕۔۔
رشی انگلی ہٹا کے بولی
اور پھر انگلی منہ پہ رکھ لی۔۔
میں ہی اب پوچھ رہی ہوں بتاو دنیا میں پہلی ویکسین کس نے بنائ؟۔۔
مس وریشہ لفظ چبا کے بولی تو رشی نے منہ بسورتے انگلی ہٹائ۔۔
ٹیچر ڈاکٹر نے😐۔۔
رشی نے جواب دیا تو پوری کلاس کا فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا😂۔
اور میم وریشہ نے اسے خون خوار نظروں سے دیکھا ۔
واہ ریشال شاہ ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا😠۔
میم نے دانت پیس کے طنز کیا تو رشی میڈم لفظوں میں چھپی بے عزتی سمجھنے کی بجائے گردن اکڑانے لگی۔
ٹیچر میرے دادا جی بھی کہتے ہیں کہ میں بہت ذہین ہوں بس میں نے کبھی فخر نہیں کیا😌۔۔
رشی معصومیت سے بولی تو پوری کلاس کا فلک شگاف قہقہہ دوبارہ بلند ہوا جبکہ مس وریشہ بچاری کا دماغ گھوم گیا۔۔
اور رشی کو چپ رہنا ہی بہتر سمجھا ۔۔ پھر سارا ٹائم میم نے رشی کو سختی سے خاموش رہنے کا کہا اور کلاس ختم ہوتے ہی اللہ کا شکر ادا کرتی باہر نکل گئ جبکہ سر چکرا رہا تھا اس آفت سے پنگا لے کے😂۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧
ریا بہن Wi-Fi نہیں چل رہا میں نے کارٹون دیکھنے ہیں 😐۔۔
رشی ریا کے پاس آتی بولی تو ریا نے اسے بھگا دیا تو رشی دادا جی کے پاس پہنچی۔۔
دادا جیییی۔۔
رشی آفت کی طرح دروازہ کھول کے بولی دادا جی جو کتاب پڑھ رہے تھے کرسی سے اچھل گئے اور دل پہ ہاتھ رکھ کے دروازے میں کھڑے طوفان کو دیکھا۔۔۔Wi_fi نہیں چل رہا😐۔۔
رشی نے منہ بنا کے کہا۔۔
بیٹے عارب کو بولو ۔۔
دادا جی نے اسے ٹالنا چاہا تو رشی جی اچھا کرکےعارب کے کمرے میں داخل ہوئ۔۔
عاربے wi_fi نہیں چل رہا ٹھیک کردو میرا سوہنا بھائ😁۔۔
رشی عارب کے کمرے میں داخل ہوتی بولی تو عارب نے اسے بازو سے پکڑ کے باہر نکال دیا اور دروازہ لاک کر دیا۔۔
کنوارے ہی مرو گے سکے ککڑ😏۔۔
رشی بند دروازے کو لات مار کے بولی اور اب اسکے پاس آخری در بچا تھا۔۔
بھیا نیٹ نہیں چل رہا😐۔۔ رشی عازب کے پاس آتی بولی۔۔
اچھا میں دیکھتا ہوں گڑیا۔۔
عازب اسکے سر پہ ہاتھ رکھتا بولا اور کمرے سے نکل گیا جبکہ زری نے رشی کو اپنے پاس روک لیا ۔۔
صبح جو تم نے بولا رشی کیا وہ سچ تھا؟
زرتاشہ نے سوال کیا تو رشی کے بھوت بھی بھول گئے اسنے کیا کہا تھا۔۔
کیا ؟۔۔
رشی نے سوال کیا تو زرتاشہ نے ہماہ والی بات یاد کرائ۔۔
ہاں بالکل سچ تھا آپی یہ بڑھا میسنا ہے۔۔
رشی نے عارب سے بدلہ لینے کے لیئے کہا۔۔
اس سے پہلے کہ زری کوئ اور سوال کرتی عازب نے آکےبتایا کے wi_fi کنیکٹ ہو گیا ہے رشی خوشی سے اپنے کمرے میں بھاگی
♧♧♧♧
جاری ہے۔