438K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Eik Hai Aafat) Episode 6

آہہہہہہ۔۔۔۔۔ زمین پہ گرتے ہی رشی کی چینخ بلند ہوئ اور دماغ گھومنے لگا اسے ایسے محسوس ہوا جیسے دیوار سے سر مار بیٹھی ہو۔۔۔۔۔۔
اندھے ہو موٹے دیو۔۔ آنکھیں کیا آیدھی والوں کو عطیہ کر آئے ہو۔۔۔ ہائےےے میرا سر اگر پھٹ جاتا تو؟۔۔۔۔ تو میں کام کیسے کرتی پاگل ہو جاتی پھر میرے کام کون کرتا بال کون بن۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رشی جو گرتے ہی نون سٹاپ شروع ہو چکی تھی سامنے دیکھتے ہی اسکی جوہر دکھاتی زبان کو بریک لگی۔۔۔۔۔
آآپ۔۔۔۔۔۔ رشی شازیبکو دیکھتے ہی آنکھیں ٹمٹماتی کھڑی ہوئ۔۔۔۔
شازیب غصے سے اسے ہی دیکھ رہا تھا جو نا گھر میں کسی کو بخشتی تھی نا باہر۔۔۔۔
چلو میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔ شازیب نے اتنے غصے سے کہا کہ رشی اور حرم دونوں اچھل گئ ۔۔حرم نے تو باقاعدہ رونا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔
س سر ج جی م م من میں نے کچھ ن نہیں ک کیا۔۔۔۔۔۔ حرم نے روتے روتے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کیئے تو رشی اور شازیب دونوں نے اسکو حیران ہو کے دیکھا جو شازیب کو پتا نہیں کیا سمجھ رہی تھی۔۔۔۔
شازیب بلیک شرٹ اور جینز پہنے ہوئے تھا سر پہ پی کیپ جسامت سے بھی وہ کافی سمارٹ اور ہائیٹڈ تھا اور سے اتنا غصہ جس سے حرم اسے آرمی مین سمجھی اور اسے لگا رشی کی شرارت کی وجہ سے وہ انکو پکڑ کے لے جائے گا جس سے اسکا چھوٹا سا دل بہت ڈرا اور وہ شازیب کو صفایاں دینے لگی۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا ہے ایسے باندریوں کی طرح منہ کھول کے بھا بھا کیوں کر رہی ہو۔۔۔۔۔ رشی نے وہی کھڑے کھڑے حرم کی کلاس لی جو خوامخوا رونا دھونا ڈالے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔
ریشال شاہ۔۔۔۔۔۔ شازیب نے رشی کی چلتی زبان دیکھ کے غصے سے اسکا نام پکارہ تو حرم نے بھی حیران ہو کے دیکھا کہ کون ہے یہ جو رشی کو جانتا ہے۔۔۔۔۔
چپ چاپ چلو اب۔۔۔۔۔۔۔ ان دونوں کو چپ چاپ کھڑا دیکھ کے شازیب نے ایک بار پھر غصے سے کہا تو رشی کا میٹر ہی گھوم گیا جو کب سے برداشت کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
دیکھے مسٹر شازیب یارم شاہ۔ میں کوئ ملازم نہیں ہوں جو آپ ایسے مجھ پہ کب سے غصہ کر رہے ہیں بغیر وجہ جانے…. ٹھیک کہتی ہوں میں آپ ہو ہی مسٹر غصیلے ہر وقت غصہ ناک پہ رہتا ہے انہی حرکتوں کی وجہ سے آپکی ناک شریف ایک بار کٹ وی کھا چکی ہے۔اور میرے پے دوبارہ غصہ کیا نا تو دادا جی کو اور عازب بھائ کو شکایت کر دوں گی میں ۔ اور سوری بولیں میری دوست کو جو کب سے آپکو فوجی سمجھ کے بھا بھا کر رہی ہے سر درد کر دیا ہے پتا نہیں کونسے اینگل سے اس بھدو کو آپ فوجی لگے ہنننن..
رشی دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے شازیب کے سامنے کھڑی ہوکے بولنے پہ آئ تو بولتی چلی گئ اور باتوں کے ساتھ ساتھ منہ کے زاویے بھی بگاڑ رہی تھی۔۔ جبکہ شازیب حیران سا اس آفت کو دیکھ رہا تھا….جس نے سبکے سامنے اسکی ستھری کردی تھی۔آتی وہ شازیب کے کندھوں تک بھی نہیں تھی اوپر کو منہ اٹھا کے شازیب کو دیکھتے بےعزتی کرتے جہاں سبکو ہنسا گئ وہی شازیب کا پارہ بھی ہائ ہوا جبکہ حرم پریشانی سے اسکو دیکھ رہی تھی اور دوست سے معافی
والی بات پہ اسنے سر فورأ نفی میں ہلایا اور آنسو صاف کرنے لگی حقیقت تو یہ تھی کہ وہ شازیب سے بہت ڈر گئ تھی۔۔۔۔۔
آہہہہہہ ماماااااا جی۔۔۔۔۔۔ شازیب نے اسکو بازو سے پکڑا اور گاڑی تک لایا جبکہ رشی بچاری چینختی رہ گئ شازیب کے سامنے وہ بالکل بچی لگی جو سکول نا جا رہی ہو تو زبردستی چھوڑ کے آیا جاتا ہے…۔
شازیب نے آنکھوں سے حرم کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ ڈر کے مارے بیٹھ گئ جبکہ رشی کو ٹھوسنے والے انداز میں گاڑی میں بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔۔۔۔۔
رشی نیچے کرو پاوں پلیز۔۔۔۔۔۔ گاڑی چلتے ہی رشی نے شوز سمیت دونوں پاوں سیٹ پہ رکھے اسے پتا تھا شازیب بہت نفاست پسند ہے اور یہ عمل صرف اسکو غصہ دلانے کے لئے تھا۔۔ جبکہ اسکی اس حرکت پہ حرم نے منت بھرے لہجے میں اس سے کہا وہ جان گئ تھی یہ رشی کا کزن ہے جسے وہ ہر بات میں مسٹر غصیلہ کہتی ہے۔۔۔ لالالالا ہو ہو لالا ہووووو۔۔۔۔۔۔ رشی اسکو نظر انداز کرتے اونچی اونچی آواز میں بے سری سی سرعیں لگانے لگی۔۔۔۔۔۔
ریشاااااال شاہ سٹاپ ایٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شازیب نے شیشے سے پیچھے دیکھا تو رشی سیٹ پہ پاوں رکھ کے ساری سیٹ گندھی کر چکی تھی تو اسنے غصے کا گھونٹ بھرا مگر رشی کی بے سری لالا پہ اسکی بس ہو گئ۔۔۔۔۔
مقابل بھی رشی تھی بغیر اسکی طرف دھیان دیئے وہ اپنی دنیا میں مگن رہی ۔۔۔۔
اسکو نا چپ ہوتا دیکھ کے شازیب نے زور سے بریک لگائ تو رشی اور حرم دونوں کا سر اگلی سیٹ سے جاکے لگا حرم تو بچ گئ جبکہ رشی کا بازو شیشے سے ٹکرایا تو اسنے ایک غصے سے بھری نظر شازیب پہ ڈالی اور آگے ہو کہ پورا زور لگا کے گیئر گھوما دیا جسکی وجہ سے گاڑی پھر گئ غلط گیئر لگنے پہ شازیب نے بہت مشکل سے کنٹرول کی اور غصے سے رشی کو دیکھا جو بازو پکڑے اسے ہی گھور رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو اور لو پنگا…
اسے پکڑ کے رکھو اب اگر اسنے کوئ الٹی سیدھی حرکت کی تو تمہیں بھی اسکے ساتھ اٹھا کے ندی میں پھینک آوں گا۔۔۔۔۔۔۔ شازیب نے غصے سے حرم کو کہا ۔ جو ندی کا نام سنتے ہی ڈر گئ اور پورا زور لگا کے رشی کو قابو کیا چونکہ وہ ہائیٹ میں بھی رشی سے لمبی تھی اور صحت بھی تو وہ رشی کو قابو کرنے میں کامیاب ہوگئ رشی نے بہت کوشش کی چھڑوانے کی مگر ناکام رہی حرم نے دونوں ہاتھوں سے گیرا بنا کے رشی کو قید کر لیا۔۔ اسکے اس طرح رشی کو قابو کرنے پہ شازیب کو ایک پل کے لیئے بہت ہنسی آئ مگر وہ کنٹرول کر گیا۔۔۔ رشی نے
بہت کوشش کی چھڑوانے کی جب ناکام ہو گئ تو غصے سے شازیب کو گھورنے لگی کیونکہ حرم نے اب ایک ہاتھ دبا کے اسکے منہ پہ رکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔ آخر کار گھر کے پاس پہنچتے ہی حرم نے بھی سکھ کا سانس لیا اور فورأ اتر کے اپنی گلی میں بھاگی اسکو بھاگتا دیکھ کے رشی حیران سی گاڑی میں بیٹھی رہ گئ جبکہ شازیب نے نفی میں سر ہلایا کہ کوئ حال نہیں ایک آفت کا پرتولہ تو دوسری اتنی بزدل۔۔۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧
۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم۔۔۔۔۔ شازیب نے اندھر داخل ہوتے ہی غصے سے سلام کیا کو سب نے چونک کے اسے دیکھا۔۔۔۔۔ وعلیکم السلام کیا ہوا بیٹا؟ ۔۔۔۔۔۔۔ سلام کا جواب دیتے ہی ریا نے پوچھا مگر اس کے پیچھے آتی رشی کو دیکھتے سب سمجھ گئے کہ انڈیا اور پاکستان ٹکر گئے ہیں آپس میں ۔۔۔۔۔
اب آئے گا مزہ ۔۔۔۔۔۔ عارب جو صوفے پہ بیٹھا پاپ کارن کھا رہا تھا ان دونوں کو لڑنے کے لیئے تیار دیکھ کے بولا اور پاپ کارن چھوڑ کے رشی کو دیکھنے لگا جسکا چہرہ غصے سے لال ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔ آنی اس کو سمجھائے گھر تک تو پھر ٹھیک تھا مگر اب یہ باہر کے لوگوں کو بھی آرام سے جینے نہیں دیتی پوچھے اس سے آج اس کی وجہ سے میں سڑک میں سب کے سامنے بہت شرمندہ ہوا ہوں۔۔۔۔۔۔شازیب نے غصے سے کہا تو سب نے حیران ہوکے رشی کو دیکھا جو شازیب کو گھور رہی تھی۔۔۔۔۔۔ رشی کیا کارنامہ کیا ہے اب تم نے۔۔۔۔۔۔ ریا نے کھا جانے والی نظروں سے رشی کو دیکھا اور غصے سے بولی۔۔۔۔۔ کچھ نہیں کیا میں نے ریا بہن ہر وقت مجھ معصوم پہ شک نا کیا کریں یہ آپکے ہٹلر بھانجے کو غلط فہمی ہوئ ہے اور ویسے بھی یہاں ہر ایک کو میں ہی غلط لگتی ہوں دنیا چاہے جو مرضی کرے۔۔۔۔۔۔ رشی نے بھی زبان کے جوہر دکھائے تو شازیب اور ریا کا منہ حیرانی سے کھل گیا جبکہ اسکی ایکٹنگ پہ دادا جی عازب اور عارب کا چہرہ ہنسی چھپانے کی کوشش میں لال ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔
رشی تمیز سے بات کرو ۔۔ ریا نے غصے سے کہا۔۔۔۔۔۔
لو جی ایک تو مجھے آپ لوگوں کی سمجھ نہیں آتی کبھی کہتی ہیں ہم سے بات کرو اور کبھی تمیز سے ..اسے بھی بلا دے تاکہ وہ بھی مجھ معصوم کو ڈانٹ سکے بعد میں کسی کو کوئ غم نا رہے آہہہہہ۔۔۔۔۔۔
رشی جو مسلسل بولی جا رہی تھی ریا کی چپل کمر پہ لگنے سے ہوش میں آئ جبکہ اب سب کو ہنسی روکنا ناممکن لگا اور سب قہقہہ لگا کے ہنسے سوائے ریا اور شازیب کے ۔۔۔۔۔
شازیب غصے سے اسکو دیکھتا وہاں سے واک آوٹ کر گیا۔۔۔۔۔۔
انکو بولیں ریا بہن غصہ کم کیا کریں اب تو غصے کی وجہ سے منہ ہی ایک سائیڈ مڑ گیا ہے اور دیکھا نہیں ماتھے پہ زگ زیگ بن گیا ہے۔۔۔۔۔ رشی نے شازیب کے وہاں سے جاتے ہی اسکی شان میں قصیدہ پڑھنا اپنا فرض سمجھا۔۔۔۔۔
چپ رشی بالکل چپ ایک لفظ نا نکلے اب تمھارے منہ سے اور جاو جا کے سامان پیک کرو عازب آج ہی تمہیں پھپھو کے گھر چھوڑ کے آئے گا ۔۔۔۔۔ ریا غصے سے کہتی کچن میں چلی گئ۔۔ تو بھی زور سے عارب کے بال کھنچ کے سر صوفے
کی بیک سے لگا کے کمرے کی طرف بڑھی کیونکہ عارب نے اسے زبان دکھائ تھی۔۔۔۔۔
جنگلی۔۔۔۔۔ عارب نے سر ملتے ہوئے کہا۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧
سنو تو تم واقع جا رہی ہو؟۔۔
عارب نے رشی کے کمرے میں آتے ہی پوچھا جو سامان پیک کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
نہیں یہ سامان کا بڑا دل کر رہا تھا مل جل کے بیٹھنے کا انکی خواہش پوری کر رہی ہوں۔۔۔۔۔
رشی نے غصے سے کہا تو عارب نے بمشکل اپنی ہسی روکی۔۔۔۔۔۔
اچھا سنو کیا میں بھی تمھیں چھوڑنے ساتھ جا سکتا ہوں وہ عازب بھائ کہتے ہیں رشی مانی تب لے کے جائیں گے۔۔۔۔۔
عارب نے معصومیت سے کہا۔۔۔۔۔
کیوں تم کیا عازب بھائ کے باڈی گارڈ ہو جو راستے میں بلیوں کے اٹیک سے بچاو گے میں نہیں لے کے جا رہی۔۔۔۔۔
رشی نے ہاتھ نچا نچا کے بات مکمل کی اور سامان پیک کرکے کھڑکی کے پردے سیٹ کرنے لگی۔۔۔۔۔
اچھا سنو میری ایک شرط ہے۔۔۔۔۔ عارب جو اسکے انکار کرنے پہ وہاں سے جا رہا تھا اسکے بولنے پہ رک کے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
کیا شرط؟۔۔۔۔۔۔۔۔
عارب نے آئ برو اچکا کے پوچھا۔۔۔۔۔۔
تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا کچھ لوگوں سے بدلہ لینے میں۔۔۔۔۔
رشی نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے بات کی ۔۔۔۔۔
عارب نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو سر نا میں ہلانے لگا۔۔۔۔
نا بابا نا یہ بہت مشکل ہے۔۔۔۔۔
عارب شازیب کو دیکھتا بولا جو باہر لان میں بیٹھا ہینڈ فری لگائے لپ ٹاپ پہ کام کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اوکے ایز یو وش نہیں جانا چاہتے تو تمھاری مرضی۔۔۔۔۔۔۔
رشی کندھے اچکاتے باقی چیزیں سنبھالنے لگی۔۔۔۔۔
اففف بلیک میلر کی نانی بولو کیا کرنا ہوگا۔۔۔۔۔
عارب ہار مانتے ہوئے دانت پیس کے بولا۔۔۔۔۔
رشی نے سمائل پاس کی اور اسے پلان سمجھانے لگی۔۔۔۔۔
رشی تم مرواو گی۔۔۔۔۔
عارب رونی صورت بنا کے بولا۔۔۔۔۔
اففف بزدل کچھ نہیں ہوتا ہم ابھی جا رہے ہیں اپنے پلان پہ عمل کرتے ہی ہم گھر سے نکل جائیں گے واپسی پہ بول دینا رشی نے کیا ہے میں دو ہفتوں بعد واپس آؤں گی تب تک تمھارہ ہٹلر بھائ بھول چکا ہوگا۔۔۔۔۔۔
رشی نے سارا پلان سمجھایا تو عارب نے سکون کا سانس لیتے ہوئے ہامی بھری۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧
اچھا ریا بہن جا رہی ہوں خوش ہو جایں اب سکووووووون سے رہیں ۔۔۔۔۔۔ رشی سب سے ملتی آخر میں ریا کو کہتی اپنے نا نکلنے والے آنسو صاف کرتی باہر آئ جہاں عارب اسکا سامان گاڑی میں رکھ رہا تھا عازب گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔
رشی نو ۔۔۔۔۔۔۔ عازب نے اسے کسی شرارت کے تخت شازیب
کی طرف جاتے دیکھا جو ہینڈ فری لگائے اپنے کام میں مگن تھا تو اشارے سے روکا۔۔۔۔۔
بھائ بس لاسٹ ۔۔۔۔ رشی منت بھرے لہجے میں بولی تو عازب نفی میں سر ہلا کے رہ گیا ۔۔۔۔
ریا اپنے کام میں مگن تھی سو اسے رشی کی شرارتوں کی خبر نا تھی۔۔۔۔۔
رشی نے عارب کے ہاتھ سے پٹاخے پکڑے اور سارے آہستہ سے شازیب کی کرسی کے پاس رکھے ۔۔۔ آگ لگاتے ہی دونوں بھاگ کہ گاڑھی میں بیٹھ گئے۔۔۔۔۔ ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ ۔۔۔۔۔۔ شازیب جو کام کر رہا تھا پاس سے آتی آواز پہ زور سے اچھلا تو پلاسٹک کی کرسی کو اپنی شان میں شازیب کی یہ گستاخی برداشت نا ہوئ جس سے وہ شازیب کو زمین پہ اچھال گئ۔۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہااہا ہاہاہاہاہاہاہاہااہا ۔۔۔۔۔۔ شازیب نے کانوں سے ہینڈ فری ہٹاتے زمین سے اٹھتے سب سمجھنے کی کوشش کی مگر عازب۔عارب اور رشی کا قہقہہ اسے سب سمجھا گیا۔۔۔۔۔
اس سب میں عارب نے بس پٹاخے لا کے دئیے تھے باقی ساری کارستانی رشی کی تھی۔۔۔۔۔
آووووو مشٹڑ غشیلہ پٹاخے شے ڈل گیاچچچچچ۔۔۔۔۔رشی نے بچوں جیسا منہ بناتے ہوئے کہا تو شازیب غصے سے گاڑی کی طرف بڑھا۔۔ اس سے پہلے کہ وہ گاڑی تک پہچتا عازب نے گاڑی سٹارٹ کی اور گیٹ سے باہر نکالی۔۔۔۔۔ شازیب نے غصے سے گاڑی کو پاوں مارا تو بدلے میں رشی سر گاڑی سے نکال کے اسے زبان چڑانے لگی۔۔۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
جاری ہے
Asalam o alaikum.