Ek Hai Aafat Season 1 By Binte Hawa Readelle50337 (Ek Hai Aafat) Episode 2
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 2
ہی ہی ہی ہی ہی ہی رشی ہستے ہوئے وہاں سے بھاگ گئ اسکے ہنسنے پہ ریا ہوش کی دنیا میں لوٹی اور جلدی سے شازیب کے پاس آئ جو دونوں ہاتھوں سے اپنی ناک دبائے نیچے جھک گیا تھا۔۔۔۔ شاہ بیٹا ٹھیک ہونا تم دیکھاو مجھے۔۔۔۔۔۔ ریا نے پریشانی سے اسے اوپر کرتے پوچھا جسکا چہرہ درد سے سرخ پڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔ ریا کے جوتا پھینکتے ہی رشی نیچے ہوئ تو جوتا سامنے سے آتے شازیب کی ناک پہ گولی کی طرح لگا جس سے ایک پل کو تو اسے زمین آسمان گھومتے ہوئے محسوس ہوئے۔۔۔۔۔۔ جی ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔ شازیب اوپر ہوتا بمشکل بولا جبکہ ناک سوجھ گئ تھی اور سرخ جامنی رنگ کے نشان بن گئے تھے۔۔۔۔۔ ریا اسکا چہرہ دیکھ کے بہت شرمندہ ہوئ اور رشی پہ بے انتہا کا غصہ آیا۔۔۔ رشی سامنے آ میرے تیری ہڈیاں نہ توڑی تو کہنا۔۔۔۔۔ دل ہی دل میں رشی کا قیمہ بناتی ریا نے شازیب کو کرسی پہ بٹھایا اور اس کے لیئے دودھ بوائل کرنے لگی۔۔۔۔۔۔ کھڑکی کے ساتھ چھپ کے کھڑی رشی شازیب کی سوجھی ہوئ ناک دیکھ کے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئ کیونکہ شازیب کی ناک ٹماٹر کی طرح سرخ اور سوجھی ہوئ تھی۔۔۔۔۔ ریا نے کھڑکی کے باہر کھی کھی کی آواز سنی تو پیچھے مڑ کے دیکھا رشی کو دیکھتے ہی وہ دودھ شازیب کے آگے رکھتی باہر کی جانب خطرناک تیور سے بڑھی۔۔۔۔۔ اوہ مارے گئے۔۔۔۔۔ رشی ریا کو دیکھتے ہی پاس پڑھی غولیل اٹھائ اور گھر سے باہر بھاگ گئ کیونکہ آج تو دادا بھی کسی کام سے عارب کو ساتھ لے کے گھر سے باہر گئے تھے اسے بچانے والا کوئ نا تھا اور جتنا ریا کو اس پہ غصہ تھا آج تو وہ اسکا قیمہ بنا کے ہی دم لیتی۔۔۔۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧
لالا لالا ہووو لالا ۔۔۔۔۔۔۔۔رشی ہاتھ میں غولیل پکڑے درختوں کے ساتھ ساتھ چلتی ہاتھ ہوا میں لہرا رہی تھی ۔۔۔ مگن سی چلتی وہ کچھ دیر بعد زمین سے پتھر اٹھاتی اور غولیل سے دور ہوا میں اچھال دیتی۔۔۔۔۔۔ آہہہہہہہہہہہہہ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے آپ میں مگن اسنے زمین سے پتھر اٹھایا اور سامنے گھنے درخت میں دے مارا چینخ کی آواز پہ رشی ایک دم اچھلی۔۔۔۔۔۔ آئئئئئئ ماما جی بچاو بھوتتتتتتتت ۔۔۔۔۔۔ جب درخت سے صرف آواز آئ مگر کوئ نظر نہ آیا رشی الٹے قدم واپس بھاگتی چلائ۔۔۔۔۔ درخت میں چھپ کے بیٹھا حسام بھی بھوت کا نام سنتے ہی فورأ نکل کے بھاگا جو پچھلے آدھے گھنٹے سے ابا کی مار سے بچنے کے لیئے یہاں چھپ کے بیٹھا تھا مگر بھوت کے ڈر سے بھاگا۔۔۔۔۔۔ بچاوووووو بچاووووووو کوئ ہےےےےےے۔۔۔۔ رشی زور زور سے چلاتی بھاگ رہی تھی جب پیچھے آتے حسام کی سپیڈ اسنے دیکھی تو اور زور سے چلانے لگی ۔۔۔۔ پیچھے مڑ کے چلاتے وہ بھاگے جا رہی تھی جب جب وہ پیچھے دیکھ کے حسام کو بھوت سمجھ کے چلاتی تو حسام بھی پیچھے مڑ کے دیکھتا اور ذیادہ تیز بھاگتا کے بھوت اسے تو نظر بھی نہیں آرہا تھا کہی اس تک پہنچ ہی نہ گیا ہو..
دیکھو بھوت جی قسمے اج کے بعد میں کسی نو وی تنگ نہیں کرنا اللہ پاک جی کا وعدہ عاربے کو بھی بلاوجہ نہیں تنگ کروں گی بھوت جیییییی۔۔ مجھے مت کھانا پلیزززز۔۔۔۔۔۔ رشی روتے روتے بھاگ رہی تھی اور ساتھ بھوت کی منتیں بھی کر رہی تھی اسکو روتا دیکھ کے حسام مزید ڈر گیا کے پتا نہیں کتنا کوئ ڈرونا بھوت ہے اور اپنی سپیڈ اور تیز کی جس پہ رشی زور زور سے رونے لگی۔۔۔۔۔۔۔ بھوت جییییی میں بہت کڑوی ہوں قسمے نمک بہت کھاتی ہوں اور بچپن میں مٹی بھی کھاتی تھی میرا خون بہت گندہ ہے بھوت جییییی پلیز۔۔ رشی نے جب محسوس کیا حسام اسکے پاس پہنچنے والا ہے تو اسکا دل خراب کرنے کی کوشش کرنے لگی کے وہ نہ کھائے۔۔۔۔۔۔۔ آہہہہہ مامااااااااا۔۔۔۔۔ پیچھے دیکھتے بھاگتے بھاگتے وہ منہ کے بل گری اور زور سے چلائ اسکے گرتے ہی حسام اس تک پہنچ گیا اور اسکو کھڑا کرنے کے لیئے آگے ہاتھ بڑایا تاکہ بھاگ سکے مگر رشی جو اسے بھوت سمجھتی زور زور سے چلا رہی تھی اسکے ہاتھ آگے کرتے ہی رشی کی جان نکلی کے وہ کھانے والا ہے ابھی اسکے لمبے لمبے دانت برآمد ہونگے اور شکل بدل جا
ئے گی آنکھوں میں خون آجائے گا۔۔۔۔۔ خوفناک شکل ذہن میں آتے ہی جب رشی کو کچھ سمجھ نہ آیا تو حسام کا بڑا ہوا ہاتھ پکڑ کے اپنے دانت گاڑھ دیئے رشی نے اتنے زور سے کاٹا کہ حسام کی دل خراش چینج برآمد ہوئ اور جھٹکے سے دور ہوکے رشی کو گھورنے لگا۔۔۔۔۔ دیکھو بھوت جی میں تمہیں ہضم نہیں ہونگی اور میں تو ہوں بھی چھوٹی سی تمھارہ پیٹ کہاں بھرے گا۔۔۔۔ رشی نے اسے غصے میں دیکھ کے روتے ہوئے کہا تو حسام کو 100 واٹ کا جھٹکا لگا یعنی وہ اسے بھوت سمجھ رہی تھی اور اتنی دیر سے بھگا رہی تھی۔۔۔۔۔۔ اےےے میں بھوت نہیں ہوں ۔۔۔۔۔ حسام نے غصے سے کہا ۔۔۔۔۔ تو تو درخت میں تم نہیں تھے۔۔۔۔۔ رشی نے آنکھیں باہر نکالتے حیرت سے پوچھا۔۔۔۔ ہاں وہاں میں تھا مگر میں بھوت نہیں ہوں وہاں تو ابا سے چھپ کے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔ تو پھر بھاگے کیوں؟ ۔۔۔۔۔ رشی نے کھڑے ہوتے دونوں ہاتھ کمر پہ رکھتے پوچھا۔۔۔۔ وہ ہ وہ تو میں سمجھا سچی کا بھوت آگیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ حسام نے بتایا۔۔۔۔۔ ک ک کتاااااااااا رشی نے حسام سے نظریں ہٹاتے پیچھے دیکھا اور بھاگتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہاہا بےوقوف سمجھا ہے کیا جو ہر بار بھگاو گی تو میں پاگلوں کی طرح بھاگتا جاوں گا میں نہیں ڈرتا کتے سے۔۔۔۔۔۔ حسام نے اسکے بھاگتے ہی پیچھے سے ہانک لگائ اور گردن اکڑا کے بولا مگر پیچھے دیکھتے ہی اسکے چھکے چھوٹ گئے۔۔۔۔۔ اوہ تیری یہ تو سچی کا ہے ابا جیییییی بچاوووووو۔۔۔۔۔ حسام اپنے پیچھے ایک بڑھے سے کتے کو دیکھ کے چلاتا ہوا بھاگا جو فل سپیڈ سے آ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
دادا جی دادا جی بچائے پلیز رشی بھاگتے ہوئے گھر کے پاس پہنچی سامنے گاڑھی سے اترتے دادا جی کو دیکھتے ہی بھاگ کے انکے پاس آئ دادا جی اور عارب پریشانی سے اسکی طرف بڑھے انکے پاس پہنچتے ہی رشی دادا جی کے گلے لگ گئ اور گہرے گہرے سانس لینے لگی ۔۔۔۔۔ کیا ہوا بچے بتاو؟۔۔۔۔۔ دادا جی نے پریشانی سے پوچھا تو رشی نے پیچھے کی جانب ہاتھ سے اشارہ کیا دادا جی اور عارب نے اسکے ہاتھ کے اشارے کی طرف دیکھا جہاں ایک لڑکا بھاگ کے آرہا تھا۔۔۔۔۔ اسکو دیکھتے ہی دادا جی اور عارب کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا اور بغیر سوچے عارب آگے بڑھا حسام کی کلائ مڑوڑ کے کمر سے لگائ اور اسکے منہ پہ تھپڑو کی بارش کردی۔۔۔۔۔ وہ جو انکو دیکھ کے بھاگ کے انکے پاس آیا تھا تاکہ کتے سے بچا سکے اس اچانک مار پہ بوکھلا گیا اور اپنے آپ کو عارب کے مضبوط ہاتھوں سے بچانے لگا جسکا ایک ایک تھپڑ اسکو دن میں تارے دیکھا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ رک رک جاو عاربے می میری بات تو سن لو پوری سستے ہیرو۔۔۔۔۔ حسام کی چینخو پہ رشی نے مڑ کے دیکھا عارب حسام کو مار رہا تھا تو انکا غلط مطلب سمجھتے فورأ آگے بڑھ کے عارب کو روکا حسام کی جان چھوٹتے ہی وہ 10 قدم دور کھڑا ہوا عارب سے کانوں میں ساہیں ساہیں کی آواز آ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ کیا کیا سنو ہاں یہ۔۔۔۔۔۔ عارب غصے سے بولا اور دوبارہ حسام کی جانب بڑا جو اسے دیکھتے ہی الٹے قدم پیچھے ہوا۔۔۔۔۔ عاربے بات سنو اسنے کچھ نہیں کیا اندھے وہ ک کتا پیچھے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ رشی نے ایک ہی سانس میں بات کرتے دور اشارہ کیا جہاں کتا انہی کی طرف آرہا تھا مگر عارب کو نیچے جھکتا دیکھ کے مڑ کے بھاگا۔۔۔۔۔۔۔۔ عارب نے شرمندگی سے حسام کو دیکھا جو اپنی کلائ دبا رہا تھا جس پہ تھوڑی دیر پہلے رشی نے کاٹا تھا اور رہی سہی کسر عارب نے دبا کر پوری کردی تھی۔۔۔۔۔۔۔ سوری یار وہ میں ۔۔۔۔۔ عارب حسام کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے بولا مگر اسے سمجھ نہ آئ کیا کہے۔۔۔۔۔۔ عجیب خاندان ہے پہلے یہ بونی بھوت بنا کے بھگاتی رہی پھر وہ کتے کا بچہ پیچھے پڑھ گیا اور اب رہی کسر تم نے پوری کردی۔۔۔۔۔ اس سے اچھا تھا ابا سے دو تھپڑ کھا لیتا نہ اتنا بھاگنا پڑتا نہ چڑیل کاٹتی اور نہ اتنے زور سے تھپڑ کھانے پڑتے سارے دانت ٹوٹ کے ہلق میں چب رہے ہیں اس سے اچھا تھا کتا کاٹ لیتا اتنے زور سے وہ بھی نہ کاٹتا۔۔۔۔۔ حسام نے روتے ہوئے اپنا غصہ نکالا جس کی باتوں پہ عارب اور دادا جی نے بڑھی مشکل
سے ہنسی روکی جبکہ رشی اپنے لیئے بونی اور چڑیل کا لقب سن کے تپ گئ۔۔۔۔ رک جا کالے موٹے جن خود کو دیکھا ہے ٹوٹے ہوئے ٹرک کی شکل والے تیرا تو قیمہ بنا کے اسی کتے کی دعوت کروں گی رک جا ۔۔۔۔۔ رشی بازو فولڈ کرتی اسکی طرف بڑھی مگر دادا جی نے اسے روک لیا ۔۔۔۔۔ جبکہ حسام اسکے خطرناک تیور دیکھ کے وہاں سے دوڑ لگا دی۔۔۔۔ دادا جی اور عارب نے حسام کو بھاگتے دیکھا تو فلک شگاف قہقہہ لگایا اور رشی کو زبردستی پکڑ کے گھر کے اندھر لائے جو حسام کے پیچھے جانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧
ہاہاہاہاہاہاہاہااہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دادا جی کے کمرے میں بیٹھے عارب اور دادا جی رشی کی کہانی سن کے پیٹ پہ ہاتھ رکھ کے ہنسی جا رہے تھے۔۔۔۔۔ لائک سیرئیسلی رشی تمہیں بھوت سے ڈر لگتا ہے جبکہ بھوت کا بھی تمھارے بارے میں یہی خیال ہوگا کے کیا ڈراؤنی چیز دیکھ لی۔۔ہاہاہاہاہااہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔ عارب نے ہنستے ہوئے رشی سے کہا جو اسکی بات سنتے ہی غصے میں آئ اور اسکی جانب بڑھی۔۔۔۔۔۔ رک بتاتی ہوں بھوت کے نانے ۔۔۔۔۔۔ اسے دیکھتے ہی عارب نے باہر کی جانب دوڑ لگائ تو رشی بھی پیچھے بھاگی ان دونوں کو لڑتا دیکھ کے دادا جی پھر ہنسے اور اپنے بچوں کو ایسے ہی خوش رہنے کی دعا دی کیونکہ انکے گھر کی رونق رشی اور عارب سے ہی تو تھی۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧
جاری ہے
