Ek Hai Aafat Season 1 By Binte Hawa Readelle50337 (Eik Hai Aafat) Episode 1
Rate this Novel
(Eik Hai Aafat) Episode 1
آہہہہہ ہائے کوئ ہے ہائےےے بچا لو کوئ مجھ معصوم کو ہائےےے خالہ جی بچا لیں آپکا یتیم پلس مسکین بھانجا اللہ کو پیارہ ہونے لگا ہے ہائےےے آپکی آفت پچھے پڑھ گئئئئئئ۔۔۔۔۔ عارب پورے گھر میں بھاگ رہا تھا ساتھ اپنے دکھڑے رو رہا تھا اس سے دو سال چھوٹی ریشال جوکہ ہائیٹ میں اپنی عمر سے چھوٹی لگتی تھی اپنے جوتے ہاتھ میں اٹھائے اسکے پیچھے بھاگ رہی تھی ۔۔۔۔۔ رک جا عاربے آج تو نہیں بچے گا تیرا قیمہ بنا کے چوک والے چاچے شیدے کی بلیوں کی دعوت کروں گی رک جا ۔۔۔۔۔۔۔ ریشال غصے سے بھری ننگے پاوں اسکے پیچھے بھاگتی دانت پیس کے بولی۔۔۔۔۔ کچن میں کام کرتی ریا بھاگ کے باہر نکلی اور اپنی آفت کی پڑیاں کو دیکھا جو خود سے بڑھے کزن کے پیچھے دونوں جوتے اٹھائے بھاگ رہی تھی۔۔۔۔۔ رشی رک جاو کیا کر رہی ہو ؟۔۔۔۔۔ ریا تھوڑا غصے میں بولی۔۔۔۔۔ ریا بہن آپ بیچ میں مت بولیں میں آپکی بہت عزت کرتی ہوں مگر اس باندر کو آج میں نہیں چھوڑنا۔۔۔۔۔ریشال ماں سے بولتے ہی سڑھیوں کی جانب بھاگی جہاں عارب کھڑا تھا مگر اسکو اپنی طرف آتے دیکھ کے ہائے ہائے کرتا دادا جی کے کمرے میں بھاگا۔۔۔۔۔ریا غش کھاتے بچی کہ اسکی بیٹی اسے ریا بہن کہ رہی ہے اور ساتھ یہ بھی کہ وہ عزت کرتی ہوں واہ بھئ کیا عزت ہے ۔۔۔۔ ریا سر پکڑتی بیٹھ گئ کہ یا اللہ یہ کیا آفت نازل کردی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادا جی ۔دادا۔جی پلیز بچا لیں پکا وعدہ آپکے ساتھ شطرنج کھیلوں گا۔۔۔۔۔۔۔ عارب بھاگتا ہوا دھرام سے دادا جی کے کمرے کا دروازہ کھولتا اندھر داخل ہوا جہاں دادا جی کرسی پہ بیٹھے کوئ کتاب پڑھ رہے تھے عارب کے یوں آکے چیخنے سے اپنی جگہ سے اچھلے اور سامنے دیکھا جہاں اب عارب کرسی کے سائیڈ سے ہوتا میز کی دوسری جانب کھڑا دروازے کو دیکھ رہا تھا آفت کی انٹری پہ دادا بھی گھبرا گئے انکی لاڈلی پوتی ہاتھ میں دونوں جوتے پکڑے عارب کے پیچھے بھاگی۔۔۔ وہ دونو میز اور کرسی کے ساتھ گول گول چکر کاٹ رہے تھے۔۔۔۔۔۔ ارے ارے میرا بچا کیوں اتنے غصے میں ہے ؟۔۔۔۔ دادا جی نے رشی کا ہاتھ پکڑ کے روکا جو بھاگتے بھاگتے برا حال کر چکی تھی میز کی ایک سائیڈ عارب کھڑا تھا ایک طرف ریشال اور دونوں گہرے گہرے سانس لے رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ نہیں بچے گا میرے ہتھوں کالا کوا رک رک ریشال کا جیسے ہی سانس بحال ہوا دونوں جوتے زمین پہ پھینکتے کسی کو
سمجھنے کا موقع دئیے بغیر فورأ میز پہ چڑھی اور عارب کے بال اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں میں لیتی زور زور سے ہلانے لگی۔۔۔۔۔۔آہہہہہہہ دادا جیییییییییی بچائے ہائے ہائے میرے بال ہائے مجھے گنجا کر دیا اب کون مجھ سے شادی کرے گا۔۔۔۔ عارب زور زور سے چینخنے لگا۔۔۔ دادا جی بچارے چھوڑوانے کی ناکام کوشش کرنے لگے آخر پانچ منٹ بعد وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوئے تو عارب بھاگ کے اس سے دور ہوا اور اپنا سر دبانے لگا۔۔۔۔ رشی اب بھی اسے گھور رہی تھی۔۔۔۔۔ دادا جی نے رشی کا ہاتھ پکڑ کے آہستہ سے میز سے نیچے اتارا۔۔۔۔۔ ہوا کیا ہے بچے بتاو؟۔۔۔۔ دادا جی نے رشی کا غصہ تھوڑا کم ہوتے دیکھا تو پوچھا۔۔۔۔ دادا جی یہ یہ میرے کو بولتا ہے بونی اور اور یہ بھی کے جنی بڑھی ہونے میں تم نے بیس سال لگائے چڑیا کے بچے پیدا ہوتے ہی انے سے ہوتے ہے۔۔۔۔۔ رشی نے غصے سے بھرے ہوئے بتا اسکا بتانے کا انداز اور غصہ دیکھ کے دادا جی اور عارب کو بے اختیار ہنسی آئ مگر چھپا گئے کہ اگر اب ہسے تو دونوں کی خیر نہیں تھی۔۔۔۔ بہت بری بات ہے عارب ایسے بولتا ہے کوئ اتنی بڑی تو ہے میری بیٹی خود کو دیکھو ذرا اتنے لمبے ہوگئے ہو عقل پھر بھی نہیں آئ اور میری رشی تو بہت سمجھدار ہے۔۔۔۔
دادا جی نے ہنسی چھپاتے ہوئے عارب کی کلاس لی جس پہ وہ منہ بنا کے کھڑا ہوگیا اور رشی فخر سے گردن اکڑا کے اسے دیکھنے لگی کہ دیکھا اور بولو۔۔۔۔۔۔ اچھا اب مت لڑنا بری بات ہے اور رشی بچے چائے تو لادو ۔۔۔۔۔۔ دادا نے دونوں کی لڑائ ختم کرائ اور رشی سے بولے جو جی اچھا کہتی کمرے سے باہر نکل گئ مگر جاتے ہوئے عارب کو منہ چڑانا نہیں بھولی تھی۔۔۔۔۔
اسکے جاتے ہی دادا جی اور عارب کا قہقہہ بلند ہوا اور دونوں رشی کے بتانے کا انداز یاد کر کر کے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئے ۔۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧
سلمان شاہ صاحب اور ارم بی کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی ۔۔۔ بڑا بیٹا یارم شاہ چھوٹا احرام شاہ اور بیٹی سیمہ شاہ تھی ارم بی نے دونوں بیٹوں کی شادی اپنے بھائ کی بیٹیوں حرم اور ریا سے کی اور بیٹی کی شادی سلمان شاہ نے اپنی بہن کے بیٹے خاور شاہ سے کی۔۔۔۔۔۔ اللہ نے یارم شاہ اور حرم کو تین بیٹوں سے نوازا سب سے بڑا عازب شاہ اس سے چھوٹا شاہزیب اور سب سے چھوٹا عارب شاہ تھا۔۔۔۔ احرام شاہ اور ریا کی ایک ہی بیٹی تھی ریشال شاہ جس میں اسکے دادا کی جان بستی تھی باقی سب کے لیئے تو بس وبالجان ہی تھی۔۔۔۔ سیمہ پھپھو اور خاور شاہ کے دو بچے تھے بڑھی بیٹی زرتاشہ اور چھوٹی ہماء شاہ۔۔۔۔۔ سب میں ریشال چھوٹی تھی سب سے ۔۔۔۔۔ زرتاشہ کی منگنی بچپن سے عازب سے ہوئ تھی اور ریشال کی شازیب سے مگر ریشال اور شازیب کو ابھی تک یہ بات معلوم نہ تھی۔۔۔۔۔۔عارب تین سال کا تھا جب یارم شاہ اور حرم ایک حادثے میں فوت ہوگئے انکے بچے چھوٹے تھے بہت شازیب آٹھ سال کا تھا جبکہ عازب بارہ سال کا۔۔۔۔۔ انکی وفات کے بعد تینوں کی پرورش خالہ اور چاچو نے کی عازب سنجیدہ مزاج کا تھا مگر عارب اور ریشال بہت عزیز تھے اسے اسکے برعکس شازیب بہت غصے والا تھا اسی وجہ سے اسکی ریشال سے نہیں بنتی تھی اور ریشال اسے مسٹر غصیلہ کہہ کے بلاتی تھی جو گھر میں سب کو معلوم تھا سوائے شازیب کے۔۔۔۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧ ریا بہن کچھ کھانے کو دے دو پیٹ میں چوہے ڈانس کر کر کے کر کر کے اب بیٹھ گئے ہے۔۔۔۔۔ رشی کچن میں داخل ہوتی بولی تو ریا نے غصے سے اسکو دیکھا ۔۔۔ ابھی دو گھنٹے پہلے ہی تو سب کے ساتھ مل کے کھانا کھایا ہے تم نے۔۔۔۔۔ ریا نے تپے ہوئے لہجے میں کہا مگر رشی ان سنا کرتی فریج کھولے چیک کرنے لگی۔۔۔۔۔ آئے ہائے بہن کیا ہے نا صبح اس چمگادڑ سے لڑنے کے بعد نہ غصے میں کھانا کھایا تو بسم اللہ پڑھنا بھول گئ تھی سارہ کھانا شیطان کے پیٹ میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔ رشی بریانی کا ڈبہ نکالے چمچ لے کے بیٹھتے ہی سٹارٹ ہوگئ اور ساتھ ساتھ ریا کو بتایا بھی کہ دوسری بار کیوں کھا رہی ہے۔۔۔۔۔۔ اففف رشی تھوڑی سی تمیز ہے تمہیں یہ کھانے کا کونسا طریقہ ہے پلیٹ میں کھانا نکال کے انسانوں کی طرح کھاو۔۔۔۔۔ ریا نے اسے ڈبے میں کھاتے دیکھ کے غصے سے کہا۔۔۔۔۔۔۔ ریا بہن غصہ کیوں کرتی ہو آپکا ہی بھلا سوچا کہ برتن کم گندھے ہونگے ایسے۔۔۔۔۔ رشی بریانی کا آخری چمچ منہ میں رکھتی آرام سے اٹھی اور فریج سے پانی کی بوتل نکالتی بولی۔۔۔۔۔۔۔ یہ یہ رک جاو رشییییییییی۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے ریا رشی کو روکتی رشی بوتل منہ سے لگا کے پانی پینے لگی ایک نظر ریا پہ گئ جو جوتا اتار رہی تھی تو رشی نے باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔۔۔۔۔۔ ریا نے وہی سے نشانہ لے کے جوتا پھینکا جو اڑتا ہوا سیدھا جا کے سامنے والے کو لگا۔۔۔۔۔آہہہہہہہہہہ زور سے چینخ کی آواز پہ ریا اور رشی دونوں شاکڈ ہوئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہی ہی ہی ہی ہی ہی ہی ہی ہی
رشی دانت نکالتی باہر بھاگی۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧
جاری ہے
