438K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 14

صبح جب رشی کی آنکھ کھلی تو وہ آنکھیں ملتی اٹھ بیٹھی۔۔
انگڑائی لیتے اسکا ہاتھ کسی چیز سے ٹکرایا رشی نے مڑ کے دیکھا تو وہ کوئ گفٹ باکس تھا جو بہت ہی خوبصورت طریقے سے پیک ہوا تھا۔۔
ایک سائیڈ پہ جالی نماہ شیٹ لگی تھی جو اسکو اور ہی خوبصورت بنا رہی تھی۔۔
رشی نے فٹا فٹ گفٹ اٹھا اور الٹ پلٹ کے دیکھا۔۔ اسکے ساتھ ایک کارڈ بھی تھا جس پے ہیپی برتھ ڈے لکھا تھا۔۔
رشی حیران ہوئ کیونکہ آج تو اسکا برتھ ڈے نہیں تھا اور دوسری بات یہاں کسی کا برتھ ڈے نہیں منایا جاتا تھا یہ رسم مسلمانوں کی نہیں ہے بقول دادا جی(جو بالکل صحیح کہتے ہیں )۔۔
خیر گفٹ لینا رشی کو بہت پسند تھا سو وہ سب بھلائے گفٹ کھولنے لگی۔۔
مگر یہ کی۔۔
ایک کاٹن نماہ ڈبے میں آٹھ دس مینڈک بند تھے جو کھلتے ہی بیڈ پہ اچھلنے لگے۔۔
دو چار رشی کی گود میں گرے۔۔
پورا شاہ ہاوس رشی کی چینخوں سے گھونج اٹھا۔۔
چینخیں اس قدر شدت سے ماری گئ کہ قریب کے قبرستان کے مردے بھی اٹھ بیٹھے ہونگے۔۔
اسکی چینخیں سن کے سب اسکے کمرے میں بھاگے ۔۔
دروازہ کھول کے باہر بھاگتی رشی زور سے پاپا جی سے ٹکرائ۔۔
کیا ہوا رشی بیٹا؟ ۔
پاپا جی نے پوچھا تو رشی نے روتے ہوئے بیڈ کی طرف اشارہ کیا جہاں مینڈک اپنا بیڈ سمجھے چمپ کر رہے تھے۔۔
اتنے سارے مینڈک دیکھ کے ریا اور زری کی بھی چینخ نکل گئ ۔۔
عازب نے سارے مینڈک ڈبے کی مدد سے اٹھائے اور گھر سے باہر پھینک آیا۔۔
رشی دادا کے ساتھ صوفے پہ بیٹھی سسکیاں لے رہی تھی جبکہ بچارہ عارب سامنے کھڑا سبکی تفتیشی نظروں کی تاب نا لاتے ہوئے قسمیں کھا کے یقین دلا رہا تھا یہ اسنے نہیں کیا۔۔(ایک تو شرارتی ہونا بھی ظلم ہی ہے کوئ بھی الٹا کام ہو شک سب سے پہلے شرارتی لوگوں پہ ہی جاتا ہے چاہے وہ کچھ کریں یا نا کریں)۔۔
شازیب گھر نہیں تھا وہ صبح صبح آفس جا چکا تھا۔۔
دادا جی میں کہہ رہا ہوں نا میں نے نہیں کیا۔۔
عارب معصوم شکل بنا کے بولا تو رشی اڑ گئ کہ یہ اسی کا کام ہے۔۔
شازیب کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں گیا کیونکہ سبکی نظر میں وہ بہت معصوم تھا(شرارتی دماغ کے ساتھ ساتھ معصوم شکل اور میسنی حرکتیں بھی نعمت ہیں😜) ۔۔
عارب کے بار بار کہنے پہ احرام چاچو نے اسکی جان بخشی کرائ کیونکہ سب کو لگ رہا تھا کہ عارب واقع بے قصور ہے نہیں تو وہ مان جاتا کہ یہ اسی کا کام ہے۔۔
یہ جتنا مرضی شرارتی صحیح مگر جھوٹ نہیں بولتا تھا اسکے مقابلے میں رشی حالات کی مناسبت سے بول لیتی۔۔
سب اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے تو رشی ریا کے کمرے میں آکے سوگئ کیونکہ اسکے نزدیک اسکا بیڈ گندا ہو چکا تھا اب جب تک بیڈ شیٹ اور کمفرٹر دھویا نہیں جائے گا رشی وہاں قدم نہیں رکھے گی۔۔
لیٹے لیٹے رشی کے ذہن میں آ ہی گیا کہ یہ کام شازیب کا ہو سکتا ہے کیونکہ جو اسنے اسکے ساتھ کیا تھا اسکا بدلہ تو بنتا تھا۔۔
رشی شازیب کو اچھا سا سبق سکھانے کا ارادہ کرتی اٹھ گئ اور تیار ہوکے کالج کے لیئے نکلی ۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
رشی تمھیں پتا ہے کالج سے ٹرپ جا رہا ہے نادرن ایریاز میں اور ٹکٹ بھی کم ہے۔۔
رشی دو کلاسز کے بعد کینٹین آکے بیٹھی تو حرم نے اسے بتایا۔۔
واو ۔۔
میں تو ضرور جاوں گی چلو فارم لینے۔۔
رشی حرم کی پوری بات سنے بغیر اٹھ کے کلرک آفس بھاگی ساتھ حرم کو بھی کھینچ لائ جو بس ہائے ہائے کرتی رہ گئ۔۔
السلام علیکم سر۔۔
رشی نے مہذب انداز میں سلام کیا تو حرم بے ہوش ہوتے ہوتے بچی۔۔
وعلیکم السلام جی بولیں۔۔
سر نے بزی انداز میں جواب دیا اور فائل سے سر اٹھائے بغیر بولے۔۔
سر وہ ٹرپ فارم چاہیئے تھا۔۔
رشی کے کہتے ہی سر نے عینک اتار کے فائل پہ رکھی اور ان دونوں کو دیکھا جو ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔۔
ہمم کیا آپکی فیملی اجازت دے گی۔۔
سر نے دونوں کو باری باری دیکھ کے پوچھا تو رشی نے زور زور سے سر ہاں میں ہلایا۔۔
ٹھیک ہے یہ لے فارم اس پے اپکا نام فادر نیم آئ ڈی کارڈ نمبر اور فادر کے موبائل نمبر کے ساتھ ساتھ مادر اور فادر کے سگنیچر بھی ہونے چاہیئے پھر فارم چیک کے بعد آپ سے فیس لی جائے گی اور ٹکٹ دیا جائے گا۔۔
باقی کی انفارمیشن آپکو ٹکٹ دیتے وقت دے دی جائے گی۔۔
سر نے تفصیل بتائ تو رشی منہ کھولے دیکھے گئ۔۔
پھر فارم لے کے باہر نکلی اور فارم ریڈ کرنے لگی جسے فل کرنے کے بعد فادر کے آئ ڈی کارڈ کی کاپی اور اپنی پاسپورٹ سائز پک بھی لگانی تھی۔۔
ہننن پروسس تو ایسے رکھا ہے جیسے مری نہیں نیویارک لے کے جا رہے ہو۔۔
رشی منہ بناتی بولی اور فارم بیگ میں ڈال کے کینٹین آئ ۔۔
اب اسکا اصل مشن ریا کو منانا تھا جو اسے کبھی بھی کہی اکیلے جانے کی پرمیشن نہیں دیتی تھی۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧
رشی بتاو بھی ہماہ کو کیسے منانا ہے؟۔۔
رشی جو پہلے ہی دو مسلوں میں الجھی ہوئ تھی ایک ٹرپ کی اجازت اور دوسرا شازیب سے بدلہ۔۔
عارب کے بولتے ہی جھنجلا گئ۔۔
صبر کر جاو بے صبرے سوچنے دو۔۔
رشی سب چیزیں بھول کے انگلی گال پہ رکھے عارب کے مسلے پہ سوچنے لگی۔۔
آئڈیا ۔۔
رشی زور سے بولی تو عارب بچارا کرسی سے نیچے جاتے جاتے بچا۔۔
رشی نے سارا پلان ڈس کس کیا پھر دونوں ڈن کرتے خوشی خوشی دوسرے کام کرنے لگے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات آٹھ بجے رشی نے کمرے سے سر نکال کے دیکھا ہال میں کوئ نظر نا آیا تو وہ آہستہ سے کچن میں داخل ہوئ اور چینی کا ڈبہ اٹھاتی واپس آئ ریا کھانا بنا رہی تھی مگر اسنے رشی کی حرکت نہیں دیکھی وہ سمجھی رشی کچھ اور لینے آئ ہے۔۔
چینی لیئے رشی شازیب کے کمرے میں آئ جہاں کوئ نہیں تھا ۔۔
لائٹ آن کرتے دروازہ بند کیا اور چینی کا ڈبہ کھول کے پورے بیڈ پہ گرائ۔۔
کمفرٹر تھوڑا سا فرش پہ پھینک کے اسپے بھی گرائ اور پھر چینی کی لائن بناتی کھڑکی تک لائ ایک دو دو دانے اور کھڑکی تھوڑی سی کھول کے ٹیرس پہ لگی بیل تک لے گئ جہاں خوشبو اور پھولوں کی رس پہ بہت سی چونٹیاں تھی۔۔
بچی ہوئ چینی دونوں ہاتھوں میں ڈال کے مزے سے کھائ۔۔
خالی ڈبہ بیڈ کے نیچے رکھتی سکون سے ہاتھ جھاڑے اور لائٹ آف کرکے باہر نکلی دروازہ بند کرتے مسکراتی ہوئ اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔۔
شاہ جی رشی دی گریٹ کو ہلکا نا لینا۔۔
خیالوں میں شازیب کو وارن کرتی رشی نے منہ کے ٹیرے میڑے زاویے بنائے۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
رشی کیا چھپا رہی ہو دکھاو۔۔
ریا جو رشی کو کھانے کے لیئے بلانے آئ تھی اسکو کچھ چھپاتے دیکھ کے غصے سے بولی۔۔
کچھ نہیں چھپا رہی ریا بہن ہر وقت CID نا بنی رہا کرو…
رشی منہ بناتی بولی تو ریا اسکا سارا ڈرامہ سمجھتی جھٹ سے اسکے پیچھے کیئے ہوئے ہاتھ سے کاغذ کھینچا۔۔
یہ کیا ہے۔۔
ریا کاغذ دیکھتے غصے سے بولی۔۔
جو کالج ٹرپ کا تھا اور رشی نے پیرنٹس سگنیچر والے خانے میں رائٹنگ چینج کرکے خود سائن کر دیئے تھے😂۔(رائٹر جی ویسے تو بہت لائق ہے مگر کبھی اگر کسی ٹیسٹ میں میرے نمبر بھی اچھے نا آتے اور سگنیچر کرانے پڑھتے تو دوسرے ہاتھ سے میں خود ہی پیرنٹس کے سگنیچر کر لیتی تھی)۔۔
وہ میرے کالج کا ٹرپ جا رہا ہے مجھے بھی جانا ہے۔۔
رشی منہ بنا کے بولی۔۔
نہیں بالکل نہیں خبردار جو تم نے سوچا بھی تو جہاں جانا ہے تم فیملی کے ساتھ جاو گی بس۔۔
ریا نے غصے سے کہا اور فارم لے کے باہر نکل گئ۔۔
فارم تو دے جاتی پچاس روپے کا لیا تھا۔۔
رشی کو اب فارم والے پیسوں کی فکر لگ گئ تھی جو اسنے اپنی پاکٹ منی سے دیئے تھے۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
شازیب رات لیٹ واپس آیا اور شاور لیتا بغیر لائٹ آن کیئے بیڈ پہ لیٹ گیا مگر تھوڑی دیر بعد اسے محسوس ہوا اسکے پورے جسم پہ کچھ رینگ رہا ہے ۔۔
لائٹ آن کرتے ہی اسکو ایک چالیس واٹ کا جھٹکا لگا کیونکہ پورا بیڈ چونٹیوں سے کالا سیاہ ہوا پڑھا تھا اور شازیب کے کپڑے بھی بھرے ہوئے تھے چونٹیاں اسکے کان ناک میں گھس رہی تھی اور سر میں بھی الگ سے پریڈ جاری تھی۔۔
رشییییی😠۔۔
شازیب فورأ سمجھ گیا کہ یہ کس کا کام ہے کیونکہ بیڈ پہ کوئ چیز پڑھی تھی اور چونٹیوں کی قطار بتا رہی تھی کے انہیں خود راستہ دکھایا گیا ہے کھڑکی بھی ذرا سی کھلی ہوئ تھی۔۔
بیڈ شیٹ اٹھا کے باہر پھیکنے کے بعد شازیب نے کپڑے جھاڑے اور ساری چونٹیوں کو بوریے بسترے سمیت باہر نکال کے کھڑکی بند کی۔۔
دوبارہ شاور لینے کے بعد اسنے الماری سے دوسری بیڈ شیٹ نکالی اور سیٹ کی۔۔
دو بار شاور لینے کی وجہ سے چھینکوں کا حملہ ہوگیا تھا اس پہ۔۔
ٹیشو ناک پہ رکھے چھنکتے ہوئے وہ پاگل ہوا جا رہا تھا کیونکہ اب رات کو کافی ٹھنڈ ہو جاتی تھی۔۔
آخر فجر ادا کرنے کے بعد چھینکوں کا زور کچھ تھما تو وہ گولی لے کے سو گیا ۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧
ارے واہ ریا بہن آج سورج مغرب سے نکلا ہے کیا آج تو بڑھے بڑھے لوگ گھر پہ موجود ہیں۔۔
صبح صبح رشی کچن میں داخل ہوئ تو سامنے احرام صاحب کو اخبار پڑھتا دیکھ کے شرارت سے بولی تو ریا نے اسے گھورا جبکہ احرام صاحب اپنی شرارتی بیٹی کی بات سن کے مسکرانے لگے۔۔
رشی بڑھوں کو سلام کرتے ہیں یہ کونسا طریقہ ہے بات کرنے کا۔۔
ریا نے اسے ڈانٹا تو رشی منہ بناتی احرام صاحب کی ساتھ والی کرسی پہ بیٹھی کہ ڈانٹ پڑھنا تو روز کا معمول تھا۔
رشی کے پاس بیٹھتے ہی احرام صاحب نے اخبار ایک طرف رکھ دیا اور اس سے باتیں کرنے لگے۔۔۔
ایک بات پوچھوں ۔۔
رشی آس پاس دیکھتی مختاط انداز میں بولی تو احرام صاحب نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا اور اشارہ کیا کہ پوچھو ۔۔
یہ آپ نے دادو کی نک چڑھی بھانجی سے پسند کی شادی کی ہے کیا؟۔۔
رشی نے آہستہ سے سوال کیا تو احرام صاحب نے حیرانی سے اسے دیکھا اور بات سمجھ آتے ہی زوردار قہقہہ لگایا۔۔
آہستہ ہنسے مجھ معصوم کو مروانا ہے کیا۔۔
رشی منہ پھلا کے بولی تو احرام صاحب کی ہنسی کو بریک لگی۔۔
ہاں۔۔
احرام صاحب نے بھی ویسے ہی رازداری سے جواب دیا۔۔
ریا دونوں باپ بیٹی کو کھسر پھسر کرتا دیکھ کے سننے کی کوشش کرنے لگی مگر ناکام رہی۔۔
اب پچھتا رہے ہیں نا۔۔
رشی شرارتی انداز میں بولی تو احرام صاحب نے ہنسی دباتے اسے دیکھا۔۔
ہمہمم بری بات۔۔
اوہ دس دیو میں نہیں دسدی ریا بہن نوں۔۔
رشی چلو ناشتہ کرو بس کرو پاپا کو تنگ کرنا۔۔
ریا میز پہ ناشتہ رکھتی بولی تو رشی نے ایک نظر پاپا کو دیکھا۔۔
احرام صاحب کوئ کال سننے باہر گئے تو رشی بھی پیچھے گئ اور پھر واپس آکے ریا کو کہا کے احرام صاحب بلا رہے ہیں ۔۔
ریا کے باہر جاتے ہی رشی بھاگ کے انکے کمرے میں گئ اور ٹیبل سے فارم اٹھاتے باہر بھاگی جہاں اسکے پاپا جانے کے لیئے تیار تھے انکے ساتھ ہی رشی بھی کالج کے لیئے نکلی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاپا ٹیچر نے دس ہزار روپے مانگے ہیں ۔۔
رشی نے بنا فیس جانے ہی اپنے پاس سے اندازہ لگا کے کہا ۔۔
کیوں۔۔
احرام صاحب ڈرائیونگ کرتے ہوئے بولے۔۔
تو رشی نے ٹرپ کا بتایا اور جیسے تیسے کرکے منا بھی لیا دو دن کا ٹرپ تھا اور کالج کے پاس پہنچتے ہی وہ پیسے لیتی خوشی خوشی کالج میں داخل ہوئ۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
شازیب کو تیز بخار ہوگیا تھا ۔۔ ریا نے عازب کو کہہ کے ڈاکٹر کو بلایا اور ڈاکٹر بھی انجیکشن لگا کے دوائ دے کے چلا گیا۔۔
شازیب بچارا کسی کو بتا بھی نا سکا کہ اسکے ساتھ ہوا کیا ہے۔۔
ریا شازیب کے لیئے دودھ بوائل کرنے لگی تو دس دفعہ بھی کچن چیک کرنے کے باوجود چینی کا ڈبہ نا ملا تو تنگ اکے ریا نے دوسرے ڈبے سے چینی ڈالی مگر وہ حیران تھی چینی کا ڈبہ گیا کہا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلان کے مطابق عارب نے ڈیر سارے غبارے خریدے جن پہ سوری لکھا تھا اور ساتھ ایک خوبصورت سا گفٹ بھی لیا اور ہماہ کے گھر پہنچ گیا منانے کے لیئے مگر وہاں جا کے خود سرپرائز رہ گیا کہ دادا جی اسکے رشتے کی بات کر چکے تھے جلد ہی انکی شادی تھی عارب کا لاسٹ سمسٹر تھا جسکے پندرہ دن بعد پیپر تھے اور پیپرز کے بعد انکی شادی تھی۔۔
عارب خوشی سے گنگناتا ہوا گھر کے لیئے نکلا تاکہ یہ خوش خبری اپنی پارٹنر رشی کو سنا سکے۔۔
♧♧♧♧♧♧
ریا اب میں چاہتا ہوں آپ میری بھی رخصتی کرا دیں تاکہ آپکو میرے کاموں سے چھٹکارا ملے۔۔
شازیب نے رشی کو سیدھا کرنے کا نیا پلان بنایا تھا تب ہی رخصتی کرنا چاہتا تھا ۔۔
ہاں جیسے تمھاری بیوی سب سنبھال لے گی نا۔۔
ریا نے رشی کا سوچتے ہی اداسی سے کہا تو شازیب مسکرایا۔۔
آپ فکر نا کریں وہ ٹھیک ہوجائے گی۔۔
شازیب کی بات سنتے ہی ریا سوچنے لگی پھر چلو دیکھتے ہیں کہہ کہ باہر نکل گئ۔۔
اب تمھیں بتاوں گا بیگم تم نے کتنا ایزی لیا ہے شازیب یاور شاہ کو۔۔
تصور میں رشی سے بات کرتے ہی شازیب نے آنکھیں موند لی۔۔
یہ تو وقت بتانے والا تھا کہ کس نے کس کو ایزی لیا۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧
یہ دیکھو کرا لائ میں سائن۔۔
رشی حرم کو فارم دکھاتے گردن اکڑا کے بولی تو حرم آنکھیں پھاڑے فارم کو دیکھنے لگی۔۔ اسے یقین نا آیا کہ ریا اپنی بندریا کو پبلک میں چھوڑنے کے لیئے راضی ہوگئ۔۔
حرم یہ سوچ ہی سکی کہنے کی ہمت اسمیں نا تھی۔۔
رشی فارم جمع کراتی فیس پے کرتی ٹکٹ لے کے خوشی خوشی گھر کی طرف بڑھی دو دن بعد اسنے جانا تھا اور جانے کے لیئے شاپنگ بھی کرنی تھی کیونکہ مری میں کافی ٹھنڈ تھی۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧
جاری ہے