Ek Hai Aafat Season 1 By Binte Hawa Readelle50337 (Ek Hai Aafat) Episode 3
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 3
ہائئئئئئ ہائئئئئئئئ ہائئئئئئئئئئ۔۔۔۔۔۔۔ ریا جو شازیب کے کمرے میں اسکی طبیعت پوچھنے جا رہی تھی رشی کے کمرے سے آتی اونچی اونچی ہائے ہائے کی آواز پہ پریشان سی اسکے کمرے کی طرف بڑھی دروازہ کھولتے ہی وہ اندھر بڑھی جہاں رشی بڑھی سی چادر کے ایک کونے سے سر باندھے بیڈ کے درمیان میں بیٹھی دونوں ہاتھوں سے سر دبا رہی تھی اور ساتھ زور زور سے ہائے ہائے کر رہی تھی سر پہ بندھی چادر باقی دونوں گھٹنوں پہ رکھے ماتھا ٹکایا ہوا تھا۔۔۔۔۔ رشی کیا ہوا بیٹا؟۔۔۔۔۔ ریا پریشان سی آگے بڑھی ۔۔۔۔۔۔ ہائےےےےےے ریا بہن نا بابا نا وہی رک جائیں آگے مت آئیں ہائئئئ میں ٹرنے لگی ہوں میرا ویزہ لگ گیا ہے۔۔۔۔۔۔رشی ہاتھ سے ریا کو روکتے چھلانگ لگا کے بیڈ کی دوسری سائیڈ اتری۔۔۔۔۔۔ کیا فضول بولتی جا رہی ہو رشی ۔۔۔۔۔۔ اسکی باتیں سن کے ریا کا دل زور سے دھڑکا اور تھوڑا غصے سے بولی۔۔۔۔۔ کرونا نام تو سنا ہوگا نا ریا بہن اسی سے میری دعا سلام ہوگئ اور اسنو میں انی چنگی لگی انی چنگی لگی کہ وہ میرے پاس ہی رہ گیا ہائئئئئئئ۔۔۔۔۔۔۔۔ رشی نے سر پکڑے کہا تو ریا پریشانی سے آگے بڑھی۔۔۔۔۔ کیا ہوا بچے؟۔۔۔۔۔ اسکی ہائے ہائے سن کے دادا اور عارب بھی کمرے میں آئے جہاں رشی چادر کے ایک کونے سے سر باندھے کھڑی تھی باقی پوری چادر زمین کو سجدا کر رہی تھی سر سے چادر کا کپڑا لٹک کے آنکھوں پہ آگیا تھا اور وہ سر تھوڑا پیچھے کو کیئے سب کو دیکھتی بلکل عجوبہ لگ رہی تھی اسکی حالت دیکھ کے عارب کو ہنسی آئ ۔۔۔۔۔ دادا جیییییییی کروناااااا۔۔۔۔۔ رشی دادا کو دیکھتے ہی رونے لگی اور اسکے روتے دادا پریشانی سے اسکی جانب بڑھے جبکہ ریا تو بیٹی کو دیکھتے باقاعدہ رونے لگی تھی ۔۔۔۔۔ دادا جی اور ریا اسے لئیے ہسپتال کی گئے ۔۔۔۔۔۔۔ سارے راستے رشی کی ہائے ہائے سن کے عارب کے کان پک گئے۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کیا ہوا ہماری بچی کو۔۔۔۔۔ دادا نے رشی کا چیک اپ کرکے کچھ لکھتے ڈاکٹر سے پوچھا۔۔۔۔۔۔ جی بس بی پی لو ہے تھوڑا انجیکشن سے آرام آجائے گا اور گھر جاکے یہ گولیاں لکھ دی ہے یہ کھانے کے بعد دے دے آرام آجائے گا۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر کی بات سنتے جہاں باقی سب رلیکس ہوئے وہی انجیکشن کا نام سنتے رشی کی آنکھیں باہر نکلی۔۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں ڈاکٹر جی اب میں بلکل ٹھیک ہوں وہ گاڑی میں آتے ہوئے ہوا لگی نا دماغ کی رگیں کھل
گئ ہے ہی ہی ہی ہی ہی۔۔۔۔۔۔ رشی زبردستی ہنسی جس کی حالت دیکھ کے دادا اور عارب ہنسے وہی ریا نے گھور کے رشی کو دیکھا اور منہ بند رکھنے کا کہا مگر اس پہ اثر کہا ہونا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر دیکھو میرے کو ٹیکا نا لگانا غریب کی بدعا لگے گی ۔۔۔۔ رشی نے ڈاکٹر کے پاس اٹھایا انجیکشن دیکھ کے انگلی اٹھاتے وارن کیا تو ڈاکٹر نے گھور کے اس چھوٹے ڈرامے کو دیکھا تھا جو سمجھ سے بلکل باہر تھا۔۔۔۔۔۔ آہہہہہ اللہ کرے نالے میں گرو موٹے ڈاکٹر ۔۔۔۔ جب موبائل چارجر پہ لگاو تو بجلی چلی جائے ۔۔۔۔ دودھ لینے جاو تو دہی ملے اور بیوی بالوں سے پکڑ کے دماغ کے پرزے سیٹ کرےباندر جئے۔۔۔۔۔ رشی جو دادا جی کے بلانے پہ انکی طرف متوجہ ہوئ تو ڈاکٹر نے جلدی سے بازو پہ ٹیکہ لگا دیا جس کے ساتھ ہی رشی کا سپیکر کھل گیا ڈاکٹر حیران سا اس چلتی ٹیپ رکارڈر کو دیکھ رہا تھا جو پتا نہیں کون کونسی بدعائیں دے رہی تھی۔۔۔۔ دادا اور عارب کے لیئے ہنسی روکنا مشکل ہوگیا تھا ریا رشی کا بازو پکڑتے زبردستی باہر کھینچ لائ۔۔۔۔ دیکھنا ڈاکٹررررر تمکی بیوی جوتیوں سے مارے گی۔۔۔۔۔۔۔ رشی نے ریا کے ساتھ کھنچتے ہوئے ہانک لگائ تو باہر بیٹھے مریض بھی حیرانی سے دیکھنے لگے۔۔۔۔ فیس دیتے عارب بھی جلدی سے دادا جی کو لے کے باہر نکلا۔۔۔۔۔ بیٹا کیا ہوا اس بچی کو گاڑی کے پاس پہنچتے ایک عورت نے عارب سے پوچھا ۔۔۔۔۔ جی وہ دماغی مسلہ ہے کبھی کبھی دورہ پڑھ جاتا ہے۔۔۔۔۔ عارب نے مسکین سی شکل بنا کے کہا تو اس عورت نے ہمدردی سے رشی کو دیکھا جو عارب کے جھوٹ پہ اسے گھور رہی تھی ۔۔۔۔۔ اللہ پاک رحم کرے کتنی پیاری بچی ہے۔۔۔۔۔ عورت ہمدردی سے کہتی ہسپتال کے اندھر چلی گئ ۔۔۔۔ اسکی بات پہ عارب ہنستے ہوئے پیچھے مڑا ۔۔۔۔ رک جا باندر اب دورہ پڑھ ہی گیا ہے تو تجھے اوپر بھیج دوں دھرتی سے بوجھ کم ہوگا۔۔۔۔ رشی ریا سے ہاتھ چھڑاتی عارب کی طرف دوڑی ۔۔۔۔۔۔ رک جاو رشی ۔۔۔۔۔ ریا نے رشی کا بازو پکڑ کے زبردستی گاڑی میں بٹھایا جبکہ عارب اسکے ارادے دیکھ کے دادا جی کے پیچھے چھپ گیا۔۔۔۔۔۔ اسکے گاڑی میں بیٹھتے ہی عارب نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔۔۔۔۔ سارے راستے عارب رشی کو تنگ کرتا آیا اور دادا جی انکی باتوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
شام تک رشی کی طبیعت کافی بہتر ہوگئ تھی مگر وہ اب بھی منہ پھلا کے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔رشی میرا بچہ چلو کھانا کھا لو۔۔۔۔۔ دادا جی نے زبردستی رشی کو کھانے کے میز لائے تو اسے دیکھتے ہی عارب نے زبان چڑائ ۔۔۔۔۔ دیکھو عاربے بھوت اب رشی تمھارے ساتھ کرتی کیا ہے پتر صبر کر جا ذرا ۔۔۔۔۔۔ رشی نے دل میں عارب کو مخاطب کرتے کہا اور بیٹھ کے کھانا کھانے لگی۔۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم۔۔۔۔۔ شازیب اور عازب نے آتے ہی سبکو سلام کیا اور اپنی اپنی سیٹ سنبھالی۔۔۔۔۔ وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔۔۔ریا نے سلام کا جواب دیتے ان دونوں کے سامنے کھانا رکھا۔۔۔۔۔ شاہ بیٹا یہ تمہیں ناک پہ کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ دادا جی نے شازیب سے پوچھا جس کے ناک پہ پٹی بندھی تھی۔۔۔۔ جی وہ چھوٹی سی چوٹ لگ گئ تھی۔۔۔۔۔ شازیب نے جواب دیا اور کھانا پلیٹ میں نکالنے لگا ۔۔۔۔۔ وہی تو پوچھا ہے کیسے لگی چوٹ ۔۔۔۔۔ دادا جی نے ذرا زور سے کہا۔۔۔۔ ارے میں بتاتی ہوں نا دادا جی
رشی جو کب سے خاموش بیٹھی شازیب کے ٹالنے پہ چڑھ کے بولی ۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔۔۔ دادا جی ناسمجھی سے رشی کو دیکھتے بولے۔۔۔۔ جی میں وہ کیا ہے نا میرے پاپا جی کی خاتون مجھ پہ حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی میں بڑی مشکل سے اپنی جان بچا کے بھاگی مگر ریا بہن کا اڑتا ہوا میزائل (جوتا ) میرے پیچھے میری کمر پہ بوسہ دینے بھاگا مگر میں جھک گئ اور میزائل جی اڑتے ہوئے سامنے سے آتے شاہ بھائ کے منہ پہ بوسا دینے بھاگا اور سیدھا ناک پہ بوسا دے گیا جو شاہ بھائ کی ناک شریف کو گوارا نا ہوا اور اپنی شان میں گستاخی لگی سمجھتے ہوئے پھپھو کی طرح منہ سرخ کیئے بیٹھ گئ نقاب کرکے۔۔۔۔۔ رشی کی تقریر سنتے دادا جی عازب عارب کا ہنس ہنس کے برا حال ہوگیا جبکہ شازیب غصے سے اس پٹاخہ کو گھور کے رہ گیا۔۔۔۔۔ ریا کے خطرناک تیور دیکھ کے رشی نے آخری نوالا منہ میں رکھتے کمرے کی طرف دوڑ لگائ ۔۔۔۔۔ سب نے ہنستے ہوئے اسکی سپیڈ دیکھی۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
اچھااااا بچے تم کیا سمجھے رشی سے پنگا لو گے اور تم بچ جاو گے ابھی بتاتی ہوں۔۔۔۔۔۔ سب کے سوتے ہی رشی عارب کے کمرے میں گئ اور آہستہ سے دروازہ کھولا جہاں سامنے عارب سویا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ عارب کی نیند بہت پکی تھی ۔۔۔۔۔۔ رشی نے اسکے پاس آتے ہی ہاتھ میں پکڑا پیکٹ دراز پہ رکھا۔۔۔۔۔ اور عارب کے منہ پہ رنگ والا برش لے کے پینٹنگ کرنی شروع کردی۔۔۔۔۔ ہی ہی ہی ہی ہی اپنا کام مکمل کرتے اسکی عجیب سی شکل دیکھ کے رشی ہنسنے لگی۔۔۔۔ سرخ کالے سفید رنگ کی پینٹنگ کرتے اسنے عارب کے منہ پہ اپنے ہاتھ کی صفائ دیکھائ جو بس گزارہ لائق ہی تھی۔۔۔۔۔ سرخ رنگ آنکھوں پہ کرتے اسنے بھوت نما بنا دیا ۔۔۔۔۔
پورے کوکاف کے دیو لگ رہے ہو ۔۔۔۔۔ رشی نے ہنستے ہوئے کہا اور سارا سامان اٹھاتی کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔۔۔۔
اپنے کمرے میں آکے اس نے ہاتھ دھوئے۔۔۔۔ اب پتا چلے گا اٹھو صبح تم۔۔۔۔۔ رشی تصور میں عارب کا ردعمل دیکھتی مسکراتے ہوئے سو گئ۔۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧
آہہہہہہہہ بھ بھ بھوتتتتتتتت ۔۔۔۔۔ عارب نیند سے بیدار ہوا تو دونوں ہاتھوں سے آنکھیں رگڑی رات سے ہوا رنگ اب سوک گیا تھا۔۔۔۔ عارب کالے رنگ کے شرٹ ٹراؤزر میں تھا۔۔۔۔ واشروم میں جاتے ہوئے اسکی نظر شیشے میں پڑھی خوفناک سے دیو جس کے دانت تھوڑی تک تھے کو دیکھتے ہی عارب کی چینخ نکلی وہ بھاگ کے کمرے سے باہر نکلا۔۔۔۔ ریا جو اسکی چینخ سن کے اسکے کمرے میں آرہی تھی سامنے سے آتے بھوت کو دیکھ کے ڈر گئ۔۔۔۔ بھوت چینختا ہوا اسکے پاس آیا تو اسے پتا چلا وہ بھوت نہیں بلکہ عارب تھا۔۔۔۔۔ ریا اسے دیکھتے ہی ہنسنے لگی تو عارب نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا اور سامنے لگے شیشے میں دیکھتے ہی اسکو سمجھ لگ گئ کے اسکی شکل مبارک کو بھوت کا درشن کرا دیا گیا ہے اور یہ کام سوائے ایک ہستی کے اور کوئ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔۔ رشیییییییی۔۔۔ عارب نے رشی کا نام دانتوں میں چبایا اور کمرے میں بھاگا تاکہ منہ دھو سکے۔۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہااہا سب اسکی حالت دیکھ کے ہنس رہے تھے ۔۔۔۔۔ عازب اور شازیب کی ہنسی رک ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔ دروازے کے پیچھے کھڑی رشی بھی عارب کی حالت دیکھ کے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئ۔۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧
بہت بار منہ دھونے سے بھی رنگ سارا نا اترا تو عارب دانت پیس کے رہ گیا۔۔۔۔۔ رشی بچے اب تمھاری باری تیار رہنا۔۔۔۔۔۔ عارب نے دماغ میں پلان بناتے مسکرایا۔۔۔۔۔۔ آج عارب اور شازیب دونوں گھر تھے باہر جا نہیں سکتے تھے کیونکہ کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں تھا۔۔۔۔۔ اور یہ سارے کرامات مس رشی کی بدولت تھے۔۔۔۔۔۔
♧♧♧♧♧
جاری ہے
