488.5K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dost Daram) Episode 9

°°°°°
اسے اپنی باہوں میں اٹھائے وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا گھر کے اندر داخل ہوا اس کے پیر پر اس کا رومال اب تک مضبوطی سے بندھا ہوا تھا
پہاڑی کا لمبا سفر طے کرنے کے بعد اس نے بہت احتیاط سے اسے اپنی گاڑی میں بٹھا کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا اسے واپس حویلی کی جانب لے آیا تھا راستے میں ان دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی
شاید اس کے غصے سے ڈانٹنے کی وجہ سے وہ اس سے اب بات ہی نہیں کر رہی تھی ۔دارم نے بھی آگے سے مزید کوئی بات نہ کی
ایک تو اسے اس کا اچانک یوں گھر سے چلے جانا بہت برا لگا تھا دوسرا آج کچھ بھی ہو سکتا تھا اس کی لاپروائی سے اسے کوئی بھی نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا جس کی وجہ سے اس وقت وہ بہت غصے میں تھا
لیکن اس کے باوجود بھی اس نے اپنے غصے کو کافی کنٹرول کرنے کی کوشش کی تھی ۔اس نے اپنا غصہ اس پر ظاہر نہیں کیا تھا اور وہ یہی چاہتا تھا
کہ وہ اس کے غصے سے دور ہی رہے ۔وہ اپنے غصے کی شدت کو بہت اچھے طریقے سے سمجھتا تھا وہ نہیں چاہتا تھا اس کے عزیزو جان لوگ اس کے غصے کا شکار ہوں ۔
وہ غصے میں اکثر اپنا ہی نقصان کر دیتا تھا جس سے وہ خود بھی بخوبی واقف تھا اسی لیے اس نے خاموشی سے سارا رستہ طے کیا اور اسے واپس گھر لے آیا ۔
اسے اس طرح سے دارم کی باہوں میں دیکھ کر ثنا کو آگ لگ گئی تھی وہ تو نا جانے کیا کیا سوچے ہوئے تھی لیکن یہاں تو ویسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا
بلکہ اس سے تو وہ اور بھی دارم سائیں کے قریب آ گئی تھی ان دونوں کو ایک دوسرے کے اس قدر نزدیک دیکھ کر اس کے تن بدن میں آگ جلنے لگی تھی
وہ تو بہت کچھ سوچے بیٹھی تھی کہ دارم اسے خوب سنائے گا اس کی ساری مہمان نوازی اور ناز نخرے ایک طرف کر کےاس پر اپنا آپ ظاہر کرے گا لیکن یہاں تو کہانی ہی پلٹ گئی تھی
ہائے میری بچی کو کیا ہوا ۔۔۔؟درام کیا ہوا ہے اس کا پیر کیوں بندھا ہوا ہے اللہ رحم کرے ہمنا چچی انہیں دیکھ کر جلدی سے اس کے پاس آئی تھی جب کہ وہ آگے قدم بڑھاتا اسے لا کر صوفے پر آرام سے بیٹھانے لگا
ڈاکٹر کو فون کرو ساحر سائیں یہ پہاڑی پر گری ہوئی پڑی تھی پیر پر اچھی خاصی چوٹ آئی ہے وہ اس کا پیر آہستہ سے اٹھاتا سوفے پر رکھ چکا تھا چوٹ کافی گہری تھی
لیکن پھر بھی دارم سائیں کا اس کے پیروں کو ہاتھ لگانا نا تو بابا سائیں کو پسند آیا تھا اور نہ ہی چچا سائیں کو ۔شاید اس وقت دارم کی یہ حرکت ان کی مردانہ انا پر ضرب لگا گئی تھی
دارم سائیں اپنی جگہ سے اٹھیں ڈاکٹر آ رہا ہے وہ دیکھ لے گا بابا سائیں نے ذرا سختی سے اسے اس کی پوزیشن کا احساس دلایا ۔
جی بابا سائیں لیکن جب تک ڈاکٹر آتا ہے تب تک کوئی نہ کوئی حل تو نکالنا پڑے گا خون اب بھی بہہ رہا ہے تم کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو جا کر فرسٹ ایڈ باکس لے کر آؤ وہ ان کے انداز کو نظرانداز کرتا ثنا پر چلایا تھا کیوں کہ اس وقت ثنا کے علاوہ اور کوئی لڑکی نہیں تھی ورنہ وہ ا سے کم ہی منہ لگانا پسند کرتا تھا
جی۔ ۔۔سائیں۔ ۔۔ثنا بس اتنا ہی کہتی فورا اندر کی جانب بھاگ گئی تھی جبکہ ثنا کا بوکھلایا ہوا انداز نور پر بہت کچھ ظاہر کر گیا تھا
وہ پہلے بھی یہ چیز نوٹ کر چکی تھی لیکن تب اسے اس بات میں کوئی خاص انٹرسٹ نہیں تھا لیکن ثنا کا انداز اس کا عجیب طرح سے بات کرنا اس کی ناپسندیدگی اسے اب سمجھ میں آئی تھی
او تو یہ وجہ ہے ثناء کی مجھے ناپسند کرنے کی
محترمہ ثنا دارم صاحب سے محبت کرتی ہیں انٹرسٹنگ۔یہ محترمہ جل رہی ہیں مجھ سے تو پھر کیا کرنا چاہیے یقینا جلنے والوں کو اور جلانا چاہیے وہ اس کا چہرہ دیکھتی مسکرائی تھی ۔
یہ اس گھر کی وہ انسان تھی جو اسے کبھی بھی پسند نہیں تھی ۔پہلے دن سے ہی وہ اس سے عجیب طرح سے بات کرتی تھی اس کاایٹیٹیوڈ اسے بہت برا لگتا تھا ۔
اور اس کے ساتھ وہ یہ سب کچھ کیوں کر رہی تھی یہ تو وہ بہت اچھے طریقے سے جانتی تھی اس کی ماں اسے یہ بات بہت پہلے بتا چکی تھی کہ دارم سائیں کا نکاح ثناء سے ہونے والا تھا ۔لیکن شاید سرمد اپنی بیوی کو بہت اچھے طریقے سے سمجھ گئے تھے اسی لیے انہوں نے اپنی بیٹی کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کیا تھا
یقینا اگر وہ اس دن ان دونوں کے بیچ میں نہ ہوتی تو شاید وہ ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہوتے لیکن اس کی وجہ سے ان دونوں کے زندگی خراب ہوئی تھی ۔
اگر تو ثناء دارم سے سچی محبت کرتی تھی تو پھر وہ حق پر تھی
بیٹا یہ گاؤں کافی حد تک خطرناک ہے یہاں پر صرف ہمارے ہمدرد نہیں بلکہ دشمن بھی ہیں تہمیں یہاں تھوڑی احتیاط کرنی ہوگی میری جان یہ سب کچھ تمہارے لئے نیا ہے تمہیں ایڈجسٹ ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا
بنا کسی گرم شال کے باہر کیوں نکلی یہاں کتنی سردی ہے ۔ہمنا اپنے اوپر سے گرم شال اتار کر اسے پہنانے لگی
وہ بے شک سگی ماں نہیں تھی لیکن ان کا فکر جتاتا لہجہ سگی ماں سے بڑھ کر تھا جس کو اس نے بہت شدت سے محسوس کیا تھا ۔
چادر لینے کا کہا تھا ثنا اس کے منہ پر مار کر چلی گئی ہے میری بیٹی کو تو بالکل ملازمہ سمجھ رکھا ہے اس نے ایک بات کان کھول کر سن لو تم اس گھر میں بہت سالوں کے بعد آئی ہوں اسی لئے ہم سب تمہارے ساتھ بہت اچھے طریقے سے پیش آرہے ہیں لیکن میں اپنی بیٹی کی توہین برداشت نہیں کروں گی وہ تمہیں ہمارے گھر کے طور طریقے بتا رہی ہے اور تم اسی کی بےعزتی کیے جا رہی ہو۔
میری بیٹی نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا تمہیں ڈرائیور کے ساتھ جانے کا بول کر ہمارے گھر کی بچی یوں منہ اٹھا کر باہر نہیں نکل جاتی
میں اب تک چپ تھی کیونکہ سرمد ادا کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی لیکن اب مزید یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکتی میری بیٹی سے اچھے طریقے سے پیش آؤ وہ تم سے 4 سال بڑی ہے تم اسے اس کے نام سے اور بے حد بدتمیزی سے بلاتی ہو۔جو مجھے بالکل گوارا نہیں۔اپنی ماں کی سکھائی ہوئی تربیت وہی بھول کر آؤ تو بہتر ہوگا تمہارے لیے
زرین تائی جو صبح سے اپنی اور اپنی بیٹی کی بےعزتی کروا رہی تھی اسے سخت لہجے میں سمجھانے لگی آپ کی بیٹی جھوٹ بول رہی ہے اس نے مجھے کچھ نہیں دیا تھا بلکہ اس نے تو مجھے منع بھی نہیں کیا
یہ تو آگے سے ڈرامہ کر رہی تھی اگر گئی تو یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا میں دیکھنا چاہتی تھی کہ کیا ہو جائے گا بات اگر طریقے سے کی جائے تو انسان سمجھ سکتا ہے لیکن یہ محترمہ مجھے ڈراوا دکھا رہی تھی ۔
پر میں کسی سے نہیں ڈرتی ۔
میں بدتمیزی نہیں کرتی ہوں یہ کرتی ہے ہمیشہ میرے ساتھ اس کا تو مجھے نہیں پتہ لیکن میں اسے بالکل بھی پسند نہیں ہوں
اپنے پرسنلز کی وجہ سے یہ مجھے ٹارگٹ کر رہی ہے یہ آپ کو نظر نہیں آرہا آج مجھے یہ چوٹ لگی ہے نا آپ کی بیٹی کی وجہ سے ہی لگی ہے کب اس نے مجھے کہا تھا ڈرائیور کو اپنے ساتھ لے کر جانے کے لیے ذرا یہاں پر آکر سچ بولے ۔اور میری ماں کی تربیت پر آپ نہ ہی جائیں تو بہتر ہوگا
آپ کی بیٹی کی تربیت بھی دیکھی ہے میں نے ان کی بات پر اسے اچھی خاصی تپ چڑ گئی تھی وہ تمیز اور بدتمیزی کا فرق بھولے اپنی بات ان پر کلیئر کر چکی تھی ۔
توبہ توبہ زبان درازی دیکھو اس لڑکی کی بات کرنے کی تمیز نہیں ہے سامنے چھوٹا کھڑا ہے یا بڑا کوئی ہوش نہیں ہے بس اپنی ہی ہانکے جا رہی ہے ۔
بس کریں چاچی سائیں وہ بچی ہے اسے سمجھ نہیں ہے آپ تو سمجھ دار ہیں اسے یہاں آئے ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں آہستہ آہستہ سمجھ آئے گی تم چلو کمرے میں ڈاکٹر آنے والا ہے۔دارم ایک نظر زرین بیگم کو دیکھتا نور سے مخاطب ہوا تھا
جب کہ نور نے بے حد غصے سے پہلے زرین اور بعد میں ثنا کو دیکھا تھا ثنا کو دیکھتے ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی
تمہاری محبت سے مجھے کیا لینا دینا تھا ثنا لیکن تمہیں میرے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔گیم اچھی کھیلی ہے تم نے لیکن میں کوئی دبو اور بیوقوف لڑکی نہیں ہوں ۔
کیسے جاؤں اندر میرے پیر میں چوٹ لگی ہے مجھ سے اٹھا تک نہیں جا رہا ہر کوئی مجھ پر غصہ کر رہا ہے کسی کو میری فکر نہیں ہے جس کا دل چاہتا ہے اپنی بھڑاس نکالتا ہے مجھ پر اس سے بہتر تھا کہ مر جاتی وہی پر واپس آتی نہیں بے عزتی کروانے کے لئے آئی ہوں میں یہاں ۔
بکواس بند کرو اپنی بولنے سے پہلے ایک بار سوچ لیا کرو اپنے منہ سے کیا فضولیات نکال رہی ہو ۔اس کی فضول گوئی پر وہ دھاڑا تھا
میں ہی بکواس کرتی ہوں ساری غلطی میری ہی ہے میرا ہی دماغ خراب ہے جو میں یہاں آ گئی اور پھر یہاں پچھلے تین دن سے بے وقوفوں کی طرح اس کمرے میں پڑی ہوں ۔
کسی کو احساس نہیں کہ کوئی مجھے باہر لے جائے میرا دل نہیں لگتا یہاں چار لڑکیاں ہیں اس گھر میں جن کو اپنے اپنے یونیورسٹی کالج اسکول فیشن سے فرصت نہیں ملتی پتہ نہیں اور ایک میں ہوں یہاں مجھے نہیں رہنا مجھے واپس جانا ہے مجھے پتہ ہے نہ تو میں وہاں کسی کے لیے اہم تھی اور نہ ہی میں یہاں کوئی اہمیت رکھتی ہوں۔میری ماں کی زندگی میں تو میرے لئے کبھی کوئی جگہ تھی ہی نہیں لیکن یہاں پر بھی کوئی پیار نہیں کرتا مجھ سے
پتا نہیں اس کی آنکھوں میں آنسو کون سی بات کو لے کر آئے تھے لیکن اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوں اسے بے حد معصوم بنا گئے تھے ۔
جس نے سب کے دل کو تڑپا دیا تھا
نہیں بیٹا سائیں اس ہفتے بچےتمہیں گھمانے لے کر جانے والے تھے میری جان ساحرسائیں نے تمہارے لیے ہی تو اسپیشل وقت نکالا ہے۔
تم ہم سب کے لیے اہم ہو بے حد اہم ہو میرا بچہ تم بس اپنا موڈ ٹھیک کرو کل ہی سنان سائیں تہمیں اپنے ساتھ گاؤں گھوما کر لائے گا ۔اصغر صاحب بے حد پیار سے آنسو صاف کرتے ہوئے اس کے ماتھے پر بوسہ دے کر بولے
سنان ادا کیوں دارم سائیں کیوں نہیں انہیں کیا صرف غصہ کرنا چلانا آتا ہے ان سے کہیں کہ مجھے لے کر جائیں
۔مجھے ان کے ساتھ جانا ہے یہ جو مجھے ہر وقت ڈانٹتے رہتے ہیں فضول میں انہیں کہیں کہ مجھے باہر لے کر جائیں وہ بھی کل صبح صبح وہ بے حد لاڈ سے ان کے سینے میں منہ چھپاتے ہوئے بولی اس کے انداز نے سب کو حیران کر دیا
سنا تم نے دارم سائیں میری بچی نے کیا کہا کل سارے اہم کام چھوڑ دو ہمارے لئے سب سے اہم ہمارے گھر کی خوشی ہے ۔وہ اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولے
جی بابا سائیں جو حکم لیکن پہلے یہ اپنا پیر تو ٹھیک کر لے ۔چوٹ کافی گہری ہے وہ اپنا کل کا ایک بہت اہم کام چھوڑ نہیں سکتا تھا اسی لئے کہنے لگا
کل تک ٹھیک ہو جائے گی میری چوٹ آپ بہانے بازی نہ کرے اس سے پہلےکے بابا سائیں کچھ بھی کہتے وہ بول پڑی ۔
ٹھیک ہے بابا سائیں میں لے جاؤں گا ۔بابا سائیں کے مسکرانے پر وہ بولا اصغر صاحب کے سینے میں منہ چھپائے اس نے ایک نظر ثنا کو دیکھا تھا اس کے چہرے کی ہوائیاں اڑتے دیکھ کر ا سے بہت اچھا لگا تھا
وہ اپنی ماں جیسی نہیں تھی لیکن پھر بھی جو اسے پسند نہیں آتا تھا اس کے ساتھ وہ زیادہ دیر اچھا بننے کا ڈرامہ نہیں کرسکتی تھی ۔
اب خوش میری جان تایا سائیں نے بہت پیار سے پوچھا ۔
بہت خوش اب ان سے کہیں کہ مجھے اٹھا کر کمرے میں چھوڑ آئیں جیسے پہاڑ سے اٹھا کر لائے تھے ۔اس نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ دارم نے بے اختیار اس کے چہرے پر اس کی مسکراہٹ سے ابھرتے ڈیپمپلز کو دیکھا تھا شاید یہاں آنے کے بعد وہ پہلی بار اتنی کھل کر مسکرائی تھی ۔
بیٹا سائیں آؤ میں تمہیں سہارا دیتا ہوں میں تمہیں کمرے تک چھوڑ آوں گا ۔سب کے بیچ یوں اچانک اس کا دارم کا خود کو اٹھانے کے لئے کہنا بہت عجیب تھا اسی لیے وہ بات کو سنبھالتے ہوئے بولے ۔
میں نہیں چل سکتی بہت زیادہ درد ہے یہ پہاڑی سے بھی مجھے اٹھا کر لے آئے تھے اب تو صرف یہاں کمرے تک چھوڑنا ہے۔آئیں دارم سائیں لے چلیں مجھے کمرے میں وہ اپنے ہاتھ اوپر کرتی اسے بلانے لگی ۔بابا سائیں اس کے قریب سے اٹھے
وہ تو شکر تھا کہ اس وقت یہاں پر ذاوش زرنیش اور ثانیہ نہیں تھی ان کے سامنے اسے واقعی بہت شرمندگی ہوتی ثانیہ اس وقت اپنے کمرے میں تھی ۔زرنیش کچن میں اور زاوش اپنی کسی سہیلی کے گھر گئی ہوئی تھی جسے لینے ساحر کو جانا تھا پتا نہیں وہ گیا بھی تھا یا نہیں
اس نے بے حد احتیاط سے اس کے نازک سے وجود کو اپنی باہوں میں اٹھایا تو وہ لمحے میں ہی اس کی گردن میں اپنے بازو ڈالتی اس کے سینے میں اپنا سر چھپا گئی
یہ لمحات اس کے لیے کتنے مشکل تھے یہ تو صرف وہ ہی جانتی تھی لیکن اس وقت وہ ثنا کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھنے کی شدت سے خواہش کر رہی تھی
°°°°°
تھینک یو ۔صبح تیار رہیے گا وقت پر نکلیں گے گھر سے رات میں آرام آگیا تو ٹھیک ہے لیکن نہیں بھی آیا تو ہم ضرور جائیں گے ۔
مجھے گاؤں دیکھنے کا بہت شوق ہے ہم اس پہاڑی پر بھی واپس جائیں گے آپ ایسے ہی اٹھا کر لے چلیں گے ۔ان کے ساتھ ہی کمرے میں داخل ہوتی ثنا کو محسوس کرکے وہ بے حد پیار سے اس کے گلے میں اپنے بازو مزید مضبوطی سے ڈالتی اس سے پوچھنے لگی ۔
کوئی بات نہیں صبح ہم بھی تمہارے ساتھ ہوں گے نہ تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ہم تمہیں آرام سے وہاں لے جائیں گے ویسے بھی کل زاوش کو کالج سے چھٹی ہے اور ثانیہ کی چھٹی تو نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کے ایگزامز ہو رہے ہیں لیکن زرنیش ہمارے لئے چھٹی کر لے گی ۔
وہ اسے بیڈ پر لیٹا کر جیسے ہی پیچھے ہٹا وہ اس کے اوپر کمبل ڈالتی غصے سے بتانے لگی ۔
نہیں مجھے اور کسی کو ساتھ لے کر نہیں جانا دارم سائیں صرف میں اور آپ بتا دیں اس کو وہ ایک نظر اسے دیکھتی دارم کا ہاتھ تھام چکی تھی۔
دارم سائیں صرف ہم جائیں گے نا ۔۔۔؟ وہ بے حد معصومیات سے اسے دیکھتے ہوئے بولی ۔
ہاں کسی کو بھی چھٹی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کل صرف میں اور در جا رہے ہیں ۔ہفتے والے دن سنان سائیں سب کو لے جائے گا ۔وہ اپنی بات مکمل کرتا کمرے سے باہر جانے لگا جہاں ڈاکٹر آ گیا تھا۔
دارم سائیں انجیکشن۔۔۔۔۔
نہیں لگائے گا میں منع کر دوں گا ڈونٹ وری وہ دلکشی سے مسکراتا باہر نکل گیا۔
انہیں کیسے پتا ہے کہ مجھے کو انجیکشن سے ڈر لگتا ہے نور نے خود سے سوال کیا۔
°°°°°
لو یہ چادر ڈاکٹر اندر آرہا ہے وہ الماری سے چادر نکل کر اس کی طرف پھینکتی ہوئی بولی۔
میں نے کیا ایسے ہی تمہارے منہ پر چارد ماری تھی نور نے ایک ادامسکرا کر دوستانہ انداز میں پوچھا۔
لو اسے ڈاکٹر اندر آنے والا ہے ۔وہ اپنی بات پر زور دیتے ہوئے بولی۔
ویسے ایک بات بتاوں تمہیں تم نے یہ کہانی امیجن اچھی کر لی ہے اگر تم مجھے یہ دیتی نہ تو میں اسے سچ میں تمہارے منہ ہی مارتی ۔وہ چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجائے ہوئے بولی جب اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور دارم سائیں اندر داخل ہوا ۔
اس نےلمحے میں ہی چادر اٹھا کر اپنے کمبل کی نیچے پھینک دی تھی ۔
ڈاکٹر آرہا ہے تمہارا دوپٹہ کدھر ہے وہ اسے دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگا ۔
نہیں ہے میرے پاس کب سے مانگ رہی ہوں ثناادی سے نہیں دے رہی آپ پلیز دے دیں اپنی چادر پہلے تو مجھے فرق نہیں پڑتا تھا اب بہت عجیب سا محسوس ہوتا ہے یہاں آنے کے بعد وہ اس کے کندھے سے اجرک کھینچ چکی تھی جس پر ثنا کا پورا کاپورا منہ کھل گیا اس لڑکی کی ہمت تو واقع ہی قابل دید تھی شاید وہ جانتی نہیں تھی کہ وہ کس سے پنگا لے رہی ہے ۔
کیا ہوا آپ کو برا لگا اچھا آپ واپس لے لیں ۔میں کوئی اور ڈھونڈ لیتی ہوں وہ بے حد معصومیت سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
جس پر دارم دلکشی سے مسکرایا
برا کیوں لگے گا جانم سائیں حق ہے تمہارا ۔اسے اپنی اجرک خود پر لپیٹتے دیکھ کر سکون اس کے اندر تک اتر گیا تھا ۔
تھینک یو پلیز ڈاکٹر کو انجیکشن سے منع ۔۔۔۔
فکر مت کرو کسی کے باپ کی اتنی اوقات نہیں میری اجازت کے بنا تمہیں چھونے کی ۔وہ مسکرا کر کہتا دروازہ کھول چکا تھا ۔
اچانک آنے والا بدلاؤ اسے عجیب تو لگ رہا تھا لیکن بہت خوشگوار بھی تھا
ثناء نے بے اختیار اپنی مٹھیاں بھینچی جس پر نور بھی مسکرائی ۔
غلط بندی سے پنگا لے لیا آپ نے ثناء ادی ۔ثناء کا پھیکا چہرہ اس سے اچھا لگا تھا اس نے غلط کیا تھا اور نور غلط کرنے والوں کے ساتھ غلط کرتی تھی