488.5K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dost Daram) Episode 5

بیٹا سائیں یہ آپ کا اور ثانیہ کا کمرہ ہے۔اسے کمرے میں لاتے ہمنا چاچی نے خوشی سے بتایا ۔انہوں نے ثانیہ کو بہت پیار سے سمجھایا تھا کہ نور اس کی بہن ہے ۔
انہیں بے حد خوشی تھی کہ ثانیہ نے نہ صرف ان کی بات کو سمجھا تھا بلکہ اسے اپنی بہن قبول بھی کر لیا تھا
وہ بے چینی سے اس کے آنے کا انتظار کر رہی تھی آج تو صبح سے ہی وہ بہت خوش تھی
آج جب وہ پیپر دے کر واپس آئی تب ہی سے اس کا انتظار شروع ہو گیا تھا
اور اپنی بیٹی کی بے چینی دیکھ کر وہ مطمئن ہو چکی تھیں انہیں اپنی پرورش پر فخر تھا انہیں یقین تھا اب چاہے کچھ بھی کیوں نہ ہو جائے ثانیہ کے دماغ میں سوتیلا پن کبھی بھی نہیں آئے گا
کیا مطلب ہے میرا اکیلا نہیں ہے۔۔۔؟
میرا مطلب ہے الگ کمرہ نہیں مل سکتا کیا مجھے وہ تھوڑی پریشان ہوئی
کیوں نہیں بیٹا الگ کمرہ مل جائے گا وہ کیا ہے نہ زاوش اور زرنیش دونوں اکٹھے ہوتے ہیں اس لئے مجھے لگا کہ تمہارا اور ثانیہ کا کمرہ اکٹھا تیار کروا دیتی ہوں
لیکن اگر تمہیں الگ کمرہ چاہیے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے میری جان میں تمہارے لیئے الگ کمرے کا انتظام کروا دیتی ہوں تم پریشان مت ہو
بس آج رات گزارا کر لو صبح ہوتے ہی میں تمہارا کمرہ تیار کروا کر تمہارا سامان وہاں شفٹ کر دوں گی ہمنا بیگم نے اسے بہت پیار سے سمجھایا تھا
جس پر وہ صرف ہاں میں سر ہلا گئی
وہ یہاں کسی کے ساتھ کمرہ شیئر نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ کسی کے ساتھ بھی زیادہ اٹیچ نہیں ہونا چاہتی تھی وہ یہاں ایک مقصد کے لیے آئی تھی
اسے یقین تھا کہ اگر وہ کسی کے ساتھ رہے گی تو یقیناً وہ اسے بہت اچھے طریقے سے سمجھ جائے گا وہ دکھاوے کا مکھوٹا زیادہ دیر نہیں استعمال کر سکتی تھی ۔
یہ حقیقت تھی کہ اسے کسی سے محبت نہیں تھی ثانیہ کو دیکھ کر بھی اس کے دل میں کسی قسم کے کوئی جذبات پیدا نہیں ہوئے تھے وہ اپنے اندر سے تمام جذبات اس دن ختم کر چکی تھی جب وہ اپنے حالات سمجھنے لگی تھی
اس نے بہت جلد دنیا کو سمجھ لیا تھا ۔اور جو شخص دنیا کو سمجھ لیتا ہے وہ آسانی سے کسی سے محبت نہیں کر پاتا
ٹھیک ہے آنٹی آج کی رات میں ثانیہ کے ساتھ کمرہ شیئر کر لیتی ہوں لیکن آپ پلیز میرے لیئے الگ کمرے کا انتظام کروا دیں وہ کیا ہے نہ ایک کمرہ شیئر کرنا میرے لیے تھوڑا مشکل ہے اس نے مسکرا کر کہا تو ثانیہ کے چہرے کی مسکراہٹ کہیں کھو سی گئی وہ تو اس کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے کتنی خوش تھی وہ اس بات کو لے کر بہت زیادہ ایکسائیٹڈ تھی کہ اس کی بہن اس کے ساتھ اس کے کمرے میں سوئے گی
زرنیش اور زاوش ادی کو ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ دیکھ کر اس کی بہت خواہش تھی کہ اس کی بھی کوئی بہن ہوتی اور آج بہن ملی تو اسے اس کے ساتھ کمرہ شیئر کرنے میں مسئلہ تھا
اور رہی بات ثنا کی تو اس کے ساتھ تو کسی کی بھی نہیں بنتی تھی
°°°°°
بابا سائیں آ گئے ہیں ادی سائیں ۔آپ کو پتا ہے وہ ایک ہفتے سے ہسپتال میں ایڈمٹ تھے لیکن انھیں جیسے ہی پتہ چلا کہ آپ حویلی آ چکی ہیں وہ ہسپتال چھوڑ کر آ گئے
جلدی چلیں باہر باباسائیں آپ سے ملنے کے لیے بہت بے چین ہیں ۔وہ اپنے موبائل میں مصروف کمرے میں ہی بیٹھی تھی جب ثانیہ بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی
اس کا دل عجیب سا ہونے لگا تھا اس خبر سے وہ کیسے ملے گی ان سے
انہیں کیا کہہ کر پکارے گی
کس طرح سے بات کرے گی ان سے وہ ان سے بات کر پائے گی بھی یا نہیں
اور اس کے سوال جن کا وہ حساب چاہتی تھی
نہ جانے کیوں اس کے ہاتھ پیر ٹھنڈے ہونے لگے تھے اسے بہت عجیب لگ رہا تھا لیکن ملنا تو تھا ہی ان سے وہ اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی باہر نکلنے کے بارے میں سوچ رہی تھی
ارے ادی آپ وہاں کیا کر رہی ہیں جلدی چلیں باباسائیں آپ سے ملنے کے لیے اتنے زیادہ بے چین ہیں کہ وہ خود کمرے میں آ جائیں گے وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے اپنے ساتھ کھینچنے لگی تو ایک ٹھنڈی سانس خارج کرکے وہ آہستہ آہستہ اس کے ساتھ باہر آنے لگی
°°°°°
وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترتی ہال کی جانب آچکی تھی
کہاں ہے میری بیٹی زاوش بیٹا بلاکر لاؤ اسے کہاں رہ گئی ہے ثانیہ ۔کب سے گئی ہے اب تک واپس نہیں آئی ان کی آواز باہر تک آ رہی تھی ان کی آواز کی بےچینی محسوس کرکے اس کے قدم رک گئے
کتنے سال انتظار کیا تھا اس نے ان کا اور آج وہ انتظار کر رہے تھے
کیا اسے انتظار کروانا چاہیے وہ بند دروازے کے باہر رکی گہری سوچ میں تھی جبکہ ثانیہ کمرے کے اندر کھڑی پیچھے مڑ کر اسے دیکھنے لگی جو دروازے پر ہی رک گئی تھی
کیا ہوگیا ادی سائیں آپ وہاں کیوں رک گئی ہیں اندر آئیں نہ باباسائیں آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔
آگئی میری بیٹی ثانیہ کی آواز سنتے ہی وہ اٹھ کر کھڑے ہونے لگے جب ساحر نے انہیں بیٹھنے کے لیے کہا
چاچو سائیں بیٹھ جائیں آرام سے وہ یہیں آ رہی ہے وہ انہیں سمجھاتے ہوئے بولا ان کے ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی
ساحر سائیں میری بیٹی ۔۔وہ خوشی سے اپنے الفاظ تک بیان نہیں کر پا رہے تھے
چاچو سائیں وہ یہیں آرہی ہے ثانیہ بلاو اسے اندر ساحر نے ثانیہ کو ذرا سخت لہجے میں کہا
کیوں کہ چاچو سائیں حد سے زیادہ بے چین ہو رہے تھے وہ نہیں چاہتا تھا کہ چاچو سائیں اپنی طبیعت خراب کر لیں
جبکہ ان کی آواز کی بے چینی کو محسوس کرتے ہوئے نورکے لبوں پر ایک زخمی مسکراہٹ ٹھہری تھی تو اتنا بے چین تھا اس کا باپ اس سے ملنے کے لیے
آجائے نا ادی بابا آپ کا انتظار کر رہے ہیں ثانیہ نے بہت عاجزی سے کہا
جس پر وہ ہاں میں سر ہلاتی آہستہ سے کمرے کے اندر قدم رکھ چکی تھی
چاچو سائیں ایک بار پھر سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے تو ساحر اس بار کچھ بھی نہیں بول پایا ۔ اندر قدم رکھ کر اس نے ایک نظر ہال میں موجود سب لوگوں پر ڈالی اور پھر ان پر
بابا سائیں بازو کھولیں اس کا انتطار کر رہے تھے۔
میری بچی میری نور میرے دل کا ٹکڑا وہ بازو کھولے اسے اپنے پاس بلا رہے تھے
اسے ان سے ملنے کی کوئی جلدی نہیں تھی۔بلکہ ان کا یہ انداز تو اسے سکون دے رہا تھا ۔
اسے اچھا لگ رہا تھا ان کا انتظار کرنا ان کی آنکھوں کی یہ نمی یہ انتظار کرتی باہیں وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ان کے قریب آ رکی
اس کے قریب آنے پر سب کے چہروں پر مسکراہٹ آ گئی تھی ۔آخر اتنے سالوں کا انتظار ختم ہو گیا تھا
کیسے ہیں آپ اس نے مسکرا کر پوچھا ۔تایا سائیں کہہ رہے تھے کہ آپ نے اپنی طبیعت خراب کر لی ہے ۔اور آپ اپنے آخری وقت میں مجھ سے ملنا چاہتے ہیں کتنی عجیب بات ہے نا آپ کو میری یاد صرف اپنے آخری وقت میں آ رہی ہے ۔ان کے کھلے بازو میں سمانے کے بجائے ان کے سامنے کھڑی شاید حساب کتاب کر رہی تھی
گڑیا یہ وقت صیح نہیں ہے ان باتوں کے لئے پہلے مل تو لوچاچو سائیں سے صرف تم سے ملنے کے لیے یہ اپنا علاج تک مکمل نہیں کروا رہے ساحر نے سمجھاتے ہوئے کہا تھا
معاف کیجیے گا ادا سائیں لیکن باپ بیٹی کا معاملہ ہے نا کسی دوسرے کی انٹرفیرنس مجھے پسند نہیں
لیکن گڑیا اس وقت ۔۔۔۔ساحر نے کچھ کہنا چاہا جب چاچو سائیں نے اپنے ہاتھ سے اسے خاموش رہنے کے لئے کہا اور پھر مسکرا دیئے
کہوں میری جان اپنے سارے شکوے شکایت بول دو اپنے دل میں کوئی سوال مت رکھنا ۔جو بھی شکایتیں ہیں جو بھی شکوے ہیں سب کے سب آج ایک ہی بار میں کرکے اپنے باپ کے سینے سے لگ کر اس تڑپ کو ختم کر دو بہت تڑپا ہے تمہارا باپ تمہیں اپنے سینے سے لگانے کے لئےایک بار اسے بابا سائیں کہہ کر پکارو میری جان وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے اس کی پیشانی پہ اپنے لب رکھ چکے تھے
ان کے سائے پر نور نے اپنی آنکھیں بند کیں لیکن پیچھے ہٹتے ہی وہ ایک بار پھر سے حساب کتاب پر اتر آئی تھی
ہاں تو کہاں تھی میں سرمد شاہ ۔میرا سب سے پہلا سوال آپ مجھے پال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کیا
دوسرا سوال اگر پیدا کر ہی لیا تھا تو اپنے پاس کیوں نہیں رکھا
تیسرا سوال مجھے چھوڑ کر کیوں گئے
چوتھا اور آخری سوال یہ جو محبت آج جاگی ہے اتنے سالوں سے کہاں سوئی تھی ۔
دیں جواب سرمد صاحب آپ میرے سوالوں کے جواب دیں تب ہی میں آپ کو بابا سائیں کہہ کر پکاروں گی ۔
ان سب سوالوں کے جواب تو تمہاری ماں نے بھی دیئے ہوں گے
لیکن میں جانتا ہوں تمہیں جواب مجھ سے چاہیے
تمہیں اس دنیا میں لانے کی سب سے بڑی وجہ تمہاری باغی ماں کو رائے راست پر لانا تھا لیکن میں ناکام رہا
تمہاری پیدائش کے بعد بھی اس نے اپنی حرکتیں نہ چھوڑی وہ مجھ سے چھپ کر نہیں بلکہ میرے سامنے اپنے ۔۔۔۔۔وہ کہتے کہتے رک گئے
میں مجبور ہو کر اسے پاکستان لے آیا ۔لیکن یہاں بھی وہ نہیں رہنا چاہتی تھی اس نے مجھے واپس جانے پر مجبور کر دیا میں اسے واپس لے آیا
ہماری لڑائیاں ہر دن بڑھتی چلی گئی ۔میں نے مجبور ہو کر اس سے جڑا اپنا رشتہ ختم کر لیا
انگلش گورنمنٹ تمہیں میرے حوالے کرنے کو تیار ہی نہیں تھی اس نے یہ ثابت کر دیا کہ میں اسے مارتا پیٹتا تھا اور شاید میں تمہیں ماروں گا جب میرے خلاف کیس چلا تب اس نے اپنے جسم پر جھوٹے مار پیٹ کے نشان بناتے ہوئے تمہارا ہاتھ جلا دیا اور پھر کورٹ میں یہ ثابت کردیا کہ یہ ہاتھ میں نے جلایا ہے
وہ نرمی سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس کے زخم پر اپنے لب رکھ چکے تھے ۔وہ تو اتنے سالوں سے یہی سمجھتی تھی کہ یہ زخم اسے اس کے باپ نے دیا ہے
جس کا نشان اب تاحیات اس کے ساتھ رہے گا ۔لیکن ان کی آنکھوں کی یہ تکلیف
پھر ۔ ۔۔۔۔۔؟
ان کا لب و لہجہ اسے کمزور کر رہا تھا اسی لیے اپنے لہجے کو مضبوط کرتے ہوئے ان سے سوال کرنے لگی
طلاق کے بعد مجھے تم سے ملنے کی اجازت ہفتے میں صرف ایک بار دی گئی لیکن اس نے ایک بار پھر سے مجھ پر یہ کہہ کر کیس کروا دیا کہ میں تمہیں لےکر پاکستان بھاگ جاؤں گا
جس کے بعد گورنمنٹ نے مجھ سے تم سے ملنے کا حق بھی چھین لیا اب میں وہاں رہ کر کیا کرتا میری جان جب تم سے ملنے کی اجازت ہی نہیں تھی مجھے میں خاموشی سے پلٹ آیا
تم سے ملنے کی اجازت مجھے اب تک نہیں تھی جب تم بالغ ہو کر خود مجھ سے ملنا چاہو
میں اتنے سالوں سے تمہارا انتظار کر رہا تھا اور آج تم میرے سامنے ہو اور مجھے تمہاری یاد آج نہیں پندرہ سالوں میں ایک ایک پل آئی ہے تمہیں اپنے سینے سے لگانے کے لئے میں اتنا بے قرار تھا کہ ۔۔۔۔
میں نہیں جانتی کہ آپ سچ بول رہے ہیں یا پھر صرف دکھاوا کر رہے ہیں لیکن مجھے آپ کی کسی بات میں کوئی سچائی نظر نہیں آتی اتنی بڑی حویلی کا مالک وہاں پر بھی آپ کا بزنس ہے کیسے مان لوں یہ بات آپ کو مجھ سے ملنے تک نہیں دیا گیا
شاید آپ خود ہی مجھ سے نہیں ملنا چاہتے تھے ۔ورنہ آپ جیسے پاورفل انسان انگلش گورنمنٹ کے آگے بے بس ہو جائیں یہ بات ماننے والی نہیں ہے
عجیب بات ہے نا میرا باپ جو مجھ سے اتنا زیادہ پیار کرتا ہے میرے لئے اتنے سالوں سے میرا انتظار کر رہا تھا اس نے دوبارہ میری کسٹڈی کے لئے اپیل ہی نہیں کی
میں نے چھ بار اپیل کی تھی نور وہ تڑپ کر بولے
پندرہ بار کیوں نہیں کی ۔ہر بار کوشش کیوں نہیں کی آپ نے بیٹی ہوں میں آپ کی آپ نے بار بار کوشش کیوں نہیں کی
میرے لئے 15 سال انتظار کر سکتے تھے تو میرے لئے پندرہ بار اپیل نہیں کی ۔
کیونکہ آپ کو مجھ سے محبت ہی نہیں ۔اگر آپ کو مجھ سے محبت ہوتی تو کبھی مجھے چھوڑ کر نہیں آتے
آپ کو پتہ ہے کس طرح میں نے وہاں وقت گزارا ہے ۔اس ماں نے کبھی حال بھی نہیں پوچھا میں بیمار ہوتی تو وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ پارٹی اٹینڈ کرنے چلی جاتی تھی ۔
میں روتی تو اس نے کبھی مجھ سے میری تکلیف کی وجہ نہیں پوچھی ۔
کیونکہ اسے مجھ سے کہیں زیادہ عزیز وہ شخص تھا لیکن بقول آپ کے آپ کے لیے تو سب سے عزیز میں ہوں نا تو پھر کیوں چھوڑ کے آئے مجھے ۔
کیا لگا تھا آپ کو میں روں گی آپ کے لیے آپ کہیں گے مجھے بابا کہو تو کہوں گی میرے سینے سے لگو تو دوڑکر لگوں گی
نہیں سر مد صاحب بالکل بھی نہیں جب تک آپ مجھے میرے پندرہ سالوں کا حساب نہیں دیتے تب تک میں آپ کو باباسائیں نہیں کہوں گی ۔
اس عورت سے مجھے کوئی لینا دینا نہیں ہے میں نے کبھی اس سے کوئی شکایت نہیں کی کیونکہ اس عورت نے میری ماں بننے کی کوشش ہی نہیں کی اور نہ ہی وہ میری ماں ہے لیکن آپ میرے باپ ہیں
جب تک آپ مجھے میری پندرہ سالوں کی اذیتوں کا جواب نہیں دیتے حساب نہیں دیتے تب تک میرے بابا نہیں ۔
یہ کیا بچپنا ہے نور یہ کیا بات کر رہی ہو تم اتنے سالوں کے بعد تمہیں باپ ملا ہے اس کو اس طرح۔۔۔
وہ بیمار ہے بیٹا سائیں اس کے ساتھ ایسا نہ کرو اصغر صاحب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی
میں پہلے ہی کہہ چکی ہوں تایا سائیں یہ میرا اور میرے باپ کے بیچ کا معاملہ ہے اسے ہم تک محدود رہنے دیں اس کے لہجے میں بدتمیزی شامل تھی
وہ ایک نظر حال میں سب لوگوں کی جانب دیکھتی وہی سے پیچھے مڑگئی
۔۔نور۔ نور بیٹا بات۔ ۔۔
جانے دیں اسے ادا سائیں وہ بیٹی ہے حق پر ہے ۔میں پندرہ سال سے اس کے لیے تڑپتا رہا ۔لیکن اسے حاصل کرنے کی کوشش دوبارہ نہیں کی
ٹھیک کہتی ہے وہ اگر میں 15 سال اس کے لئے تڑپ سکتا تھا تو 15 بار اس کیلئے کوشش بھی کر سکتا تھا
اگر میں 15 سال اس کے بالغ ہوکر اس سے ملاقات کا انتظار کر سکتا تھا تو کوشش کرکے اپنی ملاقات بحال بھی کروا سکتا تھا
وہ سچ کہتی ہے ادا سائیں اتنا بے بس نہیں تھا کہ اپنی بیٹی کو یوں چھوڑ کرجاتا ۔وہ حق پر ہے اسے کچھ نہ کہیں۔ ۔
ساحر سائیں مجھے کمرے میں لے چلو ۔وہ ساحر کو سہارا دینے کا اشارہ کر کے اس کی جانب بڑھے جب اچانک ان کا سر بری طرح سے چکرا گیا اگر ساحر ان کے پاس نہ کھڑا ہوتا تو یقینا وہ بھی گر جاتے
°°°°°
نیچے آ کر کھانا کھا لیجئے ادی ثانیہ دروازے پر دستک دیتے ہوئے بولی
مجھے ابھی بھوک نہیں ہے جب بھوک لگے گی تب کھا لوں گی تم جاؤ کھا لو وہ بہت نارمل انداز میں بولی تھوڑی دیر پہلے والے ماحول کا اثر بالکل بھی نہیں تھا جبکہ ثانیہ کی آنکھیں اپنے باپ کی تکلیف پر رو رو کر سرخ ہو چکی تھیں
دل تو چاہا اس پر دو لفظ لعنت بھیج کر نیچے چلی جائے اتنے دنوں کی محبت کہیں دور جا سوئی تھی اسے اپنے باپ سے زیادہ عزیز اور کچھ بھی نہیں تھا
جیسے آپ کی مرضی وہ اس سے کہتی دروازہ بند کرتی وہاں سے نکل گئی تھی اس کے اتنے زور سے دروازہ بند کرنے پر ایک لمحے کیلئے وہ بھی ڈر گئی تھی
نکچڑھی کہیں کی وہ بڑبڑائی
°°°°°
رات تقریبا تین بجے کا وقت تھا بھوک سے اس کی جان نکل رہی تھی
ثانیا بیڈ پر آرام سے سو رہی تھی کمرے میں آنے کے بعد اس نے اسے بالکل بھی مخاطب نہیں کیا تھا یقینا اس سے ناراض تھی لیکن نور کو کیا فرق پڑتا تھا
اس واقعہ کے بعد تو کوئی بھی اس سے نارمل نہیں رہا تھا
ثانیہ کے بعد زرین تائی بھی آئی تھیں اس سے کھانے کا پوچھنے کے لئے لیکن ان کا انداز بھی لیا دیا تھا ۔ثانیہ کو ایک نظر دیکھ کر وہ اپنا کمبل سائیڈ پر کرتی اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی
اس وقت اسے اپنے بھوکے پیٹ کا کوئی نہ کوئی انتظام تو کرنا تھا
وہ کھانا کھانے نیچے آ تو گئی تھی ۔لیکن اب کس طرف جائے سمجھ نہیں آ رہی تھی
ایک تو یہاں اندھیرا تھا اور اوپر سے جانتی بھی نہیں تھی کہ کچن کونسی سائیڈ پر ہے کاش اسی وقت کھانا کھا لیتی آگے قدم بڑھاتے وہ خود ہی سے باتیں کر رہی تھی
جب اچانک کسی چٹان نماوجود سے ٹکرائی ۔اچانک کسی سے ٹکرانے سے وہ خوف سے چیخنے لگی تھی کہ کسی کا مضبوط ہاتھ اس کے ہونٹوں پر رکا۔
سشش۔ ۔۔۔۔کسی نے سرگوشی کی تھی
باہر سے آنے والی ذرا ذرا سی روشنی اور یہ سرگوشی نما آواز اس کے چٹان نماوجود کے ساتھ ہونٹوں پر رکھا مضبوط ہاتھ وہ صرف محسوس ہی کر پا رہی تھی کہ وہ کوئی آدمی ہے
۔
گھر کا ہی کوئی آدمی ہوگا یا کوئی ملازم یا پھر کوئی چور اس کے دماغ میں بہت ساری چیزیں ایک ہی سوچ سے گھوم رہی تھی
اس نے آہستہ سے اس کے لبوں سے اپنا ہاتھ ہٹایا اس کی انگلیاں بے حد نرمی سے اس کے لبوں کو چھو رہی تھی وہ جان بوجھ کر ایسا کر رہا تھا یا صرف ایک اتفاق تھا نور کو سمجھ نہ آیا لیکن اس کی کمر پر موجود اس کے ہاتھوں کی گرفت اچانک بے حد سخت ہوگئی اس سے پہلے کہ وہ اس سے دور ہٹتی وہ اسے کھینچ کر اپنے بےحد قریب کر چکا تھا
اس کی گرم سانسیں اور مونچھوں کی چھبن وہ اپنی گردن پر محسوس کر رہی تھی اس نے مضبوطی سے اس کے کندھے کو تھامتے ہوئے خود سے دور کرنا چاہا
جب اس کے ہونٹوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کر کے اس کا دل بے چینی سے دھڑکا وہ اس سے دور ہونے کے لیے جدوجہد کرنے لگی
جب کہ وہ اپنے ہونٹوں کو اس کی گردن پر بےلگام چھوڑ چکا تھا
اس کی گرفت بے حد سخت تھی وہ اسے خود میں قید کیے ہوئے تھا
۔۔۔کو۔ ۔۔۔ن۔۔۔۔ ہو ۔۔تم۔ ؟ اپنے آپ کو چھڑاتی چیخ تک نہیں پا رہی تھی
تمہارا محرم تمہارا حقدار۔۔اس کے کان میں سرگوشی ہوئی اس کا مزاحمت کرتا وجود ساکت رہ گیا تھا
۔دار۔۔۔م۔ ۔۔شا۔ ۔۔ہ ۔۔۔اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ایک نام لیا تھا ۔
اس کے لب مسکرا اٹھے تھے ۔جب کہ اس کے بازو میں موجود وہ نازک سراپا بری طرح سے کانپ رہا تھا ۔
کوئی شک ۔۔۔۔! اس کے لہجے میں مسکراہٹ واضع تھی جیسے وہ دیکھ تو نہیں پا رہی تھی لیکن محسوس باآسانی کر گئی تھی یقینا اس کے الفاظ نے اسے بے حد خوشی دی تھی
جس کے انعام میں وہ اسے نشان دے گیا تھا
دارم سائیں یہ تم ہو یہاں ۔۔۔۔؟پیچھے اماں سائیں کی آواز سنتے ہی اس کی کمر پر اس کی گرفت نرم پڑی تھی وہ لمحے میں اس سے اپنا آپ چھڑواتی وہاں سے سیڑھیاں چڑھتی اوپر بھاگ گئی تھی ۔جب کہ وہ دلکشی سے مسکراتا ہوا اماں سائیں کی جانب چلا گیا تھا جو اب تک اس کا انتظار کر رہی تھیں