Dost Daram By Areej Shah Readelle50301 Dost Daram ( Episode 13)
Rate this Novel
Dost Daram ( Episode 13)
اپنے کمرے میں آنے کے بعد بھی وہ مسلسل اسے ہی سوچتے جا رہی تھی اس کا ہاتھ اب تک اسی اپنی کمر کے گرد محسوس ہو رہا تھا ۔
جبکہ اپنے لبوں پر اس کے ہونٹوں کا لمس یاد کرتے ہوئے وہ کانپ اٹھی۔اس کا نازک سادل اب تک بری طرح سے کانپ رہا تھا ۔
وہ کیوں دارم سائیں کو خود سے دور نہیں کر پاتی تھی آخر کیا کشش تھی اس کی قربت میں کہ اسے سب کچھ بھول جاتا تھا وہ یہ بھی بھول جاتی تھی کہ وہ یہاں کس مقصد سے آئی ہے .
کیوں وہ اسے خود سے دور نہیں کر پاتی تھی اپنے آپ کو شیشے میں دیکھتے ہوئے بے ساختہ اس کا ہاتھ اپنی گردن پر آ رکا تھا ۔
تھوڑی دیر پہلے اس کی گرم سانسیں وہ اپنی گردن پر محسوس کر رہی تھی ۔وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے خود سے بے حد قریب کیے ہوئے تھا ۔یہاں تک کہ اپنی گھنی مونچھوں کی چُبن سے اس کی سانسسوں کو اتھل پتھل کیے ہوئے تھا ۔اس کا دل اب تک بے ترتیب تھا ۔
وہ اس کے واش روم سے باہر نکلنے سے پہلے ہی باہر بھاگ آئی تھی ۔لیکن اس کا دہکتا لمس ساتھ لے آئی تھی جو اسے اب تک بے چین کیے ہوئے تھا ۔
نہیں میں آپ کو اپنے قریب نہیں آنے دوں گی دارم سائیں میں مانتی ہوں میں آپ کے نکاح میں ہوں لیکن میں یہاں اس لیے نہیں آئی مجھے واپس جانا ہے اپنی دنیا میں یہ حویلی کی چار دیواریاں اور آپ کا شاہی کمرہ میری منزل نہیں ہے ۔مجھے کوئی نہیں روک سکتا میں چلی جاوں گی .
اس حویلی کے مردوں کے بارے میں سب جانتی ہوں میں مجھ سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے ۔دارم سائیں ۔پر ویسے بھی یہاں ہے کوئی جو آپ سے بے انتہا محبت کرتا ہے
میں نے دیکھا ہے اس کی آنکھوں میں آپ کیلئے بے تحاشا عشق ۔اگر میں نے آپ کو پا لیا تو وہ مر جائے گی ۔کیونکہ عورت کے دل میں وہ مقام کوئی ایک مردہی حاصل کرسکتا ہے ۔
جو آپ ثناءکے دل میں حاصل کر چکے ہیں اور ثناءکےخوابوں کا گھر جلا کر میں اپناآشیانہ نہیں سجاؤں گی ۔
°°°°°
آج صبح صبح ہی ان سب کا پلان بن گیا نور کو اپنے ساتھ کہیں باہر لے کر جانے کا ۔لیکن ابھی ان کی تیاری شروع ہی ہوئی تھی کہ ذاوش کو پتہ چلا کہ زرنیش یونیورسٹی جا رہی ہے ۔اس نے تو آج چھٹی کر لی تھی جبکہ ثانیہ کے ایگزام ختم ہوگئے تھے ۔
وہ کبھی زرنیش کے بغیر تو کہیں نہیں جاتی تھی اسی لیے صبح صبح ہی اس کے سر پر سوار ہوگئی
زاوش پلیز سمجھنے کی کوشش کرو میرا یونیورسٹی جانا بہت ضروری ہے ۔میرا آج بہت اہم لیکچر ہے اگر میں نے نہیں لیا تو ۔۔۔۔
تو کچھ نہیں ہوگا مجھے پتا ہے میری ادی بہت لائق ہیں اگر ایک عدد لیکچر مس ہو بھی گیا تو بھی کچھ نہیں ہو گا پلیز چلیں نا سب لوگ چل رہے ہیں اور میں نے اتنی مشکل سے دارم ادا کو منایا ہے ۔ان کا کوئی بھروسا نہیں ہے یہ نہ ہو کے لیٹ ہونے پر وہ چلنے سے انکار کر دیں آج نہ ان کےجرگےمیں کسی قسم کی کوئی پیشی نہیں تھی اسی لیے وہ ہمارے ساتھ چلنے کو مان گئے ہیں۔
کیا دارم ادا بھی جا رہے ہیں پھر تو پکا ساحرادا بھی ساتھ ہوں گے توبہ توبہ میں تو ہرگز نہیں جاؤں گی ان دونوں کی موجودگی میں اگر صرف سنان سائیں ہوتے تو ہم چلے جاتے ان کے ساتھ بندہ آرام سکون سے انجوائے کر سکتا ہے وہ تو کسی چیز پر منع بھی نہیں کرتے
اور دارم ادااور ساحر ادا توبہ توبہ اس نے فوراً کانوں کو ہاتھ لگایا تھا
اوہووہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جا رہے ہیں وہ دونوں ساتھ ہیں تو سب کو پتہ ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ لگے رہیں گے ہم خوب مستی کریں گے ۔اور جہاں تک بات سنان ادا کے ساتھ انجوائے کرنے کی ہے تو وہ تم نکاح کے بعد ہنی مون پر جاکر انجوائے کر لینا ۔وہ بے حد شرارت سے گویا ہوئی اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی ۔۔۔
پلیز اب انکار مت کرنا وہ اسے انگلی دکھاتے ہوئے بولی جب سنان وہیں چلاآیا۔
کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ لڑکی کیوں ہر وقت کتابی کیڑابنی رہتی ہو یونیورسٹی کل چلی جانا آج ہم سب لوگ باہر جارہے ہیں تو ہمارے ساتھ چلو اس کا انداز حکم دینے والا تھا ۔
چلو جی ٹھیک ہوگیا اب تو میری باے مان ہی جائے گی زاوش ذومعنی انداز میں کہتی وہاں سے رفو چکر ہو گئی تھی ۔
°°°°°
اسے جب سے پتہ چلا تھا کہ ذاوش ثانیہ اور سنان اسے اپنے ساتھ کہیں باہر گھمانے لے کر جا رہے ہیں وہ بہت زیادہ ایکسائٹڈ تھی وہ تیار ہو کر باہر آئی تو زرنیش کو بھی تیار دیکھا اسے بہت خوشی ہوئی تھی آج اس کا ایک بہت اہم لیکچر تھا جسے چھوڑ کر وہ اس کے لئے اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئی تھی
تھینک یو سو مچ زرنیش ادی آپ نے میرے لئے اپنا اتنا اہم لیکچر چھوڑ دیا آپ بہت اچھی ہیں وہ اس کے گلے لگتے ہوئے خوشی سے بولی
ہم چاروں جا رہے ہیں بہت مزہ آئے گا ۔اس نے سنان ذاوش اور ثانیہ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
چاروں نہیں آٹھوں جا رہے ہیں۔
دارم ادا سائیں “ساحر اداسائیں” سنان ادا سائیں ” ثانیہ ” ثنا ادی زرنیش ادی” تم اور میں ۔ذواش نے فوراً اسے بتایا تھا ۔
جب کہ دارم کا نام سن کر اسے بالکل کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی ۔
چلو تم سب تیار ہو ۔باہر آجاؤ میں گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں ۔دارم سائیں ہاتھ میں گاڑی کی چابی پکڑے ان کے قریب سے گزرتا باہر نکل گیا
ہاں ہم سب تو تیار ہیں لیکن ثناادی ابھی تک نہیں آئی ۔
بی بی جی ثناء بی بی جی کہہ رہی ہیں کہ انہیں کہیں پر نہیں جانا آپ سب لوگ چلے جائیں ملازمہ نے پاس رکتے ہوئے بتایا۔
ارے ایسے کیسے نہیں جائیں گی ان کے بغیر تو مزا ہی نہیں آئے گا ہم جب بھی جاتے ہیں ایک ساتھ جاتے ہیں آجائیں ۔یار پلیز زر ادی آپ جا کر ان سے بات کریں نا ایک بندہ مسنگ ہوگا تو بالکل اچھا نہیں لگے گا نہ ذاوش نے اداسی سے کہا ۔
وہ شاید نور کی وجہ سے ہمارے ساتھ نہیں جانا چاہتیں انہیں رہنے دو ویسے بھی دو دن پہلے بہت برا ہوا تھا زرنیش نے انکار کیا
آپ رکیں زرنیش ادی میں جاتی ہو ثناادی کو اپنے ساتھ لے کر آؤں گی اس نے مسکرا کر کہا۔
وہ ویسے بھی جانے والی تھی اس نے سوچا تھا کہ وہ کسی سے بھی زیادہ اٹیچ نہیں ہوگی لیکن شاید یہ محبتں یہ چاہتیں اور کہیں سے بھی نہیں ملی تھی تو کیا جاتا تھا اگر وہ انہیں سمیٹ لیتی ۔
°°°°°°
اس نے بے حد آہستہ سے دروازے پر دستک دی تھی ۔
کون ہے آجاؤ ادھر ثناء نے اپنے ہاتھ میں نہ جانے کون سی کتاب اٹھائی ہوئی تھی ایک نظر دروازے کی جانب دیکھتی اجازت دی
میں ہوں نور ۔۔۔اس نے مسکراتے ہوئے کمرے کے اندر قدم رکھا
تم یہاں کیوں آئی ہو وہاں سے دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگی.
آپ ہمارے ساتھ باہر گھومنے کے لئے کیوں نہیں جا رہی کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں اس دن کی وجہ سے ۔۔؟ یقینا ہوں گی ۔
میں یہاں زیادہ کچھ بھی کہنے کے لیے نہیں آئی میں بس یہ بتانے کے لئے آئی ہوں کہ میں یہاں صرف اپنے بابا سائیں کےلئے آئی تھی تایا سائیں مجھے بس بابا سائیں سے ملوانے کے لیے یہاں لائے تھے میں چلی جاؤں گی پلیز آپ میری وجہ سے اپنے گھر والوں کے ساتھ دوریاں نہ بنائیں ۔
آپ بڑی ہیں مجھ سے مجھے آپ کی عزت کرنی چاہئے میں نے بہت بد تمیزی کی اس دن اور اگر آپ جھوٹ نہیں بولتی تو یقینا نہ کرتی ۔
ایک غلطی آپ نے کی ایک غلطی میں نے کردی تو میرے خیال سے اب حساب برابر ہو چکا ہے ۔
تو میرا نہیں خیال کہ مزید کتابیں کھولنی چاہیے ۔
اب تک جو بھی ہوا اسے بھلا کر میرے خیال میں ہمیں ایک نیا اسٹارٹ لینا چاہیے ۔میں یہاں سے جانے سے پہلے اپنے لئے بہت ساری اچھی یادیں بنانا چاہتی ہوں ۔
میں کسی کے ساتھ اپنا رشتہ خراب نہیں کرنا چاہتی اگر آپ بھی میری بات سے ایگری کرتی ہیں تو پلیز آج ہمارے ساتھ ضرور چلئے گا ۔
ہم باہر آپ کا انتظار کر رہے ہیں آپ کے پاس 15 منٹ ہیں ۔اگر آپ پندرہ منٹ میں آ گئی تو میں یہی سمجھوں گی کہ جو میں چاہتی ہوں وہی آپ بھی چاہتی ہیں اس نے مسکرا کر کہا اور کمرے سے باہر جانے لگی جب ثنا نے اسے بلایا
دیکھو میں پندرہ منٹ میں ہرگز تیار نہیں ہو سکتی ۔مجھے تیار ہونے کے لئے تقریبا کم از کم ایک گھنٹہ چاہیے ۔نور نے مسکرا کر پیچھے دیکھا۔
گاڑی دارم سائیں ڈرائیو کر رہے ہیں اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ جتنی جلدی تیار ہو کر آ سکتی ہیں آجائیں وہ بس اتنا کہہ کر کمرے سے نکل گئی ۔
اس نے کمرے سے باہر قدم رکھا ہی تھا کہ ثناء اسے اپنی پیچھے محسوس ہوئی
ارے یہ کیا آپ تیار نہیں ہوئی اس نے حیرت سے اسے دیکھا تھا ۔
لڑکی وہ دارم سائیں ہیں وہ کبھی کسی کا انتظار نہیں کرتے یہ بات یاد رکھنا ۔وہ چادر ٹھیک سے لیتے ہوئے ان سب کے ساتھ ہی باہر نکلی تھی ۔جبکہ نور کے دماغ میں تو بس دارم سائِیں کے الفاظ گونج رہے تھے
“پندرہ سال انتظار کیا ہے تمہارا” اس کے الفاظ حصار سے خود کو چھڑاتی وہ جلدی سے گھر سے باہر نکلی تھی
°°°°°°
وہ سب لوگ ایٹ سیٹر گاڑی میں بیٹھے سفر سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔دارم سائیں گاڑی چلا رہا تھا جب کہ ساحر سائیں فرینٹ سیٹ پر بیٹھا اپنے سگریٹ پھونکنے میں مصروف تھا ۔
نہ جانےوہ دونوں کون سی باتوں میں مگن تھے جبکہ ایک چیز جو نور بار بار نوٹ کر رہی تھی وہ تھی دارم سائیں کی فرینٹ مرر میں نظر آتی آنکھیں جو وہ اس پر فوکس کیے ہوئے تھا ۔
کل رات کے بعد وہ اس سے بالکل بھی بات نہیں کرنا چاہتی تھی بات کرنا تو دور وہ اس کے سامنے بھی نہیں آنا چاہتی تھی ۔
اس نے ذرا سا سنان کے ساتھ کس کر بیٹھنے کی کوشش کی تو اس شیشے کےسامنے سے ہٹ گئی ۔اسے تو اب اس کی نظروں سے بھی خوف آنے لگا تھا ۔
وہ حق ملکیت رکھتا تھا اسے دیکھنااس سے بات کرنا اسے چھونا وہ اس کا حق تھا ۔اور نور کو یقین تھا کہ وہ اپنے حق اپنی ملکیت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا ۔
لیکن ثناء ۔۔۔اس کا کیا قصور تھا جو اس کے خواب سجا کر بیٹھی تھی ۔اور کیا تک بنتی تھی کہ ثناء کے یہ جذبات ایک طرفہ ہوں۔
ایک لڑکی تب تک اتنی آگے نہیں جا سکتی جب تک اسے دوسری طرف سے پذیرائی نہ ملے۔ اسے یقین تھا ثناء کے جذبات یکطرفہ ہرگز نہیں ہیں
ثناء کی محبت اس بات کی گواہی تھی کہ وہ اس سفر میں اکیلی ہرگز نہیں ہے ۔
سفر گزر رہا تھا وہ ذاوش اور ثانیہ کے ساتھ باتوں میں لگی تھی جب اسے ایک بار پھر سے اپنا آپ کسی کی گہری نظروں کے حصار میں محسوس ہوا اس نے بے ساختہ نظر اٹھا کر سامنے شیشے کی جانب دیکھا تھا جہاں اسے ایک بار پھر سے وہ سیاہ نگاہیں اس کی طرف مرکوز کیے ہوئے تھا ۔
اس نے فورا نظریں چرا لی تھی اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسے وہ خمار یاد آتا تھا جو کل رات دارم سائیں کی نگاہوں میں اس کے لئے تھا ۔
اس کی بے خودی میں بات کرتے ہوئے اس کا دل ایک بار پھر سے بے ترتیب ہونے لگا ۔
نور اپنے آپ کو بے خبر ظاہرکرتی باتوں میں مگن ہونے کی کوشش کرنے لگی لیکن نگاہیں بار بار ان سیاہ نگاہوں سے ٹکراتی تو جھک جاتی اور اس کی جھکی ہوئی نگاہیں دیکھ کر اس کی آنکھیں مسکراتی تھی
°°°°°°
وہ سب لوگ ایک بہت ہی خوبصورت پہاڑی کی جانب آئے تھے ۔سنان تمام لڑکیوں کو لے کر آگے کی جانب بڑھ گیا جب کہ دارم سائیں اور ساحر سائیں نہ جانے کون سی باتوں میں مصروف ہو چکے تھے آج صبح چاچا سائیں تم سے کیا بات کر رہے تھے ۔مجھے کہہ رہے تھے کہ ساحرسائیں کو بلاؤ مجھے بہت اہم بات کرنی ہے ۔
کوئی مسئلہ تو نہیں وہ کافی پریشان لگ رہے تھے ۔ان سب کو اپنی مستی میں مگن دیکھ کر وہ اس سے مخاطب ہوا ۔
نہیں الحمدللہ کوئی مسئلہ تو نہیں ہے وہ دراصل بابا سائیں میری شادی کے پیچھے پڑے ہیں ۔اسی سلسلے میں بات کر رہے تھے مجھ سے وہ اپنی جیب سے سگریٹ نکال کر دیتے ہوئے بولا
تو آپ نے کیا کہا ساحر سائیں پھر کیا ارادے ہیں وہ دلکشی سے مسکراتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
میرا تو کوئی ارادہ نہیں ہے بس کہہ دیا کہ آپ دارم سائیں کے بارے میں سوچیں کیونکہ آپ کو اب رخصتی کی اشد ضرورت ہے ویسے میں نے نہیں بتایا کہ رات کو میں نے آپ کے کمرے میں کون سا نظارہ دیکھا ۔وہ شرارت سے کہتا اسے چھیڑنے لگا
بتا دیتے تو اچھا ہوتا ۔۔کچھ فائدہ ہی ہو جاتا ۔۔خیر میرا فائدہ تو اب ہو ہی جائے گا لیکن تمہیں بھی زیادہ دیر تک کنوارا نہیں رہنے دیں گے ۔چلو اب جلدی سے مجھے پوری بات بتا دو ۔دارم سائیں نےایک نظر سنان کے ساتھ اوپر کی جانب کھڑی تصویر بناتی نور کی طرف دیکھا اور اس کی توجہ ایک بار پھر سے شادی والی بات کی جانب دلائی ۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا فی الحال بابا کا ارادہ اپنی بھتیجی پر ہے ۔اب وہ بھتیجی کوئی بھی ہو انہیں باہر سے بہو نہیں لانی ۔
وہ اس سے کبھی بھی کچھ بھی چھپا نہیں پاتا تھا ۔اسی لئے تو جو دل میں تھا وہ صاف صاف اس کے سامنے بول دیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کسی غیر کے بارے میں نہیں بلکہ اس کی بہن کے بارے میں بات کر رہا ہے ۔
تم اپنے ارادے بتاؤ سائیں ۔اگر تمہیں اس خاندان کی بہو باہر سے لانی ہے تو میری پوری سپورٹ تمہیں ملے گی ۔بس ایک بات یاد رکھنا شادی اپنی پسند سے کرنا ۔
انسان کی زندگی کا یہ فیصلہ اس کی مرضی سے ہو یہی بہتر ہے ۔عورت کا دل بہت نازک ہوتا ہے اگر اس میں ایک بار کوئی اپنا گھر بنا لے تو وہ ساری زندگی کے لیے اس گھر کو سنوارنے میں لگ جاتی ہے ۔وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا
جب ساحرسائِیں نے ایک نظر سنان سائیں سے باتوں میں مگن ذاوش کی طرف دیکھا۔
فیصلہ مشکل نہیں ہے دارم سائیں میں اس لڑکی سے شادی کروں گا جس کے دل پر کسی اور کی چھاپ نہیں ہوگی ۔
اس نے مسکرا کر ایک گہرا کش لیا تھا
بابا سائیں نے اس کے سامنے دو آپشن رکھے تھے ایک ثناء اور دوسری ذاوش جب کہ وہ زرنیش کا رشتہ سنان سائیں سے پکا کرنے کا ارادہ رکھتے تھے ۔
اس نے ہمیشہ اپنے آپ کے لئے ایک ایسی لڑکی کو سوچا تھا جو اپنے دل کو صاف و شفاف رکھے ۔اس کے دل میں اپنے شوہر کے علاوہ اور کوئی نہ ہو ۔وہ شادی کے بعد کی محبت پر یقین رکھنے والا انسان تھا ۔
وہ شادی سے پہلے اپنے جذبات کسی پر لوٹانا محبت کی توہین سمجھتا تھا ۔
وہ ایسے لوگوں کو محبت کے قابل نہیں سمجھتا ہے جو بنا کسی جائز تعلق کے اپنے دل کی دنیا کو کسی نامحرم کےنام سے آباد کر لیتے ہیں
ثناء کے جذبات سے وہ تو کیا گھر کا ایک ایک فرد اچھے سے واقف تھا ۔
اور اس کے جذبات کس کے لیے تھے یہ بھی سب لوگ ہی جانتے تھے ۔ذاوش شرارتی اور البیلی سی تھی ۔لیکن وہ یقین سے کہہ سکتا تھا کہ اس نے اب تک کسی غیر محرم کے لیے اپنے دل کے دروازے کھولے نہیں تھے ۔
ہاں وہ اسے کبھی بھی پسند نہیں تھی۔ بلکہ اس کے ساتھ تو اس کی اور بھی بہت سارے حساب نکلتے تھے ۔
تو کیوں نہ شادی کے بعد سارے حساب بے باک کر ہی لئے جائیں وہ ذاوش کو گہری نظروں سے دیکھتا اک گہرا کش لگا کر دھواں فضا میں منتقل کرتا گاڑی کی جانب چلا گیا اسے اس مستی مذاق سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ۔
اس سب کےبنا بھی وہ بہت پرسکون تھا ۔وہ بچپن سے ہی ایسا تھا سب سے الگ تھلگ رہنا پسند کرتا تھا گھر میں سوائے دارم سائیں کے اس کی اور کسی سے نہیں بنتی تھی
°°°°°
وہ سامنے والی پہاڑی دیکھ رہی ہونور اسے چہڑ پہاڑی کہتے ہیں۔اور کچھ لوگ تو اسے محبت کرنے والوں کی پہاڑی بھی کہتے ہیں ۔سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ وہ ایک نہیں بلکہ دو پہاڑیاں ہیں بلکہ یہ کہنا ٹھیک رہے گا کہ ایک پہاڑ بیج سے ٹوٹا ہوا ہے اسی لئے اب وہ دو ہیں۔ایک پہاڑی کے اوپر چڑھنے کا راستہ ہے اور دوسری کے اوپر چڑھنے کا راستہ نہیں ہے ۔اور جس پہاڑی کے اوپر چڑھنے کا راستہ نہیں کہتے ہیں کہ اس پہاڑی کے اوپر نا ایک بہت بڑا درخت ہے ۔جہاں پر بہت خوبصورت گلابی رنگ کے پھول کھلتے ہیں
محبت کرنے والے اس درخت سے ایک ٹہنی توڑ کر کے دوسری پہاڑی پر موجود چھوٹی سی جگہ پر لگاتے ہیں ۔اور اگر وہاں وہ پودا لگ جائے تو ان کی سچی محبت مل جاتی ہے ۔
کتنے مزے کی بات ہے نا بہت لوگ ایسا کرتے بھی ہیں لیکن وہ جگہ ہی ایسی ہے کہ وہاں بہت کم پودے لگتے ہیں ۔
میں تو وہاں کبھی نہیں گئی لیکن میری سہیلی گئی تھی اس نے بتایا تھا کہ اس نے وہاں پر وہ پودا بھی لگایا تھا لیکن بد قسمتی سے اس کا پودا نہیں لگا ۔زاوش بہت اداسی سے بتا رہی تھی
انتہائی فضول ہے یہ سب کچھ ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا قسمت اللہ تعالی لکھتا ہے یہ تو بس آج کل کے کپلز کے ڈرامے ہیں سنان سائیں نی اپنا نظریہ پیش کیا ۔
اس میں تو کوئی شک نہیں سنان ادا قسمت اللہ تعالی لکھتا ہے لیکن محبت کو آزمانے میں کیا حرج ہے
میری سہیلی نے تو صرف اپنی قسمت کو آزمایا تھا
تو یقیناً پھر تمہاری سہیلی کو اس کی محبت بھی نہیں ملی ہوگی ساحر سائیں ٹھنڈے لہجے میں بولا یہ پہلی بار تھی جب اس نے اس کی کسی بات میں دلچسپی لی ہو
جی نہیں اس کو اس کی محبت مل چکی ہے الحمد للہ اس کا نکاح بھی ہو چکا ہے لیکن جس سے وہ شادی کرنا چاہتی تھی میرا مطلب ہے جس کے لیے اس نے وہاں پودا لگایا تھا وہ اسے نہیں ملا شاید وہ کسی اور کے نصیب میں تھا اور ہوسکتا ہے اسی لئے اس کا پودا بھی نہ لگا ہو ۔ذاوش نے سوچتے ہوئےکہا۔
مجھے ان سب باتوں پر یقین تو بالکل نہیں ہے لیکن میں پھر بھی وہاں جانا چاہتی ہوں اورپودا بھی لگانا چاہتی ہوں پتا نہیں یہاں دوبارہ آنا ہوگا بھی یا نہیں لیکن قسمت آزمانے میں کوئی حرج نہیں میرا مطلب ہے تھوڑی انٹرٹینمنٹ ہو جائے گی ۔نور نے شوشا چھوڑا۔
نہیں نور فی الحال گھر چلو ویسے بھی شام کے چھ بج چکے ہیں تھوڑی ہی دیر میں مکمل اندھیرا چھا جائے گا اور اس طرف کوئی بھی نہیں جاتا اس وقت ہمیں واپس حویلی چلنا چاہیے سنان نے کہا ۔
نہیں میں ایسے واپس نہیں جاؤں گی میں پودا لگا کر ہی جاؤں گی وہ ضد پر اڑ گئی
ارے بے وقوف لڑکی پودا پہلے دوسری پہاڑی سے لانا ہوگا پھر وہاں جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے لوگ بہت مشکل سے جاتے ہیں اپنی محبتوں کی خاطر ۔اور پھر دوسری پہاڑی کا سفر وہاں جاکر پودا لگانا آسان نہیں تم اس کو بہت ایزی لے رہی ہو چلو گھر واپس اس نے سمجھایا ۔
ایزی نہیں لے رہی سنان ادا میں تو صرف دیکھنا چاہتی ہوں آپ بس مجھے وہاں لے چلیں میں پودا لگا کر واپس آؤں گی میں بھی تو دیکھوں مجھے میری سچی محبت ملتی ہے یا نہیں ۔
میں کہیں بھی نہیں جارہا تمہارے ساتھ بلکہ میں تو تم سب کو واپس گھر لے کر جانے کا سوچ رہا ہوں ۔
ساحر ادا آپ لے چلیں مجھے اس نے سنان کے انکار پر ساحر سے کہا۔
کھیل محبت کا ہے تو پھر تو پھر کھلاڑی بھی تو محبت کے ہونے چاہیے ۔چلو آؤ تمہیں تمہاری محبت پر یقین دلاتا ہوں ۔وہ آہستہ سے اس کی کلائی تھامتا گاڑی کی چابی ساحر سائیں کی جانب پھنکتا اسے اپنے ساتھ لئے آگے کی جانب چل دیا تھا ۔
جبکہ ثناء وہیں کھڑی انہیں نظروں سے دور ہوتے دیکھ رہی تھی۔ اپنی بے چینیوں کی قصور وار وہ خود تھی دارم سائیں کا نکاح اس سے چھپا ہوا تو نہ تھا اس نے خود اپنے دل کو اس قدر بے لگام کیا تھا کہ وہ ایک غیر محرم کیلئے خون کے آنسو رو رہا تھا
