Dost Daram By Areej Shah Readelle50301 (Dost Daram) Episode 7
Rate this Novel
(Dost Daram) Episode 7
عجیب آدمی ہے ۔یہ سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو اس کو کیا لگتا ہے یہ مجھے زبردستی اس رشتے پر راضی کرے گا ۔ اس کی ہمت کیسے ہوئی مجھے اپنی ملکیت کہنے کی۔اور اس کو کیا لگتا ہے وہ مجھے اپنی ملکیت کہے گا تو میں اس کی ملکیت بن جاوں گی۔نہیں کبھی نہیں میں کسی کی غلامی نہیں کروں گی۔اور مجھ پر چلا رہا تھا اوپر سے کیسے کہہ رہا تھا کہ میں اسے آپ کہوں ۔
میں کیوں اسے آپ کہوں بلکہ میں اس سے بات ہی کیوں کروں جب میرا اس سے کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے ۔
ہاں میں اس کے منہ ہی نہیں لگوں کی عجیب قسم کا آدمی ہے ایسے لوگوں سے دوری بنا کر رہنا زیادہ بہتر ہے
میرے خیال میں اب مجھے بابا سائیں سے بات کرنی چاہیے .اس سے پہلے کہ یہ فضول آدمی اور فری ہو
لیکن کیا اتنا جلدی بات کرنا بہتر رہے گا ۔مجھے پہلے کچھ دن ساری صورت حال کو سمجھ لینا چاہیے ۔
اور یہ پیار محبت ڈرامےتو میں نے ویسے بھی نہیں کرنے ۔میں بابا کو بھی بتا دوں گی کہ میں یہاں صرف اپنی جائیداد کے لیے آئی ہوں مجھے ان کی پراپرٹی میں اپنا حصہ چاہیے
جو میری آنے والی زندگی کو آسان کر دے میں ان سب کو پہلے ہی کلیئر کر دوں گی کہ میں یہاں سے اپنی جائیداد کے لئے آئی ہوں اور جائیداد کے کام میں بھی کافی دن لگ جائیں گے
بہتر ہے کہ میں اس آدمی کے منہ ہی نہ لگوں نا تو میں اس کے سامنے آؤں گی اور نہ ہی اس سے زیادہ بات کروں گی
یہ جب میرے سامنے آتا ہے فضول کی حرکتیں کرنا شروع کر دیتا ہے اس سے دوری بنا کر رکھنی پڑے گی یہ آدمی میرے لئے برا ثابت ہو سکتا ہے ۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں مصروف تھی کہ اس کا فون بجا
اس کے فون پر ثمرہ کا فون کم ہی آتا تھا اس نے یقیناً اپنی لالچ کے لیے فون کیا ہوگا وہ نفی میں سر ہلاتے فون کو کان کے ساتھ لگا چکی تھی
کیسی ہو میری جان میں تمہیں بہت مس کر رہی ہوں ابھی تمہیں گئے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں اور دیکھو ۔۔۔۔۔۔
مام ابھی کچھ نہیں ہوسکتا ابھی میں ان سے بات نہیں کر پائی بابا بہت زیادہ بیمار ہیں ان کی طبیعت کچھ ٹھیک ہو گی تو میں ان سے بات کروں گی تب تک کے لئے آپ بار بار فون کر کے مجھے ڈسٹرب نہ کریں وہ ایک ہی لائن میں اپنی بات مکمل کرتی فون رکھ چکی تھی
اس کا موڈ بہت خراب ہوچکا تھا ۔وہ جانتی تھی اس کی ماں نے اسے فون کیوں کیا ہے ۔
وہ کہاں اسے فون کرتی تھیں اس سے اس کا حال پوچھتی تھیں یا پھر اسے مس کرتی تھیں یہ سارے دکھاوے تو وہ دولت کروا رہی تھی جو اس کے حصے میں آنے والی تھی ۔
دولت بھی کتنی عجیب چیز ہے نا کسی کو ساری زندگی بھر کے لیے پرایا کر دیتی ہے اور کسی کو اپنا بنانے میں وقت نہیں لگتا ۔
وہ بھی تو یہی کر رہی تھی ۔جن سے وہ کوئی رشتہ ہی نہیں رکھنا چاہتی تھی دولت کے لئے ان کے پاس آگئی تھی۔جائیداد میں اپنے حصے کے لیے یہاں تک آ گئی تھی ۔
اس میں اور ثمرا میں فرق کیا تھا ۔ثمرہ بھی پیسوں کے لئے کچھ بھی کر سکتی تھی اور وہ بھی پیسوں کے لیے اپنے ہی باپ کے جذبات کے ساتھ کھیل رہی تھی لیکن فرق تھا ۔
ثمرہ نے وہ بھوک نہیں دیکھی تھی ۔جو اس نے دیکھی تھی
ثمرہ نے زندگی کے ہر مشکل قدم پر اپنے حسن کو استعمال کیا تھا ۔لیکن وہ یہ نہیں کر پائی تھی ۔اس نے کبھی اپنی زندگی میں کسی غیر مرد کو جگہ نا دی تھی
کیونکہ وہ بچپن سے جانتی تھی کے اس کے جسم اور روح پر کسی کا حق ہے ۔اور وہ شخص اپنا حق سود سمیت واپس لے گا ۔
وہ بہت چھوٹی سی تھی صرف چار سال کی لیکن وہ دن آج اسے یاد تھا ۔جب اسے دلہن بنایا گیا تھا ۔اس پر کسی قسم کی کوئی زور زبردستی نہیں کی گئی تھی ۔اس نے خود اپنی مرضی سے نکاح نامے پر اپنے ٹیڑھے میڑے سائن کیے تھے ۔
کتنی خوش تھی وہ اس دن اس کا دوست اس کا بیسٹ فرینڈ ہمیشہ کے لئے اسے دے دیاگیا تھا ۔
اب نا تو وہ ثنا کے ساتھ کھیل سکتا تھا اور نہ ہی کسی اور کو دوست بنا سکتا تھا اس پر صرف درنور کا حق تھا
اس کی زندگی میں کبھی بھی کچھ اچھا نہیں ہوا تھا جسے یادگار بنا کر ہمیشہ یاد رکھتی ۔اس نے اپنی زندگی میں صرف مشکلات ہی دیکھی تھی ۔
اور ان سب چیزوں سے پہلے جو چار سال کی عمر میں اس کے ساتھ ہوا تھا وہ اچھی یادوں میں بار بار یاد کرنے کی وجہ سے ذہن کے پردوں پر محفوظ ہو گیا تھا ۔
جس پر سید دارم شاہ کے نقش بہت مضبوط تھے ۔وہ پہلے نہیں جانتی تھی اس کا دارم کے ساتھ جو رشتہ ہے وہ اتنا مضبوط ہے ۔
لیکن پھر اس کی ماں نے اسے بتایا کہ اگر اپنے باپ کے ساتھ جائے گی تو وہ اسے ہمیشہ کے لیے وہاں قید کر لیا جائے گا ۔
کیونکہ وہ دارم شاہ کے نکاح میں ہے وہ اس پر حق رکھتا ہے جس کو ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ اس کے ساتھ جو بھی چاہے کرسکتا ہے
اسی لیے وہ چاہتی تھی کہ وہ دارم سے دور ہی رہے اس سے فاصلہ بنا کر رکھے۔ کیونکہ اس کے ارادے صاف بتا رہے تھے کہ وہ اسے آسانی سے نہیں چھوڑے گا لیکن وہ تو ثمرہ کی بیٹی تھی وہ اسے مجبور کردے گی طلاق دینے پر ۔
وہ دارم شاہ کے سامنے اپنے آپ کو اس طرح سے پیش کرنے والی تھی کہ وہ کبھی بھی اسے بیوی کے روپ میں قبول نہ کرے۔
لیکن اس کے لئے اسے بہت محنت کرنی تھی نہ جانے اس کا باپ اسے کچھ دینے پر راضی بھی ہوگا یا نہیں اسے کسی بھی حالت میں اپنا حصہ چاہیے تھا ۔جس کے لیے اس نے ابھی کچھ دن تک یہی رہنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ ہر چیز کو پوری طرح سے ہینڈل کر پائے یہ مسئلہ اتنا بھی آسان نہیں تھا جتنا وہ سوچ کر یہاں آئی تھی
°°°°°
آو بیٹاسائیں نیچے چلو کھانا کھا لو تمہارے بابا سائیں بھی انتظار کر رہے ہیں۔
مجھے ابھی کچھ نہیں کھانا جب مجھے بھوک لگے گی میں خود سے کھا لوں گی ۔وہ ان سے کہتی ایک بار پھر سے اپنے موبائل پر مصروف ہو گئی۔
بیٹا سائیں دارم سائیں بھی کھانے کی ٹیبل پر ہیں صبح کسی کام کی وجہ سے وہ تمہارے ساتھ ناشتہ نہیں کر سکا اس لیے وہ اب تمہارے ساتھ ناشتہ کرنا چاہتا یے
آئی ایم سوری آنٹی مجھے بھوک نہیں لگی میں بعد میں کھانا کھا لوں گی ۔اور انہیں کہہ دیں کہ میرے لئے انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے ابھی میرا کھانا کھانے کا بالکل بھی موڈ نہیں ہے ۔
اور پلیز آپ مجھے بار بار نہ کہیں ۔میں جب سے یہاں آئی ہوں مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں یہاں سب کی مرضی کی پابند ہو گئی ہوں
ایک بار کھانا کھانے کے لئے کہتے ہیں پھر پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں ۔اور مجھے یہ بالکل بھی پسند نہیں ہے ۔
میں اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارتی ہو تو پلیز مجھے فورس نہ کریں مہربانی ہوگی اور پلیز دروازہ بند کرکے جائیے گا ۔
وہ اکتاہت سے کہتی بدتمیزی کر گئی ۔ہمنہ اس بار کچھ نہ بول پائیں
°°°°°
ہمنہ اتنی دیر لگا دی ۔میری بیٹی کو بھلاؤ کہ کچھ کھاؤں میں بھی بہت بھوک لگی ہے مجھے۔سرمد شاہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگے
سائیں اسے بھوک نہیں ہے وہ کہتی ہے بعد میں کھانا کھائے گی ابھی اس کا کچھ بھی کھانے کا دل نہیں کر رہا ناشتہ بھی اس نے دیر سے کیا تھا نہ تو ۔۔۔
چاچی سائیں بلاکرلائیں اگر نہیں کھاتی کچھ بھی تو بھی کوئی بات نہیں کم از کم ساتھ ہی بیٹھ جائے چاچوسائیں کا کتنا دل ہے اس کے ساتھ بات کرنے کا اور یہ میں کیا سن رہا ہوں ۔کل میرے آنے سے پہلے یہاں کون سا تماشہ ہوا ہے مجھے بھی بتائیں
کیا کہتی ہے آپ کی لاڈلی ۔کوئی مسئلہ ہے تو مجھے بتائیں میں حل کر دیتا ہوں ۔
ارے نہیں بیٹا سائیں کوئی مسئلہ نہیں ہے کیا ہوگا بس ناراض ہے مجھ سے ناراضگی جتارہی ہے اپنی میں منا لوں گا اسے یقین ہے مجھے
ہمنہ یہ کھانا اٹھا لو جب اسے بھوک لگے گی مجھے بھلا دینا اس کے ساتھ ہی کھاؤں گا انہوں نے مسکراتے ہوئے اس سے کہہ کر ہمنہ کو مخاطب کیا
لیکن آپ کو تو بہت سخت بھوک لگی تھی چاچو سائیں آپ اس طرح سے چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں آپ شروع کریں وہ آتی ہوگی ۔دارم سائیں کو ان کا یوں اٹھنا بہت برا لگا ۔
نہیں بیٹاسائیں میں تو بس اس کے ساتھ تھوڑی دیر وقت گزارنا چاہتا تھا کھانے کا کیا ہے وہ تو میں بعد میں بھی کھا لوں گا ۔
آپ بیٹھے میں بلا کر لاتا ہوں اسے وہ ان سے کہتا اٹھ کر کھڑا ہوگیا وہ اسے روک بھی نہ پائے
°°°°°
آپ اس طرح سے میرے کمرے میں نہیں آ سکتے ۔اسے بنا اجازت کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی
میں اس طرح بھی آ سکتا ہوں اور اس طرح بھی کوئی بھی روکنے والا ہی پیدا نہیں ہوا مجھے اس گھر میں چلو باہر چل کے کھانا کھاؤ ۔
مجھے بھوک نہیں ہے میں بتا چکی ہوں ہمنہ آنٹی کو ۔جب بھوک لگے گی تب میں خود کھا لوں گی آپ جائیں یہاں سے۔اور اس طرح کوئی میرے کمرے میں آئے مجھے بہت برا لگتا ہے اور بہتر ہو گا کہ آپ یہ بہت اچھے طریقے سے سمجھ جائیں میں آخری بار سمجھا رہی ہوں مجھے میری پرائیویسی بہت عزیز ہے۔اسی لیے بہتر ہوگا کہ آپ سب لوگ اپنی حد میں رہے وہ اپنے لہجے میں سختی پیدا کرتے ہوئے بولی
جب اچانک دارم سائیں نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اسے اپنے بےحد قریب کھینچ لیا ۔
میں پہلی اور آخری بار سمجھا رہا ہوں ۔میری بات کان کھول کر اور دماغ ٹھکانے پر رکھ کر سن لو اور سمجھ لو
میں جب ایک بار کوئی بات کہوں تو فورا مان جایا کرو ۔کیونکہ میں فی الحال تم پر کسی قسم کی کوئی سختی نہیں کرنا چاہتا ۔یہ سچ ہے کہ تمام حقوق محفوظ رکھتا ہوں میں لیکن میں نہیں چاہتا کہ تم شادی سے پہلے یا بعد میں میرے بارے میں کچھ بھی الٹا سیدھا سوچو۔میں تمہارے ساتھ اپنی اچھی یادیں بنانا چاہتا ہوں جانم سائیں مجھے برا بننے پر مجبور مت کرو ۔
تم اچھے لوگوکی طرح اس گھر میں رہو۔کیونکہ بُر وں کے ساتھ میں بہت برا ہوں ۔
تمہارے نخرے پسند ہیں مجھے اسی لئے سلامت ہیں جس دن یہ سر چڑھ گئے اس دن نہ تو نخرے سلامت رہے گے اور نہ ہی نخرے دکھانے والی ۔
تمہیں یہاں بسایا ہے تو بہتر ہے یہی پر رہو ۔وہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
یہاں مت چڑو اس کا دوسرا اشارہ اپنے سر کی جانب تھا
ورنہ وہاں پہنچانے میں مجھے زیادہ وقت نہیں لگے گا ۔اس کا تیسرا اشارہ اپنے پیروں کی جانب تھا ۔
اس کی بات کا مطلب سمجھ کر نور کو آگ ہی تو لگ گئی تھی ۔
کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا آپ مجھے اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتے ہیں ۔آپ کو کیا لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔
چپ۔ ہم شاہ ہیں جانم سائیں شاہوں کے خون میں بیگم کو دل کی سلطنت کی ملکہ بنایا جاتا ہےغلام نہیں ۔لیکن جب یہی ملکہ دل کی سلطنت جلا دے تو پھر اس کا مقام نیچے گر جاتا ہے ۔غلام نہیں غلام سےبدتر۔لیکن بات اوقات اوقات کی ہے ۔
اب دیکھنا پڑے گا تمہاری اوقات کیا ہے ۔اگر ملکہ بننا چاہو تو موسٹ ویلکم باقی اپنے دل سے یہ خوش فہمی نکال دو جو لے کر تم یہاں آئی ہو۔
چلو بھوک لگی ہے مجھے اور چاچو سائیں کو بھی ۔جتنا پراٹھا تم نے ناشتے میں میرے لئے چھوڑا تھا اس سے میرا کچھ نہیں بنا چلو اب زیادہ وقت نہیں ہے میرے پاس مجھے ضروری کام کے لیے کہیں جانا ہے
وہ اس کا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ لے جانے لگا اسے غصہ تو بہت آرہا تھا لیکن نہ جانے کیوں اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوانہیں پا رہی تھی ایک تو اس کا ہاتھ بہت مضبوطی سے اس کے ہاتھ میں قید تھا
دوسرا وہ خود بھی ہمت نہیں کر پا رہی تھی اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے آزاد کروانے کی
لیں چاچوسائیں آگئی آپ کی لاڈلی چلیں اب کھانا شروع کریں وہ اسے چاچوسائیں کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھاکر خود بھی بیٹھ گیا اس کے بیٹھنے پر جہاں چاچوسائیں خوش ہو گئے تھے وہیں ہمنہ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ۔
وہ جلدی جلدی ان کے لیے کھانا لگانے لگیں جبکہ کھانے کے دوران وہ بار بار اسے مخاطب کرتے ہوئے اسے کچھ نہ کچھ کھانے کو دیتا جو چاچوسائیں کو دینا کہتا وہ مجبور ہو کر وہ چیز سرمد شاہ کے سامنے رکھ دیتی ۔
°°°°°
نہیں بیٹا نہیں اس وقت تم نہ طلاق کی بات ہرگز مت کرنا ۔یہ نہ ہو کہ وہ لوگ کوئی شرط رکھ لیں
تم تقریبا ایک مہینہ سکون سے وہاں رہو کچھ بھی ڈیمانڈ کرنے کی ضرورت نہیں ہے جب تک تمہارے ابّو بالکل ٹھیک نہیں ہو جاتے ۔
اور اپنے بابا کے ساتھ نہ تھوڑی بہت اٹیچمنٹ شو کرو تاکہ انہیں لگے کہ تم ان سے محبت کرتی ہوں اور ان کے لیے وہاں گئی ہو دیکھو بیٹا پیسے ایسے ہی نہیں مل جاتے ان کے لئے بہت سارے پاپڑبیلنے پڑتے ہیں
تمہیں سب کے ساتھ بنا کر رکھنی پڑے گی ۔تمہیں سب کو یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ تم انہی میں سے ایک ہو
ہاں دارم کے ساتھ زیادہ قریب ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ کوشش کرو کہ اس سے دور ہی رکھو۔جس طرح سے تم بتا رہی ہو یہ تو کافی حطرناک قسم کا انسان ہے اس سے ذرا فاصلہ رکھو ۔لیکن اپنے بابا کے لیے وقت نکالو۔اور وہاں موجود باقی لوگوں کے ساتھ بھی تو گھلوملو
تمہاری عمر کی بھی لڑکیاں ہیں وہاں ان سے تھوڑی بہت دوستی کرو دیکھو اس سے فائدہ ہمارا ہی ہوگا ہوسکتا ہے تمہارا اچھا بہیویر دیکھ کر تمہیں ان سے جائیداد مانگنے کی ضرورت ہی نہ پڑے وہ خود ہی تمہارا حصہ تمہیں دے دیں
کیونکہ تم نے اس طرح سے اچانک سے اپنا حصہ مانگا تو ہو سکتا ہے وہ تمہارے سامنے کسی قسم کی کوئی شرط رکھ لیں جو ماننا تمہارے لئے ممکن نہ ہو
مام میں اپنے حصے کے لئے کچھ بھی کر جاؤں گی لوگ دولت کے لئے کیا کچھ نہیں کرتے ۔میں بھی دولت کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہوں
اگر مجھے اپنے حصے کی جائیداد کے لیے دارم شاہ سے شادی بھی کرنی پڑی تو میں کر لوں گی اور بعد میں طلاق لے لوں گی جس طرح سے آپ نے لی تھی میرے پاس بہت آپشن ہے مام میں کوئی نہ کوئی حل نکال لوں گی جہاں تک آپ کہتی ہیں یہ لوگ اپنی بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ نہیں دیتے بیٹوں کو دیں گے اگر مجھے جائیداد کے لیے شادی بھی کرنی پڑی تو میں کر لوں گی حق مہر میں کچھ نہ کچھ تو ہاتھ آئے گا ایک آسان زندگی کے لئے میرے لیے وہی بہت ہوگا
اس کی سوچ بہت دور تک جا چکی تھی ثمرہ اسے سن کر حیران بھی تھی اور پریشان بھی ۔آخر اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا ۔
وہ جائیداد کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھی یہ نہ ہو کہ اپنی بے وقوفی میں وہ دارم شاہ سے شادی کرلے جس کا انجام بین کی صورت میں اسے اور مائک کو بھگتنا پڑتا
°°°°
گھر میں کوئی نہیں ہے کیا اس وقت وہ کمرے میں بیٹھ کر کافی بور ہو چکی تھی اسی لیے نیچے آئی تو کسی کو بھی نہ پا کر وہیں بیٹھی ٹی وی دیکھتی ثنا سے سوال کرنے لگی۔اس نے ایک نظر مسکرا کر اسے دیکھا اس کی مسکراہٹ اتنی بناوٹی تھی کہ صاف پتا چل رہا تھا کہ اسے زبردستی مسکرانے پر مجبور کیا جا رہا ہے
تایا سائیں زمینوں پر چلے گئے ہیں چھوٹے تایا سائیں کے ساتھ بابا سائیں شہر گئے ہوئے ہیں سنان ادا کے ساتھ ۔چاچو سائیں اپنے کمرے میں آرام کر رہے ہیں ۔اماں سائیں اور بڑی تائی گاوں میں فوتگی پر گئی ہوئی ہیں اور ہمنا چاچی ملازموں سے دوپہرکا کھانا بنوانے میں مصروف ہیں ۔ زرنش یونی گئی ہے زاوش کالج ثانیہ سکول ساحر ادا اور دارم سائیں جرگے پر گئے ہیں
گھر میں اس وقت صرف میں ہی دستیاب ہوں۔بیٹھو ہم دونوں باتیں کرتے ہیں وہ کافی فرینڈلی ہو کر بات کر رہی تھی
نہیں میرا بیٹھنےکا موڈ نہیں ہے کیا ہم کہیں باہر چل سکتے ہیں ۔وہ جانتی تھی وہ صرف مجبوری میں اس سے ہنس کر بات کر رہی ہے لیکن یہ اس کی مجبوری تھی کہ وہ اس وقت اس حد تک بور ہو رہی تھی کہ اس کی باتوں میں انٹرسٹ لینے لگی
باہر تو ہم ایسے نہیں جا سکتے کسی مرد کا تو ساتھ ہونا ضروری ہے نا چلو جب تک کوئی آتا ہے تب تک ہم یہیں پر انجوائے کر لیتے ہیں کوئی اچھی سی مووی دیکھ لیتے ہیں
شام کو جو بھی کوئی آیا ہم اس کے ساتھ باہر چلیں گے تمہیں گھمانے لے جاؤں گی پورا گاؤں دیکھ لینا
نہیں مجھے ابھی جانا ہے کیا تم مجھے بھی اپنے ساتھ لے کر جا سکتی ہو.وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی
یہ تو ممکن نہیں ہے ۔میں چاہے کچھ بھی کر لوں اس طرح سے جانے کی اجازت ہرگز نہیں ملے گی وہ انکار کرنے لگی
اجازت مانگ کون رہا ہے اب کیا گھر سے باہر جانے کے لیے بھی اجازت کی ضرورت ہے میں جارہی ہوں اگر تمہیں آنا ہے تو بتاؤ وہ اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے بولی تو اس کی دلیری پر ثنا کی آنکھیں کھل گئیں ۔
نہیں میں نہیں آ سکتی ہوں اور تم بھی مت جاؤ کیوں بیکار میں ڈانٹ کھانا چاہتی ہو۔میری مانو تو مت جاؤ تم نہیں جانتی اگر کسی کو پتہ چل گیا نا تو یہ جو تمہاری مہمان نوازی ہو رہی ہے یہ تمہارے لاڈ اٹھائے جا رہے ہیں سارے لاڈلے دھرے رہ جائیں گے ۔وہ اسے اکسانے لگی
میں نے کسی کو نہیں کہا کہ کوئی میرے لاڈ اُٹھائے اور مجھے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا میں اپنی مرضی کی مالک ہوں میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں جاؤں گی تو میں جاؤں گی
یہ ڈر کراور دب کر رہنے والے کام تمہارے ہیں میرے نہیں ۔بائے اگر کسی نے پوچھا تو بتا دینا کہ میں گاؤں دیکھنے گئی ہوں ۔وہ اس سے کہتی وہیں سے باہر نکل گئی جب کہ ثنا تیزی سےفون کی جانب بھاگ گئی تھی
