834.9K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dost Daram) Episode 3

دارم سائیں یہ لے آپ کی چائے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہے وہ چائے کا کپ میزپر رکھتے ہوئے بولی تو دارم نے پلٹ کر اسے دیکھا
میں نے تم سے تو چائے کا نہیں بولا تھا اس کا لہجہ سخت تھا
جی ہاں آپ نے خانساماں کو بولا تھا لیکن میں لے آئی کیا فرق پڑتا ہے وہ لائے یا میں لاوں اور ویسے بھی یہ تو میرا فرض ہے ۔وہ مسکرا کر بولی
یہ تمہارا فرض نہیں ہے لڑکی ۔۔۔”
ایک کنواری لڑکی کے تمام حقوق و فرائض اس کے والدین تک محدود رہے تو بہتر ہوگا ۔
آئندہ میرا کوئی بھی کام کرنے سے پہلے یہ بات یاد رکھنا۔لے جاؤ یہ چائے یہاں سے اور جسے میں نے کہا ہے اسے میرے پاس بھیجو ۔وہ ٹھنڈے لہجے میں گویا ہوا ۔
کیوں دارم سائیں کیوں کرتے ہیں آپ میرے ساتھ ایسا ۔۔۔۔؟آپ کبھی میرے جذبات کی فکر نہیں کرتے نا دارم سائیں آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا آپ کے ان الفاظ سے مجھے کتنی تکلیف ہوتی ہے آپ جانتے ہیں نا میں آپ سے کتنی محبت کرتی ہوں۔
جاؤ یہاں سے ثنا وہ سخت لہجے میں بولا
میرے یہاں سے چلے جانے سے نہ تو میری محبت آپ کے لئے کم ہوگی اور نہ ہی ۔۔۔۔۔۔
اپنی بکواس بند کرو اور اپنے جذبات اپنے محرم تک محدود رکھو دفع ہو جاؤ یہاں سے وہ غصے سے دھاڑا تھا ۔
جبکہ ثنا بنا کچھ بھی بولے تیزی سے وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔
وہ بہت صاف گو تھا کسی کا دل نہیں رکھتا تھا وہ صاف الفاظ میں ثنا کو کہیں بار جتلا چکا تھا کہ اس کے دل میں اس کے لئے کوئی جذبات نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود بھی بڑی بی بی اور اماں سائیں دارم کے لیے ثناء کا ہاتھ مانگنے میں دلچسپی رکھتی تھیں
لیکن وہ سب لوگ اس بات سے باخبر تھے کہ دارم سائیں کے دل میں برسوں سے بس ایک ہی ملکہ حکومت کرتی ہے ۔
°°°°
یہ کیا ثنا یہ چائے کا کپ تم واپس نیچے کیوں لے آئی ہمنا چاچی نے اسے سیڑھیوں سے نیچے اترتے دیکھ کر پوچھا ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو وہ دارم سائیں کے لئے چائے لے کر چھت پر گئی تھی۔
وہ دارم سائیں کا چائے پینے کا موڈ نہیں تھا اسی لیے میں واپس لے آئی خیر آپ سنائیں چچا سائیں کی طبیعت اب کیسی ہے
اور تایا سائیں کب واپس آ رہے ہیں کتنے دن گزر چکے ہیں انہیں گئے ہوئے ۔وہ ان کے ساتھ ہی کچن کا رخ کرتی پوچھنے لگی
ہاں آ جائیں گے کچھ ہی دنوں میں واپس ابھی تو ان کی ملاقات بھی نہیں ہوئی اس سے وہ کچن میں آتی ملازمہ کا ہاتھ بٹاتے ہوئے اسے بتانے لگی
کس سے ملاقات کرنی ہے انہوں نے ۔۔۔۔؟ثنا ان سے پوچھنے لگی
نور سے ۔۔نور کو ہی تو لینے گئے ہیں وہ پتا نہیں وہ ان کے ساتھ واپس آئے گی بھی یا نہیں وہ عورت ملنے بھی دے گی انہیں نور سے یا نہیں پتہ نہیں نور ہم سب لوگوں کے بارے میں کیا سوچتی ہوگی ۔چاچی اپنے ہی کام میں مگن اس کے سر پر ایک دھماکا کر چکی تھی
تایا سائیں نور کو لینے کے لیے گئے ہوئے ہیں ۔لیکن کیوں۔۔۔؟
میرا مطلب ہے ۔نورکو وہ لوگ کیوں لانا چاہتے ہیں واپس کیا وہ لوگ بھول گئے ہیں کہ نور کس کی بیٹی ہے ۔
میرا مطلب ہے ثمرہ کس طرح کی عورت ہیں یہ کوئی بھولا تو نہیں ہے ۔اوراب تو چاچو سائیں کی طبیعت بھی کافی بہتر ہے نور کو بھلا واپس لانے کی ضرورت ہی کیا ہے وہ جہاں ہے اسے وہی رہنے دیں
ہر ہفتے اسے پیسے مل تو رہے ہیں ۔ثناء کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اپنا غصہ کس طرح سے کنٹرول کرے اس کی بے چینی بھی اس کے اصحاب پر بری طرح سوار ہو چکی تھی۔
وہ اس گھرکی بیٹی ہے بیٹاسائیں تمہارے چاچو سائیں کی پہلی اولاد ہے ان کے لیے وہ بے حد عزیز ہے ۔آج نہیں تو کل تو اسے یہاں واپس آنا ہی تھا نا ۔میں تو بس یہ دعا کرتی ہوں کہ اداسائیں اسے لانے میں کامیاب ہوجائیں پتا نہیں وہ عورت اسے آنے بھی دے گی یا نہیں ۔پتہ نہیں نور کے دل میں ہم سب کے لئے کیا ہوگا یقینا اس عورت نے نور کے دل میں ہمارے لیے بے پناہ نفرت بھری ہوگی ۔
ہمنا چاچی نے بہت افسوس سے کہا جبکہ ثنا دل ہی دل میں یہی دعا مانگ رہی تھی کہ وہ کبھی واپس نہ آئے
وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی آئی ۔غصے اور نفرت کی شدت سے اس کا حسین چہرہ سرخ ہو گیا تھا کہنے کو تو اس نے زندگی میں صرف ایک ہی بار نور کو دیکھا تھا اوروہ پاکستان آئی بھی تو صرف ایک ہی بار تھی
اور ایک ہی بار میں وہ اس کا سب کچھ چھین کر چلی گئی تھی اور اب اتنے سالوں کے بعد جب وہ اپنا آپ منوانے کی کوشش کر رہی تھی تو وہ لوٹ کرآرہی تھی اس سے سب کچھ ایک بار پھر سے چھیننے کے لیے ۔ہاں لیکن اس بار ثنا اتنی کمزور نہ تھی ۔جتنی 14 سال پہلے ۔اس بار وہ اسے اپنا کچھ بھی چھیننے نہیں دے گی
°°°°°
وہ ایک ہفتے سے نوکری کی تلاش میں تھی لیکن اسے کوئی بھی اچھی جاب نہ ملی آج بھی وہ ایک جگہ انٹرویو دے کر آئی تھی جب اسے پتہ چلا کہ کوئی اس سے ملنا چاہتا ہے وہ کسی سے بھی ملنا نہیں چاہتی تھی لیکن وارڈن نے اسے آ کر بتایا کہ کوئی پاکستانی اس سے ملنے کے لیے آیا ہے تو وہ انکار نہ کرسکی
شاید اتنے سالوں کے بعد اُس شخص کو اس کی یاد آگئی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ خوش ہوگی یا نہیں اس سے مل کر مگر وہ اس سے ملنا چاہتی تھی ۔
اس وقت رات کے آٹھ بج رہے تھے اور بھوک سے بھی اس کا برا حال ہو رہا تھا وہ خاموشی سے اٹھ کر آفس کی جانب چلی گئی
°°°°°
اس نے آفس کے اندر قدم رکھا تو اس کا دل بری طرح سے دھڑکا تھا شاید اتنے سالوں کے بعد وہ شخص اسے پہچان بھی نہ پائے گا لیکن وہ تو اسے نہیں بھولی تھی
آو نوریہ اصغرشاہ ہیں پاکستان سے آئے ہیں تم سے ملنے کے لیے یہ تمہارے تایا ہیں اسے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ وارڈن نے کہا جبکہ نور کے چہرے کے سارے رنگ مرجھا گئے تھے ۔
یہ اس کا باپ نہیں تھا شاید ہی اس کے باپ کو اس سے ملنے کی فرصت ہو وارڈن کے کہنے پر اس شخص نے مڑ کر دیکھا اور پھر کھڑے ہو گئے ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھے انہوں نے خود ہی پہل کرتے ہوئے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا
نور کچھ بھی نہیں بولی
میم کیا میں اپنی بیٹی کو باہر لے کر جا سکتا ہوں میں اپنی بچی کے ساتھ تھوڑا وقت گزارنا چاہتا ہوں وہ وارڈن سے مخاطب ہوئے تو وارڈن نے مسکرا کر انہیں اجازت دی اور وہ خاموشی سے ان کے ساتھ باہر آ گئی تھی
°°°°°
اس وقت وہ ایک مہنگے ترین ہوٹل میں بیٹھے تھے نور ڈنر کر رہی تھی جبکہ اصغرشاہ خاموشی سے اسے دیکھ کر مسکرا رہے تھے
اس بے حیائی کے ماحول میں رہتے ہوئے بھی انھوں نے نور کے لباس میں کسی قسم کی کوئی بےحیائی محسوس نہیں کی تھی وہ پرسکون سی ان کی نظروں کے سامنے بیٹھی اپنا ڈنر کرنے میں مصروف تھی
ان کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ تھی کیونکہ وہ نوٹ کر رہے تھےکہ نور انہیں نظر انداز کر رہی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں پاکیزگی تھی انہیں اپنےپندرہ سال پہلے کے فیصلے پر فخر تھا ۔
میں تمہیں لینے آیا ہوں نور ان کے الفاظ پر اس کا ہاتھ روکا
کیوں ۔۔۔۔۔؟
میرا مطلب ہے اب کیوں ۔۔۔؟
وہ ان کی طرف دیکھتی اپنا سوال کرتی ایک بار پھر سے کھانے کی جانب متوجہ ہوگئی تھی کیونکہ اب وقت آگیا ہے کہ تم سرمد کے ساتھ رہو تمہارا باپ۔۔۔۔
ایک منٹ انکل جی آئی ایم سوری میں آپ کی بات کاٹ رہی ہوں لیکن میں سرمد شاہ کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی کیونکہ میرا اس آدمی کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی میں اس کے ساتھ کوئی لینا دینا رکھنا چاہتی ہوں اور وہ میرا باپ نہیں ہے اگر وہ میرا باپ ہوتا تو یوں مجھے چھوڑ کر کبھی نہ جاتا
میری ماں کسی اور سے محبت کرتی تھی ٹھیک ہے وہ ان کے قابل نہیں تھی لیکن انہوں نے میری ماں کو تو چھوڑا ہی ساتھ میں انہوں نے مجھے بھی چھوڑ دیا
ان کی بیٹی کس حال میں ہے اتنے سالوں سے انہوں نے جاننے کی کوشش تک نہ کی اور کوشش کرتے بھی کیوں۔ ۔۔۔؟
ان کو تو ایک اور بیٹی مل گئی ہے انہیں بھلا میری کمی کہاں محسوس ہوتی ہوگی اس کے الفاظ سن کر انہیں سچ میں ثمرہ سے نفرت محسوس ہوئی تھی کیونکہ ان کے ساتھ بیٹھی یہ لڑکی اس وقت اسی عورت کی زبان بول رہی تھی
میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا نور بیٹا ایک باپ کے لیے اس کے سارے بچے عزیز ہوتے ہیں اور وہ تمہیں وہاں جا کر پتہ چلے گا کہ تمہارا باپ تم سے کتنی محبت کرتا ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم کبھی میری باتوں پر یقین نہیں کرو گی تم جانتی ہو کہ تمہاری ماں غلط ہے لیکن وہ کس حد تک غلط ہے یہ تمہیں اپنے باپ کے پاس جا کر پتہ چلے گا
ابھی کیلئے میں صرف تم سے اتنا کہتا ہوں کہ اس حویلی میں دو انسان ہیں جو تم سے بے حد محبت کرتے ہیں اور تمہاری واپسی کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں ایک تمہارا باپ اور دوسرا تمہارا شو ۔۔۔۔۔۔
اگر میرے بابا کو مجھ سے محبت ہوتی نہ انکل جی تو وہ خود آتے آپ کو نہ بھیجتے مجھے لینے کے لئے وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولی اگر اس کی حالت ہوتی تو وہ خود آتا بیٹا سائیں اس کی ہیلتھ کنڈیشن سفر کی اجازت نہیں دیتی وہ بیمار ہے اب یہ وہم پال بیٹھا ہے کہ اب وہ زندہ نہیں بچے گا اس کا کہنا ہے کہ وہ مرنے سے پہلے تم سے ملنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے میں تمہیں یہاں لینے آیا ہوں
تمہاری ماں کو بتائے بنا میں بہت مشکل سے تم تک پہنچا ہوں اگر وہ عورت جان جاتی تو شاید وہ تمہیں مجھ سے ملنے بھی نہ دیتی وہ اپنی بات کرکے ایک بار پھر سے اسے دیکھنے لگے
تم کچھ اور کھاؤگی شاید تم نے ڈنر نہیں کیا اس کے انداز سے وہ اندازہ لگا چکے تھے کہ اسے بہت بھوک لگی ہے
ڈنر ۔۔۔؟وہ ہنسی
میں نے کل دوپہر میں اپنی فرینڈ کے ساتھ ہلکا پھلکا سا لانچ کیا تھا میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں آج رات کا کھانا کھاتی اور سچ میں مجھے اس وقت بہت زیادہ بھوک لگی تھینک یو آپ نے مجھے کھانا کھلایا ورنہ آج پھر مجھے بھوکا سونا پڑتا اور پتہ نہیں پھر کل بھی نوکری ملتی یا نہیں وہ ہاتھ صاف کرتے ہوئے بنا شرمندہ ہوئے بولی تھی
اس کی بات پر اصغر شاہ کو جھٹکا لگا تھا ان کی بھتیجی کل سے بھوک ہی تھی جبکہ ان کی خاموشی پر وہ مسکرا دی تھی
حیران مت ہوں انکل جی مجھے عادت ہے بھوکے سونے کی میرے پاس پیسے نہیں ہوتے یاکم ہوتے ہیں ۔میں اسی ہوسٹل میں رہتی ہوں پتہ نہیں اس بار میں ہوسٹل کا رینٹ بھی دے پاؤں گی یا نہیں میرے پاس کوئی پاسپورٹ وغیرہ بھی نہیں ہے تو آپ مجھے آسانی سے لے کر بھی نہیں جا سکتے وہ پانی کا گلاس لبوں سے لگاتے ان کی معلومات میں اضافہ کر رہی تھی
پاسپورٹ کی تم فکر مت کرو اس کا حل نکال لوں گا تم یہ پیسے رکھو وہ اپنے وولٹ سے سارے نوٹ نکال کر اسے دیتے ہوئے بولے
انکل جی میں بھوکی ضرور تھی بیکاری نہیں ہوں ان کے انداز پر اسے غصہ آیا تھا جبکہ اصغرشاہ کے لب مسکرا اٹھے تھے ۔
میں کوئی غیر نہیں تمہارے باپ کا بھائی ہوں اور یہ میرے نہیں تمہارے باپ کے پیسے ہیں جن پر تمہارا پورا حق ہے ۔
تمہارے باپ نے کبھی بھی اپنا حق نہیں چھوڑا وہ ہر ہفتے ایک بڑی رقم تمہاری پرورش کے لئے بھیجتا تھا جو شاید تمہیں نہیں دی جاتی اگر دی جاتی تو آج تم یہاں بھوکی ہرگز نہ ہوتی اپنی ماں کو بتا دینا کہ تم اپنے تایا سائیں کے ساتھ پاکستان جا رہی ہووہ اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے بولے۔
میرے ایگزامز ہو رہے ہیں آپ کو ایک ہفتے تک ویٹ کرنا ہوگا تب تک آپ پیپر ورک کروا لیں اس نے اچانک فیصلہ کیا ۔
تم بے فکر ہو کر اپنے پیپر دو بیٹا سائیں تب تک میں ساری تیاری کروا لوں گا اس کے فیصلے پروہ بہت خوشی سے بولے تھے
جبکہ ان کے جانے کے بعد اس نے ٹیبل پررکھے نوٹوں کو دیکھا تھا ۔
جن پر اس کا حق تھا اس نے مسکرا کر وہ پیسے اٹھا کر اپنے بیگ میں ڈالے تھے
°°°°°
میں تمہیں ان جاہلوں کے بیچ جانے کی اجازت نہیں دوں گی نور تم کبھی نہیں جاؤ گی وہاں سمجھی تم میں تمہیں بین کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں وہ تم سے شادی ۔۔۔۔
مام پلیز میں اس وقت اس ٹاپک پر بات نہیں کرنا چاہتی ہوں اور نہ ہی مجھے آپ کے بوائے فرینڈ اور اس کے بھانجے کے بارے میں کوئی بات سننی ہے میں پاکستان ہمیشہ کے لئے نہیں صرف چند دنوں کے لیے جا رہی ہوں وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولی
اور تمہیں لگتا ہے کہ وہ لوگ تمہیں واپس آنے دیں گے وہ تمہیں وہاں قید کر لیں گے میری جان میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو وہ انسان نہیں درندے ہیں وہ تمہیں اس حویلی کی چار دیواری میں قید کر لیں گے جس طرح ان لوگوں نے مجھے قید کرنے کی کوشش کی تھی وہ مجھے یہاں واپس ہی نہیں بھیجنا چاہتے تھے تم نہیں جانتی میں کتنی مشکل سے یہاں واپس آئی تھی میری زندگی عذاب ہو گئی تھی اپنی زندگی کے پانچ سال میں نے کتنی مشکلات میں گزارے ہیں تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتی ۔وہ اس کا برین واش کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
اور تمہیں پتا تو ہے کہ وہاں صرف تمہارا ایک رشتہ نہیں ہے بلکہ ۔۔۔۔۔
میں اپنا وہی رشتہ ہی ختم کرنے جا رہی ہوں مام میں اپنی آزادی کے لئے جا رہی ہوں ۔اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے مجھے پچھلے رشتے ختم کرنے ہوں گے میں اپنے باپ سے ملنا چاہتی ہوں کیوں کہ مجھے ان سے بہت سارے سوال کرنے ہیں اور پھر یہ زبردستی کارشتہ ختم کرنا ہے میں اپنی زندگی آزادی سے جینا چاہتی ہوں اور ایسا کرنے کے لئے مجھے آزادی چاہے اور آزادی کے لیے مجھے پاکستان بھی جانا ہوگا ۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن تم ان لوگوں کو نہیں جانتی نور وہ اتنی آسانی سے تمہیں واپس نہیں آنے دیں گے
اور آپ مجھے نہیں جانتی مام میں بھی انہی کا خون ہوں میں پاکستان صرف دو چیزوں کے لئے جارہی ہوں ایک آزادی کے لئے اور دوسرا اپنی پراپرٹی کے حصے کے لیے وہ پرسکون انداز میں بولی تو ثمرہ کو جھٹکا لگا
۔۔۔پراپرٹی۔ ۔۔۔ثمرہ بے یقینی سے بولی تھی
تو آپ کو کیا لگا کہ میرے دل میں اس باپ کے لیے محبت جاگ آئی ہے جو 15 سال پہلے مجھے چھوڑ کر چلا گیا ۔
مجھے نہ تو اس خاندان سے کوئی مطلب ہے اور نہ ہی اپنے باپ سے مجھے بس پیسے چاہیے ان تین مہینوں میں” میں 21 راتیں بنا کچھ کھائے پیئے سوئی ہوں۔
مجھے پیسے کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا ہے مام آپ کی طرح کسی امیر انسان کو پھنسا کر اس سے شادی کرنے سے بہتر نہیں میں اپنے باپ کی دولت کو خود پر جائز کر لوں۔ میں اپنی جائیداد کا حصہ لینا چاہتی ہوں
میں واپس آکر اپنا کاروبار سٹارٹ کروں گی اپنی زندگی عیاشی سے گزاروں گی وہ مسکرا کر بولی تو ثمرہ خوشی سے چہک اٹھی
نور ڈارلنگ تم نے بالکل صحیح فیصلہ کیا ہے آخر تم نے ثابت کر دیا کہ تم ثمرا کی بیٹی ہواس آدمی کی جائیداد پر تمہارا پورا حق ہے وہاں جا کر اپنا حصہ مانگو
لیکن وہ آدمی میرا مطلب ہے اصغر شاہ کا اکلوتا بیٹا دارم ۔
آپ فکر نہ کریں مام اس خاندان کا کوئی بھی شخص مجھے وہاں قبول نہیں کرے گا ۔میں ان کی سوچ سے زیادہ بری ثابت ہوں گی
اور وہ دارم شاہ مجھ سے شادی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا ۔
مجھے کبھی بھی نہیں لگا تھا میری جان پیسہ تمہارے لئے اتنا اہم ہوگا ۔وہاں سے واپس آ کر تم بین کے ساتھ ڈیٹ کر کے بھی بہت عیش کر سکتی ہو ثمرااب تک حیران تھی لیکن اس کے انداز نے اسے خوش بھی بہت کر دیا تھا
میرے لیے حرام پیسہ نہیں حلال پیسہ بہت اہمیت رکھتا ہے ۔مام اگر میں غلط کام بھی کروں گی نا تو بھی کبھی حرام کام نہیں کروں گی ۔وہ باتوں ہی باتوں میں اس پر بہت کچھ جتلا چکی تھی جس پر ثمرہ کو غصہ آ گیا تھا
اپنے باپ کے جذبات سے کھیل کر تم کون سا حلال کام کرو گی
وہی جو انہوں نے مجھے چھوڑ کر کیا تھا ۔
اپنی زندگی تو خوشحالی سے گزارنے لگے لیکن انہوں نے کبھی میرے بارے میں نہیں سوچا اب میں کیوں ان کے بارے میں سوچو کیا انہوں نے کبھی میرے جذبات کی پرواہ کی جو میں ان کے جذبات کی پرواہ کروں
ہم یہ سب کچھ آپ کو کیوں بتا رہی ہوں ۔آپ نے اور ان میں فرق ہی کیا ہے ۔۔۔؟
آپ بھی مطلبی وہ بھی مطلبی اور پھر مطلبی لوگوں کے ساتھ تو مطلبی بن کر ہی ملنا پڑتا ہے نا در نور شاہ کے قانون میں مطلبی لوگوں کے ساتھ مطلبی ہونا حرام نہیں ہوتا ۔وہ مسکرا کر آنکھ دباتی اپنا بیگ اٹھاتے وہاں سے نکلتی چلی گئی
اس کے انداز پر ثمرا کے دل میں بری طرح سے آگ لگ چکی تھی