Dost Daram By Areej Shah Readelle502301 Dost Daram (Episode 11 )
Rate this Novel
Dost Daram (Episode 11 )
وہ کافی ڈری ہوئی تھی۔اسے عجیب بھی لگ رہا تھا وہ باہر بیٹھنے کی بجائے پتا نہیں کیا سوچ کر زرنیش ادی کے کمرے میں چلی گئی
یہ لڑکی اسے پسند تھی وہ بنا کسی مطلب کے اس پر پیار لوٹاتی تھی لیکن اپنے لاسٹ سسمٹر کی وجہ سے اسے وقت نہیں دے پاتی تھی
ارے نور جانو وہاں کیوں کھڑی ہو یہاں آو میرے پاس وہ بہت خوش ہوئی تھی اس کے پہلی بار کمرے میں آنے پر
وہ مسکرا کر اندر آئی اور اس کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ گئی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ یہ بات کسی کو بتائے یا نہیں۔یہ نہ ہو کہ یہ سب لوگ اسے بیوقوف اور ڈرپوک سمجھ لیں۔
کیا ہوا نور سائیں تم کچھ کہنا چاہتی ہو اس کی خاموشی پر وہ اپنا کام چھوڑ کر اس سے پوچھنے لگی۔
وہ میں اپنے کمرے میں بور ہو رہی تھی اسی لیے یہاں آگئی آپ کے پاس آپ شاید اپنی اسٹڈی کرنے میں بیزی ہیں میں بعد میں بات میں آتی ہوں ۔
وہ اپنی پڑھائی میں مصروف تھی اسے اس کے پاس بیٹھنا کچھ عجیب لگا تو کھڑی ہو گئی
نہیں میری جان بیٹھویہاں اتنی بھی مصروف نہیں ہوں میں وہ کیا ہے نہ آج میری ایک دوست نہیں آئی تھی یونیورسٹی میں تو سوچا اس کے نوٹس تیار کر دیتی ہوں ۔
تم بتاؤ تمہیں کیا مسئلہ ہے کیوں بور ہو رہی ہو۔وہ اس کا ہاتھ تھام کر اپنے پاس بٹھا چکی تھی
نہیں کچھ نہیں بس ایسے ہی ۔۔۔آپ یونیورسٹی میں جاتی ہیں ۔۔؟میرا مطلب ہے آپ جس یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں کیا وہاں لڑکے بھی پڑھتے ہیں ۔کیوں کہ آپ تو بنا چادر گھر سے باہر نہیں نکلتی تو پھر وہاں پڑھتے ہوئے تو آپ کو کافی مسئلہ ہوتا ہوگا
جن یونیورسٹیز کے بارے میں وہ جانتی تھی وہاں پر تو کو ایجوکیشن کا ہی سسٹم تھا پتہ نہیں زرنیش کون سی یونیورسٹی میں پڑھتی تھی وہ جاننے کے لئے متجسس ہوئی
ہاں وہاں لڑکےبھی پڑھتے ہیں بلکہ میری اپنی کلاس میں بھی بہت سارے لڑکے ہیں ۔لیکن میں خود ایک دائرے میں رہتی ہوں ۔مجھے خود پتا ہے کہ مجھے اپنی عزت کی حفاظت کیسے کرنی ہے ۔اور لڑکوں کا ساتھ پڑھنا یا نہ پڑھنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا جب آپ کا مقصد تعلیم حاصل کرنا ہو ۔
تم گھر میں بور ہوتی ہو گی نہ کل صبح تم میرے ساتھ یونیورسٹی چلنا صبح اچھا وقت گزر جائے گا تمہارا اسی بہانے تھوڑی آؤٹنگ بھی ہو جائے گی میں تمہیں اپنی دوستوں سے ملواؤں گی
تمہیں اچھا لگے گا بلکہ میں تم سے وعدہ کرتی ہوں کہ تم میری یونیورسٹی میں جاکر بالکل بور نہیں ہوگی زرنیش نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکرائی ۔
ٹھیک ہے میں صبح آپ کے ساتھ چلوں گی وہ ثناء گدھی میرا مطلب ہے ثناء ادی وہ کیا کہیں پر بھی نہیں جاتی سارا دن ٹی وی دیکھتی رہتی ہیں اتنا میکپ تو میری مام بھی نہیں کرتی جتنا یہ ہر وقت کئے ہوئے ہوتی ہیں ان کو کوئی منع نہیں کرتا ۔وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی
بُری بات نور ایسا نہیں بولتے وہ بڑی ہیں ہم سے مجھ سے بھی دس ماہ بڑی ہیں ہم لڑکیوں میں سب سے بڑی ہیں وہ اس گھر کی پہلی خوشی ہیں جو اللہ کی رحمت کے روپ میں ہماری حویلی میں آئی تھی ۔وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی تو نور مسکرا دیں اس کا لہجہ بہت میٹھا تھا ۔
لیکن مجھے پھر بھی آپ زیادہ پسند ہیں صرف ثناء ادی سے زیادہ نہیں بلکہ ذاوش اور ثانیہ سے بھی زیادہ ۔وہ خوش ہوتے ہوئے اسے بتانے لگی اس کا اندازہ زرنیش کو بہت پیارا لگتا تھا شکر ہے وہ کسی کے سامنے تو کھل کر بات کرنے لگی تھی
ورنہ چاچو سائیں کو تو ابھی یہ ٹینشن ہونے لگی تھی کہ ان کی بیٹی تو گھرمیں کسی سے بات ہی نہیں کرتی ۔
تم ثانیہ اور ذاوش کے ساتھ وقت گزاروگی تو وہ بھی تمہیں اچھی لگنے لگے گی ذاوش اور تمہاری طبیعت بالکل ایک جیسی ہے اس نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی اسے گھر کے باقی لوگوں کے بارے میں بتانے لگی ۔
وہ یہی چاہتی تھی کہ وہ جلد ہی سب سے گھل مل جائے اور یہ پیاری سی لڑکی تو اسے ہمیشہ سے ہی بہت عزیز تھی ایک تو وہ اس کے سب سے پیارے چاچو سائیں کی اولاد تھی اور دوسری اس کو اپنے بھائی کے حوالے سے بھی اس سے بے حد محبت کرتی تھی
زرایک کپ چائے بنا لاو ۔۔کمرے کے دروازے پر دستک دیتا سنان سائیں زرنیش کو مخاطب کرتے ہوئے بولا ۔
آپ کسی ملازم سے کہتے ہم ابھی باتیں کر رہے ہیں ۔اس کا یوں اچانک زرنیش کو حکم دینا نور کو بالکل پسند نہیں آیا تھا ۔
کہہ تو دیتا کزن سائیں لیکن اس گھر میں آپ کی اس ادی کے علاوہ میری پسند کی چائے اور کوئی نہیں بنا سکتا زرنیش کے اٹھ کر کھڑے ہونے پر وہ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا
نور نے ایک بات بہت نوٹ کی تھی وہ جب سے یہاں آئی تھی اس نےسنان کی ڈریسنگ میں بہت احتیاط دیکھی تھی
اس کے کپڑوں پر کوئی سلوٹ کوئی نشان کبھی دیکھنے کو نہیں ملا تھا اور سب سے اہم بات وہ ایک دن میں پانچ پانچ بار کپڑے چینج کرتا تھا ۔
آپ نے پھر سے کپڑے بدل لئے ابھی تھوڑی دیر پہلے تو آپ نے وائٹ کلر پہنا ہوا تھا اب آپ بلو پہنے ہوئے ہیں ۔وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
ان کی استری ٹھیک نہیں تھی ۔وہ اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے مسکرایا
نور کو اس کی استری میں بالکل بھی کوئی خرابی محسوس نہیں ہوئی تھی لیکن پھر بھی وہ اپنی مرضی کا مالک تھا وہ اس سے باتوں میں مصروف ہو گئی
جبکہ زرنیش اپنے لبوں پر مسکراہٹ سجائے کمرے سے باہر نکلنے لگی ۔
ساحر سائیں اور دارم سائیں دونوں اس سے مختلف تھے ۔وہ ان دونوں سے بہت الگ تھا ۔ساحر بہت کم بات کرتا تھا اور دارم سائیں سے وہ خود ہی دور دور ہی رہنا پسند کرتی تھی ۔کیونکہ اسکی پر شوق نظر اسے بہت پریشان کر دیتی تھی
مجھے ایک بات بہت کنفیوز کرتی ہے کیا آپ میری کنفیوژن دور کریں گے ۔۔؟وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
جی جناب بالکل کرینگے حکم کریں وہ فل سیریز ہو کر بولا
یہ جو زرنیش ادی ہیں یہ آپ کو دیکھ کر شرماتی کیوں ہیں ۔اس نے اپنا سوال پیش کیا جب کہ اس سوال کا جواب کم ازکم سنان کے پاس تو ہرگز نہیں تھا
مجھے تو ایسا کچھ بھی محسوس نہیں ہوا کزن سائیں وہ کیا ہے نہ زرنیش کی نیچر ہی تھوڑی شائے ہے شاید تمہیں اس لیے ایسا لگا ہوگا ۔اس کو چھوڑو تم مجھے یہ بتاؤ کہ بکرے نے تمہیں تنگ تو نہیں کیا نا ۔۔۔۔؟وہ اس کی بات نظر انداز کرتا سوال کرنے لگا
کون سابکرا وہ کنفیوز ہوئی
ارے کزن سائیں تم بھول گئی ۔۔۔؟وہی بکرا جس کی کمر پر تم نے بے حد پیار سے ہاتھ پھیرا تھا ۔وہی بکرا جو ذبح ہونے سے پہلے تمہیں امید بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ شاید تم مجھ سے بچا لو ۔لیکن تم نے کیا کیا اسے بچانے کی بجائے اس کے باربیکیوبز بننے کا انتظار کر رہی ہو۔
مجھے تو لگا تھا کہ اب تک اس بکرے کی روح نے تمہیں تنگ کرنا بھی شروع کر دیا ہوگا خیر میری تو یہی دعا ہے کہ تمہیں کچھ نہ ہو
میرے خیال میں باربیکیوبز ریڈی ہو گئے ہوں گے بیچارے بکرے کے وہ افسوس کرتے ہوئے بولا
نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے وہ صدقے کا بکرا تھا اور بابا سائیں کہہ رہے تھے کہ اسے غریبوں میں بانٹ دے صدقے کی کوئی بھی چیز گھر میں نہیں لائی جاتی ایسا بابا سائیں نے بولا تھا
اس بکرے کے باربیکیو بھی کوئی اور کھائے گا وہ اپنی صفائی دیتے ہوئے بولی
چلو شکر ہے پھر ہوسکتا ہے وہ بکرا تمہیں کچھ نہ کرے لیکن پھر بھی اس کی معصوم آنکھیں جو امید سے تمہیں دیکھ رہی تھی ہائے یاد کرکے ترس آتا ہے
اللہ تمہیں اپنےحفظ و امان میں رکھے زرنیش کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر وہ اس کے ہاتھ سے کپ تھامتاکمرے سے نکل گیا ۔
کیا ہوا تم چپ کیوں ہوگئی ہو ابھی تو اتنی باتیں کر رہی تھی سنان سائیں کے ساتھ اسے خاموش پاکر پوچھنے لگی
بکرے کی معصوم آنکھیں ۔۔اس کے لبوں سے پھسلا
کس کی معصوم آنکھیں وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی اسے یقینا سننے میں غلطی ہوئی تھی
بکرے کی وہ کتنی معصوم امید بھری آنکھوں سے مجھے دیکھ رہا تھا کہ میں اس سے بچاؤں گی اور میں نے کیا کیا اس کی کمر پر پیار سے ہاتھ پھیر کر اسے ذبح ہونے بھیج دیا ۔۔۔میں بہت بری ہوں
آپ کو نہیں پتا زر ادی جانور بھی ہر طرح کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ان کے اندر بھی بہت قابلیت ہوتی ہے
وہ بکرا تو مجھے اپنا قاتل سمجھ رہا ہوگا مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا وہ بیڈ سے اٹھتے ہوئے بولی
یہ سب کچھ تمہیں سنان سائیں کہہ کر گئے ہیں انہیں عادت ہے مذاق کرنے کی بیٹھ جاؤ وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی
نہیں مجھے نہیں بیٹھنا اب مجھے بھوک لگی ہے
اچھا تمہیں بھوک لگی ہے آؤ چلو باہر چلتے ہیں کتنے مزے کی باربی کیوبز کی خوشبو آ رہی ہے نہ چلو آؤ چل کرتے ہیں وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی
باربیکیوز ۔۔۔۔پتا نہیں اس بکرے کے باربیکیو کون کھا رہا ہوگا وہ اداسی سے بولی جبکہ زرنیش نا میں سر ہلاتی کمرے سے باہر نکل گئی
°°°°°°
آج صبح سے ثناء اس سے دور دور ہی رہی تھی اچھا ہی تھا وہ خود بھی اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی تھی
ثناء کے انداز سے وہ یہ بات تو سمجھ چکی تھی کہ ثناءدارم سائیں سے محبت کرتی ہے اورشاید اسے اس کا یہاں آنا بالکل پسند نہیں آیا وہ ثنا کی فیلنگس کو سمجھ سکتی تھی ۔
لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ وہ اس سے بے کار میں الجھے ۔وہ کون سا ساری زندگی کے لیے یہاں رہنے آ گئی تھی ۔اسے تو ویسے بھی یہاں سے چلے ہی جانا تھا اور اس کے بعد تودارم سائیں اسی کا تھا۔اسے کونسا دارم سائیں کے ساتھ کوئی لینا دینا تھا ۔
وہ کونسا دارم سائیں کے ساتھ اس نکاح کو نبھانے کے لیے یہاں آئی تھی ۔اسے دارم سائیں کی ذات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا وہ صرف اپنی پراپرٹی میں اپنا حصہ چاہتی تھی ۔
وہ تو شاید بعد میں ثناء کے حصے میں ہی آنا تھا کل شاید وہ اس کے ساتھ کچھ زیادہ ہی زیادتی گر گئی تھی ۔شاید دارم سائیں کو کسی اور کے ساتھ دیکھ کر اسے برا لگتا ہوگا ۔
اور اس سے اتنا زیادہ خوفزدہ ہونا تو ایک طرح سے جائز تھا ۔کیونکہ دارم سائیں کے ساتھ اس کا تعلق ہی ایسا تھا ۔
لیکن اب اس نے خود ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ثنا اور دارم سائیں کے بیچ میں ہرگز نہیں آئے گی ۔دارم سائیں کو بھی پتہ چل گیا تھا کہ وہ صرف ثنا کو جلانے کے لئے ڈرامہ کر رہی ہے ۔تو اب مزید اس چیز کے بارے میں نہیں سوچنا چاہتی تھی اسے صرف اپنے مقصد پر فوکس کرنا تھا ۔
وہ صوفے پر بیٹھی ٹی وی چلائے مسلسل ثنا اوردارم سائیں کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی جب دارم سائیں کے ساتھ سنان اور ساحر اندر داخل ہوئے
ہاں تو کزن سائیں تم ٹھیک ہو نا بکرے نے تنگ تو نہیں کیا سنان و ہی سے سلام کرتا تھا اس کے پاس آ بیٹھا
آپ مجھے بیوقوف بنانا بند کریں زرنیش ادی بتاچکی ہیں مجھے کہ آپ صرف مجھے تنگ کر رہے ہیں اور ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا بکرے کی بھی کیا کوئی روح ہو سکتی ہے اب اتنی بھی پاگل نہیں ہوں میں وہ اسی جتاتے ہوئے بولی تو سنان مسکرا دیا
کیوں نہیں ہو سکتی روح ۔۔۔۔؟اگر انسان کی ہوسکتی ہے تو بکرے کی کیوں نہیں ہوسکتی ۔۔؟
بکرا بھی ایک جاندار ہے اور ایک جیتی جاگتی زندگی رکھتا ہے اس کے سینے میں بھی دل ہوتا ہے وہ بھی چلتا پھرتا ہے کھاتا پیتا ہے سوتا ہے جاگتا ہے کھیلتا ہے بکرا بھی انسان ہوتا ہے۔وہ جذبات میں ایک ہی جملے میں بہت کچھ بول گیا تھا ۔
جس کو نور سمجھی ہو یا نہ سمجھی ہو لیکن وہیں تھوڑے فاصلے پر بیٹھ دارم سائیں اور ساحر سائیں کے لبوں پر مسکراہٹ ضرور آ گئی تھی
یہ کبھی نہیں سدھر سکتا ۔ساحرسائیں نفی میں سر ہلانے لگا ۔
تم نے میری بات نہیں مانی مت مانو میں کون سا تمہیں فورس کر رہا ہوں لیکن ایک کزن ہونے کے ناطے میرا فرض تھا کہ میں تمہیں بتاؤں جس نسل کے بکرے کو ہم نے زبح کیا ہے اس نسل کے بکروں کی بہت ساری روحیں ہیں اس گاؤں میں ۔آگے تمہاری مرضی وہ اس کے قریب سے اٹھتا ہوا ساحر اور دارم سائیں کے پاس چلایا
جب کہ نور ایک بار پھر سے گہری سوچوں میں جا چکی تھی
°°°°°
رات نا جانے کون سا وقت تھا جب اس کی آنکھ کھلی پیاس کی شدت سے اسے اپنی جان جاتی محسوس ہوئی گلے میں کانٹے چبھ رہے تھے
اس نے سائیڈ ٹیبل کی جانب دیکھا تو وہاں پانی کا گلاس خالی پڑا تھا ۔
جسے وہ خود ہی خالی کر کے سوئی تھی اس کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا تھا اسی بہت پیاس لگتی تھی وہ گلاس اٹھا کر بیڈ سے اٹھی ہی تھی کے اسی اپنے کمرے کی کھڑکی پر کچھ عجیب سا محسوس ہوا
اس نے ہمت کرتے ہوئے آگے کی جانب قدم اٹھائے اور کھڑکی کے پاس آئی جہاں بہت تیز ہوا چل رہی تھی
یہ کمرہ اتنی زیادہ اونچائی پر تھا کہ کسی کا اس طرف آنا ناممکن تھا ۔باہر گارڈن میں کتے ٹہلتے ہوئے نظر آ رہے تھے تو کافی زیادہ خطرناک لگ رہے تھے ۔یہ ساحر شاہ کی ملکیت تھے وہ اکثر رات میں وہ انہیں آزاد چھوڑ دیتا تھا
ان کتوں کے ہوتے ہوئے گارڈز کی ضرورت تو نہ تھی لیکن پھر بھی دروازے کے باہر کچھ گارڈز کھڑے رہتے تھے
وہ ایک گہرا سانس لیتی کھڑکی بند کر چکی تھی یہ یقینا اس کی غلط فہمی تھی یا شاید سنان کی باتیں اب بھی دماغ میں کہیں نہ کہیں موجود تھی
°°°°°
وہ نیچےکچن کی جانب آئی اور وہاں سے ایک گلاس پانی کا بھر کر پیا اپنی پیاس کو بجھاکر وہ واپس اپنے کمرے کی جانب چل دی تھی ۔
اوپر سے چوتھا کمرہ میرا ہے اس نے دل ہی دل میں دہرایا تھا ۔اسے ابھی تک اپنا کمرہ یاد نہ ہوا تھا اوپر 6کمرے تقریبا ایک جیسے تھے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان 6 کمروں کے ساتھ چار کمرے اور بھی تین کمرے تھے جو باہر سے بالکل ویسے ہی دکھتے تھے ۔جس کی وجہ سے وہ بہت کنفیوز ہوتی تھی کل وہ غلطی سے ساحرادا کے کمرے میں چلی گئی تھی ۔
جس پر اس نے اسے اس کے کمرے کے بارے میں بتایا تھا اب وہ دوبارہ ایسی غلطی ہرگز نہیں کرنا چاہتی تھی
وہ اوپر کی جانب جا رہی تھی کہ اسے نیچے کچھ عجیب محسوس ہوا اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسے ایسا لگا کہ صوفے کے ساتھ میز پر کوئی جانور بیٹھا ہوا ہے
اسے ہنڈریڈ پرسنٹ سنان کی باتوں پر یقین آ گیا تھا وہ بنا آگے پیچھے دیکھتی اوپر کی جانب بھاگ گئی ۔
اور کمرے میں داخل ہوتے ہوئے جلدی سے اپنے کمرے کو لاک کرتی بھاگ کر بیڈ پر آئی اور ساتھ ہی اپنے آپ کو کمبل کے اندر پوری طرح قید کر لیا ۔
جیسے یہ کمبل اسے بکرے کی روح سے بچا لے گا ۔یا شاید اس سے چھپنے میں کامیاب ہوجائے گی اسےاس وقت واقعی میں بہت ڈر لگ رہا تھا
اس کے ہاتھ پیر بری طرح سے کانپ رہے تھے لیکن جھٹکا تو اسے تب لگا جب اسے اپنے بیڈ پر کچھ ہلتا ہوا محسوس ہوا کہیں وہ بکرااس کے بیڈ پر بھی تو نہیں آ گیا ۔
وہ اس بکرے کے ہاتھوں قتل ہرگز نہیں ہونا چاہتی تھی اس نے اپنا پورا زور لگا کر چیخنے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے کے اس کی آواز نکلتی کسی کا بھاری ہاتھ اس کے لبوں کو قید کر گیا
°°°°°°
اس کا سونے کا ارادہ ہرگز نہیں تھا وہ ساحر کے واپس آنے کا انتظار کر رہا تھا آج ساحرسائیں کواس نے ایک ضروری کام کے سلسلے میں کہیں بھیجا تھا ایسی نیند تو آ رہی تھی لیکن وہ ساحر کے آنے سے پہلے سونا نہیں چاہتا تھا ۔
اس نے ساحر سائیں کو فون کیا تو اس نے کہا کہ میں راستے میں ہوں تقریبا گھنٹے میں پہنچ جاؤں گا۔اسی لئے آپ سو جائیں ۔میری فکر نہ کریں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا
ساحر کی طرف سے بے فکر ہوکر وہ ابھی ہی سونے کے لئے لیٹا تھا شاید وہ جلدی ہی نیند میں اتر گیا تھا ۔جب اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے کمرے میں داخل ہوا اور اس کے کمرے کا دروازہ لاک کیا
شاید ساحر سائیں وہ ضروری فائل رکھنے کے لئے آیا تھا جسے لینے کے لیے اس نے اسے بھیجا تھا ۔وہ نیند میں بھی اپنے قریب ہوتی چیزوں کو محسوس کر سکتا تھا لیکن پھر اسے وہ وجود اپنے بیڈ پر محسوس ہوا ۔
جس کی خوشبو کو محسوس کرتے ہوئے اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی اس کی خوشبو کو تو وہ کیسے بھی پہچان سکتا تھا ۔
وہ اس کی جانب کروٹ لیتے ہوئے اس کے قریب ہوا وہ یہاں کیا کر رہی تھی رات کے اس وقت اس کا یہاں آنا کتنا برا ثابت ہو سکتا تھا کیا وہ نہیں جانتی تھی ۔
کیا اسے احساس نہیں تھا کہ ان دونوں میں موجود یہ پاکیزہ رشتہ دارم شاہ کے جذبات کو بےلگام کر سکتا ہے ۔کیا اسے احساس نہیں تھا کہ اسے سارا دن اپنے سامنے دیکھتے ہنستے بولتے اس کے دل میں کتنی خواہشات پیدا ہوتی ہیں ۔ جہیں وہ صرف اس کی رضامندی کی خاطر نظر انداز کرتا تھا ۔
اس نے محسوس کیا اس کا وجود کانپ رہا تھا وہ کسی ڈر سے بھاگ کر یہاں آئی تھی ۔شاید وہ چیخنے والی تھی اور اس کی چیخ ان دونوں کے لیے کتنی خطرناک ثابت ہوسکتی تھی وہ جانتا تھا
اسی لئے اس کی چیخ بلند ہونے سے پہلے ہی وہ اس کے لبوں پر اپنا بھاری ہاتھ رکھ چکا تھا ۔
°°°°
