488.5K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dost Daram (Episode 15)

وہ دوسری پہاڑی پر پہنچے تو یہاں بہت سارے پودے لگے ہوئے تھے یہ بھی جگہ اس جگہ کی طرح بے حد حسین تھی لیکن کوئی بھی پودا درخت کا روپ اختیار نہیں کرسکتا تھا ۔
ان میں سے چند ہی پودے تھےجو ذرا پرانےمحسوس ہو رہے تھے ورنہ یہاں پر سب لوگ شاید صرف اپنی محبت آزما ہی سکے تھے کامیاب کوئی نہیں ہو پایا تھا
اس نے وہاں جاکر پودا لگانا شروع کیا تو اس جگہ پودا لگانا اسے بھی بے حد مشکل لگا
کیونکہ زمین بے حد سخت تھی اور وہاں زمین کھودنے کے لیے کوئی چیز بھی نہیں تھی دارم نے اپنے موبائل فون سے ٹارچ کی روشنی جلا رکھی تھی تاکہ وہ اپنا کام جلدی ختم کر سکے
کیا تمہیں میری مدد چاہیے پتا نہیں کیا سوچ کر اس نے پوچھا اس نے ایک نظر اوپر اٹھائی اور پھر ہاں میں سر ہلایا
اسے سچ میں اس کی مدد کی ضرورت تھی وہ خود سے یہ نہیں کر سکتی تھی یہ کافی زیادہ مشکل تھا اس کے ہاں کرنے کی دیر تھی کہ دارم سائیں اس کے پاس ہی زمین پر بیٹھ گیا
اس کے مضبوط ہاتھوں سے زمین جلدی ہی اپنے ضد چھوڑ چکی تھی وہ زمین کھودتے ہوئے اسے پودا لگانے کا اشارہ کرنے لگا
شاید وہ اس کام میں بھی اناڑی تھی اس سے یہ بھی اکیلے نہ ہو پایا تو دارم سائیں نے آہستہ سے اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھوں رکھتے ہوئے پودا زمین کے نیچے دبایا
مجھے نہیں پتا کہ یہ پودا لگے گا یا نہیں لیکن میرے دل میں یہ خواہش ہے کہ یہ پودا لگ جائے کیونکہ یہ پودا میرے لئے کافی لکی ثابت ہوا ہے دیکھو تمہارے ہاتھ میرے ہاتھوں میں تھے
اور میرا یقین ہے کہ یہ ہاتھ ساری زندگی یوں ہی میرے ہاتھ میں رہیں گے جانم سائیں تم مجھ سے دامن چھڑا نہیں سکتی
اور نہ ہی میں تمہیں کبھی خود سے دور جانے دوں گا میں صرف باتیں نہیں کرتا بلکہ عمل کرنے پر یقین رکھتا ہوں
اور تمہیں بھی اس بات کا احساس جلد ہی ہو جائے گا جب تم اپنے آپ کو مسز دارم شاہ کہلاو گی ۔
ویسے سچ کہوں تو تمہارے نام کے ساتھ اپنا نام دیکھنے کی بے چینی اتنی ہے کہ بیان بھی نہیں کر سکتا ۔
وہ پودے کو لگا کر اٹھ کھڑا ہوا ۔اس کی ساری باتوں کے جواب میں نور نے کوئی جواب نہیں دیا تھا وہ اپنے ساتھ لائی پانی کی بوتل سے ہاتھ دھونے لگی جب دارم نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کیے
وہ کچھ بھی نہیں بول پائی ۔بس پانی کی بوتل سے اس کے ہاتھ دلوانے لگی
تمہارے ساتھ یہ پہلا سفر بہت اچھا رہا ۔اگر تم سمجھو تو تمہارے لئے بھی یہ سفر کافی خوبصورت تھا ۔
لیکن مجھے پتا ہے کہ فی الحال تم سمجھنا ہی نہیں چاہتی ہوپتہ نہیں وہاں سے کون کون سی غلط فہمیاں پال کر آئی ہو
خیر تمھاری ساری غلط فہمی تو میں دور کر ہی دوں گا ۔چلو اب چلتے ہیں ۔وہ اپنا موبائل ہاتھوں میں لئے اس سے کہنے لگا
جب اس کا موبائل فون اس کے ہاتھوں میں بند ہوگیا
مبارک ہو جانم سائیں موبائل فون ساتھ چھوڑ گیا ہے لیکن میں ساتھ نہیں چھوڑوں گا آ۔و میرا ہاتھ تھامو وہ اپنا ہاتھ آگے کرتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام چکا تھا
چاند تو نہیں تھا لیکن ستاروں کی روشنی بھی اتنی کم نہ تھی کہ وہ راستہ نہ ڈھونڈ پاتے ۔
دارم سائیں اندھیرے میں کیسے جائیں گے میرا نہیں خیال کہ ہم آج صحیح سلامت نیچے تک پہنچ پائیں گے وہ پریشانی سے اس کا بازو تھام چکی تھی
کیوں نہیں پہنچ پائیں گے جانم سائیں ۔تم کس بات سے خوف زدہ ہو رہی ہو کیا تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے ۔یا تمہیں لگتا ہے کہ تمہیں صحیح سلامت گھر پہنچانے کی بجائے میں تمہیں اپنے ساتھ ہی کہیں دور لے جاؤں گا
ویسے میرا ارادہ ہے کچھ ایسا کرنے کا اسی لیے مجھ پر زیادہ یقین کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے وہ شرارت سے کہتا اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ چکا تھا جو پہلے ہی مضبوطی سے اس کے بازو کو تھامے ہوئے تھے ۔
جی نہیں مجھے پتا ہے آپ ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والے اور پلیز مجھے ڈرائیں مت ہم جلدی چلتے ہیں واپس کتنا گھنا جنگل ہے نہ مجھے تو اس جنگل سے جاتے ہوئے بھی خوف آ رہا ہے ۔وہ پریشانی سے بولی
تمہیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے جانم ساِئیں یہ جنگل اتنا بھی خطرناک نہیں ہے ۔اس میں زیادہ خونخوار جانور نہیں ہیں ۔صرف سانپ ہی ہوں گے جو زہریلے ہوں گے باقی عام جانور ہیں ۔گیدڑ، بھیڑیا یا بکری وغیرہ ان سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے جو انسانوں سے ڈرتے ہیں ۔اس جنگل میں کبھی بھی کوئی حد درجہ خطرناک جانور نہیں دیکھا گیا وہ اس کاڈر کم کرتے ہوئے بولا
آپ کو گیدڑ، بھیڑیا بکری خطرناک نہیں لگتے ۔گیدڑ اور بھیڑیا تو میں نے کبھی نہیں دیکھا لیکن بکری ۔۔۔وہ اس کے ساتھ چلتے چلتے سوال کرنے لگی ۔
نہیں جانم سائیں مجھے تو یہ خطرناک نہیں لگتے گیدڑ اور بھیڑیا عام جانور ہیں جو انسانوں سے خوفزدہ رہتے ہیں اور بکری تو بہت معصوم ہوتی ہے وہ اس کی معصومانہ بات پر مسکرایا تھا
کیا کہا آپ نے بکری معصوم ہوتی ہے اس رات وہ میری جان لینے والی تھی اور آپ کو بکری معصوم لگتی ہے
آپ جانتے ہیں کل رات میں آپ کے کمرے میں کیوں آئی تھی کیونکہ وہاں نیچے صوفے کے ساتھ والے ٹیبل پر بکری بیٹھی ہوئی تھی بلکہ بکری نہیں بکری کی روح سنان ادا نے مجھے بتایا تھا کہ جس بکری کےپیٹھ پر میں نے ہاتھ پھیرا ہے اس بکری کی نسل کی روحیں پھرتی ہیں پورے گاؤں میں ۔وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی اس کے لیے نہ سہی لیکن نور کے لیے بکری بہت خطرناک جانور تھی
وہ صرف تمہیں ڈرا رہا تھا جانم سائیں ایسا کچھ نہیں ہے حلال جانور کی کوئی روح نہیں ہوتی اور اسے ذبح کیا گیا تھا قتل نہیں ۔
وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا شکر ہے باتوں میں لگ جانے کی وجہ سے اس کے ڈر میں تھوڑی کمی آئی تھی
اور وہ روح میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی وہ سچ میں روح تھی اس بکری کی میں جھوٹ نہیں بول رہی۔۔
وہ اس صوفے کے پاس والے ٹیبل پر ۔۔
وہ ایک بکری کا مجسمہ ہے جو پتھر کا ہے ۔وہ کوئی روح نہیں ہے وہ مجسمہ آج کا نہیں بلکہ ڈھائی سال پرانا ہے جو ساحرسائیں کسی میوزیم سے لایا تھا ۔
اسی میوزیم میں وہ اسے بہت زیادہ پسند آیا تھا آرٹ کی سمجھ رکھتا ہے ساحر سائیں اسےجو چیز پسند آتی ہے اسے خرید لیتا ہے وہ اسی کی پسند کردا آرٹ تھی ۔اسے خوبصورت لگی تھی ۔تم اسے غلط سمجھ بیٹھی تھی شاید تم نے یہاں آکر اسے نوٹ نہیں کیا ہوگا
اسی لئے تم اسے بکری کی روح سمجھ بیٹھی ۔وہ اسے مکمل بات بتاتے ہوئے بولا تو اسے سنان پر بے حد غصہ آیا
سنان ادا نے مجھے بیوقوف بنایا ایسا کون کرتا ہے میں اتنی زیادہ خوفزدہ ہوگئی تھی ۔کتنی غلط بات ہے انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا نا وہ اپنے بیوقوف بن جانے پر سخت خفا ہو رہی تھی جب کہ دارم سائیں مسکراتے ہوئے آگے بڑھنے لگا
ہاں بے شک غلط بات ہے اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن میرے خیال میں تم نے ہی اس سے کہا تھا کہ یہاں تمہیں کوئی انٹرٹینمنٹ نہیں مل رہی اور وہ تمہیں بکرا زیادہ انٹرٹینگ لگ رہا تھا شاید اس نے تمہیں انٹرٹین کرنے کے لیے ایسا کیا ہوگا وہ اپنی ہنسی چھپاتا آگے بڑھتا چلا گیا
جب کہ وہ منہ بناتی اس کے پیچھے پیچھے چلتی رہی
°°°°
جی بابا سائیں آپ نے مجھے بلایا سنان سائیں نے کمرے میں قدم رکھتے ہوئے انہیں سلام کیا اور ان کے پاس بیٹھے ہوئے پوچھنے لگا
ہاں سنان سائیں مجھے تم سے بہت اہم بات کرنی تھی تمہاری شادی کے بارے میں کچھ دن پہلے بھی ہم نے یہ بات کہی تھی تب تم نے کہا کہ تم جب فری ہو گے تب اس بارے میں بات کرو گے تو آج تم بالکل فری ہو تو کیوں نہ اس بارے میں مکمل بات کر لیں ۔وہ ایک نظر زرین بیگم کی جانب دیکھتے اس سے کہنے لگے
بابا سائیں میرے خیال میں اس اہم بات کے لئے ہمیں الگ وقت نکالنا چاہیے ابھی تو مجھے بہت سخت نیند آرہی ہے وہ بہانہ بناتے ہوئے اٹھنے لگا جب اچانک بابا سائیں نے اس کا ہاتھ تھام لیا
تم ایسا کیوں کر رہے ہو سنان سائیں آخر کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں کس چیز کو لے کر پریشان ہو تم شادی کی طرف کیوں نہیں آ رہے تم بتاؤ ہمیں کیوں بہانہ بناتے رہتے ہو ۔۔۔۔!
ہم جب بھی اس موضوع پر بات کرتے ہیں تم بہانے بنانے لگتے ہو بابا سائیں کے سامنے شاید آج اس کا کوئی بہانہ نہیں چلنا تھا
نہیں بابا سائیں ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے آپ کو غلط فہمی ہو رہی ہے وہ دراصل میں ابھی شادی اس لئے نہیں کرنا چاہتا کیونکہ دارم سائیں بڑے ہیں مجھ سے ابھی ان کے بارے میں کوئی بات نہیں ہو رہی تو بھلا میرے بارے میں کیا بات کرنی اس کے پاس کوئی مضبوط دلیل نہیں تھی ۔
دارم سائیں کی منکوحہ آ چکی ہے پاکستان آج نہیں تو کل ہی رخصتی کی بات شروع ہو جائے گی ۔اور ہم نہیں چاہتے کہ زرنیش کے لئے کوئی اچھا رشتہ آجائے جو ادا سائیں کو تم سے بہتر لگے وہ بنا ہچکچائے اس کے سامنے اپنی خواہش ظاہر کر چکے تھے
زرنیش ۔۔۔بابا سائیں زرنیش کی بات کر رہے ہیں آپ ۔۔۔؟
میرا مطلب ہے کیسے آپ ایسا کیسے سوچ رہے ہیں زرنیش تو ابھی پڑھ رہی ہے اور میرا نہیں خیال کہ وہ ایسا کچھ بھی چاہتی ہے
زرنیش کا آخری سمسٹر ہے بیٹا سائیں اس کے بعد اس کی تعلیم کمپلیٹ ہو جائے گی ۔اور ماشاءاللہ سے اس کے لیے ابھی سے اچھے رشتے آنے لگے ہیں اور کچھ دن پہلے باتوں ہی باتوں میں ادا سائِیں نے مجھے اشارہ بھی دیا ہے کہ اب وہ زرنیش کے بارے میں کچھ سوچیں ۔
میں اس وقت تو انہیں کوئی جواب نہیں دے سکا کیوں کہ میں تمہاری مرضی جاننا چاہتا ہوں لیکن تمہارے دادا جان جب حیات تھے انہوں نے خود یہ کہا تھا
کہ وہ تمہاری شادی زرنیش سے کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہمیں بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا میں صرف اپنے بابا سائیں کے الفاظ کا پاس رکھنا چاہتا ہوں آگے تمہاری مرضی ۔اب تم جا سکتے ہو میں تمہارے جواب کا انتظار کروں گا وہ اپنی بات ختم کرتے ہوئے بولے تو سنان جیسے گہری سوچ میں چلا گیا تھا
وہ انکار کرکے اپنے باپ کا دل نہیں دکھا سکتا تھا لیکن اقرار کرکے ۔۔۔۔۔
°°°°°
وہ بابا سائیں کے کمرے سے نکلا تو زرنیش اپنی کتابیں ساحر سائیں کے کمرے میں رکھنے جا رہی تھی
اسے دیکھ کر رک گئی
آپ کے لئے چائے بناوں سنان سائیں۔ ۔؟ اس نے پہلے کبھی بھی نوٹ نہیں کیا تھا لیکن آج اس نے محسوس کیا تھا کہ وہ کافی دنوں سے اسے ادا کہنا چھوڑ چکی ہے
نہیں میرے خیال میں تم پڑھائی کر رہی ہو وہ ایک نظر اس کی کتابوں کی جانب دیکھتے ہوئے بولا
نہیں پڑھائی تو ہوتی رہے گی میں آپ کے لئے چائے بنا لیتی ہوں وہ ایک پوائنٹ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ ساحر ادا سے سمجھنے جا رہی تھی ۔اس نے مسکراتے ہوئے کہا اس کے لہجے کی شرم حیا اس پر یہ بات واضح کر چکی تھی کہ وہ اس کے اور اپنے رشتے کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور جانتی ہے ۔
ٹھیک ہے ۔۔۔وہ بس اتنا کہہ کر آگے بڑھ گیا زرنیش کے انداز سے صاف لگ رہا تھا کہ اسے اس شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔
وہ اس سے شادی کے لیے تیار تھی ۔یعنی کہ اس کی طرف سے وہ انکار کی امید نہیں رکھ سکتا تھا اگر وہ یہ شرط رکھتا کہ پہلے زرنیش کی مرضی پوچھی جائے تو بھی اس کا جواب نہ نہیں ہوتا ۔اور اس کے پاس انکار کی کوئی وجہ نہ تھی
°°°°°
وہ لوگ جیسے ہی پہاڑی سے نیچے اترے تھے وہاں گاڑی کھڑی تھی جو یقینا ساحر سائیں نے پہنچائی تھی نیچے گاڑی دیکھ کر سب سے زیادہ خوشی تو نور کو ہوئی تھی جس کے پیر اس وقت بہت درد کر رہے تھے
چلو اب آگے کا سفر آسان ہے مجھے تو لگا تھا کہ ہمیں گھر تک پیدل ہی جانا پڑے گا وہ گاڑی کا دروازہ کھولتا ہوا بولا
جب کہ نور گاڑی میں بیٹھتے ہی اپنی شال تلاش کرنے میں مصروف ہو چکی تھی لیکن یہ کیا یہ تو وہ گاڑی تھی ہی نہیں جس میں وہ لوگ صبح ائے تھے ۔
کیا ہوا جانم سائیں سردی لگ رہی ہے وہ اپنا اجرک اس پر ڈالتے ہوئے پوچھنے لگا
جبکہ نور کچھ بھی نہیں بول پائی ایک بار پھر سے وہ اس شخص کے سامنے بے بس تھی وہ کیوں اس کے سامنے کچھ بھی نہیں بول پاتی تھی کیوں اس کی قربت اسے خاموش ہونے پر مجبور کر دیتی تھی ۔
سفر شروع ہو چکا تھا وہ دارم سائیں کی اجرک خود پر لپیٹتی گاڑی کی سیٹ کے ساتھ سر رکھ کر آہستہ سے آنکھیں موند گئی ۔
اب وہ مزید کچھ نہیں سوچنا چاہتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی وہ جتنا زیادہ سوچے گی اتنا الجھے گی
°°°°°
گھر آنے کے فورا بعد وہ سب سے پہلے بابا سائیں کے کمرے کی جانب آئی تھی اس وقت رات کا ایک بج رہا تھا
اس نے ٹائم دیکھے بنا کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ہمنہ نے پریشانی سے دروازہ کھولا
کیا بات ہے بیٹا سائیں آپ اس وقت یہاں سب ٹھیک ہے نہ خیریت تو ہے نہ وہ پریشانی سے اس سے پوچھنے لگیں
جی مجھے بابا سائیں سے ملنا ہے ان سے بہت ضروری بات کرنی ہے کیا میں مل سکتی ہوں وہ انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگی
ہاں بیٹا سائیں کیوں نہیں آپ مل سکتی ہیں لیکن آپ کے بابا تھوڑی دیر پہلے ہی سوئے ہیں اگر اس وقت انہیں جگایا تو انکی طبیعت خراب ہو سکتی ہے ۔لیکن اگر آپ کی بات ضروری ہے تو میں انہیں جگا دیتی ہوں ۔ہمنہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔
وہ اتنی رات کو آئی تھی تو مطلب صاف تھا کہ یقینا اس کی بات بہت اہم ہے ورنہ اتنے سارے دنوں میں تو اس نے کبھی اپنے بابا سائیں کی طرف دیکھا بھی نہ تھا
ایم سوری لگتا ہے میں غلط وقت پر آئی ہوں آپ مت جگائیں میں صبح بات کر لوں گی ان سے وہ ایک نظر اپنے موبائل سکرین پر چلتے ٹائم کو دیکھ کر وہی سے مڑگئی ۔ہمنہ دروازے بند کرنے ہی لگی تھی کہ وہ مڑی
ایم سوری مجھے آدھی رات کو آپ کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہیے تھا آپ آرام کرے وہ کہتی وہی سے پلٹ گئی جب کہ ہمنہ مسکرا کر کمرہ بند کر چکی تھیں۔
°°°°°
صبح کے وقت وہ سب لوگ کھانے کی میز پر موجود تھے ۔
تو بولو سنان سائیں کیا سوچا تم نے بابا سائیں ناشتے کی طرف متوجہ اسے مخاطب کرکے بولے۔
آپ زرنیش سے پوچھ لیں اگر اسے کوئی اعتراض نہیں تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں آپ کا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر وہ بس اتنا ہی کہہ سکا جب کہ بابا سائیں کا سینہ فخر سے چوڑا ہو چکا تھا
تو پھر بس گھرمیں شادی کا ماحول بنا دو ترس گئی ہیں آنکھیں اس گھر میں خوشی کا کوئی تہوار دیکھے ہوئے ۔تایاسائیں نے بے حد خوشی سے کہا اور دارم کی جانب متوجہ ہوئے
تمہارے کیا ارادے ہیں برخدار تم نے بھی سہرا سجانا ہے یہ یوں ہی بیٹھے مسکراتے رہو گے ۔
باباسائیں میں تو آپ کے رحم وکرم پر ہوں پتا نہیں آپ کب نگاہ میری طرف اٹھائیں گے وہ شرارت سے مسکراتے ہوئے بولا ۔
ہاں تو ٹھیک ہے سائیں ہم کوئی اچھی لڑکی ڈھونڈتے ہیں بڑی بی بی اس نے بات ٹالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔وہ اس وقت دارم کی شادی کی بات ہرگز نہیں کرنا چاہتی تھی
کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا اماں سائیں شاید آپ بھول رہی ہیں میرا نکاح ہو چکا ہے اور میں اس سے شادی کروں گا جو میرے نکاح میں ہے ۔بلکہ میں تو کہتا ہوں زرنیش اور سنان سائیں کی شادی کے ساتھ ہی یہ کام بھی نپٹا لیں فضول میں ٹالنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
کیونکہ میں شادی کروں گا تو صرف اور صرف در نور شاہ سے یہ آپ کی سوچ ہے کہ میری زندگی میں کوئی اور لڑکی آ سکتی ہے بہتر ہے کہ آپ اپنی سوچ بدل لیں کیونکہ وہ صرف میرے نکاح میں نہیں ہے میرے دل میں بھی ہے ۔
اپنی ماں کی سوچ کو وہ بہت اچھے طریقے سے سمجھتا تھا ان کی نظر میں نور ایک باغی کی لڑکی تھی اور اس کی تربیت ایک باغی عورت نے کی تھی وہ اس کے ہاتھ میں اپنے گھر کی ڈور نہیں پکڑا سکتی تھیں ۔
دیکھو دارم سائیں میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو نور ان لڑکیوں میں سے نہیں ہے جوگھر بسائے ۔
نور کبھی بھی تمہارے ساتھ نہیں چل سکتی ۔اس کے لئے بھی یہ سب کچھ مشکل ہوگا بعد میں پچھتانے سے بہتر ہے اس وقت کوئی بہتر فیصلہ کرلو وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولیں۔
میں فیصلہ کر چکا ہوں اماں سائیں میں شادی کروں گا تو صرف اور صرف در سے کروں گا وہی میری بیوی ہے اور وہی آپ کی بہو بنے گی ۔
اور آپ بابا سائیں اپنے بھائی تک یہ بات پہنچا دیں کہ میں اب اپنی امانت چاہتا ہوں ۔
میں اب مزید انتظار نہیں کروں گا وہ بنا ناشتہ کیے وہاں سے اٹھ کر جانے لگا جب اسے سامنے سےنور آتی ہوئی نظر آئی
اپنی بھتیجی کو بھی بتا دیجئے گا ۔کہ اب آزادی ختم پتے اور پودے لگانا بند کرے اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔وہ اس کے قریب سے گزرتے ہوئے بلند آواز میں بولا تھا ۔
کیا مطلب تھا ان کی اس بات کاوہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی
جبکہ تائی اماں سائیں غصے سے اٹھ کر چلی گئیں
بیٹاسائیں شادی کی بات چل رہی تھی ۔
اوہ گریٹ کس کی شادی کی بات وہ زیادہ رسپانس دیے بنا بولی
تمہاری اور دارم سائیں کی شادی کی بات دارم سائیں اب شادی چاہتے ہیں ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ اب رخصتی ہو جانی چاہیے میں آج ہی تمہارے بابا سائیں سے بات کروں گا ۔بابا سائیں اس سے کچھ بھی چھپانا نہیں چاہتے تھے اسی لیے واضح الفاظ میں کہہ گئے
اور مجھ سے یہ بات کون پوچھے گا ۔۔۔۔؟وہ کھانا چھوڑ کر ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
کوئی بھی نہیں ۔۔۔۔۔اسے پیچھے سے بابا سائیں کی آواز سنائی دی تھی اس نے حیران ہو کر انہیں دیکھا ۔
کیا مطلب ہے آپ کا وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی
۔
مطلب صاف ہے بیٹا سائیں اگر تمہیں میری جائیداد میں سے حصہ چاہیے تو تمہیں دارم سائیں سے شادی کرنی ہوگی ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے دکھ سے بولے جب کے نور کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ انھیں پتا کیسے چلا کہ وہ یہاں کس لیے آئی ہے