488.5K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dost Daram ( Episode 16)

°°°°°°
کیا کہنا چاہتے ہیں آپ ۔۔۔!وہ کنفیوز ہو کر ان سے پوچھنے لگی
کہنے اور سننے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں ہے بیٹا سائیں مجھے لگا تھا تم اپنے باپ کی محبت میں یہاں تک آئی ہو لیکن یہ جان کر افسوس ہوا کہ تمہاری تربیت جس عورت نے کی ہے اس نے تمہارے اندر بھی وہی لالچ بھر دیا ہے جو اس کے اپنے اندر بھرا ہوا تھا
وہ نہ خود کبھی رشتے نبھا سکی اور نہ ہی اس نے تمہیں رشتے نبھانا سکھایا ہے ۔
مجھے افسوس ہے کہ اس نے میری بیٹی کو بھی اپنی طرح بنا دیا ہے لالچ اور مطلب پرست آج مجھے یہ سوچ کر دکھ ہو رہا ہے کہ میں کیوں تمہارے لیے لڑ نہیں سکا کاش میں لڑتا اور تمہیں اپنے ساتھ واپس لے آتا کم از کم آج مجھے اپنی بیٹی کو دیکھ کر شرمندگی نہ ہوتی ۔
اگر میں تمہیں اپنے ساتھ لے آتا تو تمہاری تربیت میں کرتا اور یقنیناً اتنی اچھی کرتا کہ دنیا فخر کرتی اور میں سر اٹھا کر کہتا کہ تم میری بیٹی ہو ۔
لیکن تم نے میرا سر جھکا دیا نور تم نے مجھے شرمندہ کر دیا۔
دیکھیں میں۔۔۔۔۔۔اس نے کچھ کہنا چاہا تو وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے پھر سے بولے
میں جانتا ہوں بیٹا سائیں تم یہاں دولت کےلیےآئی ہو اور تمہیں اپنے حصے کے علاوہ کسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔اپنے باپ سے بھی نہیں وہ یہ الفاظ کہتے ہوئے کتنی تکلیف سے گزر رہے تھے یہ تو صرف وہی جانتے تھے لیکن ان کے الفاظ نے اسے شرمندہ کر دیا تھا ۔
وہ سر جھکا گئی۔
انہیں یہ سب کچھ کیسے پتہ چلا تھا یہ جاننے کے لیے اسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی ان کے ہاتھ میں وہ اپنا فون دیکھ چکی تھی
یقیناً انہوں نے اس کی اور ثمرہ کی واٹس ایپ وائس سنی تھی ۔ وہ اپنا فون وہیں باہر چارج پر لگا کر نیچے آئی تھی اور یہ اس کی سب سے بری عادت تھی کہ وہ اپنا فون لاک نہیں کرتی تھی ۔جس کا احساس اسے آج ہو رہا تھا۔کاش وہ لاک کر دیتی ۔
وہ سر جھکائے ان کے سامنے کھڑی تھی ۔اس کے پاس کچھ نہیں تھا کہنے کو وہ اپنی صفائی میں کیا بولے اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔اسے لیے صرف خاموشی سے کھڑی ان کو سن رہی تھی ۔پتا نہیں اب کیا ہونا تھا۔
اب تو فیصلہ انہوں نے کرنا تھا کل تک وہ اس کے مجرم تھے آج وہ ان کی مجرم بن گئی تھی ۔
تو تمہیں اپنا حصہ چاہیے نہ نور تو میں تمہیں تمہارا حصہ ضرور دوں گا ۔کیونکہ یہ تمہارا حق ہے ۔لیکن میں تمہیں یہ آج نہیں دوں گا بلکہ چھ ماہ بعد دوں گا جب تم اس جائیداد کے قابل بن جاوگی میں تمہیں تمہارا حصہ دے دوں گا
کیا مطلب ہے آپ کا ۔کیا کرنا ہو گا مجھے چھ ماہ میں ۔وہ سب کچھ جان چکے تھے تو اب وہ بھی مزید ان سے کچھ بھی چھپانا نہیں چاہتی تھی اسی لیے پوچھنے لگی
فکر مت کرو میں تمہیں کوئی مشکل کام نہیں دوں گا تمہیں رشتوں کی قدر کرنی ہو گی تمہیں چھ مہینے اسی حویلی میں رہنا ہوگا دارم سائیں سے شادی کر کے ۔وہ فیصلہ سناتے ہوئے بولے تو نور انہیں دیکھ کر رہ گئی
لیکن میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی جب مجھے یہاں رہنا ہی نہیں ہے تو میں شادی کیوں کروں میں یہاں دارم سائیں سے طلاق لینے آئی تھی ان کے ساتھ یہ رشتہ نبھانے کے لئے نہیں آئی ۔میں ساری زندگی اس حویلی میں نہیں رہ سکتی مجھے آپ کی شرط منظور نہیں ہے وہی دیکھتے ہوئے بولی
ٹھیک ہے اگر تمہیں میری شرط منظور نہیں ہے تو پھر بھول جاؤ کہ اس جائیداد میں تمہیں کوئی بھی حصہ ملے گا کیوں کہ میں اپنی ساری جائیداد اپنے ہونے والے داماد کے نام کر چکا ہوں
اور یہ جائیداد میری بیٹیوں کو تب ہی ملے گی جب تک وہ رشتوں کی قدر نہیں کرتی اپنے سے جڑے ہوئے تعلقات کو نبھانے کا حوصلہ نہیں رکھتی ۔
دارم سائیں اور تمہارا نکاح بڑوں کا فیصلہ تھا میرے بابا سائیں کی خواہش تھی اور اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے مجھے چاہے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے میں ضرور کروں گا
یا تو تم آج ہی واپس لوٹ جاؤ یا پھر میری شرط مان لو ۔تمہارے پاس دو ہی راستے ہیں وہ اپنی بات ختم کر کے جانے لگے
مجھے صرف چھ ماہ کے لیے ہی رشتہ نبھانا ہے نا اس سے پہلے کہ وہ باہر نکلتے ان کی سماعتوں سے اس کی آواز ٹکرائی ۔
ہاں بیٹا سائیں تمہیں یہ رشتہ 6ماہ کے لئے نبھانا ہے اس کے بعد دارم سائیں کی مرضی ۔لیکن فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا وہ بس اتنا کہہ کر باہر نکل گئے جبکہ نور گہری سوچ میں تھی
°°°°°
نہیں مام آپ نہیں جانتی دارم سائیں مجھے کبھی بھی طلاق نہیں دیں گے چاہے کچھ بھی کیوں نہ ہو جائے میں بہت بڑی مصیبت میں پھنس جاؤں گی اگر میں شادی کے لئے تیار ہو گئی تو آپ نہیں جانتی دارم سائیں کس قدر ضدی انسان ہیں وہ اتنی آسانی سے مجھے کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے
اگر میں ان سے شادی کے لیے تیار ہو گئی نہ تو میں اپنے پیر پر خود ہی کلہاڑی مار لوں گی مجھے لگتا ہے مجھے واپس آ جانا چاہیے کیونکہ بابا سائیں کی شرط کے مطابق یہ کام میرے لیے بے حد مشکل ہے وہ ہار مانتے ہوئے بولی ۔
بے وقوف لڑکی کیا تمہارا دماغ خراب ہے خبردار جو تم نے ہار مان کر واپس آنے کی کوشش کی صرف چھ ماہ کی بات ہے جیسے کہ تمہارے باپ نے شرط رکھی ہے اس کے حساب سے چھ ماہ کے بعد دارم شاہ تمہیں طلاق دے یا نہ دے تم اسے چھوڑ کر آ جانا ۔
اور تمہارے باپ کی شرط پوری ہو جائے گی تمہیں تمہاری جائیداد کا حصہ مل جائے گا تمہیں صرف چھ مہینے یہ رشتہ چلانا ہے پھر تمہارا باپ اور دارم شاہ جائے بھاڑ میں تم بس اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچو
اگر تمہیں تمہارا حصہ مل گیا تو تمہاری زندگی آسان ہو جائے گی تم آزادی اور عیاشی سے اپنی زندگی گزار سکوگی سب کچھ ہوگا تمہارے پاس پیسہ دولت، بنگلہ، گاڑی، بینک بیلنس تمہیں کسی چیز کےلیےجاب کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔
تم خود اپنی مرضی کی مالک بن جاؤ گی اور ان چھے مہینوں میں تم دارم کو اتنا ٹارچر کرنا کہ وہ خود ہی تم سے الگ ہونے کیلئے تیار ہو جائے تم دیکھنا دار م خود ہی تم سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہے گا ثمرہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی ۔
لیکن موم آپ دارم سائیں کو نہیں جانتیں اور ویسے بھی وہ مجھ سے نہیں کسی اور سے محبت کرتے ہیں اور میں اپنی وجہ سے کسی کو تکلیف نہیں دینا چاہتی میں جانتی ہوں دارم سائیں کی شادی سے سب سے زیادہ تکلیف ثناء کو ہوگی جو صرف دارم شاہ سے محبت نہیں کرتی بلکہ انہِیں اپنا سب کچھ مانتی ہے ۔
آپ نہیں جانتی کہ وہ دارم سائِیں سے کتنی محبت کرتی ہے ۔۔۔
تو میری جان اگر وہ دارم شاہ سے محبت کرتی ہے تو یہ تو اچھی بات ہے نا اس سے دارم خود تم سے الگ ہونا چاہے گا وہ بھی کیوں اپنی محبت کو تمہارے لئے ٹھکرائے گا وہ خود ہی چھ مہینے کے بعد تمہیں چھوڑ دے گا یہ صرف بڑوں کا فیصلہ ہے اس میں دارم شاہ کی اپنی کوئی مرضی شامل نہیں ہے یہ بھی تو دیکھو تمہیں اس سے بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے میری جان
لیکن اگر تم یہاں سے پیچھے ہٹی نہ تمہاری سب سے بڑی بیوقوفی ہوگی
کروڑوں کی نہیں عربوں کی جائیداد ہے میری جان اور اگر تمہیں وہ عربوں کی جائیداد چاہیے نہ تو تھوڑی محنت تو کرنی پڑے گی اس دنیا میں انسان کچھ بھی کرے ہر کام کے لیے محنت تو کرنی پڑتی ہے
کسی کو دھوکا دینا بھی آسان کام نہیں
اور تم کسی کو دھوکا بھی نہیں دے رہی تمہارے باپ کی اس شرط کے بارے میں وہ بھی جانتا ہوگا اور اگر تمہیں یہ لگتا ہے کہ وہ شادی کے بعد تمہیں بیویوں کی طرح ٹریٹ کرے گا تو یہ صرف تمہاری غلط فہمی ہے وہ تمہیں کوئی اہمیت نہیں دے گا
کسی بھی مرد کی نظروں میں اہمیت کی حامل اس کی من چاہی بیوی ہوتی ہے ڈارلنگ اس کی نظر میں اہم تو وہ بیوی ہو گی نہ جو اس کے پیر دھو کر پیئے اسے مالک بنا کر خود اس کی نوکر بن جائے اور تم تو ایسا کچھ نہیں کروگی بلکہ تم تو اس کے ساتھ لیا دیا رویہ رکھو گی
نہ تو تم اسے اپنے پاس آنے دو گی نہ ہی اس کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق جوڑو گی یقین مانو دارم شاہ تو کیا اس دنیا کا کوئی بھی مرد ایک ایسی بیوی قبول نہیں کر سکتا جو اس سے محبت ہی نہ کرتی ہو ۔وہ اسے سمجھاتے ہوئے کہہ رہی تھی جبکہ ان کے لفظ محبت پر وہ گہری سوچ میں چلی گئی
محبت کیا وہ اس سے محبت نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔
تیرہ سال کی عمر سے اس نے تو صرف اسی کو سوچا تھا
اس نے جیسے اپنے آپ کو اس کی امانت بنا رکھا تھا نکاح کی اہمیت کو سمجھ کر اس نے کسی دوسرے مرد کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی اپنے لئے گناہ سمجھ لیا تھا
بوائے فرینڈ تو دور اس کے دوستومیں کوئی لڑکا دوست تک نہیں تھا ۔لیکن یہ محبت تو نہ تھی یہ تو صرف وہ بندھن تھا نکاح کا جو اسے اپنی طرف کھینچتا تھا اس نے تو کبھی بھی دارم سائیں سے محبت نہیں کی تھی ۔یہ تو صرف اس کا رشتہ تھا جسے وہ اہمیت دیتی تھی کیونکہ نکاح کی اہمیت کو وہ سمجھتی تھی
اس رشتے کی پاکیزگی نے اسے کبھی بھٹکنے نہیں دیا تھا ہاں اس نے بہت سوچا تھا اس کے بارے میں وہ دن رات سوچتی تھی دارم کیسا ہوگا
کیسا دکھتا ہو گا کیسے چلتا ہوگا بات کیسے کرتا ہوگا اس کے لئے ہر چیز اہمیت رکھتی تھی لیکن اس کی وجہ محبت نہیں صرف وہ بندھن تھا جو اسے یہ سب کچھ سوچنے پر مجبور کرتا تھا ورنہ دارم شاہ کی کیا اہمیت تھی اس کی نظروں میں کچھ بھی نہیں
وہ اس کےلئے اہم تھا کیونکہ وہ اس کے نکاح میں تھی ۔اور اگر وہ اس کے نکاح میں نہ ہوتی تو شاید دارم سائیں کی کوئی اہمیت بھی نہ ہوتی
اور اب جب وہ اس سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھنا چاہتی تھی تو پھر اہمیت کیسی ۔کیسی محبت کیسا نکاح جب یہ نکاح کا تعلق ہی ختم ہو جائے گا تو وہ کیوں اتنی پریشان ہو رہی تھی
اور یہ سب شاید اسی لئے اس کے لئے مشکل تھا لیکن پھر بھی وہ یہ سب کچھ کرنا چاہتی تھی کیونکہ اسے اپنا فیوچر بنانا تھا
چند دن بھوکے رہ کر اس نے سمجھ لیا تھا سوائے دولت کے دنیا میں اور کچھ نہیں ہوتا وہ کرسکتی تھی وہ چھ مہینے کے لیے دارم شاہ کے ساتھ رہ کر یہ رشتہ نبھا سکتی تھی اور پھر چھے ماہ کے بعد اسے اس کا حصہ مل جانا تھا اور اس کے بعد تو وہ یہاں سے ہمیشہ کے لئے چلی جاتی
ایک بار اسے اس کی جائیداد مل جائے تو پھر کون سرمد شاہ۔۔۔؟
کون دارم سائیں۔۔۔؟
اسے صرف اور صرف اپنی جائیداد چاہیے تھی اسے کسی سے کوئی مطلب نہیں تھا ۔
اور اپنے مطلب کے لئے دارم شاہ کے ساتھ شادی کے لیے تیار تھی چھ مہینے تو وہ اپنی آنے والی زندگی کو بری یادوں کے ساتھ بھی بھلا سکتی تھی
اپنی ماں سے بات کرنے کے بعد اس نے خود فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ آج شام ہی اپنا فیصلہ سب کو سنا دے گی بتا دے گی کہ اسے اپنے باپ کی شرط منظور ہے ۔
°°°°°°
کیا مطلب ہے آپ کا چاچو سائِیں آپ نے اس کے سامنے شرط کیوں رکھی آپ جانتے ہیں وہ اس سب کا کیا مطلب نکالے گی اس سے تو اس کی نگاہوں میں اس رشتے کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہوگی چاچو سائیں
اگر اس نے آپ سے اپنی جائیداد مانگی ہے تو یہ اس کا حق ہے آپ کو اس کے سامنے شرط نہیں رکھنی چاہیے تھی ۔
میں اس تعلق کو قیامت تک نبھانا چاہتا ہوں صرف چھے ماہ تک نہیں آپ نے غلط کیا چاچو سائیں
اس نے مصیبتیں دیکھی ہیں اپنی آنکھوں سے اس نے بھوک جھیلی ہے اور یقین کریں چاچا سائیں جو شخص بھوک برداشت کر لیتا ہے نا اس کے لیے دنیا کا کوئی کام مشکل نہیں ہوتا
اگر اسے جائیداد چاہیے تھی تو آپ ساری جائیداد اس کے نام کردیتے آپ نے اپنی جائیداد میرے نام کیوں کی وہ بے حد دکھ سے بول رہا تھا
میں نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے دارم سائیں اور تمہارے ساتھ اس کا تعلق ختم نہیں ہوگا کیوں کہ میں نے اس کے سامنے صاف کہہ دیا ہے کہ چھ مہینے کے بعد اگر دارم سائِیں چاہے تو وہ تمہیں چھوڑ سکتا ہے میں جانتا ہوں وہ تمہیں مجبور کرے گی اس تعلق کو ختم کرنے کے لیے لیکن مجھے تمہاری محبت پر بھی پورا یقین ہے
میں یقین سے کہہ سکتا ہوں تمہاری محبت اس کے سامنے ہارے گی نہیں وہ باغی ہوگئی ہے اسے رشتوں کا احساس نہیں ہے میں صرف ایک کوشش کر رہا ہوں اسے خون کے رشتوں کا احساس دلانے کی میں جانتا ہوں اس کے لیے یہ سب کچھ مشکل ہوگا لیکن وہ میری بیٹی ہے دارم سائیں میں اسے چھوڑ نہیں سکتا
وہ میرے لیے میری جان سے زیادہ عزیز ہے اس کے سامنے میں چھ ماہ کی شرط رکھ کر اسے مجبور کر رہا ہوں کہ وہ میرے ساتھ رہے شاید ہم سب کی محبتیں اسے روک لیں اسے ہم سب کی محبت سیدھے راستے پر لے آئے
وہ جو غلط رستے پر چل نکلی ہے مطلب کی دنیا میں قدم رکھ چکی ہےمیں اسے واپس اپنوں کے پاس لاوں گا میں اسے بتاؤں گا کے اس دنیا میں دولت جائیداد کچھ بھی نہیں ہوتی خونی رشتے ہی انسان کی اصل طاقت ہوتے ہیں اور مجھے یقین ہے وہ سمجھ جائے گی وہ نادان ہے لیکن دل کی بُری نہیں ہے
تم بھی کوشش کرنا کہ اس کی نادانیوں کو معاف کرکے اس کے ساتھ ایک نئے سفر کی شروعات کرو ان چھ مہینوں کی شرط کو تم اپنے اور اس سے رشتے کے بیچ میں مت آنے دینا اگر اسے میری محبت نہ روک سکی ۔ہم سب کی محبت نہ روک سکی تو اسے تمہاری محبت روک لے گی
مجھے یقین ہے اگر اس نے میری ہم سب کی محبتوں کا ٹھکرا بھی دیا نا تب بھی وہ تمہاری محبت کو ٹھکرا نہیں پائے گی میری بیٹی کو ایک موقع دو دارم سائیں میں تم سے اپنی بیٹی کے لیے یہ چھ ماہ کا وقت مانگتا ہوں میں تم سے اپنی بیٹی کے لیے محبت و چاہت ،توجہ مانگتا ہوں جو تم بچپن سے اسے دینا چاہتے ہو
دارم سائیں میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں میری بیٹی کو اپنا لو اس سے پہلے کہ وہ اندھیروں میں نکل جائے
یہ کیا۔۔۔کیا کر رہے ہیں آپ وہ صرف آپ کی نہیں میری بھی محبت ہے میرے لیے بھی اتنی ہی عزیز ہے جتنی آپ کے لیے آپ مجھے اپناسب سے قیمتی اثاثہ دے کر ہاتھ جوڑ رہے ہیں ۔یہ تو غلط بات ہے نا چاچو سائیں ہاتھ تو مجھے جوڑنے چاہیے کہ آپ مجھے میری محبت دے رہے ہیں ۔
اس کا انکار سننے کے بعد بھی آپ مجھ سے میری محبت نہیں چھین رہے ہیں بھلا اس سے زیادہ مجھے اور کیا چاہیے ہوگا بس اب یہ آنسو صاف کریں آپ کی بیٹی کو لگتا ہے نہ کہ وہ چھ مہینے بعد مجھے چھوڑ کر چلی جائے گی تو کہہ دیجئے گا اس سے اگر ہمت ہے تو چھوڑ کر جائے
دارم شاہ اسے اتنی محبت کرے گا کہ دنیا کی ہر جائیداد، دولت اسے میری محبت کے سامنے پھیکی لگےگی
دارم شاہ اس سے اتنی محبت کرے گا ۔کہ وہ میرے بنا جینے کا تصور بھی نہیں کرے گی ۔
بس اب سے آپ اپنی بیٹی کی فکر کرنا چھوڑ دیں اب سے وہ دارم شاہ کی ذمہ داری ہے اور اس کی عقل اب میں ٹھکا نے لگاؤں گا آپ شادی کی تیاریاں کریں ۔وہ ان کے ہاتھ تھامتے ہوئے بولا تو چاچو سائین نے خوشی سے اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا ۔
°°°°°
ارے اتنی جلدی گھر میں شادی کی تیاریاں خیریت تو ہے ابھی تو ہماری دلہن نے ہاں تک نہیں کی ذاوش کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی تو زرنیش لمحے میں سر تا پیر سرخ ہو گئی تھی
خبردار جو تم نے مجھے تنگ کرنے کی کوشش کی میں پہلے ہی بتا رہی ہوں میں دارم سائیں سے نہیں بلکہ ساحر ادا سے شکایت کروں گی تمہاری اس کاشرارتی انداز اسے بوکھلانے پر مجبور کردیا گیا تھا اسی لئے وہ اسے دھمکی دیتے ہوئے بولی
ہاں جی جیسے ساحر ادا تو ہم پر منسٹر لگے ہوئے ہیں ۔
کیا اکھاڑ لیں گے ساحر ادا میرا ذرا تفصیل سے بتائیں مجھے اور میں تو تنگ کروں گی چھِیڑوں گی بھی بھئی ہمارے خاندان کی پہلی شادی ہے
میں تو آپ کو اتنی آسانی سے ہرگز نہیں چھوڑنے والی
لیکن اس سے پہلے میں آپ کو ایک اور تازہ تازہ خبر سنا دیتی ہوں میرے کانوں میں تھوڑی دیر پہلے یہ خبر پڑی ہے کہ ۔۔۔کہ ۔۔وہ اپنے بات ادھوری چھوڑتی جا کر ثناء کے ساتھ بیڈ پر لیٹ گئی تھی جو خود بھی اس کی بات سننے کے لیے کافی بے چین تھی
کہ۔ ۔۔سے آگے بھی کچھ بولو کیوں تنگ کر رہی ہو ثناءاسے چپت لگاتے ہوئے پوچھنے لگی
کہ اس جمعہ کو رسم مایوں ہے اور ہم سب شاپنگ پر جانے والے ہیں وہ بے حد خوشی سے چہکتے ہوئے بولی تو ثناء جو بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی خوشی سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی ۔
ہائے میری جان کیا خبر سنائی ہے اف کتنے دنوں سے شاپنگ کے لیے اماں سائیں کے ترلے کر رہی تھی لیکن مجال ہے جو اماں سائیں نےمیری ایک بھی بات سنی ہو شکر ہے شادی کے بہانے شاپنگ کا تو چانس بنا
دلہن بیگم تیاریاں کرو ویسے میرے بھائی کو نہ ہلکا نیلا رنگ بہت پسند ہے تو ولیمے کا ڈریس کیاہلکے نیلے رنگ کا خریدیں ثناء بھی زرنیش کو چھیڑنے میں بھرپور ذاوش کا ساتھ دینے لگی ۔
باقی سب کچھ اپنی جگہ لیکن اسے اپنے بھائی کی شادی کی خوشی بھی بہت زیادہ تھی جو نور کو سوچ کر وہ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی
تو پھر کیا خیال ہے دلہن بیگم آپ کا اس بارے میں ثناء ایک بار پھر سے اسے مخاطب کرتے ہوئے بولی تو وہ پھر سرخ ہو گئی
بھاڑ میں جاؤ کمینیوں جو مرضی کر لو مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو وہ روتی شکل بناتی کمرے سے باہر بھاگ گئی تھی ۔جس پر ان دونوں نے قہقہ لگایا
یا اللہ یہ لڑکی تو شادی سے پہلے ہی اتنا زیادہ شرمارہی ہے شادی کے بعد اس کا کیا حال ہوگا ۔ذاوش نے ہنستے ہوئے بولی
کچھ نہیں ہوتا یار میرے بھائی کو شرمیلی لڑکیاں پسند ہیں ثنا نے آنکھ مارتے ہوئے کہا
ایک بات تو بتائیں ثناءادی سنان ادا کو شرمیلی لڑکیاں پسند ہیں یہ آپ کو کیسے پتا وہ کچھ کنفیوز ہوتے ہوئے پوچھنے لگی
تُکا ۔۔۔اس نے ایک لفظی جواب دیا جس پر ان دونوں کا قہقہ ایک بار پھر سے بلند ہوا