Dost Daram By Areej Shah Readelle502301

Dost Daram By Areej Shah Readelle502301 Last updated: 10 November 2025

488.5K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dost Daram

By Areej Shah

اگر تمہیں ڈر لگ رہا ہے عشق سائیں تو تم میرا ہاتھ تھام سکتی ہو۔ بلکہ میرے سینے میں سر بھی چھپا سکتی ہو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بلکہ میں تو بہت خوشی سے تمہیں خود میں سمیٹ لوں گا۔ بس تم ایک موقع تو دو ویسے تم ڈرتی تو ہوگی نہ ساری لڑکیاں ڈرتی ہیں فلائٹ سے وہ اس کے کان میں گنگناتے ہوئے بول رہا تھا۔ جبکہ ثناء جو بڑے مزے سے اپنا سفر انجوائے کر رہی تھی مسکرا کر اسے دیکھنے لگی۔ نہیں آپ غلط سوچ رہے ہیں آرش سائیں۔۔۔۔! مجھے ہرگز ڈر نہیں لگتا اور جہازمیں بیٹھ کر ڈرنے والی کون سی بات ہے ۔۔۔۔؟ مجھے تو سمجھ میں نہیں آتا اور یہ لڑکیاں جہاز میں بیٹھ کر چیختی چلاتی کیوں ہیں۔۔۔؟ ان کی بھی سمجھ میں نہیں آتی پتہ نہیں کیوں اتناڈرامہ کرتی ہیں۔۔۔؟ جبکہ پتہ ہے کہ وہ اکیلی نہیں ہیں اور بھی لوگ ہیں اگر وہ مر گئی تو ان کے ساتھ اور بھی بہت سارے لوگ مریں گے۔ تو فضول میں اتنا چیخ چلا کر اپنا اور اب باقی مسافروں کا سفرخراب کیوں کرتی ہیں۔۔۔۔۔؟ ثناء اسے دیکھتے ہوئے بڑے مزے سے تبصرہ کرنے لگی جب کہ اس کی باتیں اس کے لیے کافی زیادہ بورنگ تھی۔ وہ تو کچھ اور ہی سمجھے ہوئے تھا بلکہ وہ اس سے کسی اور چیز کی امید کرتا تھا لیکن اس کی باتیں سن کر وہ کافی بدمزہ ہوا تھا۔ وہ کچھ اور بولنا ہی چاہتا تھا کہ جب اچانک جہاز کو جھٹکا لگا اور اگلے ہی لمحے وہ اس کے سینے سے آ لگی تھی۔ یا اللہ پاک رحم یہ کیا ہوا وہ واقعی خوفزدہ ہو گئی تھی اسے ڈر نہیں لگتا تھا یہ سچ تھا لیکن اس طرح کے جھٹکے کی امید تو اسے بھی ہرگز نہیں تھی۔ اور اس کے اچانک سینے سے لگنے پر اپنے دھڑکتے دل کو سنبھالتا اس کے گرد اپنی باہوں کا حصار تنگ کر گیا تھا اس کی سرگوشی نما آواز پر ہوش کی دنیا میں واپس آیا۔ کیا ہوا عشق سائیں تمہیں تو چیخنے چلانے والی لڑکیاں بے وقوف لگتی تھی اور اب تم خود چلاتے ہوئے میرے سینے سے لگی ہو ارادہ کیا ہے تمہیں سچ میں ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔؟ یا میرے قریب آنے کے بہانے تلاش کر رہی ہو وہ بڑے مزے سے اس سے سوال کر رہا تھا۔ استغفراللہ۔۔۔! میں کیوں آپ کے پاس آنے کے بہانے تلاش کروں گی آپ نے دیکھا نہیں کیا جہاز کو کتنا شدید جھٹکا لگا ہے مجھے سچ میں خوف محسوس ہو رہا ہے اور تقریبا سب لوگ گھبراگئے ہیں۔ مجھے ڈر نہیں لگتا یہ بات سچ ہے لیکن اس طرح کے جھٹکے سے میں واقف نہیں ہوں وہ اس سے دور ہوتے ہوئے بولی لیکن اس کا ہاتھ اس کے گرد مضبوط تھا۔ کچھ نہیں ہوا عشق سائیں۔۔۔! بس موسم کی وجہ سے ایسا اکثر ہو جاتا ہے تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی مجھ سے دور جانے کی ضرورت ہے میں نے ابھی تمہیں اپنی باہوں میں لینے کے لیے شدید قسم کی اللہ سے دعا کی تھی مجھے تو لگتا ہے کہ اللہ نے جلدی سے میری دعا سن کر میرا کام آسان کیا ہے اور تمہیں بھی مجھ سے دور جا کر اس نعمت کی بے قدری کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ وہ اس کے گرد باہوں کا حصار تنگ کیے ہوئے بولا تو ثناء ایک نظر اسے دیکھ کر رہ گئی کیاسچ میں اس کی دعا میں اتنا اثر تھا۔۔۔؟ نہ جانے کیا سوچ کر اس نے سوچا اور پھر مسکرا کر آہستہ سے اس کے سینے میں سر چھپا گئی وہ خود بھی کون سا اس سے الگ ہونا چاہتی تھی۔۔۔؟ °°°°°

یس ۔۔۔۔ دارم سائیں یہ دیکھیں مردان خان کے آدمی کی لوکیشن ٹریس ہوئی ہے۔۔۔
اور یہ وہی آدمی ہے جس نے ساحر سائیں پر گھر پہ آ کر حملہ کیا تھا دیکھیں یہ نمبر مردان خان کے خاض آدمی زمان چوہدری کے نام کا ہے ۔
زمان چوہدری مردان خان کا سب سے خاص آدمی تھا۔جس کی انفارمیشن پلوشہ خان نے بھی ہمیں نہیں دی تھی پلوشہ کو ہماری حراست سے نکال پر بگھانے والا بھی یہی آدمی تھا
اس کی تصویر جو ہمیں ملی تھی اس کے آئی ڈی کارڈ پر بھی اس سے ملتی جلتی تصویر ہمیں مل چکی ہے۔
اور اب ہم جلد ہی مردان خان کی گردن تک پہنچ جائیں گے مسکان پریقین تھی
اور اس کے یقین کو دیکھتے ہوئے دارم سائیں کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آ گئی تھی یہ سچ میں اسے بہت اچھی خبر ملی تھی۔
بس اب سب کچھ ویسے ہی ہو جائے جیسے ان لوگوں نے سوچا تھا جیسے ان لوگوں نے پلان کیا ہوا تھا وہ مردان خان کا قصہ جلد ہی تمام کر دینا چاہتے تھے۔
اگر سب کچھ ان کے پلان کے مطابق ہوجاتا تو منزل ان سے زیادہ دور نہیں تھی وہ جلد ہی اپنا مقصد پالینے والے تھے اور اس کے بعد سب کچھ پھر سے نارمل ہو جانا تھا۔
مسکان واپس اپنی زندگی میں لوٹ جاتی اور سنان سائیں بھی ایک نارمل زندگی کی طرف واپس آ جاتا اور وہ در کے ساتھ تھوڑا حیسن وقت گزار کر اپنے اگلے کیس کی تیاریوں میں مگن ہو جاتا۔۔۔
وہ یہ سب کچھ ختم کرنا چاہتا تھا اس لیے اس نے اسے بہت زیادہ پریشان کر رکھا تھا جہاں اسے ثمرہ کی پریشانی تھی وہی نورکو بھی کبھی بھی وہ ثمرہ کے بارے میں بتا سکتا تھا اور یقینا ثمرہ کے حالات جان کر اسے برا لگتا۔
یا شاید اس پر برا اثر پڑتا اور وہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔
لیکن اب ایک سراغ ان کے ہاتھ لگا تھا جو ان کے لئے کافی اہم تھا لوکیشن وہ ٹریس کر چکے تھے اور جلد سے جلد وہ اس جگہ پر جا کر ایکشن لینا چاہتے تھے وہ کافی ریلیکس تھا یہ جان کر کہ اب ان کا کام آسان ہو چکا ہے
بہت اچھا ہوگیا مسکان اب یقیناً ہمارا کام آسان ہو جائے گا چلو شکر ہے اس کا کوئی سراغ
تو ملا اتنے سارے ثبوت ہونے کے باوجود ہم مردان خان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے پا رہے تھے لیکن اب ہمیں مزید انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے اب ہمہیں جلد سے جلد اس جگہ پر پہنچنا ہے اور ایکشن لینا ہے
تم جلدی سے ہیڈکوارٹر فون کرو تاکہ ہم اپنے اگلے ایکشن کی تیاری کرسکیں اس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو مسکان نے فوراً ہاں میں سر ہلاتے ہوئے فون کیا تھا وہاں ساری بات بتانے کے بعد آگے سے ان کے آرڈر کو 48 گھنٹے پینڈنگ میں لگا دیا گیا تھا۔
یقینا ان کے لئے آسانی پیدا کر گیا تھا۔
48 گھنٹے میں وہ مکمل تیاری کے بعد مردان خان پر حملہ کرنے والے تھے تاکہ اسے کسی بھی طرح کا شک نہ ہو۔
لیکن ان کا آرڈر منظور ہوگیا تھا اتنا ہی کافی تھا کل در کی سالگرہ تھی جو آج رات 12 بجے سے شروع ہونے والی تھی اسے لگا تھا کہ شاید وہ اس کی سالگرہ نہیں منا پائے گا لیکن اب وہ اس معاملے میں ریلیکس ہو گیا تھا۔
یہ شادی کے بعد نور کی پہلی سالگرہ تھی جسے وہ بہت اسپیشل بنانا چاہتا تھا ویسے بھی اسے دارم سائیں سے بہت سارے گلے تھے جو یقینا اب دور ہو جانے تھے۔
وہ کبھی اسےسرپرائز نہیں دے پایا تھا یہ حقیقت تھی لیکن اب اس نے سوچ لیا تھا کہ اسے سرپرائز گفٹ دے کر وہ اس کا یہ شکوہ دور کرے گا۔
ٹھیک ہے مسکان تم ان سب چیزوں کا خیال رکھنا اور اگلے 48 گھنٹوں تک اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنا تمہاری طرف سے کسی طرح کی لاپرواہی نہیں ہونی چاہیے اور میں گھر جا رہا ہوں۔
بلکہ پہلے میں شہر کی طرف جا رہا ہوں مجھے در کے لئے ایک تحفہ خریدنا ہے۔
اس کی سالگرہ کیلئے کچھ پلاننگ بھی کرنی ہے شادی کے بعد یہ اس کی پہلی سالگرہ ہے بلکہ وہ پہلی سالگرہ میرے ساتھ منانے جا رہی ہے تو میں چاہتا ہوں کہ سب کچھ بہت اچھا ہو۔
اس حساب سے میں یہ سارے کام تمہارے سر ڈال رہا ہوں غلطی کی گنجائش کہیں پر نہیں ہے اس بات کو اچھی طرح اپنے ذہن میں رکھنا۔
وہ اسے سمجھا رہا تھا جبکہ مسکان نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا یقینا وہ یہ سب کچھ بہت اچھے طریقے سے سنبھال سکتی تھی اور اسے خوشی تھی کہ دارم نے اس معاملے پر اس پر یقین کیا تھا۔
آپ فکر نہ کریں آفیسر ایس کہیں پر کوئی غلطی نہیں ہوگی میں سب کچھ بہت اچھے طریقے سے ہینڈل کروں گی اس نے یقین دلایا اور دارم ہاں میں سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا تھا۔
وہ نور کی پہلی سالگرہ اس کے لیے بہت اسپیشل بنا دینا چاہتا تھا اس کا گلا وہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے والا تھا۔
مسکان کو سارا کام سمجھا کر وہ سکون سے در کے لئے کچھ اسپیشل کرنے کے لئے چلا گیا تھا۔۔۔۔
°°°°°