Dost Daram By Areej Shah Readelle502301 Dost Daram (Episode 14)
Rate this Novel
Dost Daram (Episode 14)
°°°°°
وہ وہاں جانا چاہتی تھی لیکن دارم سائیں کے ساتھ نہیں دارم سائیں نے اب تک اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا تھا ۔اس نے ایک بار اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالنے کی کوشش کی تھی ۔لیکن دارم سائیں کی گرفت سخت ہوجانے کی وجہ سے وہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہیں نکال پائی ۔رات دارم سائیں کی انتہائی قربت کا ہی اثر تھا کہ وہ اس سے کچھ بھی کہنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی ۔اس کے ساتھ قدم قدم چلتی وہ بلکل خاموش تھی ۔
یہ سفر تقریبا دو گھنٹے کا تو لازمی تھا ۔اس نے خود اپنے سر پر یہ مصیبت ڈال لی تھی ۔
پتہ نہیں کیوں آج اس پر کچھ نیا کرنے کا جنون سوار ہو گیا تھا ۔
اگر اسے ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ دارم سائیں خود اسے اس طرف لے کر جائے گا تو وہ اپنے منہ سے کبھی یہ بات نکالتی ہی نہیں ۔
اور اوپر سے جس انداز میں اس نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ کی مضبوط گرفت میں قید کر رکھا تھا ۔یہ چیز اسے مزید مشکل میں ڈال رہی تھی ۔
تم بار بار اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے نکالنے کی کوشش کیوں کر رہی ہو۔۔۔۔۔! وہ اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامتا ذرا سخت لہجے میں بولا
می۔ ۔۔۔میں۔ ۔۔نی نہیں۔ ۔۔اس کے اچانک سوال کرنے پر بوکھلاہٹ میں وہ کچھ بول بھی نہیں پا رہی تھی
نہیں ایسا ممکن نہیں ہے ۔یہی میں تمہیں بتانے کی کوشش کر رہا ہوں ۔فضول کوششیں چھوڑ دو اگر تمہیں لگتا
ہے کہ 15 سال کے انتظار کے بعد بھی تم مجھ سے دور ہو سکتی ہو تو یہ سوائے تمہاری غلط فہمی کی اور کچھ نہیں ہے۔اس بات کو اپنے ننھے سے دماغ میں اچھی طرح سے بٹھا لو
سید دارم شاہ تمہارے دل میں تو کیا سانسوں میں اتر جانے کا ہنر بھی رکھتا ہے ۔
غلط فہمی مجھے نہیں آپ کوہے دارم سائیں میں وہاں اوپر جا رہی ہوں تاکہ مجھے میر ی سچ۔ ۔۔۔۔وہ بے حد مدھم آواز میں بول رہی تھی کہ اسے دارم سائیں کا قہقہ سنائی دیا
اس پہاڑی پر تم پودا لگانے جا رہی ہونا ۔۔۔”تاکہ تمہیں تمہاری سچی محبت مل جائے اس پودے کو لگانے سے پہلےمیری ایک یہ بات اپنے دماغ میں اچھی طرح سے بیٹھا لینا ۔
کہ اگر تم اس پودے کے سہارے مجھ سے میرا کچھ بھی چھیننے کی کوشش کر رہی ہو تو دارم شاہ قہر بر پا کر دے گا ۔
تمہیں دنیا کی کوئی بھی طاقت دارم شاہ سے الگ نہیں کرسکتی تم محبت نہیں جنون ہو میرا صرف میری ہو تم ۔
وہ اسے دیکھتے ہوئے شدت سے بولا تھا اس کے الفاظ اس کی دیوانگی کے گواہ تھے لیکن وہ اس کی محبت نہیں صرف جنون تھی ۔
یعنی اس کی محبت ثناء تھی وہی تھی اس کی محبتوں کے اصلی حقدار اس کے ساتھ تو صرف ایک ضد تھی
جو اس خاندان کے ہر مرد کی طرح اسے بھی پوری کرنی تھی اس کی ذات پر اپنے نام کا ٹھپہ لگا کر اسے ساری زندگی کے لیے اپنا غلام بنانا تھا بس اتنا سا تھا دارم شاہ اور نور کا رشتہ ۔آخر تھا تو اسی خاندان کا مرد ہی اگر اس کے باپ نے اپنی بچپن کی منگ نہ چھوڑی تو وہ اپنی منکوحہ کیوں چھوڑتا
آج وہ اس بوجھ سے آزاد ہو گئی تھی کہ وہ کسی کی محبتوں میں غداری کرے گی ۔
وہ صرف اپنے باپ کو ہی دھوکا دے رہی تھی اور یہ بھی فیصلہ اس نے آج ہی کیا تھا کہ وہ مزید یہاں پر نہیں رکے گی اس کا ارادہ تھا دارم سائیں کو یہ بتانے کا کہ وہ اس سے شادی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی بلکہ وہ یہاں صرف اور صرف اپنے حصے کے لیے آئی ہے
لیکن اسے یہ بھی ڈر تھا کہ کہیں دارم شاہ اس رشتے کو لے کر اپنے جذبات کا سودا نہ کر رہا ہو اسے لگتا تھا کہ بچپن کے رشتے کو لے کر دارم شاہ اس کے لیے کوئی دلی جذبات رکھتا ہے لیکن ایسا کچھ نہیں تھا وہ صرف ضد تھی اس کی ۔اور درنور شاہ کسی کی ضد پر اپنی زندگی برباد نہیں کر سکتی تھی
اب یہ بات بھی اس پر واضح ہوچکی تھی کہ دارم شاہ کی نظروں میں بھی اس کا اور نور کا رشتہ
صرف بڑوں کا ایک جذباتی فیصلہ تھا
ثناء کی یہ بے تاب محبت یک طرفہ تو نہ تھی اس کے جذبات کو کہیں نہ کہیں تو دارم سائیں نے بھی شہہ دی تھی ۔
ہاتھ دو اپنا ۔۔وہ اوپر کی طرف کھڑا اپنا ہاتھ دوبارہ اس کے سامنے کر چکا تھا اس کا ہاتھ کب اس کے ہاتھ سے چھوٹا تھا اسے احساس تک نہ ہوا تھا ۔
اور اسے یقین تھا کہ جب یہ ہاتھ ساری زندگی کیلئے چھوٹے گا تب بھی کوئی قیامت نہیں آئے گی
اس کے دل پر جمی برف نہیں پگھلے گی ۔
اسے دارم سائیں کا دل دکھانے میں بہت تکلیف ہو رہی تھی ۔کیونکہ وہ اپنا اور اس کا تعلق سمجھتی تھی وہ واقف تھی نکاح کے پاکیزہ رشتے سے
جس مدرسے میں اس نے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی تھی وہاں پر اسےنکاح کی اہمیت سمجھائی گئی تھی۔
نکاح کا تعلق جو محبت سے بنتا ہے اور اس محبت کے تعلق کو اس نے پوری گہرائی سے سمجھا اور جانا تھا
یہی وجہ تھی کہ کبھی بھی دارم شاہ سے ملاقات نہ ہونے کے باوجود بھی اس کے دل میں اس کا مقام بہت اونچا تھا
لیکن اب جب اسے اس سے محبت ہی نہیں تھی تو پھر نکاح کا یہ تعلق بھی ادھورا تھا ۔
اور وہ کسی سے بھی ادھورا تعلق بنانے کی روادار نہیں تھی
اس نے اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا تو لمحے کی تاخیر نہ کرتے ہوئے اس نے اسے کھینچ کر اوپر کر لیا تھا
اچانک ہاتھ کھینچنے کی وجہ سے وہ اس کے سینے سے جا ٹکرائی تھی اس کا ہاتھ اس کے دل کے مقام پر آ رکھا تھا
اگر وہ دل کی زبان کو سمجھ پاتی تو شاید ان بے تاب دھڑکنوں میں اپنے نام کی دھڑکن کو ہزار بار سنتی ۔
یوں پاس آکر بہکاو مت جانم سائیں عاشق ہوں جان سے بھی جا سکتا ہوں ۔اس کے دلفریب انداز نے اسے لمحے میں اس سے دور ہونے پر مجبور کیا تھا ۔لیکن دارم سائیں کا ہاتھ اس کی نازک کمر میں مضبوطی سے حائل ہوگیا۔
اب میں نے جان لینے کو بھی نہیں بولا ۔۔۔وہ دل کشی سے مسکراتا اس کی حالت سے لطف اندو ہونے لگا۔
اگر ہمہیں واپس نہ آنا ہوتا تو میں ساری زندگی تمہارے ساتھ یہی کھڑے اپنی زندگی میں آنے والے ہر لمحے کر خوبصورت بناتا ۔خیر جب تم ہی ساتھ ہو زندگی بھرکے لیے تو زندگی تو خود ہی خوبصورت ہو جائے گی ان لمحات کو کیا ترسنا ۔وہ اس کے کانوں کی لوح پر لب رکھے آہستہ آہستہ بولتا اس کے سرخ ہوتے گال کو لبوں سے چھوتا پیچھے ہٹا۔
وہ اس سے دور ہوئی لیکن ہاتھ اب بھی اس کی گرفت میں تھا ۔
وہ مزید بحث نہیں کرنا چاہتی تھی ۔اسی لیے خاموشی سے اس کے ساتھ چلنے لگی ۔اس کے ساتھ یہ چند پل کا سفر ہی بہت مشکل تھا ساری ذندگی کا سفر نجانے کیسا ہوتا ۔
وہ اپنے اور اس کے رشتے کے بارے میں نہیں سوچنا چاہتی تھی لیکن دارم سائیں کو وہ ہلکے میں نہیں لےسکتی تھی۔اس سے پہلے کہ وہ اسے زیر کردے اسے یہاں سے چلے جانا تھا ۔
کیونکہ وہ خود کو تو یہ بات سمجھا سکتی تھی کہ دارم سائیں کسی اور کی محبت ہے لیکن اپنے دل کو نہیں جو تیرہ سال کی عمر سے اس کو اپنا سب کچھ مانے ہوئے تھا
اسے بہت سمجھایا تھا خود کو کہ وہ ایک انا پرست مرد ہے اپنے سامنے کسی کو کچھ نہ سمجھنے والا ایک ایسا مرد جو عورت کو اپنے پیر کی جوتی سمجھتا ہے ۔
بہت چھوٹی عمر سے اس نے اپنی ماں پر ہونے والے ستم سنے تھے وہ اسے سب کچھ بتاتی تھی کہ اس کا باپ کیسا ہے ۔اس حویلی کے مرد کیسے ہیں ۔
گھر میں بیوی اور باہر نجانے کون کون ان کی محبتیں موسموں کو مات دیتی تھیں ۔وہ سب سنتی تھی ۔بہت چھوٹی عمر میں اس کی ماں نے اسے اس خاندان کے مردوں کے بارے میں بتانا شروع کیا تھا ۔ثمرہ کی باتوں کا اثر اس کے دماغ پر ہوا تھا اور پھر مائیک کی نیت جان کر اسے پتا چلا تھا کہ ہرمرد دو چہرے رکھتا ہے ۔
اگر مائیک کے دو چہرے ہو سکتے ہیں تو اس کے باپ کے کیوں نہیں ۔پھر ٹیچر رستم انہوں نے تو اس کی دوست کے ساتھ ۔۔۔۔وہ اس کے پیچھے پیچھے چلتی نہ جانے ماضی کے کتنے صفے کھول چکی تھی ۔
جبکہ اس کے آگے چلتا شخص اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت سفر کر رہا تھا
°°°°°
وہ سب کو لے کر واپس آ گیا تھا ۔زرنیش اور زاوش ثانیہ کو جگانے میں مصروف تھی جو راستے میں سو گئی تھی جبکہ ساحر سائیں اندر جا چکا تھا ۔سنان نے مسکراتے ہوئے ذاوش اور زرنیش کی طرف دیکھا جو اب تک ثانیہ کو جگانے میں ہلکان ہو رہی تھی۔
آئیندہ اسے اپنے ساتھ لے کر ہی نہیں جائیں گے ۔سونے کے لیے جاتی ہے یہ زاوش اسے جگاتے ہوئے زرنیش سے بولی تو سنان نے مسکرا کر ثناء کی جانب دیکھا جو وہیں کھڑی اداس سی اپنی ہی سوچوں میں تھی۔
زرنیش میرے لیے ایک چائےکا لے کر ثناء کے ہاتھ میرے کمرے میں بیج دو تم جلدی آو میرے روم میں بات کرنی ہے تم سے ضروری وہ زرنیش سے کہہ کر اس کی جانب متوجہ ہوا تو ثناء نے فوراً ہاں میں سر ہلایا۔
زاوش تم اسے لے کر جاو میں سنان ساِئیں کےلیے چائے بنانے جا رہی ہوں وہ ثانیہ کے سامنے ہار مانتے ہوئے اندر چلی گئی ۔جبکہ ثناء ذاوش کے ساتھ ثناء کی مدد کرنے لگی لیکن یہ کام اس کے بھی بس کا نہیں تھا۔
اگر یہاں دارم ادا ہوتے تو اب تک دس دفع اٹھ چکی ہوتی ۔
اٹھ جاو ثانیہ کیا نیند کی گولی کھا لی ہے ۔ذاوش نے اس بار اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ثانیہ بی بی نے زرا سی آنکھیں کھول کر احسان کیا۔
جس پر ان دونوں نے سکون کا سانس لیا تھا
°°°°°
یہ راستہ کافی مشکل تھابلکہ راستہ تھا ہی کہاں پہاڑی پتھروں کی وجہ سے اوپر جانا بہت مشکل لگ رہا تھا اگر اس کا ہاتھ دارم سائیں کی گرفت میں نہ ہوتا تو نجانے کتنی بار وہ گرتی ۔
لیکن دارم سائیں کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ وہ ہر بار بچ جاتی
جانم ساِئیں اپنا راستہ خود نہ بناو میرے چھوڑے ہوئے قدموں کو اپناو تمہارے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی ۔اس کے قدموں کی جگہ پر قدم رکھنے کی بجائے مزید اوپر قدم رکھنا اسے مہنگا پڑا تھا ۔وہ گرتے گرتے بچی تھی کہ دارم سائیں کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی ۔
ہمارے راستے کبھی ایک نہیں ہو سکتے دارم سائیں ۔وہ اوپر ہوتے ہوئے بولی۔
ہمارے راستے ہمیشہ سے ایک ہیں ۔بس تمہیں غلط راستوں پر چلنے کی عادت ہو گئی ہے لیکن تم فکر مت کرو میں ہوں تمہارا دماغ اور راستہ ٹھیک کرنے کےلیے ایک بار دستیاب تو ہو جاو میں تمہارے سارے پرزے ٹائٹ کردوں گا ۔
چلو آ جائو اب راستہ تھوڑا سا ہی باقی ہے ۔پھر تم اپنی سچی محبت حاصل کرنے کے لیےکوشش کر لینا ۔جانتی ہو میں تمہیں وہاں لے کر کیوں جا رہا ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتاکہ تم بعد میں مجھ سے شکایت کرو کہ میں نے تمہیں محبت آزمانے کا موقع نہیں دیا۔لبوں پر مسکراہٹ سجائے اب وہ اسے تنگ کرنے لگا تھا۔
کہِیں وہ جان تو نہیں گیا تھا اس کے دل کا راز ۔کہیں اسے پتہ تو نہیں چل گیا تھا کہ اس کے دل میں کیا ہے ۔
نہیں اس کے دل میں تو کچھ نہیں تھا ۔اس کے جذبات تو سرد تھے وہ تو محبت پر یقین نہیں رکھتی تھی۔
لیکن نکاح پر تو رکھتی تھی
°°°°°
آپ نے بلایا مجھے ادا سائیں ثناء دروازے پر دستک دیتی اندر آئی ۔
ہاں مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے بیٹھویہاں میرے پاس ۔وہ اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہوا بولا تو ثناء خاموشی سے بیٹھ گئی۔
ثناء میرا بچہ تمہیں پتا ہے نہ میرے لیے تم کتنی عزیز ہو ۔تم میرےلیے بہن نہیں میری بیٹی ہو۔میری جان میں تمہارے چہرے پر یہ اداسی نہیں دیکھ سکتا بتاؤ مجھے کیوں تم اتنی اداس رہنے لگی ہو ۔کیا کوئی ایسی بات ہے جو تمہیں پریشان کرتی ہے دیکھو میرابچہ مجھ سے کچھ مت چھپاؤ ۔
ادا سائیں ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے میں تو بس ایسے ہی۔۔۔۔۔
تم ایسے ہی نہیں ثناء دارم سائیں کی وجہ سے پریشان ہو ۔یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے ثناء کہ تم دارم سائیں کے لیے کیا جذبات رکھتی ہو لیکن میری جان کیا یہ بات تم سے چھپی ہے کہ دارم سائیں آج سے نہیں بلکہ پیچھے پندرہ سال سے کسی اور کو اپنے دل میں بسائے بیٹھا ہے ۔وہ کسی اور کا ہے ۔ہمیشہ سے وہ کبھی بھی تمہارا نہیں تھا ۔
وہ میرے ہی تھے سنان ادا وہ میرے ہی تھے جب انہیں مجھ سے چھینا گیا وہ میرے ہی ہونے جا رہے تھے ۔جب میری جگہ اس نور کو دی گئی وہ میرے تھے جب ان کا نکاح میرے ساتھ ہونے والا تھا ۔
میرے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی میری جگہ نور کو دلہن بنایا گیا تھا تاکہ ثمرہ اسے چاچو سائیں سے چھین نہ سکے ۔
میرے جذبات کے ساتھ کھیلا گیا تھا مجھے۔۔۔۔۔۔
تم بچی تھی ثناء صرف نو سال کی تھی تم وہ کوئی کھیلونا نہیں تھا جو تمہیں دے دیا جاتا ۔صرف نو سال کی عمر میں وہ تمہارا کیسے ہو گیا ۔۔۔۔؟
جیسے چار سال کی عمر میں وہ نور کے ہوئے ویسے ہی نو سال کی عمر میں وہ میرے ہونے والے تھے سنان ادا اور اگر وہ نا واپس آتی تو شاید اب تک تو بات آگے بھڑ چکی ہوتی ۔کہ اچانک چاچا سائِیں کو اپنی بچھڑی بیٹی یاد آ گئی ۔
آپ کو پتا ہے مجھے بچین سے دارم سائِیں سے ڈر لگتا تھا لیکن اماں سائیں کہتیں تھیں کہ دارم سائیں کے ساتھ ہم تمہاری شادی کر دیں گے ۔اپنے دل میں دارم سائیں کو بسا لو ۔فقط نو سال کی عمر میں وہ میرے لیے اہم ہوگئے تھے وہ میرے تھے انہیں کیوں نور کو دیا گیا کیا یہ میرے ساتھ زیادتی نہیں تھی ادا سائیں ۔
وہ آنسوں بہاتی آج پہلی بار اس کے سامنے اپنے دل کو کھول رہی تھی ۔اپنے بھائی کے سامنے یہ سب کہتے اسے عیجب لگ رہا تھا لیکن وہ اس سے انجان بھی نہیں وہ اس کے دل کا حال جانتا تھا
سنان نے اس کے لرزتے وجود کو اپنے سینے سے لگاکر اس کے سر پر بوسہ دیا۔
سب ٹھیک ہو جائے گا ثناء تمہیں سمجھنا ہو گا۔اب وقت بدل گیا ہے ۔نو سال کی عمر میں تمہارے دل میں دارم سائِیں کو بسانے والی اماں سائیں تھیں تو تمہیں ان کے نکاح کے بعد خود کو سمجھالینا چاہیے تھا تمہیں کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے تھی لیکن اب بھی کچھ نہیں بگڑا تم اب رک جاو ۔تمہاری زندگی میں دارم سائِیں سے بھی اچھا انسان آئے گا وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولا تو وہ نرمی سے مسکراِئی
مجھے نہیں ادا سائیں اسے سمجھنا ہو گا ۔کیونکہ اس بار میں پیچھے نہیں ہٹوں گی اسے پیچھے ہٹنا ہو گا اس کے سینے پر سر رکھے وہ بولی نہیں تھی ۔اس کی سوچیں اسے لاحاصل کے پیچھے بھاگنے پر مجبور کر رہی تھی ۔اور لاحاصل کے پیچھے بھاگنے والے بھی کیا کبھی کامیاب ہوتے ہِیں۔۔۔۔؟؟
°°°°°
ک۔ ۔۔کتنی۔ خوبصورت جگہ ہے دارم سائیں میں نے آج تک زندگی میں اس سے زیادہ خوبصورت جگہ کوئی نہیں دیکھی وہ اپنے سامنے انتہائی بڑا درخت جو گلابی پھولوں سے پوری طرح ڈھکا ہوا تھا دیکھ کر اپنی آنکھوں پر یقین نہ کر پائی۔
قدرت ہے اس پاک ذات کی ہم تو خوش قسمت ہیں جنہیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔ ۔وہ دل کشی سےمسکرایا ۔
جبکہ نور تو اس خوبصورت جگہ کے اس حسین نظارے میں پوری طرح سے کھوئی ہوئی تھی ۔
وہ اپنی تھکن کو جیسے بالکل بھول چکی تھی کتنی مشکل سے وہ یہ پہاڑی چڑھ کے اوپر تک آئے تھے اور ابھی انہیں واپس نیچے جانے میں کتنی مشکل پیش آنی تھی یہ سوچے بغیر وہ اس خوبصورت منظر میں کھوئی ہوئی تھی جب اسے اچانک موبائل کلک کی آواز سنائی دی
دارم سائیں نے اس کی تصویر لی تھی ۔اور اب اسے نظر انداز کیے وہ خود تصویر دیکھنے میں مصروف ہو چکا تھا
جاؤ جا کر ٹہنی توڑلو پھر دوسری پہاڑی پر جا کر اسے لگانا بھی ہے ۔وہ اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کرتا خود وہیں پر موبائل میں کچھ کرنے لگا ۔
سامنے ایک اور پہاڑی تھی فاصلہ بہت کم تھا لیکن وہاں جانے کا راستہ بہت مشکل تھا اس پہاڑی سے وہ اسے دیکھ تو سکتی تھی لیکن وہاں جانے کےلیے اسے ایک اور پہاڑ سر کرنا تھا
آپ کو لگتا ہے کہ یہ حقیقت ہے ۔۔۔۔۔! آپ کو لگتا ہے کہ یہ پودا لگانے سے مجھے میری سچی محبت ملے گی ۔۔۔۔؟آپ کو لگتا ہے میرا پودا لگے گا وہاں ۔۔۔؟
اس سارے سفر میں وہ پہلی بار اسے مخاطب کر رہی تھی۔
میں ان سب باتوں پر نہ تو یقین رکھتا ہوں اور نہ ہی ان کے بارے میں سوچنا چاہتا ہوں ۔
لیکن مجھے اللہ کی پاک ذات پر پورا یقین ہے ۔مجھے اپنی محبت کے لیے یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔اگر مجھے لگا کہ میری محبت مجھ سے دور جا رہی ہے تو میں اس سے مانگوں گا جس کے آگے کائنات کی ہر شے سر جھکاتی ہے ۔
میں اپنی محبت کسی پھول پتے سے نہیں سجدے میں اپنے رب سے مانگتا ہوں ۔
یہ تو دنیا کی رسم ہے لوگوں نے اپنی آزمائش کے لیے بنائی ہے تم بھی آزما لو کیا فرق پڑتا ہے ۔اگر تمہارا پودا نہ بھی لگانا تب بھی تمہاری سچی محبت تمہیں ضرور ملے گی۔
چلو اب جلدی کرو رات کے نو بج چکے ہیں اور موبائل کی بیٹری بھی ختم ہوتی جا رہی ہے اس پہاڑی سے اندھیرے میں اترنا سخت مشکل ہے ۔وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا تو وہ ٹہنی توڑنے آگے بھری
وہ کون سی سے محبت آزما رہی تھی ۔۔وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کیونکہ وہ شخض محبت نہیں تھا ۔صرف ایک تعلق تھا ۔محبت تو وہ کسی اور کی تھا ۔
°°°°°
