488.5K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dost Daram) Episode 8

اس نے جلدی سے دارم سائیں کو فون کیا تھا ۔گھر سے فون آتا دیکھ کر دارم پہلے تو پریشان ہوا کیونکہ گھر کا کوئی بھی فرد اسے اس وقت تنگ نہیں کرتا تھا جب وہ جرگے میں ہوتا تھا ۔
اسلام علیکم ۔خیریت اس وقت کیوں فون کیا سب ٹھیک ہے نا اس نے فون کان سے لگاتے ہوئے پوچھا
وعلیکم سلام دارم سائیں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے وہ دراصل نور نہ بنا کسی کو بتائے گھر سے نکل گئی ہے باہر کہیں گھومنے پھرنے کے لیے ۔میں نے اس کو بتایا بھی کہ اس طرح گھر سے نہیں نکلتے بنا کسی کی اجازت کے اور بنا گھر کے کسی مرد کے لیکن اس نے تو میری کسی بات کو سرے سے اہمیت ہی نہیں دی میں نے اسے چادر لینے کے لیے کہا تو چادر میرے منہ پر مار کر چلی گئی ۔
میں نے اس سے بہت سمجھانے کی کوشش کی لیکن مجال ہے جو اس نے میری کسی بھی بات کو اہمیت دی ہو اور تو اور میں نے اسے بتایا بھی کے آپ غصہ ہوں گے آپ کو یہ چیز پسند نہیں کہ گھر کی عورتیں اس طرح ننگے سر گھر سے باہر جائیں
لیکن وہ تو پتہ نہیں کون سی مٹی کی بنی ہے اس نے کہا کہ مجھ سے یہ ساری پابندیاں بالکل بھی برداشت نہیں ہوتی دارم سائیں کا حکم مانتی ہوگی تم جیسی لڑکیاں مجھ میں اور تم جیسی میں بہت فرق ہے ۔
میں تو بے کار میں ہی شرمندہ ہو گئی اس کے سامنے میں نے منتیں کی اس کی لیکن وہ تو مجھے اس طرح سے ٹریٹ کر رہی تھی جیسے میں اس کی کوئی ملازم ہوں لیکن میں نے بالکل بھی آگے سے اس کے ساتھ بحث نہیں کی میں اسے سمجھاتی رہی کہ آپ کو جو چیز پسند نہیں ہے وہ اس گھر میں نہیں ہوتی
لیکن میرے خیال میں اس کی نظروں میں نہ تو آپ کا حکم کوئی اہمیت رکھتا ہے نہ ہی آپ کی ذات ورنہ اس گھر میں کوئی آپ کا حکم نہ مانے ایسا تو کبھی بھی نہیں ہوا ۔
ٹھیک ہے وہ گھر میں مہمان آئی ہے ابھی اسے اس خاندان کے طور طریقے نہیں پتا لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ یہ حرکتیں کرنے پر آجائے ۔وہ اس گھر سے صرف اس لئے نکلی ہے کیونکہ میں نے اسے بتایا تھا کہ یہ آپ کا حکم ہے ۔اس نے کہا ہے کہ وہ آپ کا کوئی حکم نہیں مانتی بلکہ اس دنیا کا کوئی بھی شخص اس پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا ۔
اس نے تو کسی کے آنے کا بھی انتظار نہیں کیا میں نے اسے کہا کہ ڈرائیور کے ساتھ چلی جائے تو بھی مجھے اچھی خاصی باتیں سنا کر نکل گئی ۔
میں نے اس سے کہا بھی کہ گاؤں میں ہماری بہت عزت ہے ہمارے خاندان کی لڑکیاں اپنے لباس اور تربیت کا خاص خیال رکھتی ہیں ۔لیکن میرے اتنے سمجھانے کے باوجود بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا دارم سائیں چاچی سائیں گھر پر ہی موجود تھی لیکن مجال ہے جو اس نے اجازت مانگنے یا پھر جانے سے پہلے بتانے کی زحمت کرتی ہو۔۔۔
ٹوں ۔۔ٹون۔ ۔ٹون۔ ۔وہ نجانے کیا کیا بول رہی تھی جب اچانک کان میں فون بند ہونے کی آواز ٹکرائی
ارے یہ کیا دارم سائیں آپ نے تو فون ہی بند کر لیا اپنی لاڈلی کے کرتوتوں سن لیتے وہ بدمزہ ہوئی ۔لیکن کہیں نہ کہیں اندر لڈو پھوٹ رہے تھے آج اس کی من کی مراد پوری ہونے جارہی تھی
وہ جانتی تھی دارم سائیں کا پیار محبت سب اپنی جگہ لیکن اپنے ریت رواج اور ثقافت کے خلاف قدم اٹھانے والے کو زندہ زمین میں گاڑ دیتا ہے ۔
°°°°°
وہ نہ جانے کس طرف نکل آئی تھی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی وہ پہلے تو آبادی کی جانب آئی جہاں ہر کوئی اسے دیکھ رہا تھا
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب لوگ اسے گھورے کیوں جا رہے ہیں ۔یہ گاؤں فیشن میں اتنا بھی پیچھے نہیں تھا اس بات کا اندازہ اس نے ان لوگوں کی ڈریسنگ سے لگا لیا تھا ۔حویلی کے اندر بھی ذاوش ثنا زرنش یہاں تک کہ ثانیہ بھی اپنی ڈریسنگ کافی جدید اور ڈیزائنز کو مد نظر رکھتے ہوئے کرتی تھی ۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ خود اتنے فیشنیبل ہونے کے باوجود سب لوگ اسے کیوں اس طرح سے گھور رہے ہیں وہ بھی انہیں کی طرح تھی ان ہی کی طرح کپڑے شلوار اور کرتا پہن رکھا تھااس نے لیکن پھر بھی اسے گھورنا تو جیسے ان لوگوں نے خود پر فرض کر لیا تھا اسے غصہ تو آرہا تھا کیونکہ اس طرح کے ماحول سے وہ پہلے واقف نہیں تھی۔
عجیب لوگ ہیں یہ سب مجھے یہاں ایسے آنا ہی نہیں چاہیے تھا بہتر تھا کہ ڈرائیور کے ساتھ آتی ۔نہیں یار ڈرائیور کے ساتھ آتی تو وہ ثناء کی بچی پھر کوئی ڈرامہ کرتی صاف لگ رہا تھا کہ وہ باتیں بھی زبردستی کر رہی ہے مجھ سے ۔میں کہتی ہوں اگر اسے مجھ سے بات کرنا پسند نہیں ہے تم مجھ سے بات کر ہی کیوں رہی تھی ۔
باقی سب لوگ تو اتنے اچھے سے بات کرتے ہیں بس یہی ہے عجیب عورت سیدھے منہ بات نہیں کرتی شاید میں اسے پسند نہیں ہوں لیکن میں نے تو اسے کچھ کہا بھی نہیں پھر اسے میں کیوں پسند نہیں ہوں
باقی سب تو کتنے اچھے ہیں ۔زاوش زرنیش اور ثانیہ بھی بہت پیاری ہے بس یہی کچھ عجیب سی ہے پتا نہیں اسے مجھ سے مسئلہ کیا ہے ۔
بہتر ہے کہ میں اس سے بھی دور ہی رہوں۔اس سے دور رہنا ہی میرے لئے بہتر رہے گا ۔یہ نہ ہو کہ بیکار میں گلے پڑجائے ۔وہ آہستہ آہستہ قدم آگے کی جانب بڑھاتی خود سے باتیں کرنے میں مصروف تھی ۔
ایکسکیوزمی اس پہاڑی کے اوپر جانے کا کوئی راستہ ہے ۔اپنے سامنے خوبصورت ترین پہاڑ دیکھ کر اس کے دل میں اس پر جانے کی خواہش پیدا ہوئی۔یہ پہاڑ نیچے سے دیکھنے میں اتنا خوبصورت تھا تو اوپر سے نہ جانے کتنا خوبصورت ہوگا پہاڑکے اوپر سے بہتا جھرنا اسے صاف نظر آ رہا تھا جو دیکھنے میں بے حد خوبصورت نظارہ پیش کر رہا تھا تو اس نے فورا ہی وہاں ایک کام کرتے آدمی سے پوچھا ۔
جی ہاں بی بی جی پیچھے کی جانب راستہ ہے آپ وہاں سے آگے جائیں اور وہاں سے جیسے ہی مڑے گی آپ کو راستہ نظر آجائے گا ۔لیکن بہتر یہی ہے کہ آپ اکیلے اس طرف نہ جائیں پہاڑی راستہ ہے پر بارش کی وجہ سے راستہ کافی خراب پڑا ہے ۔نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے
آدمی نے تفصیل سے بتایا شاید وہ اسے یہاں لطف اندوز ہونے کے لیے آئی کوئی مسافر سمجھ رہا تھا ۔
نہیں میں احتیاط سے جاؤنگی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا وہ اس سے کہتی تھینک یو کر کے آگے بڑھ گئی جبکہ وہ آدمی بھی اسے جاتا دیکھتا اپنے کام میں مصروف ہوگیا
°°°°°
اس آدمی کے بتانے کے مطابق یہ راستہ سچ میں ہی بہت مشکل اور پتھروں سے بھرا ہوا تھا
اس کے لئے آگے قدم اٹھانا بےحد مشکل ہو رہا تھا ۔
لیکن پھر بھی اوپر جا کر وہ بہتے پانی کا نظارہ دیکھنے کی خواہش اسے آگے ہی آگے جا رہی تھی ۔وہ بنا رکے اوپر کی جانب جا رہی تھی نہ جانے کتنے ہی لوگ اس راستے پر کبھی اوپر جاتے تو کبھی نیچے آتے شاید ان کا یہ روز مرہ کا کام تھا
وہ آہستہ آہستہ اس پتھریلے راستے کی طرف بڑھنے لگی تھی ۔اگر اسے اوپر کی جانب جانے میں اتنا تجسس نہ ہوتا تو شاید وہ یہیں سے واپس مڑجاتی۔لیکن یہ شوق تھا جو اسے اوپر کی طرف لے کر جا رہا تھا اور آخر میں وہ یہاں آ بھی گئی تھی ۔وہ کافی اوپر تک آ چکی تھی۔
لیکن شام کے سائے پھیلتے جارہے تھے ۔وہ اپنے ساتھ کوئی موٹی چادر یا سویٹر لے کر نہیں آئی تھی ۔اس لیے اب اسے سردی بھی لگ رہی تھی ۔لیکن وہاں جھرنے کے پاس بھی جانا چاہتی تھی
میں واپس آ جاؤں گی کسی کے ساتھ اب شام ہورہی ہے حویلی کےلوگ بھی پریشان ہو رہے ہوں گے میں بھی بنا کسی کو بتائے یہاں چلی آئی اور وہ ثنا بھی کسی کو میرے بارے میں ٹھیک سے کچھ بتائے گی اس کی بھی کوئی امید نہیں ہے ۔
اسی لئے وہ گھر جانے کے بارے میں سوچ رہی تھی اب پتا نہیں گھر کا راستہ کس طرف تھا وہ تو یہاں آنے سے پہلے کوئی سائن بورڈ بھی دھیان سے نہیں دیکھ پائی تھی ۔واپسی کے لیے نیچے کی جانب اترنے ہی لگی تھی کہ اچانک اس کا پیر پھسلا اور ہوا میں اس کی چیخ بلند ہوئی
°°°°°
ایسے کیسے گھر سے نکل گئی وہ تمہیں پتہ نہیں ہے اسے گاؤں کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتا وہ نہیں جانتی کہ کس طرف جانا ہے اور کس طرف نہیں جانا تم نے اسے منع تک نہیں کیا وہ غصے سے بھرا ہوا گھر واپس آیا تھا۔
دارم سائیں میں نے اسے بہت منع کیا اسے بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ گھر سے باہر نہ نکلے لیکن میری بات ماننے کے بجائے مزید ضد پر اتر آئی میرے اتنے بار منع کرنے کے باوجود اس نے میری کوئی بات نہیں مانی اور تو اور اس نے گھر میں کسی سے اجازت مانگنا تو دور بتانا تک ضروری نہ سمجھا ۔
اگر آپ کو مجھ پر یقین نہیں ہے تو آپ ہمنا چاچی سائیں سے پوچھ لیں وہ تو جھوٹ نہیں بولے گیں نہ وہ چادر تک نہیں لے کر گئی باہر کسی کو ساتھ لے جانا تو دور کی بات ۔
میں نے اس سے کہا تھا کہ اور کچھ نہیں کم از کم ڈرائیورکوہی اپنے ساتھ لے جائے ۔لیکن نہ جانے مجھ سے تو وہ اتنی خار کھاتی ہے کہ مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی ۔
چپ ہو جاؤ ثنا اس وقت میرا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ گھر سے باہر نکل رہی تھی تو تم وہاں کھڑی تماشا دیکھنے کی بجائے ہمنہ چاچی کو بھی بتا سکتی تھی مجھے فون کرنے سے زیادہ ضروری تھا کہ گھر کے لوگوں کو یہ بات بتائی جائے ۔
لیکن یہ بات تم نے مجھے فون کرنے کے ایک گھنٹے کے بعد ہی انہیں بتائی وہ بیچاری تو یہی سوچ رہی تھی کہ وہ اوپر کمرے میں ہے ۔اس گھر میں آئے اسے دو دن بھی نہیں ہوئے گاؤں کے بارے میں وہ کیا جانتی ہے جو اس طرح سے اسے باہر جانے دیا اگر اتنا ہی مسئلہ تھا تمہیں تو تم چلی جاتی ہے اس کے ساتھ اگر پھر بھی زیادہ مسئلہ تھا تو مجھے فون کر دیتی اس کے جانے کے بعد بھی فون کیا تھا تم نے مجھے تو پہلے کردیتی میں کوئی حل نکال لیتا
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ غصے سے کچھ کر ڈالے
دارم سائیں آپ ثنا پر غصہ کیوں ہو رہے ہیں اس بیچاری کا کیا قصور ہے۔وہ گھر کی لڑکیوں کو اہمیت دیتی کہاں ہے ان سے بات تک کرنا انہیں منہ تک لگانا تو پسند نہیں کرتی وہ ۔ وہ خود ہی ایک باغی لڑکی ہے اس کے ناز و انداز سے آپ کو پتہ نہیں چلتا کے اس کے طور طریقے کیا ہیں ۔۔۔؟
زرین تائی سے اپنی بیٹی کی بےعزتی برداشت نہ ہوئی اسی لئے دارم کو مخاطب کرتے ہوئے بولیں۔
چاچی سائیں اس وقت میں اسے کچھ نہیں کہہ رہا باقی باتیں گھر آنے کے بعد ہوں گی ۔ایک بات کان کھول کر سن لو ثنا اگر اسے کچھ بھی ہوا نا اس چیز کا نقصان اسے نہیں تمہیں اٹھانا پڑے گا ۔کیونکہ وہ ان سب چیزوں سے انجان ہے لیکن تم اس حویلی کے ایک ایک اصول سے واقف ہو۔وہ ایک نگاہ سے دیکھتا تیزی سے گھر سے باہر نکل گیا جب کہ اس کے جاتے ہی فیضان چاچو سائیں نے بھی غصے سے دیکھا تھا
بابا سائیں میں نے بہت کوشش کی تھی اسے روکنے کی وہ صفائی دیتے ہوئے نظر جھکاگئی ۔
ایک بات یاد رکھنا بیٹا سائیں وہ بھی اس گھر کی بیٹی ہے اور ہم بیٹیوں کے حقوق میں ملاوٹ برداشت نہیں کریں گے ۔سمجھاؤ اسے سر چڑھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ابھی وقت ہے بہتر ہے سنبھل جائے اسے سمجھاؤ اس کی ایک غلطی مجھے میرے بھائیوں کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑے گی ۔وہ غصے سے زرین بیگم کو دیکھتے اپنے کمرے کی جانب چلے گئے وہ آج ہی شہر سے لوٹ کر آئے تھے ابھی تک ان کی ملاقات نور سے بھی نہیں ہوئی تھی ۔
میں نے تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے ثنا لیکن شاید تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آتی کیا چاہتی ہو تم کیوں کی ہے تم نے یہ حرکت اگر وہ گھر سے باہر جا رہی تھی تو ہمنہ گھر پر تھی تمہیں اسے بتانا چاہیے تھا۔
لیکن تم نے کیا کیا ہمنہ سے یہ بات چھپانے کی کوشش کی تم نے ہمنہ کو بتایا ہی نہیں ‏کہ وہ گھر سے نکل گئی ہے
تم دارم سائیں کو فون کرنے بھاگ گئی تم نور کے ہوتے ہوئے بھی تو فون کرکے اجازت مانگ سکتی تھی تم دونوں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاتی اسے اکیلے کیوں جانے دیا کیا تم نہیں جانتی گاؤں دشمنوں سے بھرا ہوا ہے
اللہ نہ کرے بچی اگر دشمنوں کے علاقے میں چلی گئی تو پھر کیا ہوگا ۔اس سے غصہ اپنی جگہ تم اسے پسند نہیں کرتی ہوں میں یہ بات جانتی ہوں لیکن تم ایسی حرکت کرو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔
جیسے ہی دارم سائیں گھر واپس آئے تم ان سے معافی مانگو گی اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا تومجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا یہ بات یاد رکھنا وہ بے حد غصے سے کہتیں خود بھی پریشانی سے باہر آ بیٹھی تھیں انہیں بھی یہی سوچ بار بار پریشان کر رہی تھی کہ نہ جانے نور کہاں چلی گئی ہو گی ۔
°°°°°
وہ پاگلوں کی طرح اسے پورے گاؤں میں ڈھونڈ رہا تھا ۔آخر وہ اس طرح کہاں جا سکتی تھیں ایک تو وہ گاؤں کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی تھی دوسری یہاں گاؤں کے بیچوں بیچ ملک کے آدمی گھوم رہے تھے
جو اسے نقصان پہنچانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے تھے وہ ساحر اور سنان پر بھی خاص دھیان رکھتا تھا کہ کہیں ملک کے لوگ ان دونوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے ۔
کیونکہ جب سے اس نے ملک کو جیل بھیجا تھا وہ کھلے عام دھمکیاں دینے پر اتر آیا تھا ۔اس نے ایک لڑکی کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی ۔یہ بات اس کے گاؤں کی حدود کے اندر نہیں ہوئی تھی اسی لیے وہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتا تھا بات کوٹ کچہری تک جا پہنچی اس نے اس لڑکی کو بہت سپورٹ کیا تھا جب تک ملک جیل نہ چلا گیا تب تک وہ اس کا ساتھ دیتا رہا تھا ۔
پر اب اس نے دھمکی دی تھی کہ وہ اس سے کسی بھی طرح نقصان پہنچا سکتا ہے وہ اپنے گھر کی لڑکیوں کو باہر نہیں نکلنے دیتا تھا اس لیے نہیں کیوں کہ وہ ملک سے ڈرتا تھا بلکہ اس لیے کیونکہ اسے اپنی بہن بیٹیوں کی عزت بہت عزیز تھی ۔
وہ اپنے گھر کی بچیوں کی عزت پر کسی بھی قسم کا داغ نہیں لگنے دے سکتا تھا ۔
پہلے تو دو گھنٹے وہ گاڑی میں خوار ہوتا رہا پھر آخر اس نے گاڑی چھوڑ کر پہاڑی کی جانب جانے کا سوچا کیونکہ بچپن میں بھی یہ پہاڑی اسے بہت ایٹریکٹ کرتی تھی وہ دو تین بار اسے زبردستی وہاں لے کر گئی تھی بچپن میں نہ جانے کیوں اسے وہ پہاڑی بہت پسند تھی ہو سکتا ہے یہ پہاڑی اسے آج بھی پسند ہو
وہ بنا کسی سے پوچھے تیزی سے پہاڑی کے اوپر کی جانب چل دیا تھا اس طرف گاڑی کا راستہ نہیں تھا جو بھی لوگ جاتے تھے پیدل سفر کرتے تھے ۔
اس نے ابھی آدھا سفر ہی طے کیا تھا کہ اسے اوپر سے چیخ کی آواز سنائی دی اس نے اپنی رفتار بے حد تیز کرلی اس کی چیخ کو وہ پہچان چکا تھا ۔
وہ تیزی سے بھاگتا ہوا اوپر کی جانب آیا لیکن اسے زیادہ اوپر نہیں جانا پڑا تھوڑے سے ہی فاصلے پر زمین پر پڑی رو رہی تھی ۔
۔در۔ ۔۔در۔ ۔۔تم ٹھیک ہو ۔۔۔۔۔؟
یہ کیا ہوا میری جان ۔۔۔؟وہ بے حد فکرمندی سے اس کے پیر کو دیکھ رہا تھا جہاں سے خون بہہ رہا تھا
میں گر گئی ۔۔۔۔اس نے روتے ہوئے بتایا
تو بیوقوف لڑکی اس طرف آنے کے لیے کہا کس نے تھا اور یہ اتنی اونچی ہیل پہن کر تم یہاں آئی کسی چیز کی حد ہوتی ہے ۔بنا اجازت تم گھر سے باہر کیوں نکل پڑی اور دوپٹہ کہاں ہے تمہارا ۔۔۔۔۔؟وہ اس کے پیروں کوچھوڑ کر اس کا سر دیکھنے لگا جہاں دوپٹا نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔
وہ دوپٹہ۔۔۔۔۔ ہاں اٹک کر پھٹ گیا ۔میں ساتھ لے کر آئی تھی اسے اور میں نے سر پر رکھا ہوا تھا۔میں نے اسے سر سے بالکل بھی نہیں اتارا لیکن پھر وہ وہاں پر اٹک گیا میں نے اسے نکالنے کی کوشش کی لیکن مجھ سے نہیں ہوا اور مجھ سے چلا بھی نہیں جا رہا مجھے بہت زیادہ درد ہو رہا ہے اور بہت چوٹ بھی آئی ہے ۔
وہ اپنے گال ہاتھوں سے رگڑتی اسے بتانے لگی ۔ جب کہ اس کی بات مکمل سننے کے بعد نہ جانے کیوں دارم سائیں کی گھنی مونچھوں تلے عنابی لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی
وہ اپنے پیر کو دیکھنے لگی جہاں دارم پتہ نہیں کیا کر رہا تھا اپنے رومال کے ساتھ دارم کو اس طرح اپنے پیروں کو چھوتے دیکھنا اسے بہت عجیب لگ رہا تھا جبکہ اس کی لبوں کی مسکراہٹ اس پر بہت کچھ جتا رہی تھی ۔
اب اس خوش فہمی میں مت رہیے گا کہ میں نے آپ کی بات مان کر اپنے سر پر دوپٹہ لیا ہے میں نے یہ دوپٹہ صرف اس لیے لیا تھا تاکہ کوئی میرے باباسائیں کو کچھ نہ کہے ۔اب اگر ان کی بیٹی اس طرح پورے گاؤں میں گھومتی تو لوگ باتیں تو میرے بابا سائیں کو سناتے نہ مجھے اپنے بابا سائیں کی عزت کی پرواہ ہے صرف اسی لئے دوپٹہ لیا تھا میں نے ورنہ آپ کی کوئی بھی بات میرے لئے کوئی ویلیو نہیں کرتی اور اب آپ میرے پیر کو چھوڑ کر گاڑی لے کر آئیں
مجھے گھر واپس جانا ہے نور غصے میں کیا کہہ چکی تھی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی جبکہ اس کی بات مکمل سننے کے بعد دارم کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی
اگر تم نے یہ دوپٹہ اپنے باباسائیں کے لئے لیا ہے تو یقین مانو مجھے اس بات کی زیادہ خوشی ہے کہ تمہیں اپنے بابا سائیں کی عزت کی پرواہ ہے ۔اور یہ بات جان کر انہیں بھی بہت خوشی ہوگی وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہوا اور اس کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلایا ۔
نور نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنی عقل پر ماتم کی تھی وہ اس شخص پر کیوں جتا رہی تھی کہ اس کے بابا سائیں اس کی زندگی میں اتنی اہمیت رکھتے ہیں یہ بات تو وہ اپنے دل سے بھی نہیں کہتی تھی ۔وہ اس کے ہاتھ کو نظرانداز کرتی اٹھ کر کھڑی ہونے ہی لگی تھی کہ اچانک اس کا پیر پھر سے پھسلا اگر دارم سائیں اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے گرنے سے نہ بچا تا تو یقینا وہ دوسرا پیر بھی تڑوا لیتی ۔
میں خود چل سکتی ہوں مجھے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے آپ جا کر گاڑی لے کر آئیں وہ اس کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹاتی اس سے دور ہوتے ہوئے بولی
جانم سائیں آپ کو نیچے تک تو سہارا لینا ہی پڑے گا کیوں کہ گاڑی اوپر نہیں آ سکتی ۔یہ راستہ بہت خراب ہے وہ دلکشی سے مسکراتے ہوئے بولا
اوکے فائن اگر راستہ خراب ہے تو میں خود نیچے چلی جاؤں گی آپ مجھ سے دور ہی رہیں وہ غصے سے کہتی ایک قدم بھی نہیں اٹھا پائی تھی کہ اس کے پیر میں ایک بار پھر سے درد کی لہر اٹھی اس سے پہلے کہ وہ چیختی اس نے خود کو فضا میں محسوس کیا تھا
یہ آپ کیا کر رہے ہیں مجھے نیچے اتارنے میں خود چل کر جاؤں گی پلیز مجھے نیچے اتار دیں ۔وہ لمحے میں ہی مزاحمت کرنے لگی لیکن وہاں پروا کسے تھی وہ اسے اپنی مضبوط باہوں میں قید کیے نیچے کی جانب چل دیا تھا ۔
دیکھیں مجھے نیچے اتار دیں آپ کو سمجھ میں نہیں آ رہا عجیب زبردستی ہے ۔۔۔۔
چپ۔۔ایک دم چپ اب آواز مت نکالنا آخر کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ ہر وقت فضول بولتی رہتی ہو مجھے ایسی بحث کرنے والی بیوی ہرگز پسند نہیں ہے اپنے آپ میں بدلاو لائو
ورنہ ابھی تم دارم شاہ سے واقف نہیں ہو جب میں تم پر اپنا آپ ظاہر کرنے پر آیا نا تو صرف میں ہی میں رہوں گا تم میں بھی اور خود میں بھی ۔ابھی تم نے دارم شاہ کو ایک پرسنٹ بھی نہیں جانا ابھی وقت ہے سنبھل جاؤ ۔وہ بھاری گھمبیر آواز میں کہتا اسے خاموش کرس گیا تھا