Dost Daram By Areej Shah Readelle502301 (Dost Daram) Episode 10
Rate this Novel
(Dost Daram) Episode 10
ڈاکٹر اسے چیک کر رہا تھا جب کہ دارم سائیں اس کے پاس ہی کھڑا ڈاکٹر کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہا تھا ڈاکٹر کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں تھیں ۔
ڈاکٹر کو یہاں آتے ہی سب سے پہلے جو بات پتہ چلی تھی وہ تھی یہ کہ پیشنٹ کوئی اور نہیں بلکہ دارم سائیں کی منکوحہ ہے ۔
دارم سائیں کی نظروں میں اس گاؤں کا کوئی بھی شخص اپنی ریپیٹیشن خراب کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔کیونکہ وہ آج سے نہیں بلکہ پچھلے چھ سال سے گاؤں کا سر پنچ تھا ۔
اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں تھا کہ دارم سائیں اب تک کے تمام سرداروں میں سے سب سے زیادہ خطرناک اور ظالم سردار ثابت ہوا تھا ۔
کسی کو معاف کر دینا یادوسرا موقع دے دینا دارم سائیں کے قانون میں کہیں شامل ہی نہیں ہوتا تھا ۔مرشد سائیں اگر انجیکشن دے دیا تو یہ بہتر محسوس کریں گی اگر آپ کی اجازت ہو تو ۔۔۔۔؟ڈاکٹر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اجازت چاہی تو اگلے ہی لمحے درنور نہ میں سر ہلانے لگی۔
نور یہ تمہارے لیے بہتر ہے تمہاری طبیعت جلدی ٹھیک ہو جائے گی ۔
اور انجیکشن سے کیا گھبرانا۔یہاں کے تو بچے بھی خود انجیکشن لگا لیتے ہیں ۔سنان ادا نے ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ بے یقینی سے دارم سائیں کی جانب دیکھنے لگی
دارم سائیں آپ میرے ساتھ چیٹنگ نہیں کر سکتے آپ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ مجھے انجیکشن نہیں لگے گا۔آپ نے بتایا نہیں میں انجیکشن نہیں لگاؤں گی چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔وہ جلد بازی میں جلدی جلدی بول رہی تھی شاید یہ اس کے پاس آخری موقع تھا انجیکشن سے بچنے کا
دارم سائیں سمجھائیں اسے یہ سڑک پر گری ہے انجیکشن نہیں لگے گا تو ۔۔
نہیں سڑک پر نہیں گری پہاڑی پر گری تھی ۔انجیکشن کی ضرورت نہیں ہے آپ میڈیسن دیں دے وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے ڈاکٹر سے بولا ۔
لیکن مرشد سائیں اگر یہ یہ انجیکشن لگوا لیں تو تکلیف کم ہو جائے گی۔۔۔
تمہیں زیادہ پتہ ہے یا مجھے وہ ڈاکٹر کو غصے سے گھورتے ہوئے بولا تو ڈاکٹر نظر جھکاگیا
سائیں جیسا آپ کا حکم آپ بہتر جانتے ہیں۔وہ میڈیسن لکھتا پرچی اس کے ہاتھ میں تھما چکا تھا ۔
جبکہ سنان نے پہلے ایک نظر ڈاکٹر کو اور پھردارم سائیں کو دیکھا تھا ۔
ہوجائے گی ٹھیک بنا انجیکشن لگوائے ہوئے اس ڈاکٹر کو باہر تک چھوڑ کر آؤ اور آپ بھی آتےہوئے میڈیسن لے کر آنا ۔
اور ملازمہ سے کہو ہلدی والا دودھ لے کر آئے ۔وہ پیئےگی تو بہتر ہو جائے گی وہ اس کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا تو نور نے اسے دیکھا
میں دودھ نہیں پیتی اور ہلدی والا دودھ مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہے ۔میں نہیں پیوں گی میں پہلے بتا رہی ہوں اگر تو آپ یہ میرے لئے منگوا رہے ہیں نہ تو پلیز ابھی منع کردیں۔
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی
تمہیں کیا لگتا ہے لڑکی میں تمہارا ملازم ہوں غلام ہوں تمہارا تم جو کہو گی اس پر سر جھکاتا جی حضور جی حضور کروں گا ۔
انجیکشن سے تمہیں ڈر لگتا ہے ہلدی والا دودھ تم پی نہیں سکتی پیر تڑوا کر بیٹھی ہو اور صبح تمہیں گھومنے بھی جانا ہے ۔
خود کو سپر مین سمجھتی ہو ۔اگر ڈھیل دے رہا ہوں تو زیادہ اڑنے کی ضرورت نہیں ہے کھینچنا بھی آتا ہے مجھے ۔فضول کے نخرے شروع ہوگئے ہیں دودھ لے کر آرہا ہے ملازم خاموشی سے پیو بنا نخرے کیے ۔ورنہ جن ہاتھوں سے تمہیں اٹھا کر لایا ہوں انہیں ہاتھوں سے پلانا بھی آتا ہے مجھے ۔وہ اسے گھورتے ہوئے بے حد ٹھنڈے لہجے میں بولا ۔
بس پھر سے دکھا دیا نہ اپنا آپ تھوڑی دیر پہلے اتنے اچھے بنے ڈرامے کیوں کر رہے تھے ایسے ہی رہا کرو سڑو کہیں کے ۔یہ انسان اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس سے دوستی کی جا سکے وہ بے حد کم آواز میں بڑبڑائی
مرد اور عورت میں دوستی کا رشتہ اچھا بھی نہیں لگتا ۔ایک مرد کے ساتھ کھڑی عورت صرف نکاح میں اچھی لگتی ہے ۔دوستی میں نہیں اور مجھے لڑکیوں سے دوستی پالنے کا کوئی شوق بھی نہیں ہے
نکاح میں ہومیرے اسی لئے سلامت ہو۔ورنہ تمہاری جگہ اگر کوئی اور لڑکی ہوتی تو اس وقت اٹھا کر حویلی سے باہر بنی جگہ میں دفنا دیتا ۔
سارا دن برباد ہو گیا ہے میرا اتنا ضروری کام چھوڑ کر چلا گیا ۔وہ اپنے موبائل میں مصروف بے حد کھڑوس انداز میں بولا اس وقت اسے یہ شخص بے حد برا لگ رہا تھا
میری سوچ ہی غلط ہے آپ ایک اچھے انسان ہیں ہی نہیں وہ اپنے سر سے اجرک اتارتی فولڈ کرکے بیڈ پر پھینکنے والے انداز میں رکھ چکی تھی۔
مجھے نہیں چاہئے آپ کا دوپٹا بھی آپ کا کیا بھروسہ کیا پتا بعد میں اس کا بھی احسان جتانا شروع کر دیں ۔وہ ابھی بول ہی رہی تھی کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی اور ملازم دارم سائیں کمرے کے اندر داخل ہوا ۔اس نے دودھ کا گلاس ٹیبل پر رکھا تو وہ منہ بناتے چہرہ پھیر گئی
۔
کیا تم سچ میں چاہتی ہو کہ میں اپنے ہاتھوں سے تمہیں یہ پلاؤں ۔۔۔؟اس کے چہرہ پھیرنے پر وہ بے حد سرد لہجے میں بولا تو نور نے ایک نظر چہرہ پھیر کر اسے دیکھا اور دوسری نظر گلاس پر ڈالیں۔
اس نے ایک جھٹکے سے ٹیبل پر رکھا ہوا گلاس اٹھایا اور ایک ہی سانس میں گھٹاگھٹ پی گئی ۔دارم سائیں نے اس کی اس کارروائی کو پرشوق کن نظروں سے دیکھا ۔
اس نے گلاس پٹخنے والے انداز پر ٹیبل پر رکھا ۔جب کہ ہلدی والا دودھ پینے کے بعد اس کی زبان بہت بد ذائقہ ہو گئی تھی ۔
اب خوش پی لیا میں نے ۔۔وہ اسے گھورتے ہوئے بولی
ہاں تو احسان کیا ہے مجھ پر ۔۔۔۔؟اپنی صحت یابی کے لئے پیا ہے اور ایک بات کان کھول کر سن لو تائی امی ہمارے گھر کی بڑی ہیں ان کے ساتھ بدتمیزی میں آج صرف اس لئے برداشت کر گیا کہ تم اب تک ہمارے گھر کے طور طریقے نہیں جانتی ۔لیکن اب بہتر ہے کہ تم جلد سے جلد ہر چیز کو سمجھ جاؤ
اب تمہیں بھی ساری زندگی اسی گھر میں رہنا ہے اس گھر کا ماحول اس گھر کے طور طریقہ اور اصول تم پر بھی اتنا ہی لاگو ہوتے ہیں جتنا باقی سب پر تمہیں تھوڑی سی رعایت اس لیے دی گئی ہے
کہ تم ہر چیز کو سمجھ جاؤ لیکن تم سمجھنے کی بجائے ان چیزوں سے دور جا رہی ہو۔جو مجھے منظور نہیں ۔آئندہ ان باتوں کا خیال رکھنا وہ کرسی سے اٹھتا باہر جانے لگا
حد ہو گئی ۔جس کی غلطی ہے اس کو کوئی پوچھتا ہی نہیں ہر کوئی میرے پیچھے لگ گیا ہے میں یہاں رہوں گی نہیں چلی جاؤں گی یہاں سے پتا نہیں کیا سوچ کر میں یہاں چلی آئی مجھے یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا میں یہاں نہیں رہنا چاہتی میری واپسی کا انتظام کروائے وہ بے حد غصہ سے بولی جب دارم کے دروازے کی جانب جاتے قدم رکے اس نے مڑ کر اسے دیکھا اور پھر آہستہ آہستہ چلتا اس کے پاس آیا ۔
کیا کہا تم نے ایک بار پھر سے دہرانا وہ اس کے بے حد قریب کھڑا کہنے لگا اس کے ارادے نور کو بے حد خطرناک لگے تھے
میں یہاں نہیں رہنا چاہتی وہ بنا اوپر کی جانب دیکھتے ہوئے بولی جب اچانک دارم سائیں نے اس کی ٹھوڑی کے نیچےہاتھ رکھتے ہوئے اس کا چہرہ اوپر کی جانب کیا ۔
اب بولو کیا کہنا چاہتی ہو تم وہ اپنی گہری سیاہ نظریں اس کی ڈارک براؤن نظروں میں گھاڑتے ہوئے سختی سے پوچھ رہا تھا ۔
میں۔ ۔۔۔جاوں۔ ۔۔گی۔ ۔۔واپس۔ ۔نہ جانے کیا تھا دارم سائیں کی نظروں میں کہ وہ اپنا جملہ مکمل ہی نہیں کر پا رہی تھی ۔جب اچانک دارم نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی جانب کھینچا اس کے اچانک کھینچنے پر وہ اوپر کی جانب اس کے بے حد قریب آگئی تھی ۔دارم سائیں کی گرم سانسیں اسے اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی
نہیں جانم سائیں تم کہیں نہیں جاؤ گی ۔بہت ہجر کاٹا ہے میں نے اب اور نہیں اب میں تمہیں اپنے اتنے قریب کر لینا چاہتا ہوں کہ ہم دونوں کے بیچ میں یہ ہوا کا گزر بھی ختم ہو جائے ۔
تم جانتی ہو ہم دونوں میں کیا رشتہ ہے ۔۔۔۔۔۔؟ہم میں اس دنیا کا سب سے پاکیزہ رشتہ ہے ۔اور میں جانتا ہوں تم اس رشتے سے بخوبی واقف ہو
مانتا ہوں تم چھوٹی بچی تھی بھول سکتی ہو لیکن یقین سے کہہ سکتا ہوں تمہاری ماں نے تمہیں یہ بات اچھے سے ذہن نشین کروائی ہوگی
یہ جو سارا ڈرامہ آج تم نے ثناء سے بدلہ لینے کے لیے کیا ہے اس میں آئندہ مجھے مت گھسیٹنا میں نے ثناءکے سامنے تمہاری عزت صرف اس لیے رکھی ہے کیونکہ تم میری عزت ہو ۔اور آئندہ تم اس بات کا خیال رکھنا کہ مجھے استعمال ہونا پسند نہیں ۔
ثناء نے جھوٹ بولا
تو تم نے اس کا دل جلایا اگر میں چاہتا تو یہ بات سب کے سامنے ظاہر کر دیتا لیکن میں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ میں اپنی منکوحہ کو کسی کے سامنے جھٹکنا نہیں چاہتا ۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم دوبارہ یہ حرکت کرو گی بہتر ہے کہ ثناء کے ساتھ اپنا جگڑا خود تک محدود رکھو ۔آئی میری بات سمجھ میں وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا جبکہ اس کی کمر پر اب تک دارم کا ہاتھ سختی سے بندھا ہوا تھا
آ۔ ۔۔آپ۔ ۔کو کیسے۔ ۔۔پتہ۔ ۔۔۔
بچہ نہیں ہوں میں جانم سائیں اس گاؤں کا سردار ہوں ۔سارا دن لوگوں کو چارتا ہوں مجھے چارنا بچوں کے بس کی بات نہیں ۔وہ اس کا گال پر تھپتھپاتا اسے آزاد کرتے ہوئے بیڈ پر آہستہ سے چھوڑ چکا تھا
نور کچھ بھی نہیں بول پائی جبکہ وہ کمرے سے ہی نکل گیا
°°°°°
وہ صبح سے بور ہو رہی تھی اپنے پیر میں تکلیف محسوس ہونے کی وجہ سے وہ کہیں بھی نہیں جا پائی تھی سب گھر والوں کے سامنے اس نے یہی بہانہ رکھا تھا کہ اس کے پیر میں تکلیف ہے اسی لیے وہ باہر نہیں جائے گی
دن شروع ہواتو اسے اپنے پیرمیں بہت تکلیف محسوس ہونے لگی تھی جب کہ دارم سائیں اپنے کسی ضروری کام کے لیے جاچکا تھا ۔
کل رات کے بعد ان دونو
ں کا آمنا سامنا نہیں ہوا تھا وہ تو چاہتی بھی نہیں تھی کہ دارم سائیں سے اس کا سامنا ہو کل دارم نے سچ میں اسے شرمندہ کر دیا تھا
یہ سچ تھا کل اگر ثنا کے سامنے وہ اسے جھٹک دیتا تو ثنا اس سے جیت جاتی لیکن دارم نے ایسا نہیں کیا تھا
اس نے اس کی عزت رکھ لی تھی ۔لیکن اسے بہت ساری باتیں بھی سنا گیا تھا ۔آخر تھا تو اسی خاندان کا مرد نہ اپنی انا پر کوئی بات کیسے برداشت کر سکتا تھا
ثناء تو اس کے بعد اس کے سامنے ہی نہیں آئی تھی کل ڈاکٹر کے آنے سے پہلے ہی وہ غصے سے کمرے سے نکل گئی تھی اور اب وہ اس کا سامنا ویسے بھی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
وہ صوفے پر بیٹھی ریموٹ سے ٹی وی آن کرنے لگی تھی کہ دارم سائیں کو اندر داخل ہوتے دیکھا
میں نے تم سے کل رات کو کچھ کہا تھا کیا تم نے وہ کیا وہ اس کے سر پر سوار سوال کرنے لگا
کیا کہا تھا آپ نے ۔۔۔؟وہ کچھ کنفیوز ہوئی
چاچی سائیں در آپ سے کچھ بات کرنا چاہتی ہے اس نے کچن سے نکلتی زرین تائی کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ پریشانی سے اسے دیکھنے لگی اسے بلا ان سے کیا بات کرنی تھی
بولو کیا کہنا چاہتی ہو ۔۔۔۔؟وہ اس کے پاس آتے ہوئے سوال کرنے لگیں کل کی تلخ کلامی کے بعد دونوں پہلی بار ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھیں
بولو در کوئی بات نہیں چاچی سائیں کوئی غیر نہیں گھر کی ہیں غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے معافی مانگنے میں کوئی حرج نہیں چاچی سائیں در آپ سے معافی مانگنا چاہتی ہے کل اس نے کافی بدتمیزی کی تھی آپ سے اسی بات کو لے کر ۔دارم کے کہنے پر اس نے گھور کر دارم کو دیکھا تھا اس نے کب کہا تھا اس سے کہ وہ معافی مانگنا چاہتی ہے یا پھر شرمندہ ہے ۔
کوئی بات نہیں بیٹا سائیں غلطی انسان سے ہوتی ہے ۔کل تمہارا انداز مجھے برا لگا اور پھر کل صبح سے ہی ثنا کو ہر کوئی ڈانٹ رہا تھا شاید میں بھی ضرورت سے زیادہ جذباتی ہو گئی تھی ۔
کوئی بات نہیں تم بھی دل میں کوئی بات نہ رکھنا وہ پیار سے اس کا گال چھوتی واپس کچن کی جانب چلی گئیں۔
میں نے کب کہا آپ سے کہ میں کسی سے معافی مانگنا چاہتی ہوں آپ نے کیوں ایسا کہا ان سے ۔۔۔۔۔؟بہت غصے سے اس سے سوال کرنے لگی
کیونکہ وہ اس گھر کی بڑی ہیں ثنا اور تمہارے اختلافات نہ تو میں جانتا ہوں اور نہ ہی وہ اپنے بچکانہ جگڑوں میں بڑوں کے ساتھ اپنے تعلقات خراب مت کرو ۔
اور آج سے ثنا کو ادی سائیں کہہ کر پکارنا ۔لڑائی جھگڑا ضد اپنی جگہ ہیں لیکن رشتے اپنی جگہ ہیں۔
وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا جب باہر سے ملازم نے اسے آکر بتایا کہ بابا سائیں اسے باہر بلا رہے ہیں ۔
وہ اس کی طرف دیکھے بغیر وہیں سے باہر نکل گیا
تو اب ثناء میڈم کو گدھی سائیں کہہ کر پکارنا ہے اپسس گدھی نہیں ادی ویسے ثنا کی پرسنیلٹی پہ گدھی زیادہ سوٹ کرتا ہے وہ خود ہی اپنی بات کا مزہ لیتے ہوئے کھل کر ہنسی
°°°°°°
جی تایاسائیں آپ نے مجھے یہاں کیوں بلایا وہ اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی کہاں سے بلاوا آیا ایک تو یہ بڑا مسئلہ تھا کہ سارے دن میں کوئی کمرے میں قدم ہی نہیں رکھنے دیتا تھا اسے اپنے کمرے میں رہتے ہوئے بامشکل تین دن ہو رہے تھے لیکن اب تک وہ اس کمرے کا راستہ بھی زبانی یاد نہیں کر پائی تھی ۔
ان کے بلاوے پر وہ ملازمہ کے ساتھ حویلی کے پیچھے کی جانب بنے استبل میں آگئی تھی
ہاں بیٹا سائیں وہ کیا ہے نہ تم کل بہت بڑی مصیبت سے بچی ہو کل تم جس پہاڑی پر گئی تھی نہ اس پہاڑی سے بہت بڑے بڑے پتھر گرے ہیں کافی لوگ زخمی ہو گئے ہیں یہ تو شکر ہے کہ جانی نقصان نہیں ہوا
ورنہ پتہ نہیں کیا ہوتا یہ تو اللہ کی بڑی کرم نوازی ہے کہ تم سہی سلامت گھر واپس آگئی ہو اسی لئے تمہارے صدقے کے لئے بکرا منگایا ہے تم ذرا اس بکرے پر ہاتھ رکھ دو تاکہ ہم اسے ذبح کر سکیں
میں جانتا ہوں تم یقیناً ان سب باتوں پر بھی یقین نہیں رکھتی ہوگی لیکن صدقہ مصیبت کو ٹالتا ہے الحمدللہ تم پر آنے والی مصیبت کو اللہ نے ٹالا ہے ۔اور اللہ نے چاہاتو تم پر آگے بھی کوئی مصیبت نہیں آئے گی ۔جاو بکرا لے آؤ وہ اسے تفصیل سے کہتے ملازم کی جانب متوجہ ہوئے ۔
°°°°°°
نور خاموشی سے ایک سائیڈ پر آ کر کھڑی ہو چکی تھی پتہ نہیں اس سے کیا کروانے والے تھے اسے احساس بھی نہ ہوا کہ کب ساحر اس کے پاس آ کر رکا ۔
کیسی ہو کزن سائیں بور تو نہیں ہو رہی ۔۔۔وہ پہلے دن اسے کافی بو رنگ قسم کا انسان لگا تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ اسے احساس ہوا کہ اس گھر میں صرف یہی نہیں بلکہ سب لوگ ہی بہت بورنگ ہیں۔
میرا نہیں خیال کہ آپ کے گھر میں آکر کوئی بھی مہمان بور نہیں ہوگا یہاں ہر کوئی بورنگ ہی ہے آپ سے زیادہ اچھا تو وہ بکرا انٹرٹین کر رہا ہے آپ کے گھر میں آئے مہمانوں کے ساتھ کیا ایسا سلوک کیا جاتا ہے ۔۔۔۔؟وہ اپنے دل کی بھڑاس نکالنے لگی
وہ کیا ہے نہ ابھی سب لوگ تمہیں گھر کی مہمان سمجھ رہے ہیں جس دن فرد سمجھنا شروع کر دیں گے تمہاری غلط فہمی دور ہو جائے گی اور جہاں تک اس بکرے کے انٹرٹینمنٹ کا سوال ہے تو یہ آگے بھی تمہارے لئے انٹرٹینمنٹ کا سبب بنے گا۔کیونکہ تم اس پر ہاتھ پھیرنے جا رہی ہو نا ۔۔ساحر نےاسے دیکھتے ہوئے بے تکی سی بات بولی
کیا مطلب ہے آپ کا ۔۔۔۔؟میں کچھ سمجھی نہیں پلیز کلئیرلی بتائیں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں وہ کنفیوز سی اس سے سوال کرنے لگی جب کہ ساحر مسکرا کر نفی میں سر ہلاتا اسے بکرے کی جانب متوجہ کرنے لگا
جاؤ اس بکرے پر ہاتھ پھیر کر آؤپھر تمہیں تفصیل سے بتاتا ہوں ۔
جبکہ وہ اسے دیکھتی اس کی بے تکی سی بات کو لے کر متجسس ہو چکی تھی وہ جلدی سے آگے بڑھتی بکرے کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر وہیں سے واپس اس کے پاس آ رکی تھی
بتائیں آپ کی اس بات کا کیا مطلب تھا بکرا کیسے انٹرٹین کرے گا مجھے وہ شاید حد سے زیادہ بور ہو رہی تھی ۔اس لیے اس کی اس فضول سی بات میں انٹرسٹ لے رہی تھی
کزن سائیں تم بھی نا ۔۔۔وہ کیا ہے نہ جس نسل کا یہ بکرا تھا نا اس نسل کی روحیں بھٹکتی ہیں ہمارے گاوں میں۔
واٹ روحیں ۔۔۔۔۔؟ وہ منہ بنا کر پوچھنے لگی شاید اس کی بات اس کے سر کے اوپر سے گزر چکی تھی
بھوتوں پر یقین کرتی ہو چڑیل بھوت ان سب چیزوں پر یقین ہے تمہیں وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا اس کا انداز ڈرانے والا تھا ۔
۔۔نی۔ ۔نہیں ۔۔۔میں ہورر موویز نہیں دیکھتی اس نے فوراً جواب دیا
مطلب یقین نہیں رکھتی ہو پھر ٹھیک ہے بے فکر ہو جاؤ کچھ نہیں ہوگا میں ڈر گیا تھا کہ کہیں بکرے کی روح رات میں آکر تمہیں ڈرانا نہ شروع کر دے ۔لیکن تم کافی بہادر ہو مجھے یقین ہے اگر بکرے کی روح آ بھی گئی تو بھی تم سنبھال لو گی تمہیں بالکل ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔
چلو اب تم جاؤ حویلی کے اندر میں ذرا دیکھ کے آتا ہوں کہ بکرے کی روح میرا مطلب ہےکے بکرے کو ذبح کردیا گیا یا ابھی نہیں ۔وہ اس کے چہرے کی اترتی ہوائیاں دیکھ کر اپنی ہنسی پر کنٹرول کرتا تیزی سے وہاں سے نکل گیا تھا ۔
جب کہ نور وہیں کھڑی بس بکرے کی روح کے بارے میں سوچ رہی تھی
کیا بکواس ہے یہ کوئی روح نہیں ہوتی ایسے مجھے ڈرا رہے ہیں یہ مجھے بیوقوف سمجھ کر رکھا ہے وہ سر جھٹکتی حویلی کی جانب جانے لگی ۔
لیکن اگر سچ میں بکرے کی روح آ گئی تو اس پر تو آخری ہاتھ بھی میں نے پھیرا ہے اور اس نے میرے نام پر ذبح کیا جا رہا ہے کہیں سچ مچ میں تو ساحرر ادا سچ نہیں بول رہے تھے ۔
وہ اپنے ہی سوچوں میں قدم قدم اٹھاتی آگے بھڑ رہی تھی
