488.5K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dost Daram) Episode 1

وہ دونوں تیز ی سے بھاگ رہے تھے آج پہلی بار گاؤں کی کسی لڑکی نے گاؤں کی عزت کو یوں اپنے پیروں کے نیچے روندا تھا ۔
اسے کوئی پرواہ نہ تھی کہ اس کا یہ قدم اس کے خاندان اس کے ماں باپ بھائیوں کو سر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑے گا
اسے کسی کی کوئی فکر نہیں تھی اسے اگر کسی سے مطلب تھا تو صرف اپنے محبوب سے اپنے پیار سے اسے صرف اپنی محبت چاہیے تھی
اسے اپنی محبت کو ثابت کرنا تھا اپنے محبوب کو بتانا تھا کہ وہ کتنا پیار کرتی ہے اس سے کہ وہ اس کے لیے اپنے والدین اپنا گھر بار سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کے ساتھ بھاگ آئی ہے
لیکن ناجانے اس کے اس قدم کی بھنک کیسے گاؤں کے سرپنچ سید مرشد دارم شاہ سائیں کو لگ گئی تھی ۔
اور اب ان کے پیچھے مرشد سائیں کے لوگ آ رہے تھے اسے اس کی غلطی کی سزا دینے اسےنہیں پتا تھا کہ اب اس کا قتل ہو گا یا اسے زندہ دیوار میں چنوا دیا جائے گا اس نے تو بس یہ سن رکھا تھا کہ مرشد سائیں اب تک کے سب سے ظالم و جابر سردار ہیں جو کسی کی کوئی بھی غلطی معاف نہیں کرتے ۔
بلکہ غلطی کرنے والے کو زندہ زمین میں گھاڑ دیتے ہیں لیکن شبنم نے تو کوئی غلطی نہیں کی تھی اس نے سچی محبت کی تھی ہاں یہ غلطی ضرور ہوئی تھی کہ وہ ثاقب کی نسل وخاندان نہیں جانتی تھی اور محبت میں بھلا یہ ساری چیزیں کہاں دیکھی جاتی ہیں محبت میں تو صرف محبت کی جاتی ہے
اپنے محبوب کو ہر چیز سے اہم سمجھا جاتا ہے اپنے آپ کو اس کی امانت سمجھا جاتا ہے اور خود کو اپنے محبوب کا کر دیا جاتا ہے وہ بھی تو یہی کر رہی تھی اپنا آپ بھلا کر صرف اور صرف اپنے محبوب کی ہونے جا رہی تھی اس میں کیا غلط تھا ۔۔۔۔۔؟
محبت میں غلط تو کچھ بھی نہیں ہوتا تو پھر یہ سب لوگ اس کی محبت کے دشمن کیوں بن گئے تھے۔۔۔؟
اگر ان سب کو ثاقب قبول نہیں تھا تو کیوں نہیں جانے دے رہے تھے اسے ثاقب کے ساتھ اگر وہ اسے ثاقب کے ساتھ قبول نہیں کر سکتے تو کیا ہوا وہ اس کے لئے اہم تھا وہ اس کی زندگی تھا وہ سب پر صاف الفاظ میں واضح کر چکی تھی کہ اگر ثاقب کے ساتھ اس کی شادی کے لئے وہ لوگ راضی نہ ہوئے تو وہ یا اپنی جان دے دے گی یا پھر گھر سے بھاگ جائے گی اور اب وہ ایسا ہی کر رہی تھی
کیونکہ اب ثاقب ہی اس کے لئے اس کا سب کچھ تھا وہ ندی کے قریب سے گزرتے پہاڑ کے اوپر آ چکے تھے یقیناً یہ راستہ غلط تھا لیکن اس وقت محبت میں اندھی ہوئی شبنم کے لیے ہر راستہ صیح تھا
وہ پہاڑ کے راستے نیچے کی جانب اترنے لگے جب احساس ہوا کہ پہاڑ سے نیچے تو مرشد سائیں کے لوگ کھڑے ہیں اس نے ثاقب کو واپس اوپر چلنے کے لیے کہا
لیکن اب ان کے پیچھے آتے لوگ بھی پہاڑ کے اوپر ہی کھڑے انہیں دیکھ رہے تھے دائیں بائیں کہیں کوئی راستہ نہ تھا اب وہ اپنے انجام سے سچ مچ میں خوف زدہ ہوگئے تھے
°°°°°
مکمل کالے لباس پر سندھی چادر کندھے پر ڈالے وہ سندھی چپل میں بھاری قدم اٹھاتا اس کے پاس آرکا شبنم کا وجود کانپ رہا تھا
وہ سرخ آنکھوں میں غصہ لیے ایک نظر اس کی طرف دیکھتا ثاقب کی طرف بڑھا شبنم نے گھبرا کر اسے دیکھا تھا
مرشدسا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر پر دوپٹہ لو لڑکی اگر اپنے باپ کی پگڑی پر پیر رکھتے شرم نہیں آئی تو کم از کم اپنے بھائیوں کو ننگے سر رسواتو نہ کرو وہ بھاری گھمبیر آواز میں دھاڑا
شبنم کو بھی اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تو وہ فورا اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی
تم ہمارے گاؤں کی لڑکیوں کو باغی کروگے۔۔۔۔۔ وہ زناٹے دار تھپڑ اس لڑکے کے منہ پر لگاتے ہوئے غرایا تو شبنم تڑپ کر اس کی جانب بڑھی
رحم سائیں رحم یوں نہ کریں اللہ سائیں کا واسطہ آپ کو رحم کریں۔ ۔۔
یوں محبت کرنے والوں کے بیچ دیوار نہ بنیں دو محبت کرنے والوں کو جدا نہ کریں بے رحم نہ بنے سائیں وہ مرشد سائیں کے پیروں میں گری التجا کرنے لگی
واجد علی سنبھالو اپنی بیٹی کو اور جس طرح سے یہ رات کے اندھیرے میں گھر سے نکلی ہے اسی طرح اندھیرے میں لے جاؤ اسے واپس تمہاری عزت رہ جائے گی
اور کل ہی اپنے بھائی کے بیٹے کے ساتھ اس کے نکاح کی تاریخ نکلوا لو وہ شبنم کی التجائیں نظر انداز کرتا واجد علی سے مخاطب ہوا جو سرخ آنکھوں میں نفرت لیے نفرت سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہا تھا
حکم سائیں میں کل ہی اس کا نکاح پڑھوا دوں گا لیکن اس حرام زادے کی لاش اسی جنگل میں دفنایئے گا تا کہ اس کا نام و نشان بھی کسی کو نہ ملے وہ ایک نظر ثاقب کو دیکھتے ہوئے مرشد سائیں سے بولا
اس کی فکر تم نہ کرو واجد علی یہ صرف تمہاری بیٹی کو نہیں میرے گاؤں کی عزت کو بھگا کر لے کر جارہا تھا اس کا انجام اس کی سوچ سے زیادہ بھیانک ہوگا تم اپنی بیٹی کو یہاں سے لے جاؤ
وہ غضب ناک نظروں سے ثاقب کو دیکھتا واجد علی سے گویا ہوا ۔
نہیں سائیں نہیں ایسا نہ کرے آپ کو اللہ سائیں کا واسطہ ایسا نہ کریں ہم مر جائیں گے ایک دوسرے کے بنا سائیں بے رحم نہ بنے سائیں کسی کی محبت کو یوں برباد نہ کریں آپ کو اللہ کا واسطہ وہ چیختے ہوئے فریاد کر رہی تھی جبکہ واجد علی اسے گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے کر جارہا تھا جبکہ اب وہ پاگلوں کی طرح پیچھے کی جانب دیکھتی اپنے محبوب سے دور ہو رہی تھی اس کی چیخ و پکار پورے جنگل میں گونج رہی تھی
لیکن پھر اچانک فضا میں ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے ساتھ ہی جنگل میں عجیب طرح کے جانوروں کی آوازیں غرانے لگیں
نہیں سائیں نہیں آپ ایسا نہیں کرسکتے آپ نے ٹھیک نہیں کیا آپ نے دو محبت کرنے والوں کو جدا کیا ہے آپ نے دو محبت کرنے والوں کو برباد کیا ہے آپ بھی آباد نہیں رہیں گے برباد ہوں گے آپ
برباد ہوں گے آپ’ آپ بھی کبھی خوش نہیں رہیں گے آپ کو کبھی سکون نصیب نہیں ہوگا آپ بھی برباد ہوں گےسنا آپ نے۔ ۔۔۔؟
آپ کو آپ کی محبت کبھی حاصل نہیں ہوگی سائیں
آپ محبت کو ترسیں گے آپ کو کبھی آپ کی محبت قبول نہیں کرے گی آپ محبت کی بھیک مانگیں گے یہ بد دعا ہے میری وہ چیخ رہی تھی اس کی تکلیف و درد سے بھرپور آواز پورے جنگل کے سناٹے میں گونج کر واپس آ رہی تھی
چپ کر بدبخت کیوں بد دعائیں دے رہی ہے ان کو اللہ تعالی لمبی حیاتی دے حکم سائیں کو جنہوں نے رات کے اندھیرے میں ہماری عزت کا پاس رکھا ورنہ تو نے تو کوئی کسر نہ چھوڑی تھی واجدعلی اس سے کہتا اس کا بے جان وجود اپنے ساتھ گھسیٹتا ہوا لے کر جانے لگا
°°°°°
آج اس کی جاب کا پہلا دن تھا وہ جلدی سے گھر کے اندر آئی اور اپنی یونیفارم چینج کرکے اپنے کام میں مگن ہوگئی
جب اسے دوسری ملازمہ نے آکر بتایا کہ چھوٹی میڈم اسے روم میں بلا رہی ہیں وہ ہاں میں سر ہلاتی تیزی سے روم کی طرف چلی گئی
وہ جب سے یہاں کام کر رہی تھی اس نے ایک چیز بہت زیادہ نوٹ کی تھی کہ چھوٹی میڈم زیادہ کسی سے بھی بات نہیں کرتی
اور نہ ہی بڑی میڈم انہیں کسی سے بات کرنے دیتی ہیں لیکن وہ جب سے یہاں کام کر رہی تھی نہ جانے کیوں چھوٹی میڈم اسے بہت زیادہ پریشان اور ڈری سہمی سی لگتی تھی اس نے ایک دو دفعہ ان سے پوچھنے کی کوشش کی کہ آخر ان کے ساتھ مسئلہ کیا ہے ۔۔۔۔۔”
اور انہوں نے بھی اسے اپنی پریشانی کی وجہ بتانے کی کوشش کی تھی لیکن ہر بار جب بھی وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی تو کوئی نہ کوئی آ جاتا اور ان کی بات ادھوری رہ جاتی
وہ اتنی زیادہ ڈری ہوئی کیوں تھی یا انہیں کیا مسئلہ تھا وہ جاننا چاہتی تھی
شاید یہ صرف اسے ہی ایسا لگتا تھایا اس کی غلط فہمی تھی لیکن پھر بھی نجانے کیوں اسے یقین تھا کہ چھوٹی میڈم کے ساتھ کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرورہے
اور وہ” وہ مسئلہ اس سے شیئر کرنا چاہتی ہیں اس نے کہیں دفعہ اسے اکیلے میں کمرے میں بلایا لیکن وہ اسے کبھی بھی کچھ بھی بتا نہیں سکیں
اسے بس یہ پتا تھا کہ اس گھر میں شادی ہونے والی ہے وہ پچھلے گیارہ دن سے اس گھر میں کام کر رہی تھی
اور دوسری ملازمہ نے اسے بتایا تھا کہ اگلے کچھ ہی دن میں چھوٹی میڈم کی شادی ہونے والی ہےکسی انگریز کے ساتھ لیکن آج صبح ملازمہ نے اسے بتایا کہ کل ہی چھوٹی میڈم کی شادی ہے جیسے لے کر وہ خود بھی سوچ میں پڑ چکی تھی
°°°°°
یس میم آپ نے مجھے بلایا وہ مودبانہ انداز میں کھڑی ان سے سوال کرنے لگی
ہاں نور پلیز ہیلپ می پلیز مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے اگر تم نے میری مدد نہ کی تو میں بہت بڑے مسئلہ میں پھنس جاؤں گی پلیز انکار مت کرنا میں بہت زیادہ پریشان ہوں صرف تم ہی میری مدد کر سکتی ہو
اس کے پوچھنے کی دیر تھی کہ چھوٹی میڈم آنکھوں میں آنسو کا ڈھیر لئے اسں سے مدد کی التجا کرنے لگی
جی میڈم کیسی ہیلپ آپ کو کیا مدد چاہیے میں آپ کی مدد ضرور کروں گی وہ اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہنے لگی
یہی پے آ کر تو وہ بے بس ہوجاتی تھی اگر وہ کسی کی مدد کر سکتی تو ضرور کرتی تھی اور اس کی یہ عادت اسے اکثر بہت بڑے مسائل کا شکار کر دیتی تھی
میری موم میری شادی زبردستی کسی سے کروا رہی ہیں میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی میں اس آدمی کو بالکل پسند نہیں کرتی پلیز میری مدد کرو میں یہ شادی نہیں کر سکتی وہ آدمی بہت بُرا ہے میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں
اور اگر اس انسان سے میری شادی نہ ہوئی تو میں مر جاؤں گی میں کسی اور کی نہیں ہو سکتی میں اس سے بہت زیادہ محبت کرتی ہوں
وہ شخص میری جینے کی وجہ ہے اگر وہ مجھے نہ ملا تو میری زندگی کا بھی کوئی فائدہ نہیں پلیز نور صرف تم ہی میری مدد کر سکتی ہو اگر تم نے میری مدد نہیں کی تو میری موم زبردستی میری شادی اس آدمی سے کر دیں گئیں۔
میں یہاں اور کسی پر اعتبار نہیں کر سکتی کیونکہ ساری ملازمائیں میری موم کو بتا دیں گی میں صرف تم پر یقین کر سکتی ہوں اس لیے تمہیں یہ سب بتا رہی ہوں
میڈم میں آپ کی بات کو سمجھ رہی ہوں لیکن اس معاملے میں میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں۔ ؟ میرا مطلب ہے میں کیسے اس شادی کو روک سکتی ہوں۔ ۔؟ میں تو ایک عام سی ملازمہ ہوں وہ پریشانی سے کہنے لگی
بس مجھے اس گھر سے باہر نکلنے میں ہیلپ کردو میں یہاں سے بھاگ جاؤں گی بس تم مجھے یہاں سے باہر نکال دو وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی جب کہ نور گہری سوچ میں جا چکی تھی
اگر وہ اس کی مدد نہ کر پائی تو وہ بے موت ماری جائے گی اس طرح زبردستی کے رشتے نبھانا آسان نہیں ہوتا یہ بات وہ بہت اچھے طریقے سے سمجھ چکی تھی
وہ سمجھوتے پر کسی کی زندگی برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی اگر آج اس لڑکی کی شادی اس آدمی کے ساتھ زبردستی کروا دی جاتی تو شاید کچھ عرصے کے بعد وہ دونوں الگ ہوجاتے لیکن اگر ان دونوں کی کوئی اولاد ہوتی تو وہ برباد ہو جاتی بالکل اس کی طرح اور وہ اپنی جیسی زندگی کسی اور کو گزارتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی تھی
°°°°°°°°°°
اس کی چھٹی کا وقت ہو گیا تھا وہ روز کی طرح اپنا یونیفارم چینج کرکے خاموشی سے گھر کی جانب روانہ ہوئی
روز کی طرح آج نجانے کیوں اس نے واچ مین کو گڈبائے نہیں بولا تو وہ کافی پریشان ہوا کیونکہ وہ جب سے یہاں کام کر رہی تھی اسے صبح آتے ہوئے سلام بھی کرتی تھی اور گڈ بائی اور خداحافظ بول کر بھی جاتی تھی
جو کہ اب واچ مین کی بھی عادت بن چکا تھا یہ ہنستی مسکراتی لڑکی اسے بھی بے حد پسند تھی ارے نور آج تم نے مجھے بائے نہیں بولا واچ مین اپنی حیرت کو چھپائے بنا اسے پکار بیٹھا شاید آج میڈم نے اسے ڈانٹ دیا ہوگا
واچ مین کی اچانک پکار پر وہ گھبرا کر پیچھے کی جانب مڑی
لیکن یہ کیا ۔۔۔۔؟یہ تونور تھی ہی نہیں بلکہ یہ تو چھوٹی میڈم تھی
واچ مین کے لئے یہ جھٹکا کافی تھا وہ حیرانگی سے اپنی مالکن کووہاں سے بھاگتے ہوئے دیکھ رہا تھا
جس کے ساتھ ہی اس نے شور مچانا شروع کر دیا تھا باہر شور کی آواز سن کر وہ تیزی سے باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈنے لگی اس وقت اس کمرے میں سوائے اس کھڑکی کے اور کچھ نہیں تھا
وہ تیزی سے کھڑکی کے پاس آئی اس کا ارادہ کھڑکی سے باہر کود جانے کا تھا لیکن تب ہی دروازہ کھولا اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور سرد تر سانس خارج کی
°°°°°
تم جانتی ہو تم نے کیا کیا ہے ۔۔۔۔!
بیوقوف لڑکی آخر تمہیں ضرورت کیا تھی کسی لڑکی کو گھر سے بھگانے کی
تمہیں اندازہ بھی ہے کتنی انسلٹ ہوئی ہےآج ہماری تمہیں احساس بھی ہے کہ کتنی بےعزتی کی گئی ہے ہماری وہاں۔
مائیک اپنی کتنی امپورٹنٹ میٹنگ چھوڑ کر تمہیں جیل سے چھڑوانے کے لیے آیا تھاتم اندازہ بھی لگا سکتی ہو کہ کتنا نقصان ہوا ہے آج مائیک کو اور تو اور مائیک نے کتنی رشوت دی ہے اس آفیسر کو صرف تمہیں جیل سے چھڑوانے کے لیے اف مائیک نے کتنی مشکل سے سب کچھ ہینڈل کیا ہے یہ آج اگر مائیک نہ ہوتا تو نہ جانے کیا ہوتا
اس لیے اب بغیر نخرے کیے فورا سے جاؤ اور بہت اچھے طریقے سے اسے تھینک یو بولو ۔
اور سوری بھی کہو جا کر اپنی غلطی کے لیے اپنے ڈیڈ کوآج تمہاری وجہ سے بہت زیادہ انسلٹ ہوئی ہے تمہارے ڈیڈ کی سمرا اسے سمجھاتے ہوئے بولی
وہ میرے ڈیڈ نہیں ہیں موم وہ صرف آپ کے بوائے فرینڈ ہیں ان کا میرے ساتھ رشتہ نہ جوڑیں تو زیادہ بہتر رہے گا
میرا آپ کے بوائے فرینڈ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے وہ خاصی بدتمیز انداز میں بولی
وہ میرا بوائے فرینڈ نہیں بلکہ ہسبینڈ ہے اور اس بات پر یقین کرنے کے لیے میں تمہیں صفایاں نہیں دوں گی سمجھی تم میں تھک گئی ہوں تمہارے سامنے اپنا اور مائیک کا رشتہ پروف کرتے کرتے وہ جھنجھلا کر بولی
مام نکاح نہیں کیا ہے اس نے آپ سے اور جس شادی کو آپ شادی کہتی ہیں وہ شادی نہیں ہے وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی
او واٹ ایور بند کرو اپنی بکواس اور جاکر مائیک کو سوری بولو اس کا شکریہ ادا کرو کہ اگر آج وہ وقت پر جیل نہیں پہنچتا تو تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے کہ وہاں پولیس سٹیشن میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا تھا وہ غصے سے اسے ڈانٹتے ہوئے بولی
اس کے انداز پروہ مسکرائی تھی اچھا کیا ہوتا میرے ساتھ وہاں ۔۔۔وہ لوگ مجھے مارتےپیٹتے میرے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا مام آپ کے بوائے فرینڈ کے ہاتھوں مار کھانے کی عادت ہے مجھے وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی غصے سے بولی
اس نے تمہاری بھلائی کے لیے تم پر ہاتھ اٹھایا تھا تم کیوں نہیں سمجھتی نور سمرا اب کی بار چلائی تھی ۔
میرے کپڑے پھاڑ کر میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ ذلیل انسان میری کونسی بھلائی کر رہا تھا مام اس کی آواز سمرا کی آواز سے کہیں گنا زیادہ تھی
وہ صرف تمہاری غلط فہمی تھی نور میں تمہیں کیسے سمجھاؤں سمرہ نگاہیں چراتے ہوئے بولی تو نور کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی ۔
اچھا وہ میری غلط فہمی تھی وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی تلخی سے مسکرا دی تھی ۔جب کہ اس کی مسکراہٹ نے سمرہ کو نگاہیں جھکا نے پر مجبور کر دیا
وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے اوپر کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرپھر بولی
میں بچی ضرور تھی مام مگر اتنی بھی نہیں کہ اس ذلیل انسان کی نیت نہ سمجھ پاتی ۔
میں بہت اچھے طریقے سے جانتی ہوں کہ وہ آدمی میرے ساتھ کیا کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور یہ بھی کہ اس آدمی نے آپ سے یہ شادی والا ڈرامہ کیوں کیا
لیکن آپ کو عادت ہوگئی ہے بار بار میرے منہ سے اس آدمی کی حقیقت جاننے کی تو پھر سنیے
جب میں نے اس کا یہ گھر چھوڑا تب اسے ڈر تھا کہ کہیں میں پولیس میں نہ چلی جاؤں۔ آپ جانتے ہیں ایک 13 سال کی لڑکی کا ریپ کرنا کتنا بڑا جرم ہے ۔نہیں ۔۔۔۔۔؟لیکن وہ بہت اچھے طریقے سے جانتا ہے
اگر میں پولیس میں جاتی تو اس کو ہراسمنٹ کے کیس میں اپنی آدھی زندگی جیل کے اندر گزارنی پڑتی اور وہ جو عیش و عشرت سے اس اتنے بڑے بنگلے میں اپنی زندگی گزار رہا ہے یہ سب کچھ بھی انگلش گورنمنٹ اس سے چھین لیتی ۔
اس نے آپ کی محبت میں پاگل ہو کر آپ سے شادی نہیں کی بلکہ بدنامی کے ڈر سے اور جیل سے بچنے کےلیےکی ہے
اور آج بھی وہ شخص مجھ پر کوئی احسان کرکے مجھے جیل سے نہیں چھڑوا کر لایا ۔
اسی لئے بار بار اس کے احسان مجھ پر واضع کر کے مجھے شرمندہ کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے اپنے بوائے فرینڈ کی حرکتوں پر غور کریں ۔
وہ حقیقت کا آئینہ اس کے سامنے رکھتی اپنا بیگ اٹھا کر تیزی سے وہاں سے نکلنے لگی تھی جب اچانک ہی دروازے پر مائیک اس سے ٹکرایا اسکے روم روم میں نفرت سی بھر آئی تھی
ارے نور تم ابھی تک گئی نہیں یہاں سے مجھے تو لگا تھا کہ تم جا چکی ہو گی خیر اچھا کیا تم ابھی تک نہیں گئی چلو آؤ مل کر پوری فیملی ڈنر کرتے ہیں وہ خوشگوار لہجے میں انگلش میں اسے دیکھتے ہوئے بولا ۔
مجھے کوئی شوق نہیں ہے آپ کے ساتھ ڈنر کرنے کا اور میں آپ کی فیملی کا حصہ نہیں ہوں وہ کھا جانے والے انداز میں سے دیکھتے ہوئے بولی ۔
اس کی بدتمیزی پر ثمرہ کو غصہ تو بہت آیا لیکن وہ جانتی تھی کہ اگر اس نے اسے ٹوکا تو وہ اور زیادہ بدتمیزی کرے گی اسی لئے خاموش رہنا بہتر سمجھا ۔
جب کہ وہ ایک نظر اپنی ماں کی جانب دیکھتی وہاں سے باہر نکل چکی تھی اس شخص کے سامنے تو وہ اپنا ایک لمحہ بھی برباد نہیں کرنا چاہتی تھی
سیم ڈارلنگ تمہاری بیٹی کو آخر میرے ساتھ مسئلہ کیا ہے ۔کبھی بھی وہ لڑکی مجھ سے اچھے سے بات نہیں کرتی اور یقین کرو مجھے اس کا انداز بہت ہرٹ کرتا ہے وہ سمرا کی جانب آتے ہوئے کہنے لگا
وہ بچی ہے نادان ہے ۔تم اس کی باتوں کو دل پر مت لیا کرو ہم ڈنر کرتے ہیں وہ اس کا دھیان نور سے ہٹاتے ہوئے بولی تو مائیک نے صرف ہاں میں سر ہلا دیا