488.5K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dost Daram) Episode 6

وہ تیزی سے پھولی سانسوں کے ساتھ اوپر کمرے میں داخل ہوئی تھی وہ خود اندھیرے میں سوتی تھی اور نہ ہی اس نے ثانیہ کو اس کمرے کی لائٹ آف کرنے دی تھی
وہ تیزی سے قدم اٹھاتی شیشے کے سامنے آئی تھی ۔جہاں پر اپنا سرخ خون چھلکتا چہرہ دیکھ پہلے تو وہ پریشان ہوئی تھی لیکن نظر جیسے ہی گردن پر گئی ۔اس کی انگلیاں اس کے گردن پر آرکی تھی
جہاں ایک چھوٹی سی خون کی بوند تھی ۔وہ پہلی ملاقات میں ہی اس پر اپنی مہر لگا گیا تھا وہ اسے بتا کر گیا تھا کہ وہ اس کی ہے
بے شرم انسان ۔وہ مجھے اس طرح سے کیسے چھو سکتا ہے اس کی ہمت کیسے ہوئی مجھے یوں چھونے کی ۔اتنا قریب کیسے آ گیا وہ اور میں ۔میں نے اسے روکا کیوں نہیں ۔۔۔۔۔۔
اس کے سامنے اس طرح سے کیوں چپ کر کے کھڑی رہی ۔کیا سمجھ رہا ہوں وہ میرے بارے میں کہ میں ایسی لڑکی ہوں
کہ جس کا دل چاہے مجھے چھو سکتا ہے اور یہ ۔۔۔۔اس نے ایک بار پھر سے نگاہ آئینے پر دہرائی تو نگاہ چرانے پر مجبور ہوگئی ۔
وہ اسے اس طرح سے کیسے چھو سکتا ہے بس یہی ایک سوال اس کے دماغ میں بری طرح سے گھوم رہا تھا وہ یوں بنا مزاحمت اس کے سامنے کیوں کھڑی رہی اس طرح تو وہ شیر ہو جائے گا
نہیں دارم شاہ نہیں تم میری منزل نہیں ہو اور نہ ہی میں تمہیں اپنی منزل بننے دوں گی
میں یہاں صرف اور صرف پراپرٹی کے لئے آئی ہوں مجھے جیسے ہی میرا حصہ مل جائے گا میں یہاں سے ہمیشہ کے لئے چلی جاؤں گی
تم سے اور تمہارے پورے خاندان سے میں کوئی تعلق نہیں رکھوں گی کبھی بھی نہیں
اچھی طرح سے سمجھتی ہوں میں تم لوگوں کو تمہیں لگتا ہے کہ میں تم سے شادی کروں گی تو ایسا کبھی نہیں ہوگا تم نا تو میرے حقدار ہواور نہ ہی میں تمہاری ملکیت ہوں
اور یہ بات میں تم پر کل ہی واضح کر دوں گی
میں تمہیں بتاؤں گی کہ میں تمہارے لئے کچھ بھی نہیں ہو اور نہ ہی تم میرے لیے کچھ ہو ۔
تم مجھے شاید آپنی اس حویلی کی گنوار عورتوں میں سمجھ رہے ہو گے ۔جو تم جیسے مردوں کی حکومت پر سر جھکا کر ساری زندگی غلامی کرتی ہیں لیکن میں نہیں ہوں عورتوں میں سے
میں ثمرا کی بیٹی ہوں ۔وہی ثمرہ جس کو تم لوگوں نے باغی کہہ کر ٹھکرا دیا تھا ۔اسی ثمرا کی بیٹی ہوں میں جس کا زبردستی نکاح سرمد شاہ کے ساتھ کروا کر میری زندگی عذاب بنائی گئی
ثمرہ تب تو اپنے حق کے لیے لڑ نہیں سکتی تھی کیونکہ تب تم مردوں کی حکومت نے اسے بے بس کر دیا تھا لیکن میں تم لوگوں کے سامنے سر جھکانے والوں میں سے نہیں ہوں
بڑوں کا کوئی بھی فیصلہ میرے ارے نہیں آئے گا ۔میں تمہاری ملکیت میں شامل نہیں ہوں وہ آئینے میں کھڑی مسلسل خود کو دیکھ رہی تھی لیکن نظر بھٹک بھٹک کر گردن پر موجود اس نشان پر چلی جاتی
اس نے اپنے آگے پیچھے دیکھا تو بیڈ پر اس کا دوپٹہ پڑا تھا اس نے فورا لپک کر دو پٹہ اٹھایا اور اپنی گردن پر پھیلانے لگی ۔
نشان گہرا تھا اسے یقین تھا یہ صبح تک نہیں جائے گا ۔ دارم شاہ پہلی ملاقات میں ہی اس پر اپنی ملکیت جتا گیا تھا ۔لیکن وہ نہیں تھی اس کی ملکیت یہ ثابت کرنا اب اس کا کام تھا
°°°°
گڈ مارننگ میری جان آپ نے اٹھنے میں بہت وقت لگا دیا ناشتے پر سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔اپنے بالوں میں انگلیوں کی حرکت کو محسوس کرتے ہوئے اس کی آنکھ کھلی تو سامنے ہمنہ بیگم بیٹھی اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھیں۔
وہ مجھے رات میں نیند بہت دیر سے آئی تھی انجان جگہ ہے شاید اس لیے آئی ایم سوری آپ لوگوں کو انتظار کرنا پڑا وہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے بولی نہ جانے کیوں یہ عورت اسے اتنا زیادہ اپنائیت کا احساس دلاتی تھیں جب کہ وہ جانتی تھی کہ وہ اس کی سوتیلی ماں ہے
اور سوتیلی ماؤں کے بارے میں تو اس نے بہت کچھ سن رکھا تھا وہ اس کی میٹھی میٹھی باتوں میں آنے والی تو ہرگز نہیں تھی
کوئی بات نہیں بیٹا سائیں ہو جاتا ہے ایسا آپ جلدی سے فریش ہو جائیں سب نیچے آپ کا انتظار کر رہے ہیں ابھی تک کسی نے کھانا نہیں کھایا
کل آپ آئیں تو کافی تھکی ہوئی تھی گھر کے سب لوگوں سے آپ کی ملاقات نہیں ہوئی اسی لئے سب آپ سے ملنے کے لیے بے چین ہیں
ماشاءاللہ سے آج آپ کے بابا سائیں کی طبیعت بھی کافی بہتر ہے ۔ وہ بھی آج کافی فریش محسوس کر رہے ہیں شاید انہیں آپ کے آنے کی خوشی ہی بالکل ٹھیک کر دے گی ۔
وہ پیار سے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے کپڑے اسے دینے لگی
تھنکس آنٹی لیکن پلیز آئندہ خیال رکھیے گا ۔میری چیزوں کو کوئی ہاتھ لگائے مجھے پسند نہیں ہے ۔تو پلیز آئندہ میرے بیگ کو ہاتھ مت لگا ئے گا اور میرے کمرے کا انتظام کر دیا آپ نے ۔۔۔!اپنی بات مکمل کرتی ان سے سوال کرنے لگی پہلے تو وہ شرمندہ ہوئیں لیکن پھر مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا
ہاں بیٹا سائیں آپ کے کمرے کا انتظام تو کروا دیا ہے اور وہ کیا ہے نہ میں ثانیہ کے سارے کام اپنے ہاتھ سے کرتی ہوں تو سوچا آپ کی بھی کردوں ۔بس اسی لئے آپ کے کپڑے نکالے تھے آپ کو برا لگا تو آئندہ خیال رکھوں گی انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
ہاں ٹھیک ہے لیکن آئندہ تھوڑی احتیاط کیجئے گا ۔مجھ میں اور ثانیہ میں بہت فرق ہے ثانیہ آپ کی بیٹی ہے ۔۔۔۔۔
تم بھی میری بیٹی ہو نور ۔تم بھی مجھے ثانیہ کی طرح ہی عزیز ہو اسکی بیگانگی پر وہ اسے سمجھاتے ہوئے ٹوک گئی ۔
نہیں میں آپ کی بیٹی نہیں ہوں میں آپ کی سوتن کی بیٹی ہوں ۔میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں ہے سوائے سوتیلے پن کے اور پلیزمیرے سامنے یہ اچھا بننے کا ڈرامہ نہ کرے ۔مجھے سچ میں آپ کے اس سارے دکھاوے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ایکسکیوزمی ۔۔
وہ ان کے ہاتھ سے اپنے کپڑے لیتی ہوئی واش روم میں بند ہوگئی ۔جب کہ ہمنہ کتنی دیر وہیں کھڑی واش روم کے دروازے کو دیکھتی رہیں
انہوں نے ثانیہ کو تو سمجھا دیا تھا کہ سوتیلا پن کچھ نہیں ہوتا لیکن کوئی یہ کیسے بھول گئیں کہ نور کو یہ بات سمجھانے والا وہاں کوئی نہیں ہے
وہ فریش ہو کر باہر نکلی تو انہیں بیڈ پر بیٹھا دیکھا لیکن نظر انداز کرتے ہوئے شیشے کے سامنے جارکی
بیٹاسائیں یہ آپ کی گردن پر کیا ہوا ہے ۔۔۔۔؟وہ جو کب سے اسے آئینے میں تیار ہوتا دیکھ رہی تھیں اس کی گردن دیکھ کر پریشانی سے اس کے پاس آرکیں
کچھ نہیں شاید کوئی چیز لگی ہوگی ۔خیر کوئی فرق نہیں پڑتا مجھے وہ ڈوپٹےسے اپنی گردن چھپاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی ۔
°°°°
اسلام علیکم وہ ان سب کو دیکھتے ہوئے اپنی کرسی تلاش کرنے لگی۔ جب سرمد شاہ نے بے حد پیار سے اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے اسے اپنے پاس بلایا ٹیبل پر ان کے دائیں اور بائیں دونوں کرسیاں خالی تھی یقیناً ایک اس کی تھی اور دوسری ہمنہ کی ۔
جبکہ ثانیہ اس کے سامنے پار والی سیٹ پر تھی ۔بنا کسی کو کوئی خاص ریسپوںس دیئے اس کرسی پر آکر بیٹھی جہاں سرمد نے اشارہ کیا تھا
بیٹا سائیں آپ کیا کھائیں گی ۔۔ہمارے گھر میں ناشتے میں ہر کوئی اپنی پسند کا کھانا بنواتا ہے کیونکہ اکثر رات اور دوپہر کا کھانا یہ لوگ باہر کھاتے ہیں یا پھر یہ سارے لیٹ ا کر کھاتے تھے صبح کا وقت ہی ہوتا ہے جب ہم سب گھر میں ساتھ ہوتے ہیں
ہمارے گھر کا ایک اصول ہے ناشتہ سب مل کر کرتے ہیں اسی لئے تو ہم سب کب سے آپ کے آنے کا انتظار کر رہے تھے زرین تائی نے بے حد پیار سے کہا
او آپ سب کو میری وجہ سے بہت انتظار کرنا پڑا اس کے لیے میں سچ میں بہت شرمندہ ہوں لیکن آپ لوگ کھانا کھالیا کرے کیونکہ میں تو ویسے بھی یہاں سے چلی جاؤں گی تو میری وجہ سے آپ لوگوں کو اپنی روٹین خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔وہ بہت لیے دیے انداز میں کہتی سامنے چنگیر میں پڑاپراٹھااٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھ چکی تھی
ماشاءاللہ میری جان آج بھی آپ کو آلو کا پراٹھا پسند ہے جب آپ یہاں آئی تھی نا تب بھی فرمائش کرکے مجھ سے آلو کا پراٹھا بنواتے تھی اور پھر دارم سائیں کے ساتھ تو آپ کو ضد تھی
جو دارم سائیں کھائیں گے میں وہی کھاؤں گی ۔زرین تائی مسکراتے ہوئے بولی تو اس کے ہاتھ رک گئے
آپ کو تو یاد بھی نہیں ہوگا بیٹاسائیں آپ صرف چند دن ہی یہاں رکی تھی لیکن دارم سائیں کے ساتھ آپ کی دوستی ایسی ہوگئی تھی کہ جب تک آپ آدھا پراٹھا نہ کھا لیتی دارم سائیں پراٹھے کو چھوتے بھی نہیں تھے۔
زرین تائی اپنے ہی دھیان میں بولے جا رہی تھیں جبکہ ان کی بات پر سب لوگ مسکرا رہے تھے
۔
آپ کو پتا ہے بیٹا سائیں پندرہ سال بعد آج دارم سائیں نے فرمائش کی تھی آلو کے پراٹھے کی یقیناً آپ کے لیے ہی کی ہوگی ۔
ایسا کچھ نہیں ہے مجھے یہ پسند نہیں بس اچھا لگا۔اٹھا لیا ورنہ تو میں نے کبھی اسے ٹیسٹ بھی نہیں کیا اور نہ ہی مجھے اس کا ٹیسٹ پتا ہے
تو انتظار کس چیز کا کر رہی ہو اگر دیکھنے میں اچھا لگ رہا ہے تو کھانے میں بھی اچھا لگے گا شروع کرو ۔سنان نے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
آئی تھنک یہ میرے لیے نہیں ہے جس کے لیے ہے وہی کھائے مجھے کچھ اور بنا دیں وہ پراٹھا واپس چنگیر میں رکھتے ہوئے بولی اسے کسی کا حصہ کھانے کی عادت تھی وہ تویہاں بھی اپنا حق لینے آئی تھی ۔
یہ کسی غیر کا نہیں ہے ۔جس کا ہے اس کی ہر چیز پر تمہارا برابر کا حق ہے ۔اصغر شاہ نے مسکرا کر کہا یہ جانے بغیر کہ وہاں کوئی اور بھی موجود ہےجو ان کی اس بات سے سر سے پیر تک سلگ اٹھا ہے ۔
دارم سائیں ہے کہاں ۔۔۔؟یہاں ناشتہ شروع ہوچکا ہے نہ تو ساحرسائیں یہاں ہے اور نہ ہی دارم سائیں جب کہ میں نے کہا بھی تھا کہ آج سب لوگ مجھے ٹیبل پر ملو ۔تایاسائیں بہت غصہ ہو رہے تھے جب کہ دارم کو دیکھنے کے لیے تو خود بھی بہت بے چین تھی
رات کے اندھیرے میں اس نے جو بے باکی دکھائی تھی اس کا انعام وہ اسے دن کے اجالے میں دینے کا ارادہ رکھتی تھی ۔
وہ جاننا چاہتی تھی جب اس کی رات والی حرکت وہ سب کے سامنے بتائے گی تو وہ کیا ری ایکشن دے گا ویسے ہی جیسے اس خاندان کے مرد دیتے ہیں اسے یقین تھا ۔
وہ مردان خانے میں ہیں صبح صبح کچھ لوگ آئے ہیں گاؤں کے کوئی مسئلہ ہو گیا ہے وہ سب لوگ وہیں بیٹھے ہوئے ہیں دارم سائیں اور ساحرسائیں بھی وہی ہیں تایا سائیں ۔سنان نے بتایا تایاسائیں بنا کچھ بولے ہاں میں سر ہلا گئے ۔
اس نے بڑی مشکل سے آدھا پراٹھا کھایا تھا اسے ختم کرنا واقع ہی اس کے بس سے باہر تھا ۔
کیا ہوا بیٹاسائیں نہیں کھایا جا رہا ۔دارم سائیں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ ایک ہی بنائیں آدھا میرا اور آدھا میری در کا۔
اتنے اچھے سے جانتا ہے نا دارم سائیں تمہیں بالکل بھی نہیں بدلی ہو اتنے سالوں میں ویسی کی ویسی ہی آئی ہو ۔زرین تائی نے مسکراتے ہوئے کہا کل ان کا لہجہ بہت لیادیا تھا لیکن اب وہ بالکل نارمل تھیں
شاید یہ سب لوگ دکھاوا کر رہے تھے عجیب مٹھاس بھرے لہجے تھے ان کے ۔
وہاں موجود ہر شخص اس وقت صرف اور صرف نور کو اہمیت دے رہاتھا اور ثنا سے یہ چیز برداشت نہیں ہو رہی تھی وہ غصے سے وہاں سے اٹھتی اندر چلی گئی
وہ تو خدا کا شکر ہے کہ زیادہ کسی نے محسوس نہیں کیا تھا اس بات کو ورنہ زرین بیگم تو پریشان ہو گئی تھیں
°°°°°
میری جان رونا بند کرو کیا ہو گیا ہے تمہیں اس طرح سے رونے سے کیا ہوجائے گا ملتا وہی ہے جو نصیب میں لکھا ہوتا ہے ہم نصیب کا لکھا بدل تو نہیں سکتے ۔
تمہیں اس طرح سے وہاں سے اٹھ کر نہیں آنا چاہیے تھا کیا سوچ رہے ہو کہ سب لوگ اپنی بیٹی کو یوں سب کے بیج سے اچانک اٹھ کر اندر آتے دیکھ وہ اس کے پیچھے آئی تھیں۔
اماں سائیں میں کیا کروں مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا یہ سب کچھ وہ لڑکی میری سامنے مجھ سے دارم سائیں کو چھین کر لے جائے گی اور میں کچھ بھی نہیں کر پاؤں گی
اماں سائیں پلیز کچھ کریں تائی امی نے آپ سے میرا رشتہ مانگا تھا نا ۔۔آپ نے بھی انہیں ہاں کر دی تھی تو پھر وہ سب لوگ نور کو اتنی اہمیت کیوں دے رہے ہیں ۔۔؟
تایا سائیں اور سنان ادا کیوں دارم سائیں پر نور کا حق کہہ رہے ہیں ۔ان پر بلا نور کا حق کیسے ہو سکتا ہے ۔وہ تم میرےہیں نا ان پر تو میرا حق ہونا چاہیے
اٹھیں چلیں اور ابھی اسی وقت جاکر تایا سائیں اور تائی امی سے بات کریں انہیں بتائیں کہ دارم سائیں میرے ہیں اٹھیں اور چلیں ابھی میرے سامنے بات کریں وہ ان کا ہاتھ تھامے انہیں زبردستی اٹھنے پر مجبور کرنے لگی ۔
ثنا بے وقوف لڑکی یہ کیا بچپنا ہے ہاں یہ سچ ہے کہ ہم نے تمہارا رشتہ دارم سائیں کو دیا تھا لیکن حالات اب پہلےجیسے نہیں ہیں ۔اور وہ صرف ایک سرسری سی بات تھی جو وقت کے ساتھ ختم ہو گئی
تمہارا دارم سائیں پر کوئی حق نہیں ہے حق وہ لڑکی رکھتی ہے تمہارا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔بہتر ہے کہ انہیں بھول جاؤ خبردار جو تم نے کوئی بھی الٹی سیدھی حرکتیں کی ۔
آئندہ میں تمہارے منہ سے اس طرح کی کوئی بات نہ سنوں۔ ہم جلد ہی تمہارے لئے کوئی اچھا رشتہ دیکھ کر تمہارے ہاتھ پیلے کر دیں گے ۔
یقینا تمہارے نصیب میں دارم سائیں سے بھی اچھا انسان لکھا ہوگا وہ تو خدا کا شکر ہے کہ بات زیادہ آگے بڑھی ہی نہیں تھی بلکہ دارم سائیں کے تو کانوں میں ابھی تک یہ بات پڑی ہی نہیں تھی کہ میں اور بھابھی سائیں تمہیں اوردارم کر ایک ساتھ سوچ رہے ہیں ورنہ گھر میں قیامت آ جاتی وہ اسے سمجھاتی اٹھ کر باہر نکل گئی جبکہ ثنا کو ان کی کسی بات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا
اسے پتہ تھا تو صرف اتنا کہ دارم اس کا ہے اور وہ اسے کبھی نور کا نہیں ہونے دے گی
°°°°°
جلدی چلے دارم سائیں بہت بھوک لگی ہے صبح صبح ہم کیسے الٹے سیدھے مسئلے کر بیٹھ جاتے ہیں اب اس چیز کا کوئی سر پیر ہے مجھے تو سمجھ میں نہیں آتا آپ کیسے ہیں ان سب کے ساتھ اپنا دماغ کھپا لیتے ہیں مجھ سے تو دو دن ہینڈل نہیں ہوتے ہیں یہ لوگ وہ اچھا خاصہ جھنجلایا ہوا تھا جبکہ اس کی بات پر دارم سائیں کے گھنی مونچھوں تلے عنابی لب مسکرائے تھے ۔
یہی تو تمہارے ساتھ مسئلہ ساحرسائیں تم ان لوگوں کی تکلیف کو اپنی تکلیف نہیں سمجھتے جب سمجھنے لگوگے تب تمہیں یہ سب کچھ آسان لگنے لگے گا
خیر تم حال کے رستے ناشتے کی ٹیبل پر جاؤ میں گھر کے اندر سے آتا ہوں ۔وہ اسے اچانک ہی روکتے ہوئے بولا تو ساحر حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا ۔
لیکن میں وہاں سےکیوں جاؤں ہم اکٹھے ہی تو جا رہے ہیں اس نے پوچھتے ہوئے ایک نظر گلی کی جانب دیکھا جہاں وہ اکیلی شاید حویلی دیکھنے کی غرض سے بھٹک رہی تھی ۔
تو کزن سائیں آرہی ہے ۔۔صحیح ہے۔آپ جائیں ہم حال کے راستے سے آتے ہیں وہ بنا کوئی بحث کئے وہاں سے باہر نکل گیا جب کہ دارم سائیں دلکشی سے مسکراتے ہوئے اپنے قدم اس کی جانب بڑھ چکا تھا ۔
اپنے سامنے خوبرو نوجوان کو آتے دیکھ وہ ایک پل کو ٹھہری تھی
کیا وہ اسے پہچان چکی تھی یا یہ غلط فہمی تھی وہ خود سے سوال کرتی آگے بھری
ناشتہ کر لیا ۔۔۔؟وہ اس کے سامنے رکتے ہوئے پوچھنے لگا تو نور نے ایک نظر اس سے دیکھا
کیا ہم پہلے ملے ہیں ۔۔۔!اس نے کافی دیر کے بعد سوال کیا تو دارم سائیں کاقہقہ بے ساختہ تھا۔
جی ہاں جانم سائیں ملاقات تو ہماری ہو چکی ہے اور یقین کرے اتنی دلکش اورخوبصورت ملاقات تھی کہ دارم شاہ اب تک اس ملاقات کے حصار میں پوری طرح سے قید ہے۔وہ فاصلہ مٹا اس کے بالکل قریب سرگوشی نما آواز میں بولا
اووو تو تم وہی ہو جس نے کل رات میرے ساتھ بدتمیزی کی تھی تمہارا ۔۔۔۔۔
زبان سنبھال کر ہمارے ہاں کی عورتیں اپنے سر کے سائیں سے یوں بدتمیزانہ انداز میں بات نہیں کرتی اگر اب تمہاری زبان سے تم نکلا تو زبان گدی سے کھینچ لوں گا ۔
اس کی دھار پر اس کا اندراس دل کانپ اٹھا تھا
‏‏تم ۔۔۔۔مجھ ۔۔۔سے۔۔۔۔۔
کیا کہا پھر سے کہنا ۔اس کے دو بارہ تم کہنے پر وہ اس کے اتنے قریب آ گیا تھا کہ ان دونوں میں انچ بار کا فاصلہ بھی نا رہا
میرا مطلب ہے آپ مجھ سے ایسے بات نہیں کر سکتے۔ آپ نے کل رات میرے ساتھ بدتمیزی کی ہے ۔۔۔۔ “
میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی اپنا حق لیا ہے اور وہ بھی بالکل تھوڑا سا اور ویسے بھی مجھے پندرہ سال انتظار کروایا ہے تم نے اتنی سی سزا تو بنتی ہے ۔وہ بے باکی سے اس کی گردن سے دوپٹہ ہٹا کر اپنا دیا ہوا نشان دیکھنے لگا ۔
ذرا سے نشان پر اتنے ڈرامے کر رہی ہو ۔اور جب میں پورا پورا حق لینے پر آگیا تب کیا کرو گی ۔اس کے نشان کو نرمی سے سہلاتے وہ اس سے سوال کر رہا تھا
میں تایا سائیں کو بتاؤں گی۔۔۔”
تو وہ کیا کریں گے ۔۔!
وہ پوچھیں گے آپ سے ۔۔”
ہمارے ہاں باپ اپنے بیٹوں سے ایسے سوال نہیں پوچھتے ۔۔۔لیکن پھر بھی اگر تم بتانا چاہتی ہو تو آزما کر دیکھ لو یقین کرو تمہارے بتانے سے فائدہ مجھے ہی ہوگا ۔
خیر دوپٹہ سر پر لو ۔مجھے پسند نہیں میری منکوحہ ننگے سر ملازموں کے بیچ گھومتی رہے۔ اب یہاں میرے پاس آ گئی ہو تومیرے اصولوں کو بھی اپنے اس چھوٹے سے دماغ میں بٹھا لو
دارم شاہ کی ملکیت ہو تم ۔اپنے آپ کو ہر بری نظر سے بچا کر رکھنا فرض ہے تمہارا ۔مجھے میری امانت میں رتی بھر خیانت پسند نہیں ۔جاؤ آرام کرو رات کو ملاقات ہوگی اندھیرے میں وہ نرمی سے اس کا گال تھپتھپاتا آگے بڑھ گیا جب کہ اسے خود پر حیرت ہو رہی تھی کہ وہ اسے کچھ بول کیوں نہیں پا رہی