Dost Daram By Areej Shah Readelle502301 (Dost Daram) Episode 2
Rate this Novel
(Dost Daram) Episode 2
سیم ڈارلنگ تم نے نور سے بین کے بارے میں بات کی ہے یا نہیں وہ بہت زیادہ پریشان ہے نور کو لے کر تین مہینے ہونے کو ہیں نور کی طرف سے کوئی جواب نہیں مل رہا
میں نے آج بین سے بات کرکے اسے یقین دلایا ہے کہ نور کا جواب ہاں ہی ہوگا
لیکن تم کچھ بھی نہیں کر پائی ہو تم جلد سے جلد اس سے بات کرو تم جانتی ہو میرا بھانجا کتنا اچھا ہے وہ تمہاری بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے اور میرا نہیں خیال کہ اسے شادی پر کوئی اعتراض ہوگا وہ صرف ڈیٹ کے لئے ہی منع کر رہی تھی نہ
تم مسلمانوں کا یہ بڑا پرابلم ہے پہلے شادی کرو پھر بات آگے بڑھے گی بعد میں اگر انڈرسٹینڈنگ ہی نہ ہو تو میں کہتا ہوں شادی کا فائدہ ہی کیا ہے لیکن بین تمہاری اور تمہاری بیٹی کی پرابلم کو سمجھتے ہوئے اس کے سامنے شادی کا پر پوزل رکھ رہا ہے
لیکن تم نے نور سے ابھی تک اس بارے میں بات ہی نہیں کی تم بتاؤ نورکو بین کتنا امیر ہے لڑکیاں اس کے دائیں بائیں گھومتی ہیں
اس کی صرف ایک جھلک دیکھنے کے لیے مری جا رہی ہیں لیکن وہ تمہاری بیٹی سے محبت کرنے لگا ہے اور اس کی طرف سے کوئی جواب ہی نہیں مل رہا دیکھو سیم میں تمہیں ایک بات کلیئر بتا دینا چاہتا ہوں
میں آگے فیوچر میں بین کے ساتھ اپنا بزنس شروع کرنا چاہتا ہوں اور میں اس میں کسی قسم کی کوئی پرابلم نہیں چاہتا
تمہیں یہ بات سمجھنی ہوگی اور اپنی بیٹی کو سمجھانی بھی ہوگی ۔تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتی کہ یہ ڈیل میرے لیے کتنی زیادہ اہم ہے
میں سمجھ سکتی ہوں مائیک تم ٹینشن مت لو میں بات کروں گی نور سے وہ کیا ہے نہ آج کل وہ اپنے ایگزامز کو لے کر تھوڑی پریشان ہے اور پھر اس کی جاب بھی چھوٹ گئی تھی تو مجھے اس وقت بات کرنا کچھ عجیب لگا
تم اسے جاب مل جانے دو اس کے بعد میں سکون سے اس سے بات کروں گی وہ شادی سے انکار نہیں کرے گی تم فکر مت کرو میں اسے ہر حال میں منا لوں گی سمرہ نے اسے یقین دلایا
ٹھیک ہے میں انتظار کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن مجھے جواب ہاں میں چاہیے یہ بات تم اچھی طرح اپنے دماغ میں بٹھا لو
میں اس ڈیل کو کسی بھی طرح ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتا میں اس پر کسی قسم کا کوئی رسک لینے کو تیار نہیں ہوں سیم وہ اسے بے حد سختی سے کہہ رہا تھا یقینا یہ ڈیل اس کے لیے بے حد اہم تھی بین اس کا بھانجا تھا
جو کہ پیسے اور رتبے کے معاملے میں اس سے بہت آگے تھا ۔اور اب وہ اس کے ساتھ مل کر بزنس شروع کرنا چاہتا تھا تاکہ بین کی عقل اور اس کے پیسے سے اس کا بزنس بھی اس کے لیول کی ترقی کر سکے
°°°°°
خدارا موم بس کر دیں میں آپ کو ہزار بار کہہ چکی ہوں کہ مجھے اس بین اور اس کے پیسے میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے میں اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی ہوں
مجھے نہیں چاہیے حرام کے پیسے وہ رکھیں اپنے پاس اپنے پیسے اور نہ ہی مجھے چار دن کی شادی کرنے کی ضرورت ہے
اور اب آپ بہانے بنانے کے بجائے اپنے بوائے فرینڈ کو حقیقت بتائیں میں کبھی بین سے شادی نہیں کروں گی ۔
تو پھر کس سے کروں گی شادی اپنے باپ کے گنوار بھتیجے سے ۔اس سے جس کے ساتھ تمہارا باپ تمہیں ساری زندگی کے لئے بسا دینا چاہتا ہے
وہ ان پڑھ گوار جاھل جو عورت کو اپنے پیر کی جوتی سمجھتے ہیں ان لوگوں کے بیچ گھسنا چاہتی ہو تم
آدھی زندگی حویلی کی چار دیواری کے ایک کمرے میں پڑے رہو کسی غیر مرد کے سامنے مت جاؤ بڑا سا دوپٹہ ہر وقت اپنے اوپر لپیٹ کر رکھو ۔
تمہارے شوہر کے علاوہ تمہیں کوئی غیر مرد نہ دیکھ سکے تف ہے ایسی زندگی پر میں نے پانچ سال تمہارے باپ کے ساتھ برباد کئے ۔
وہ میں تھی جو اس گنوار آدمی کے ساتھ پانچ سال تک اپنا آپ برباد کرتی رہی میں نے تو نہ جانے کیسے اس شخص کو لندن آنے پر مجبور کر دیا ۔
ورنہ میری زندگی بھی شاید ان گنوار عورتوں کی طرح ہوتی جو اس حویلی میں رہتی ہیں
لیکن یہاں آنے کے بعد بھی اس شخص کی باتوں اور روک ٹوک نے مجھے اس سے طلاق لینے پر مجبور کر دیا
تمہارے پیدا ہونے کے بعد بھی اس شخص نے اپنی عادت نہیں چھوڑی وہ شخص کبھی نہیں بدل سکتا اور جس شخص کے ساتھ وہ تمہاری شادی کرنا چاہتا ہے نہ وہ اس سے بھی چار قدم آگے ہے ۔
مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ تم کیسے رہو گی ان سب کے بیچ وہ تو خدا کا شکر ہے کہ یہ سب کچھ ختم ہوگیا اور تمہارے باپ نے کبھی مڑ کر دیکھا ہی نہیں ۔
اس نے وہاں شادی کرلی ہے اور اس کی ایک بیٹی بھی ہے جو یقینا تم سے زیادہ اہم ہے اس کے لئے تبھی تو اس کے آنے کے بعد اس نے کبھی تمہاری خبر تک نہیں لی ۔
اسی لیے بہتر ہو گا کہ اپنے باپ کے غم سے نکل کر اصل زندگی کی طرف آ جاؤ تم بالغ ہو اپنی مرضی سے شادی کر سکتی ہوں اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتی ہوں اور بین ایک بہت اچھا انسان ہے وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا وہ تمہاری زندگی کی ہر خواہش کو پورا کرے گا
مجھے نہ تو آپ کی اس بحث میں انٹرسٹ ہے اور نہ ہی آپ کے بوائے فرینڈ کے اس بھانجے میں
میں کہاں شادی کروگی کیا کروں گی اس کا فیصلہ میں کروں گی کوئی میرے ساتھ زور زبردستی نہیں کرسکتا
اور اگر میرے باپ کو میری ضرورت نہیں ہے تو اب مجھے بھی ان کی ضرورت نہیں ہے میں خوش ہوں اپنی زندگی میں یہ کہتے ہوئے اس کے لہجے میں اداسی در آئی تھی
سمرا نے بھی محسوس کر لیا تھا ابھی سمرا کچھ اور کہتی وہ فون رکھ چکی تھی
°°°°°
اسے اپنی ماں پر بھی غصہ آ رہا تھا جو اس کا انکار اپنے شوہر تک پہنچانے کی بجائے بہانہ بنا رہی تھی تین ماہ پہلے وہ اپنی ماں سے ملنے اس کے گھر گئی تھی جب اس کی طبیعت کچھ خراب تھی وہی پر مائک سے ملنے کے لئے اس کا بھانجا آیا ہوا تھا
جو اسے دیکھتے ہی اس پر بری طرح فدا ہو چکا تھا پہلے تو وہ اس کے ساتھ ڈیٹ مارنے کے لیے کافی بے چین رہا لیکن جب اسے پتہ چلا کہ نور اس میں بالکل بھی کوئی انٹرسٹ نہیں دکھا رہی تو وہ شادی کا پرپوزل بیھجنے لگا جس کے جواب میں وہ صاف انکار کر چکی تھی
اسے مائیک کے ساتھ ساتھ اس کے سارے خاندان سے نفرت تھی اس کی وجہ سے اس نے بہت نقصان اٹھایا تھا وہ چار سال کی تھی جب اس کے باپ نے سمرہ کو طلاق دے دی سمرہ رشتے میں اس کے باپ کی کزن تھی لیکن آزادانہ ماحول میں رہنے کی وجہ سے سمرہ کی سوچ بھی کافی زیادہ آزادانہ تھی وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اس کے ماں باپ نے زبردستی اس کی شادی اس کے باپ سرمد سےکر دی ۔
جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سرمد شاہ پوری کوشش کے باوجود یہ رشتہ بچا نہ سکے انہوں نے بہت سمجھایا لیکن وہ نہ مانی اور آخر میں شادی کے بعد بھی اپنا افیئر جاری رکھا وہ سب کچھ برداشت کر سکتے تھے لیکن یہ چیز ان کی برداشت سے باہر تھی
اپنی بیوی کے شادی کے بعد اس آفیئر کو وہ قبول نہ کر سکے اور سمرہ کو طلاق دے دی
طلاق کے بعد چار سالہ نور انگلش گورنمنٹ کے فیصلے پر ہمیشہ کے لئے اپنی ماں کے پاس آ گئی
سرمد نے پانچ چھ بار نور کی کسٹڈی کی اپیل کی تھی لیکن وہ اسے حاصل نہ کرسکے جبکہ کسٹڈی کے بعد ایک بڑی رقم انھیں سمرہ کو دینا لازم کر دی گئی
وہ تقریبا ایک سال تک ہر اتوار کے دن اس سے ملنے آتے رہے اور پھر ایک دن وہ غائب ہوگئے پھر وہ کبھی بھی اسے ملنے کے لیے واپس نہ آئے تھے
اس کی ماں کو ہر ہفتےپیسے ملتے رہے جو کہ اب تک مل رہے تھے لیکن جس کا انتظار نور کی آنکھیں کرتی رہی وہ کہیں کھو گئے تھے
پھر ایک دن اس کی ماں نے اسے بتایا کہ پاکستان جاکر اس کے باپ نے نہ صرف دوسری شادی کرلی ہے بلکہ وہ ایک بیٹی کا باپ بھی ہے جس سے یقینا وہ نور سے زیادہ محبت کرتا ہے تبھی تو وہ اس کی پرواہ کیے بنا اسے چھوڑ کر چلا گیا
وہ تقریبا نو سال کی تھی جب اس کی ماما نے اپنا گھر بیچ کر اپنے بوائے فرینڈ کے گھر رہائش اختیار کر لی اور وہ ا سے بھی اپنے ساتھ لے آئی تھی مائیک کی حرکتیں اسے بہت عجیب لگتی تھی اس کی ماں کے ساتھ اس کا نازیبا حرکتیں اس کی ماں کو عجیب لباس میں محفلوں کی رونق بنانا اسے بہت برا لگتا تھا لیکن شاید اس کی ماں کو ان سب باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا
وہ آزادانہ ماحول میں پلی تھی ان سب چیزوں کو بہت انجوائے کرتی تھی
لیکن پھر ایک دن پانی اس کے سر سے اوپر چلا گیا جب اس شخص نے اس کے کمرے میں آ کر اس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی اس وقت وہ اسے نہ صرف برے طریقے سے چھونے کی کوشش کرتے ہوئے اس کے کپڑے پھاڑ رہا تھا بلکہ اسے بہت بری طرح سے زخمی بھی کر گیا تھا
اس کے شور مچانے پر گھر کے سارے ملازموں کے ساتھ اس کی ماں بھی وہاں آ گئی
اور اس کی عزت پر کوئی داغ لگنے سے بچ گیا لیکن اب وہ اس شخص سے بہت خوفزدہ رہنے لگی تھی اس نے اپنی ماں کو فیصلہ سنا دیا کہ وہ یہاں نہیں رہے گی بلکہ ہوسٹل میں رہے گی اس کا سارا خرچہ اب تک انگلش گورنمنٹ اور اس کا باپ اٹھاتا ہے اس لیے وہ اپنی مرضی کی مالک ہے
مائک کو یہ ڈر لاحق ہوگیا تھا کہ کہیں وہ اس کی نیت کو سمجھ کر پولیس میں نہ چلی جائے اور یہی وجہ تھی کہ اس نے سمرہ کو اپنی محبت کا یقین دلانے کے لیے اس سے اگلے دن ہی شادی کر لی ۔
لیکن اب اس کے پاس کسی بھی قسم کے کوئی پیسے نہیں آتے تھے کیونکہ وہ 18 سال سے اوپر ہو چکی تھی اس کی 18ویں سالگرہ کے ساتھ ہی اس نے اپنا خرچہ اٹھانا شروع کردیا تھا ایک جاب کے ذریعہ جبکہ جو پیسے باپ کی کسٹڈی کے طور پر اسے ملنے چاہیے تھے وہ اس کی ماں کے پاس جاتے تھے جو اسے کبھی نہ ملے ۔
اور نہ ہی اس نے کبھی ضرورت محسوس کی ان تین ماہ میں وہ دو نوکریاں چھوڑ چکی تھی جب کہ ایک سے پرسوں ہی اسے نکال دیا گیا تھا اور کل ایک ریسٹورنٹ میں جانے والی تھی جہاں اسے اچھی آفر ملی تھی
°°°°°
دیکھو سرمد کون آیا ہے تمہارا شیر آگیا کب سے ڈھونڈ رہے تھے نہ تم اسے دارم سائیں نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا اصغر سائیں نے سب کا دھیان اس کی طرف دلایا تھا
سرمد جو بیڈ پر بے حال پڑے تھے ایک نظر اس کی جانب دیکھ کر مسکرائے تھے نہ جانے کیوں جب بھی وہ دارم کو دیکھتے تھے ان کے دل میں سکون اترتا تھا
بڑی بی بی اور ہمنا چاچی اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
السلام علیکم وہ گھبیر آواز میں سب کو سلام کرتا کمرےکے اندر داخل ہو گیا
چچا سائیں کیسے ہیں آپ۔۔۔؟ وہ ہمنا چاچی کی چھوڑی ہوئی جگہ بیٹھتے ہوئے ان سے پوچھنے لگا ۔
زواش زرنیش بیٹا جاؤ اداسائیں کے لیے کھانا لگاؤ ثانیہ میری جان تم بھی جاؤاپنے پیپر کی تیاری کرو وہ تینوں بچیوں کو وہاں سے اٹھاتے ہوئے بھیج چکی تھیں ۔کیونکہ چاچا سائیں کو دارم سے بہت اہم بات کرنی تھی
سنان اور ساحر دنوں شکار پر گئے تھے اب تک ان کی واپسی نہیں ہوئی تھی ۔
کیا بات ہے کس بات کی پریشانی ہے آپ کو کیوں اپنی طبیعت اس حد تک خراب کر رکھی ہے آپ نے مجھے بتائیں تو سہی اپنی پریشانی کی وجہ آپ کا بی پی خطرناک حد تک ہائی ہے۔وہ ان کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھامے ہوئے ان سے وجہ پوچھنے لگا
بارہ سال دارم سائیں میں تنگ آگیا ہوں اب اور برداشت نہیں ہوتا مجھ سے صرف ایک بار صرف ایک بار اسے اپنے سینے سے لگانا چاہتا ہوں میں وہ سسکتے ہوئے بولے تو ہمناچاچی بھی اپنے منہ پر دوپٹا رکھ کر رونے لگی
بس بہت ہوگیا سرمد سائیں میں نے تمہیں کتنی دفعہ منع کیا ہے کیوں پریشان ہو رہے ہو اپنی بیٹی کیلئے ویسے بھی اب وہ 18 سال کی ہو چکی ہے اب وہ اپنی مرضی کی مالک ہے
میں اگلے ہفتے لندن جانے والا ہوں۔میں تمہاری بیٹی سے ضرور ملوں گا اور اسے واپس آنے کے لیے بھی کہوں گا آگے اس کی مرضی اصغر شاہ نے بھائی کو سمجھاتے ہوئے کہا
اس کی نہیں بابا سائیں ہماری مرضی 18 سال کی ہو چکی ہے تو لے آئیں اسے یہاں پر اب وقت آ گیا ہے کہ وہ بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائے بس آزادی ختم وہ گھمبیر انداز میں بولا
دارم سائیں ہوش سے کام لیں آپ جانتے ہیں کہ اس کی ماں کس طرح کی عورت تھی ۔طیبہ بیگم (دارم کی ماں )دبی دبی سی آواز میں احتجاج کرنے لگی
اماں سائیں اس حویلی میں سرمد شاہ ایک ہی ہے دارم شاہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھانا اور سمجھنا اچھی طرح سے جانتا ہے ۔
وہ مونچھوں کو ہلکا سا تاو دیتا اٹھ کر باہر نکل آیا
جبکہ اس کے فیصلے نے سب کو پریشان کر دیا تھا
°°°°
اداسائیں ڈاکٹر نے کہا ہے چاچا سائیں کا بی پی بہت زیادہ ہائی ہے ہسپتال میں ایڈمٹ کرنا ہوگا حالت دن بدن خراب ہورہی ہے
اوپر سے ثانیہ کو بھی بخار ہے کل اس کا پیپر بھی ہے تو مجھے اس کی بھی ٹینشن ہو رہی ہے آپ اگر بہتر سمجھیں ایک بار اس سے بات کر لیں میرا نہیں خیال کہ وہ صبح پیپر دینے جا پائے گی
ساحر تھوڑی دیر پہلے ہی سنان کے ساتھ شکار سے لوٹا تھا ۔جب دارم سائیں کا چھت پر آنے کا پیغام ملا
تم پریشان نہ ہوساحر میں بات کر لوں گا اس سے تم کل ہی چاچا سائیں کو ہسپتال میں ایڈمٹ کروا دو باقی بابا سائیں لندن جا رہے ہیں اگلے ہفتے چاچا سائیں کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا
اور بتاؤ تمہارا شکار کیسا رہا ۔۔؟کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا ۔
آپ کے ہوتے ہوئے کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے کیا ملک کے چمچوں نے پیچھا تو کیا تھا ۔لیکن نہ جانے کیسے وہاں ہمارے لوگ آ گئے انہوں نے سب کچھ ہینڈل کر لیا سنان کو یقین تھا کہ آپ نے ہی ان لوگوں کو وہاں بھیجا ہے
اور واجد علی کی بیٹی کا نکاح یوں اچانک اتنی سادگی سے کیوں کیا گیا کوئی خبر ہے آپ کو ۔۔۔؟اسے اچانک ہی واجد علی اور اس کی بیٹی کا خیال آ گیا تھا
نہیں میں اپنے کام سے کام رکھتا ہوں ساحرسائیں۔ خیر تم بیٹھو میں ذرا ثانیہ سے مل لیتا ہوں وہ اٹھتے ہوئے بولا تو ساحر صرف ہاں میں سر ہلاتا چائے کا کپ اپنے ہاتھ میں لے چکا تھا
°°°°°
چاچا سائیں نور سے ملنا چاہتے تھے جبکہ وہ عورت انہیں اس کی شکل بھی نہیں دکھانا چاہتی تھی 14 سال پہلے بھی اس نے بہت گیم کھیلی تھی ۔
اس نے بہت ہوشیاری سے نور کی کسٹڈی نہ صرف اپنے نام کروا لی تھی بلکہ وہ اس کا سارا خرچہ بھی خود ہی اٹھانے لگے تھے لیکن کتنی صفائی سے اس عورت نے یہ حق بھی چھین لیا پندرہ سال سے اپنی بیٹی کی شکل تک نہیں دیکھ پائے تھے
ثانیہ نے الگ رو رو کر اپنی حالت خراب کر رکھی تھی کل سے اس کے ایگزیم شروع ہو رہے تھے اور وہ چاہتا تھا کہ وہ اگزیمز ضرور دے وہ کمرے میں دستک دیتے ہوئے اندر داخل ہوا تو دیکھا سامنے بیڈ پر روتی ہوئی ثانیہ کے ساتھ زاوش اور زرنیش بیٹھی اسے حوصلہ دے رہی تھی ۔
جبکہ ثنا آئینے کے سامنے کھڑی تھی اسے دیکھتے ہی زاوش اور زرنیش نے اپنے سر پر دوپٹے ٹھیک کیے اور اٹھ کر کھڑی ہو گئی ۔
مجھے ثانیہ سے بہت ضروری بات کرنی ہے تم سب جاؤ یہاں سے وہ حکمرانہ انداز میں بولا تو وہ دونوں سر ہلاتی باہر نکل گئی جبکہ ثنا ابھی تک کھڑی اسے دیکھ رہی تھی
میں تو ثانیہ کو سمجھانے آئی تھی کہ پریشان نہ ہو انشاللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور مجھے اب چاچا سائیں کی طبیعت بھی کافی بہتر لگ رہی ہے اگر اللہ نے چاہا تو وہ بہت جلد صحت یاب ہو جائیں گے اب عمر ہو گئی ہے تو طبیعت تو خراب ہو ہی جاتی ہے وہ اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی
جاؤ یہاں سے باہر وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے سخت لہجے میں بولا تو ثناء نے ایک نظر ثانیہ کی جانب دیکھا اور کمرے سے باہر نکل گئی اس کا سخت لہجہ اسے ہمیشہ بہت کچھ باور کروا جاتا تھا ۔
اس کے جاتے ہی وہ ثانیہ کی طرف دیکھتا اس سے مخاطب ہوا کہ کل سے تمہارے ایگزیم شروع ہونے جا رہے ہیں میری خواہش ہے کہ تم آٹھویں جماعت میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے میڈیکل شروع کرو اب تم بتاؤ کیا تم میری اس خواہش کو پورا کرو گی وہ بات کو گھمانے کا عادی نہیں تھا جو اس کے دل میں چلتا تھا وہ سامنے بیان کر دیتا تھا جس طرح اس وقت کر رہا تھا
ادا سائیں بابا سائیں کو کچھ ہوگا تو نہیں وہ اپنے آنسو روک نہیں پائی تھی
چاچا سائیں کو کچھ نہیں ہوگا گڑیا تم بالکل بے فکر ہو کر اپنے پیپر کی تیاری کرو بابا سائیں لندن جا رہے ہیں وہ اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
کیا تایا سائیں کسی ڈاکٹر کو لینے جا رہے ہیں
یہ تیرہ سالہ لڑکی اس کے لیے عزیز تھی جس کا انداز اسے وہ ننھا سا وجود یاد کرواتا تھا جو اس کے لیے بہت خاص تھا
ہاں وہ تمہارے بابا کے علاج کو بھی ساتھ لے کر آئیں گے اس کے لبوں کی تراش میں مسکراہٹ آکر غائب ہوئی
لیکن ادا سائیں علاج خود کیسے آئے گا وہ کنفیوز ہوئی
فضول باتوں پر دھیان مت دو اپنی پڑھائی پر غور کرو میں نہیں چاہتا کہ تمہارا دھیان بٹے تم صرف اور صرف اپنی تعلیم پر غور کرو تہمیں ڈاکٹر بنتے دیکھنا تمہارے بھائی کی خواہش ہے یہ بات یاد رکھنا
اپنے ادا سائیں کی ہر خواہش پوری کرنا تمہارا فرض ہے وہ سختی سے کہتا کمرے سے نکل گیا جبکہ ثانیہ صرف جلدی سے ہاں میں سر ہلا سکی
دارم سائیں کی سمجھ کم لوگوں کو ہی آتی تھی وہ کب نرمی سے بات کرتا اور کب اس کا لہجہ سخت ہو جاتا اس گھر کے اندر بھی کوئی سمجھ نہیں پاتا تھا
