488.5K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dost Daram (Episode 12)

°°°°°°
چپ ایک دم چپ بالکل آواز نہیں نکالنا ۔وہ اس کے لبوں سے ہاتھ ہٹاتا ذرا سخت لہجے میں گویا ہوا
آپ۔ ۔۔۔۔آپ۔ ۔۔می۔ ۔میرے۔ ۔۔۔وہ گھبرائے ہوئے لہجے میں اپنی بات تک مکمل نہیں کر پا رہی تھی ۔
یہ شخص اس کے اتنے پاس اس کے کمرے میں کیا کر رہا تھا ۔وہ یہاں کیوں آیا تھا ۔
میں نہیں تم اس وقت یہاں میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔؟کیوں آئی ہو آدھی رات کو میرے کمرے میں کیا تم اس کا انجام جانتی ہو ۔۔۔؟وہ اس سے گھورتے ہوئے سوال کرنے لگا
میں آپ۔ ۔۔۔۔آپ کے کم۔ ۔۔۔کمرے
ہاں تم میرے کمرے میں اس وقت کیا کر رہی ہو ۔۔۔؟وہ پھر سے سختی سے بولا
وہ بکرا۔ ۔۔۔۔۔وہ اب تک اچانک ہونے والے انکشاف پر بوکھلائی ہوئی تھی
کیا بکرا ۔۔۔۔؟کیا بکواس کر رہی ہو جو میں پوچھ رہا ہوں وہ بتاؤ میرے سوال کا جواب دو تم آدھی رات کو یہاں میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو ۔۔!وہ اس سے ذرا دوری بناتے ہوئے سوال کرنے لگا اس کی قربت اس کے دل میں ہلچل پیدا کر چکی تھی اس کا اتنے قریب آنا اسے بہکا رہا تھا اس سے فاصلے پر رہنا بہتر تھا ۔
جی آپ کا کمرہ ہے ۔۔۔شاید میں غلط کمرے میں آگئی ۔۔۔وہاں بکرےکی روح ۔۔مجھے میرے کمرے میں جانا ہے ۔لیکن وہاں بھی وہ ۔۔۔۔۔
ہاں یہ میرا کمرہ ہے لیکن تم غلط کمرے میں نہیں آئی ہو ۔آگے زندگی تمہیں اسی کمرے میں گزارنی ہے ۔تمہارا آنا برا نہیں لگا لیکن رات کے اس وقت تمہارا آنا تمہارے لیے کافی خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے ۔
تمہیں اس وقت یہاں نہیں آنا چاہیے تھا میں پہلے ہی خود پر بہت مشکل سے کنٹرول کر رہا ہوں لیکن اب تم میرا ضبط آزما رہی ہو
کیا اس کے پیچھے بھی کوئی وجہ ہے ۔۔۔؟وہ سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا ۔
وجہ کس قسم کی وجہ آخر کیا کہنا چاہتے ہیں آپ ۔۔۔؟
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کیا یہاں اس کمرے میں تم ثناء کو جلانے کے لئے آئی ہو۔اگر ہاں تو تمہاری یہ حرکت مجھے بالکل پسند نہیں ۔ثناء کے ساتھ تمہارے تعلقات کیسے ہیں مجھے فرق نہیں پڑتا لیکن تم دونوں کے آپسی جھگڑےکی وجہ سے میں کسی قسم کا نقصان برداشت نہیں کروں گا ۔وہ بے حد سیریس تھا
کیا بول رہے ہیں آپ کون سا جھگڑا میرا ثناء کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں ہے
اور میں یہاں پر اسے کچھ دکھانے کے لیے نہیں آئی بلکہ غلطی سے آئی ہوں۔ سنان ادا نے مجھے پاگل کر دیا ہے وہ اس کے بیڈ سے اٹھتے ہوئے جلدی سے جلدی کمرے سے نکل جانا چاہتی تھی جب اچانک اسے جھٹکا لگا ۔
وہ پیچھے کی طرف کھنچتی واپس بیڈ پر گر گئی کیونکہ اس کا دوپٹہ دارم سائیں کے نیچے تھا
کیا مسئلہ ہے لڑکی تم سے اپنا دوپٹہ تک نہیں سنبھلتا اٹھاو اسے اور نکلو میرے کمرے سے باہر وہ ذرا سختی سے گویا ہوا
مجھے بھی یہاں رہنے کا کوئی شوق نہیں ہے مسٹر میں جا ہی رہی ہوں وہ اس کے نیچے سے اپنا دوپٹہ کھینچتی ہوئے بولی لیکن جیسے دوپٹے کو تو ضد ہی ہو گئی تھی دارم سائیں سے وہ اسے جتنا اپنے نیچے سے نکالنے کی کوشش کر رہا تھا وہ اتنا ہی اس کی پہنچ سے دور ہو گیا اس نے غصے میں لائٹ تک جلا دی اور بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہونے لگا ۔لیکن کھڑے ہونے کے چکر میں اس کا سر بری طرح سے در کے سر سے ٹکرایا تھا۔جس پر وہ آہ بھر کر دوبارہ بیڈ پر گر گئی
در ۔۔۔۔تم ٹھیک تو ہو تمہیں لگی تو نہیں وہ فکر مندی سے اس کے قریب آتا اس کے سر پر اپنے ہاتھوں سے مساج کرنے لگا ۔
اس کے ماتھے کو سہلاتے ہوئے وہ کافی پریشان لگ رہا تھا اسے احساس تھا کہ یقیناً نور کو بہت سخت لگی ہوگی ۔
جانم سائیں آئندہ آدھی رات کو اس طرح میرے کمرے میں مت آنا تب تک نہیں جب تک میں اپنے حقوق کو استعمال کرنے کی اجازت نہ حاصل کر لوں۔ مجھے بہکاو مت میں تمہارے لیے بہت موثر ثابت ہو سکتا ہوں ۔
وہ نرمی سے اس کا ماتھا چومتا شاید اسے وارن کر رہا تھا ۔اسے اتنے قریب محسوس کرتے ہوئے نور بھی پریشان تھی ۔جبکہ اس کا نرم و گرم لمس اپنے ماتھے پر محسوس کرتے ہوئے اس نے اٹھنے کی کوشش کی۔
جب اچانک کمرے کا دروازہ کھلا
دارم سائیں کے کمرے کو لاک کیوں لگایا ہوا تھا ۔۔۔۔؟اچانک کمرے میں داخل ہوتے ساحر کی بولتی زبان رک گئی
اپنے سامنے اس منظر کو دیکھتے ہوئے وہ شرمندگی سے سر جھکاتا چہرہ پھیر گیا
آئی ایم سوری ادا مجھے اس طرح سے اندر نہیں آنا چاہیے تھا میں بعد میں آتا ہوں ۔
وہ جلدی سے اپنے الفاظ کہتا تیزی سے کمرے سے باہر نکل کر دروازہ دوبارہ بند کر گیا ۔
دارم سر پکڑ کر رہ گیا ۔
دارم سائیں اب کیا ہوگا ۔۔۔۔۔؟ساحر کے اچانک یوں کمرے سے نکل جانے پر وہ گھبرا کر پوچھنے لگی ۔
کچھ نہیں ہو گا تم فکر مت کرو ۔وہ بے فکری سے بولا
کیوں کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں ساحر ادا پتہ ۔۔۔۔۔نہیں کیا سوچ کر اس طرح سے باہر نکل۔۔ گئے
اس نے بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کی لیکن دارم پوری طرح اس پر سایہ کیے ہوئے تھا۔
کیا سوچ رہا ہوگا بتاؤ ذرا مجھے ۔۔۔۔؟دارم بھی ریلیکس ہو کر اس سے سوال کرنے لگا جبکہ اس کا ایک ہاتھ نور کے کندھے پر تھا ۔اور دوسرے ہاتھ سے وہ اس کے ماتھے پر آئے بالوں کو انگلیوں سے پیچھے کر رہا تھا ۔
وہ ۔۔۔۔۔
ہاں بولو کیا ہوا ۔۔۔۔؟
پتا ۔۔۔نہیں کیا ۔۔۔۔سوچ رہے ہوں گ۔۔۔گے کہ میں آدھی۔۔۔۔۔ رات کو آپ کے۔ ۔۔ کمرے میں۔۔۔ کیا کر رہی ہوں۔ ۔۔شاید۔ ۔۔۔
بے فکر ہو جاؤ جانم سائیں ساحر سائیں اتنا نہیں سوچتا وہ صرف ان چیزوں کو سوچتا ہے جن سے اسے مطلب ہو ۔ہاں لیکن اس چیز کا مطلب اس نے وہی نکالا ہوگا جس کے لئے تم گھبرا رہی ہو
خیر مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ میں تو اس کے مطلب کو وہی مطلب دینا چاہتا ہوں جو تم سوچ رہی ہو ۔۔۔اس کے بالوں کو پیچھے کرتا وہ خمار آلود لہجے میں بولا
کی۔ ۔۔۔۔کیا۔ ۔مطلب۔ ۔۔۔۔؟مجھ۔ ۔۔مجھے۔ ۔۔میرے کمرے۔ ۔۔میں۔۔۔
ہسششش۔ ۔۔۔اب تمہارا کوئی مطلب نہیں صرف میرا مطلب میری طلب ۔۔۔۔اس کمرے میں تم آئی اپنی مرضی سے ہو لیکن جاؤ گی دارم شاہ کی مرضی سے کیونکہ اس کمرے کی ایک ایک چیز پر دارم سائیں صرف اپنا حق سمجھتا ہے اور آج تو دارم سائیں کی ملکیت میں اس کی اصل ملکیت آئی ہے تمہیں سچ میں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا ۔
اس کی نگاہوں کو دیکھتے ہوئے اس کی نظریں اب اس کے لرزتے لبوں کا طواف کر رہی تھی ۔اسے سچ مچھ میں اب دارم سائیں سے خوف آنے لگا تھا ۔
دا۔ ۔۔دارم۔ ۔۔سا۔ ۔سائیں۔ ۔۔۔
دن رات صبح شام ہر پل تمہارے لبوں سے یہ نام سننے کا خواہشمند ہوں میں ۔میری خواہش ہے کہ تم جب میرا نام اپنے لبوں سے لومیں تمہارے لبوں کو اس کا انعام دو ۔
اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے وہ اس کے نازک لرزتے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کر چکا تھا
°°°°°
کمرے سے نکل کر وہ اچھا خاصہ شرمندہ ہو گیا تھا اسے اس طرح سے لاک کمرے میں جانا ہی نہیں چاہیے تھا
دارم سائیں کہاں کبھی اپنا کمرہ بند کرتا تھا اور اگر اس نے اپنا کمرہ بند کیا ہوا تھا توضرور کوئی نہ کوئی وجہ تھی
اسے خود احتیاط کرنی چاہیے تھی لیکن وہ تو ہمیشہ سے اپنی ہی دھن میں مگن سیدھا کمرے کے اندر گھس گیا ۔
اور کچھ نہ سہی اسے کمرے کے اندر جانے سے پہلے ایک بار دارم سائیں کی اجازت ہی مانگ لینی چاہیے تھی
اگر وہ اجازت مانگ لیتا تو یقینا اسے یہ شرمندگی نہیں اٹھانی پڑتی
وہ سردی کو کم کرنے کی غرض سے اپنی جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکال کر سگریٹ سلگانے لگا یہ تو اس کی زندگی کی سب سے اہم چیز تھی جسے وہ کبھی چھوڑ نہیں سکتا تھا
ساحر سائیں کچن کے اندر داخل ہوتا مسلسل یہی سب کچھ سوچ رہا تھا جب اسے کچن میں کوئی اور بھی محسوس ہوا فریج کے اندر سر دیے وہ نہ جانے کیا کرنے میں مصروف تھی ۔وہ اسے دیکھتا اس کے پیچھے آ رکا
تم آدھی رات کو یہاں کیا کر رہی ہو وہ ہر بار کی طرح کم مگر سخت لہجے میں گویا ہوا شام میں کھانا نہ کھانے کی وجہ سے اپنی بھوک مٹانے کی غرض سے وہ کچن میں آئی تھی اچھل کر سیدھی ہوگئی
یا اللہ ۔۔۔ساحر ادا آپ ۔۔۔؟ڈرا کے رکھ دیا اس طرح سے کون کرتا ہے ساحر ادا مجھے لگا پتا نہیں کون آگیا ۔وہ نفی میں سر ہلاتی اپنی دل کی دھڑکنیں سنبھال کر دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی
میں کرتا ہوں ۔۔۔وہ جواب دیتے ہوئے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔
ہاں جیسے کوئی بہت ہی نیک کام کرتے ہیں وہ دل ہی دل میں سوچتی اسے گھور کر رہ گئی
خیرجلدی سے کھانا نکالو بہت بھوک لگی ہے وہ اپنا سگریٹ ختم کرکے دوسرا جلانے لگا زاوش کو اس کی بس یہی ایک عادت بری لگتی تھی
یہ سگریٹ اتنی زیادہ پیتے ہیں اس سے کیا ان کا پیٹ نہیں بھرتا جو کھانا بھی چاہیے وہ برابڑتی ہوئی فریج سے کھانا نکال کر کاؤنٹر پر رکھ کر مڑی ہی تھی کہ اچانک اس کے چٹان نما وجود سے ٹکرائی ۔
یا اللہ ۔۔۔۔ساحر دا اٹھنے سے پہلے بتا تو دیتے ہیں میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی وہ ایک بار پھر سے دل تھامتے ہوئے بولی
کیا بڑبڑا رہی تھی تم منہ ہی منہ میں تمہاری آواز کلیئر مجھ تک نہیں پہنچی اسی لئے پوچھنے آیا تھا کہ کیا بکواس کر رہی ہو
اس کا سرد لہجہ اس بات کا گواہ تھا کہ وہ جانتا ہے کہ وہ کیا بکواس کر رہی تھی ۔لیکن پھر بھی جب تک وہ بات کی کھال نہ اتارے تب تک اس سکون کہاں ملتا تھا
میں وہ سگریٹ کے بارے میں ۔۔۔۔
ہاں بولو کیا بکواس کی ہے تم نے سگریٹ کے بارے میں وہ ایک لمبا کش لیتے ہوئے اس کی جانب متوجہ ہوا
یا اللہ ۔۔۔گستاخی معاف ساحر ادا میں نے آپ کی محبوبہ کی شان میں گستاخی نہیں کی۔ایسااس نے صرف دل میں کہاتھا اس کے منہ پر کوئی الٹی سیدھی بات کہاں کوئی کر سکتا تھا
بس میں تو یہ کہہ رہی تھی کہ یہ صحت کے لئے بہت مؤثر ہوتا ہے ۔اس سے طبیعت خراب ہو سکتی ہے آپ کو پتا ہے دن میں ایک سگریٹ پینے سے ۔۔۔۔
میں دن میں ایک نہیں ہزار سگریٹ پیتا ہوں اور بہت شوق سے پیتا ہوں جس کے لیے اب تو کبھی مجھے میرے باپ نے بھی منع نہیں کیا ۔تو تم نے کیوں کی بکواس جواب دو۔وہ حساب پر اتر آیا ۔
میں اس کے خلاف کسی دوسرے تیسرے کی نہیں سنتا ۔اسی لئے آئندہ میری پرسنل چیزوں میں انٹرفیئر کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا۔
اس کا سگریٹ اس کی انگلیوں میں جل رہا تھا جب کہ اس کے سامنے کھڑا وہ بات کرتے ہوئے بھی مسلسل اپنے منہ سے دھواں نکال رہا تھا
میری توبہ جو میں آپ کی پرسنل چیزوں میں انٹرفیئر کروں۔وہ اس کے سگریٹ کو دیکھتی صرف سوچ ہی سکی تھی
میں تو بس آپ کی طبیعت خراب ہونے کے غرض سے بول رہی تھی وہ معصومیت سے بولی ۔۔۔۔
اس نے خود کو پھر سے فضول بولنے سے کنٹرول کیا تھا ایک تو اس کی زبان تھی جس میں ہر وقت کھجلی رہتی تھی جب تک کوئی بکواس نہ منہ سےنکال لیتی تب تک تو اس کی زبان کو بھی سکون نہیں ملتا تھا ۔
باقیوں کے سامنے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا لیکن اب تو اس بدتمیز نے ساحر ادا کے سامنے بی فضول گوئی شروع کر دی تھی
اللہ کرے تو میرے دانتوں کے نیچے آکر کٹ جائے اس نے خود اپنی زبان کو بد دعا دی تھی
نہیں اللہ جی پلیز نہیں بہت درد ہوگا اس نے اپنی بددعا پر غور کرتے ہوئے فورا توبہ کی تھی
اور ایک بار پھر سے اس کی جانب متوجہ ہوئی ۔
یا اللہ مجھے تو دورہ پڑنے لگے ہیں کھڑے کھڑےکہاں کھو جاتی ہوں۔اب یہ بھی بھول گئی کہ میرے سامنے جلاد کھڑا ہے اس نے نظر بچا کر نگاہ اوپر کی جانب کرتے ہوئے اسے دیکھا جو اسی کو گھور رہا تھا
کیا تمہارا میرے ساتھ ایسا کوئی تعلق ہے کہ تم مجھے اس سلسلے میں کچھ کہوں ۔۔وہ ایک بار پھر سے منہ سے دھواں نکالتا اس سے سوال کرنے لگا
پتہ نہیں آج بندے کو ہوا کیا تھا وہ پہلے تو کبھی اس طرح سے بات نہیں کرتا تھا سخت طبیعت تھا ہنس کر بات کرنا یا کسی کے ساتھ مستی مذاق کرنا اپنی توہین سمجھتا تھا ۔
وہ بہت چھوٹی عمر سے سگریٹ پیتا تھا اور اسی نے تو اس کے سگریٹ کا پول پورے گھر والوں کے سامنے کھولا تھا
جب اس نے اسے چھت پر اکیلے سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا تھا اس نے تو پوری حویلی میں ڈھنڈورا پیٹا تھا کہ ساحر ادا سگریٹ پی رہے ہیں جس کے بعد اچھا خاصا ہنگامہ بھی ہوا تھا اس کی کلاس بھی لگی تھی
اور اس نے غصے میں آ کر زاوش کے منہ پر تھپڑ مارا تھا تب سے ہی ان دونوں کی آپس میں بات بہت کم ہوتی تھی اس وقت زاوش کی عمر تقریبا بارہ سال تھی اور تب سے ہی وہ اس معصوم لومڑی سے ذرا دور رہنا ہی پسند کرتا تھا ۔
لیکن آج وہ پھر اس سے بحث پر کیوں اتر آیا تھا کہیں وہ اس سے پرانی باتوں کا انتقام تو نہیں لے رہا تھا ۔
خیراس کو اپنا ہی کیا پیش آ رہا تھا اس نے بھی تو پورے گھر میں اچھا خاصا ہنگامہ کر دیا تھا اسی کی وجہ سے تو تایا جان نے پہلی بار ساحر کو بہت مارا تھا ۔تب ساحر کوئی چھوٹا بچہ ہرگز نہ تھا بلکہ 19 سال کا ہو گیا تھا ۔
تایا سائیں کی مار سے زیادہ تو کچھ بھی نہ ہوا بس ساحر سائیں کا جو ڈر تھا وہ ختم ہو گیا اور وہ کھل کر سب کے سامنے سگریٹ نوشی کرنے لگا اب تو سگریٹ پینے کی عادت اسے ایسے لگ چکی تھی کہ سگریٹ پیئے بنا وہ ایک دن بھی نہیں رہ سکتا تھا
نہیں میں تو بس ۔۔۔۔۔اپنی پرانی چیزوں کو سوچتی اسے وہ تھپڑ یاد آ گیا تھا جو ساحر نے اس دن اس کے منہ پر لگایا تھا ۔
اپنی حد میں رہو ویسے بھی کچھ سال پہلے تم اپنی حد کراس کر چکی ہو۔میری چیزوں سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں ہے خاص کر اس چیز سے وہ اپنی انگلیوں میں دبا سگریٹ اسے دکھاتے ہوئے بے حد سختی سے بولا
وہ بنا کچھ بولے سر جھکا گئی پہلے بچپن میں تو وہ اس سے ڈرتی گھبراتے نہیں تھی لیکن اس تھپڑ کے بعد وہ اس کے پاس بھی نہیں آتی تھی ۔پاس آنا تو دور جس جگہ اسے ساحرسائِیں کھڑا نظر آ جاتا وہاں پر تک مارنے کا نہیں سوچ سکتی تھی
جس کی سب سے بڑی وجہ تو ساحر کا بے تحاشہ غصہ تھا وہ ہر وقت غصہ اپنی ناک میں رکھ کر گھومتا تھا اس کے غصے سے تو گھر کا کوئی فرد محفوظ نہ تھا سوائے دارم سائیں کے
۔سنان اس سے پورے سات مہینے بڑا تھا لیکن مجال تھی کہ وہ اسے بڑوں والی عزت دیتا
اور وہ تو شاید اس گھر میں وہ پہلی اور آخری بندی تھی جسے وہ سب سے زیادہ ناپسند کرتا تھا
کھانا نکالو ۔وہ پیچھے ہٹتا ذرا سخت لہجے میں بولا ۔
اس کے حکم پر وہ جلدی جلدی کھانا گرم کرتی اس کے سامنے میز پر رکھ کر وہاں سے بھاگنے والی تھی اس کی بھوک پوری طرح مر چکی تھی
اتنی ڈانٹ کھانے کے بعد اور کسی چیز کو کھانے کی گنجائش ہی کہاں بنتی تھی
کہاں بھاگ رہی ہو نکمی لڑکی چائے بناؤ میرے لیے اسے بھاگتے دیکھ کرساحر اسے مخاطب کرتا کھانا کھانے میں مصروف ہوگیا
آپ رات کے اس وقت چاہے پیئں گے ذاوش غور سے دیکھتی ہوئی حیرانگی کا مظاہرہ کرنے لگی ساحر نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا ۔
وہ جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے پوچھ رہا تھا کہ کیا کہا تم نے ۔۔۔؟
نہیں میں بنا دیتی ہوں کیا فرق پڑتا ہے آپ کی مرضی آپ رات کے تین بجے پیں یا صبح کے دس بجے وہ بڑی مشکل سے مسکراتی ہوئی واپس آتی اس کے لئے چائے بنانے لگی ۔
پتہ نہیں کونسی منہوس گھڑی تھی جب وہ اپنی بھوک مٹانے کے لیےکچن میں آئی کیا تھا اگر اپنی بھوک کو برداشت کر لیتی کم ازکم اس جلاد سے تو بچ جاتی ۔
اس کے سامنے چائے کا کپ رکھتے ہوئے وہ بھاگتے ہوئے کچن سے باہر نکل گئی ۔
جب کہ وہ نفی میں سر ہلا تا اپنے کھانے کی جانب متوجہ ہو گیا تھا
وہ اسے کبھی بھی مخاطب نہیں کرتا تھا نا ہی وہ اس کے ساتھ بےتکلف تھا خیر بےتکلف تووہ دارم سائیں کے علاوہ کسی کے ساتھ بھی نہیں تھا ۔
اگر اسے بھوک نہ لگی ہوتی تو شاید وہ ذاوش کو بھی کبھی مخاطب نہ کرتا ۔
بے وقوف لڑکی ۔۔پتا نہیں بابا سائیں کا فیصلہ کیا رنگ لائے گا وہ سوچتے ہوئے ایک بار پھر سے اپنے کھانے کی جانب متوجہ ہوا
°°°°°
ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ دارم سائیں خود پر کنٹرول نہ کر سکے اپنے جذبات کو وہ بہت سنبھال کر رکھتا تھا ۔
وہ کبھی کسی عورت کی عزت پر حرف نہیں آنے دیتا تھا ۔اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد عورتوں کی عزت کرنا تھا ۔
اسے فخر تھا اپنی تربیت پر کہ اس نے آج تک کسی عورت کو غلط نگاہ سے نہیں دیکھا تھا
وہ اپنے جذبات کو لے کر بہت سچا اور کھرا تھا ۔اور جو جذبات وہ اس وقت اپنی پناہوں میں موجود اس نازک وجود پر لٹا رہا تھا وہ تو اپنا حق سمجھتا تھا ۔
یہ تو 15 سال کا انتظار تھا جو ایک نگاہ میں ختم نہیں ہو سکتا تھا ۔اس کو ختم کرنے کے لیے تو ایک پوری زندگی چاہیے تھی ۔
اسے تو وہ ساری زندگی ہی اپنی باہوں میں قید رکھنا چاہتا تھا اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کیے وہ نہ جانے کون سے جہاں میں تھا ۔
اس کی خوشبو میں بسیرا کرتا وہ مکمل مدہوش ہو چکا تھا ۔جب کہ وہ اس کے کندھے پر زور زور سے ہاتھ مارتی اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔سانسوں کی قید کا دورانیہ بھڑنے لگا تو اسے اس کے نازک سراپے پر ترس آ گیا اس کے لبوں کو آزاد کرتا تو اسے دیکھنے لگا جو کہ اس سے دور رکھنے کی کوشش میں لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی وہ دلکشی سے مسکرا کرخود ہی پیچھے ہٹا
۔
کیا ہوا جانم سائیں ابھی تو تم نے میری شدتوں کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھی اور یوں ڈر رہی ہو ابھی تو تم نے میرے پندرہ سالوں کے انتظار کا حساب دینا ہے تمہارا کیا بنے گا ۔
جب میں حساب کتاب کرنے پر آیا نہ تو تم پاگل ہو جاؤ گی بہت سارے حساب نکلتے ہیں تمہاری طرف میرے لیکن فی الحال کے لیے نکلو میرے کمرے سے ورنہ تم مجھے پاگل کر دو گی ۔
اور ایک بات یاد رکھنا آئندہ تب تک میرے کمرے میں مت آنا جب تک میں تمہیں دلہن بنا کر یہاں لے آؤں ۔
وہ بیڈ سے اٹھتا ہوا بنا اس کی طرف دیکھے سیدھا واش روم میں بند ہو گیا جبکہ اسے خود پر حیرانگی ہو رہی تھی کہ وہ کیوں دار کو اپنے اس قدر نزدیک آنے دے رہی ہے جبکہ وہ اس سے کوئی تعلق رکھنا ہی نہیں چاہتی
ہر کسی کے سامنے کھل کر بات کرنے والی اپنے حق میں آواز اٹھانے والی لڑکی کی یہاں آکر کیوں بے بس ہو جاتی تھی ۔
آخر کون سی کشش تھی دارم سائیں کی قربت میں کہ اسے کسی چیز کا ہوش ہی نہیں رہتا تھا.کیااس کے پیچھے کہیں نہ کہیں نکاح کا یہ مضبوط احساس شامل تھا ۔جسے وہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے آئی تھی ۔
°°°°°