488.5K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dost Daram) Episode 4

تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا تھا سیم یہ تم کیا کر رہی ہو تم اسے جانے کی اجازت کیسے دے سکتی ہو تم جانتی ہو نا بین کو میں نے یقین دلایا ہوا ہے کہ نور اس کے ساتھ جائے گی وہ نور کے پیچھے پاگل ہو رہا ہے دیوانہ ہو چکا ہے اس کا اس وقت نور مجھے بہت فائدہ دے سکتی ہے اور خبردار جو تم نے نور کو کہیں پر بھی بھیجا تم اسے آج ہی منع کر دو وہ کہیں نہیں جائے گی
میں اب تمہاری بیٹی کے لئے ایک ذرا سا بھی نقصان برداشت نہیں کروں گا تہمیں اندازہ بھی نہیں ہے کہ وہ کس طرح سے تیار ہوا ہے اس شادی کے لیے کہ تمھاری بیٹی بنا شادی کے اس کے ساتھ جانے کو تیار نہیں تھی اس لئے وہ اس سے شادی کرنے کے لئے تیار ہوا ہے جب تک بین کا دل اس سے بھر نہیں جاتا تب تک نور کو بین کے ساتھ رہنا ہوگا
اور اگر تمہاری بیٹی نے اس بار میری بات نہیں مانی تو اس کا انجام بہت برا ہوگا تمہاری سوچ سے بھی زیادہ یاد رکھنا
وہ غصے سے آؤٹ آف کنٹرول ہو رہا تھا جبکہ سمرہ اس کے سامنے بیٹھ کے آرام سے شمپین پی رہی تھی
ڈارلنگ ریلیکس ایک بات یاد رکھنا سمرہ جب بھی کوئی فیصلہ کرتی ہے بہت سوچ سمجھ کر کرتی ہے اور تمہارا یہ بین تو میں اتنے پیسے نہیں دے پائے گا مجھے جتنے نور دے سکتی ہے اس نے مسکراتے ہوئے کہا جب کہ وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا
میں جانتی ہوں تمہیں میری بات پر یقین نہیں آئے گا لیکن ذرا سوچو نور کا باپ اسے ایک ہفتے کے اتنے پیسے بھیجتا ہے کہ وہ ہر روز ڈیزائنر ڈریس شوز پہننے کے ساتھ اپنی ہر خواہش پوری کر سکتی ہے توسوچو اس کا باپ اسے اس کے جائیداد کے حصے میں کتنی دولت دے گا
تمہارے بین کی دولت سے سو گناہ زیادہ اب تم فیصلہ کرو تہمیں زیادہ چاہیے یا پھر وہ جو تمہارا بھانجا بین تمہیں دے سکتا ہے ۔
لبوں پر مسکراہٹ سجائے اس سے سوال کر رہی تھی
کیا تم سچ کہہ رہی ہو۔کیا وہ سچ میں اتنا دولت مند ہے اگر ہاں تو تم نے اسے کیوں چھوڑا میرا مطلب ہے اگر وہ اتنا امیر تھا تو تم نے اس سے چھوڑ کیوں دیا اس سے طلاق کیوں لے لی اور اگر تم نے اس سے طلاق لے بھی لی
تو بھی تمہارا بھی تو جائیداد میں کوئی نہ کوئی حصہ تھا ہی نا آخر وہ تمہارے تایا کا بیٹا تھا مائیک نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا اسے کبھی بھی نہیں لگا تھا کہ یہ اتنی زیادہ امیر ہو گی
کیونکہ میں تم سے محبت کرتی تھی اور تمہارے پیار میں پاگل ہو کر میں نے اس شخص کے ساتھ ساتھ اپنے باپ کی ساری دولت بھی ٹھکرا دی تھی طلاق کے بعد ان لوگوں نے مجھے اپنی جائیداد سے عاق کر دیا
اور وہ گھر جو حق مہر کے طور پر مجھے ملا تھا وہ بھی بیچ کر میں تمہارے گھر آگئی تھی ۔میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ میں نے اس آدمی سے بیٹی پیدا ہی کیوں کی
لیکن اب جب مجھے نور نے یہ بتایا کہ وہ اس کی جائیداد کی حصے دار ہے تو یقین کرو مجھے اس کی پیدائش پر جو اتنے سالوں سے افسوس تھا وہ ختم ہو گیا ۔
مجھے یقین ہے نور ہمیں بہت فائدہ دے گی وہ یقین سے بولی
مجھے تو نہیں لگتا مجھے تو لگتا ہے کہ ان لوگوں کے پاس جا کر انہی جیسی ہو جائے گی تم نے دیکھا نہیں ہے اسے وہ ایک اسلامی انسٹیٹیوشن میں قرآن پڑھنے کے لئے جاتی تھی وہ بھی تمہاری اجازت کے بنا مجھے تو لگتا ہے یہ انہی لوگوں جیسی ہوگی جاھل ۔بلکہ مجھے تو لگتا ہے کہ تمھاری بیٹی تہمیں بے وقوف بنا رہی ہے وہاں جاکر یہ بدل جائے گی اور ویسے بھی وہاں وہ تمہارے شوہر کے بھائی کا بیٹا مائیک نے بہت سوچ سمجھ کر کہا
نو ڈارلنگ ایسا نہیں ہوگا وہ میری بیٹی ہے اور جس طرح سے میں نے ان لوگوں کی تصویر اس کے سامنے رکھی ہے نہ وہ کبھی بھی ان لوگوں میں دلچسپی نہیں لے گی
وہ میری ایک بات کو بہت اچھے طریقے سے سمجھتی ہے وہ جانتی ہے کہ وہ لوگ کتنے جاھل ہیں
میری بیٹی آزاد ماحول میں رہتی ہے اسے وہ حویلی کی قید ہرگز پسند نہیں آئے گی اور اپنی جیسی لڑکیوں کا وہ حال دیکھ کر اسی دن واپس آنے کا فیصلہ کر لے گی اور وہ میری بیٹی ہے فکر مت کرو اسے وہاں کوئی پیار نہیں کرے گا ۔
وہ یہاں سے سرمد شاہ کی بیٹی بن کر تو جائے گی لیکن وہاں رہے گی سمرا کی بیٹی بن کر اور یقین کرو نہ تو سمرہ سے کسی کو محبت ہے اور نہ ہی کوئی سمرہ کی بیٹی سے محبت کرے گا
اگر ایسا ہے سیم ڈارلنگ تو پھر اسے جانے کی اجازت دے کر تم نے بہت اچھا کیا میں تب تک بین کو کنٹرول کر لونگا ۔کیونکہ بین کا آفس میں ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتا
بین نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کیا اگر نور کی شادی اس سے ہو جائے تو وہ اپنا گھر اور آفس میرے نام کر دے گا اور یہاں سے ہمیشہ کے لئے آسٹریلیا شفٹ ہو جائے گا
وہ کیا ہے ڈارلنگ پیسہ جہاں سے بھی آئے اچھا لگتا ہے وہ قہقہ لگا کر اپنا شمپین کا گلاس اونچا کر چکا تھا جس کے ساتھ گلاس ٹچ کرتے ہوئے سمرہ بھی کھل اٹھی
°°°°°
وہ آخری پیپر دے کر باہر نکلی تو سامنے ایک بہت بڑی بلیک کلر کی گاڑی کھڑی تھی جس میں ڈرائیور کے ساتھ اس کے تایا بیٹھے ہوئے تھے ایک ہفتے کے بعد وہ اپنے وعدے کے مطابق یہاں آچکے تھے
السلام علیکم کیسے ہیں آپ ۔۔ان کے پاس آتے مسکرا کر بولی اس کا انداز انہیں بہت اچھا لگا تھا
وعلیکم السلام الحمداللہ میں بالکل ٹھیک تو چلیں تمہارا گھر تمہارا انتظار کر رہا ہے انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا
اتنا جلدی میرا مطلب ہے آپ نے سارا پیپر ،ورک کروا لیا اور میرا پاسپورٹ ویزا وہ کنفیوز تھی انہوں نے اتنی جلدی یہ سب کچھ کروا لیا تھا
ہاں بالکل سب کچھ کروا چکا ہوں سارے انتظامات ہوچکے ہیں تم بس اپنی ماں سے مل لو تاکہ تمہاری ماں بعد میں یہ نہ کہے کہ ہم نے اسے تم سے ملنے بھی نہ دیا انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا
آپ میری ماں کی فکر نہ کریں انہیں مجھ سے اتنی بھی محبت نہیں ہے کہ میرا ملنا بہت ضروری ہو جائے بلکہ وہ تو جانتی ہیں کہ آج میں جانے والی ہوں اور میرے خیال میں وہ کسی میٹنگ میں گئی ہوئی ہیں
بس مجھے اپنا ضروری سامان لینا ہے میری پیکنگ آلموسٹ کمپلیٹ ہی ہے توپہلے میں ہوسٹل سے اپنا سامان اٹھا لیتی ہوں زیادہ نہیں ہے بس کچھ کپڑے ہیں وہ ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولی
ٹھیک ہے اگر سامان زیادہ ضروری ہے تو لے لیتے ہیں اگر نہیں تو بہتر ہے کہ ہم پہلے ائیرپورٹ ہی چلیں کیونکہ گیارہ بجے کی فلائیٹ ہے ہم لیٹ ہو جائیں گے تمہارا ہوسٹل دوسری سائیڈ پہ ہے اگر شاپنگ کا مسئلہ ہے تو تو وہاں سے کر لینا وہ اسے آفر کر رہے تھے جو اسے کافی پسند آئی
ٹھیک ہے پھرائیرپورٹ ہی چلتے ہیں اس نے مسکرا کر کہا جب کہ اصغر شاہ پرسکون ہو چکے تھے وہ اسے گاؤں میں اس کی بے باک حالت میں نہیں لے کر جا سکتے تھے اس کی ڈریسنگ میں کسی قسم کی کوئی بے حیائی نہیں تھی لیکن ان کے گاؤں کا ماحول اتنا ماڈرن بھی نہیں تھا
وہ پہلے ہی سوچ چکے تھے وہاں جانے سے پہلے اس کے لئے کوئی اچھے سے کپڑے خریدیں گے تاکہ وہ اسے سر اٹھا کر گاؤں لے کر جا سکے
°°°°°°°°
ساری تیاری مکمل ہو چکی ہے نا نور پہلی بار آ رہی ہے تو اسے کوئی کمی محسوس نہیں ہونی چاہیے اور یاد رکھنا لڑکیوں وہ باہر کے ماحول کی پلی ہے اسے یہاں رہنے میں تھوڑی مشکل ہوگی تو تم لوگ نا سب اس کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے پیش آنا ہمنا چچی کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ پوری حویلی سجا دیں کہنے کو تو وہ ان کی سوتیلی بیٹی تھی لیکن ان کے دل میں نور کے لیے اتنی محبت بھری تھی جیسے ان کی اپنی سگی اولاد واپس آ رہی ہو
وہ پہلی بار نور سے ملنے جا رہی تھی جس کی وجہ سے بہت خوش تھی
بس کریں چچی سائیں کوئی سٹار نہیں آرہا یہاں سمرہ کی بیٹی آ رہی ہے اور سمرہ کون ہے کسی کو بھولا ہوا نہیں ہے ثنا جو صبح سے مسلسل ان کی سن رہی تھی اب اکتا کر بولی
نہیں ثنا بیٹا سمرہ کی نہیں سرمد کی بیٹی آ رہی ہے ہمارے چاچو سائیں کی بیٹی 15 سال کے بعد واپس آ رہی ہے اور یہ کوئی چھوٹی سی بات نہیں ہے
چچی سائیں چھوڑیں انہیں شاید صبح سے کام کر رہی ہیں تھک گئی ہیں اسی لیے ایسا بول رہی ہیں زاوش نے مسکراتے ہوئے انہیں کہا کیونکہ وہ ان کا دل ہرگز خراب نہیں کرنا چاہتی تھی
بالکل بھی نہیں میں کام سے بالکل بھی نہیں تھکی ہوں بس حقیقت پسند ہوں میں چہرے پر جھوٹی خوشی نہیں سجا سکتی ہوں چاچی سائیں کو تو اپنے شوہر کے سامنے نمبر بنانے ہیں لیکن میری ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے
وہ بے حد کم آواز میں بولی تھی لیکن پھر بھی ہمنا نے سن لیا
یہ تم کیا کہہ رہی ہو ثنا بیٹا تمہیں لگتا ہے کہ میں یہ سب دکھاوا کر رہی ہوں انہیں سچ میں دکھ ہوا تھا
آئی ایم سوری اگر آپ کو برا لگا چچی لیکن اپنے شوہر کی پہلی بیوی سے اولاد کے لیے کوئی اتنا خوش نہیں ہو سکتا ۔
میرا نہیں خیال کہ اتنی خوشی آپ نے کبھی ثانیہ کے لیے منائی ہوخیر اب ثانیہ کے لئے تو مجھے افسوس ہو رہا ہے کیونکہ آپ تو اپنے شوہر کو خوش کرنے کے چکر میں لگی رہیں گے وہ بیچاری بنا کسی وجہ کے نظر انداز ہوگی
جیسے ایک ہفتے سے ہو رہی ہے اب آپ ہی دیکھیں سرمد چاچو اپنی بڑی بیٹی کی واپسی کی خوشی منا رہے ہیں اور آپ اپنے شوہر کی خوشی میں خوشی ڈھونڈنے میں لگی ہوئی ہیں آپ دونوں کو کوئی پروا نہیں ہے کہ ثانیہ کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے
اس کے ایگزامز ہو رہے ہیں ایگزامز کیسے ہو رہے ہیں اچھے یا برے آپ لوگوں کو اس سے کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے
مجھے تو اس بے چاری کے لیے دکھ ہو رہا ہے جس کی ذات اس لڑکی کے آنے سے پہلے ہی اس حد تک نظرانداز کی جا رہی ہے پتہ نہیں اس کے آنے کے بعد کیا ہوگا
وہ مسکراتے ہوئے کہتی وہاں سے باہر نکلنے لگی جبکہ ثانیہ کو دروازے پر کھڑا ہوا وہ پہلے ہی دیکھ چکی تھی
ثانیہ میری جان تمہارا پیپر کیسے ہوا وہ مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتی اسے اپنے ساتھ لے کر جانے لگی جبکہ ثانیہ کی یہاں موجودگی کو محسوس کر کے ہمنا چچی پریشان ہو گئی تھی ان کی خواہش تھی کہ ان کی بیٹی بھی ان کی طرح نور کو اپنائیت کا احساس دلائے لیکن انہیں ڈر تھا کہیں وہ سوتیلا پن جو اچانک ہی ثنا ان کے بیج لے آئی تھی اس کا اثر کہیں ثانیہ نہ لے لے
°°°°°
پاکستان کی سر زمین پر اس کا دوسرا قدم تھا وہ دوسری بار یہاں آئی تھی کہنے کو تو وہ ایک بار پہلے بھی یہاں آ چکی تھی لیکن پندرہ سال پہلے اور آج میں بہت فرق تھا
15 سال ہونےوالےتھے اس رشتے کو جڑے ہوئے اور اب شاید تھوڑا وقت رہ گیا تھا اسے ختم ہونے کے لئے
گاوں یہاں سے کتنی دور ہے وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ان سے پوچھنے لگی
تقریبا دو گھنٹے لگ جائیں گے بیٹا سائیں آپ شاپنگ کر لیں اپنی ضرورت کا سارا سامان لے لیجئے گا جلدی شہر واپسی ممکن نہیں ہوگی اب تو شادی کے قریب ہی آنا جانا ہوگا
کسی کی شادی ہونے والی ہے کیا گھر میں کتنا وقت رہ گیا ہے شادی کو میرا مطلب ہے میں جلدی واپس جانا چاہتی ہوں وہ مسلسل اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہوئے تھی
ہاں بیٹا گھر میں شادی ہے میری بیٹی کی مطلب کے ابھی بات ہم بڑوں کے بیچ میں ہی ہے اسی لیے گھر میں کسی قسم کا کوئی ہنگامہ نہیں ہے شادی کو لے کر لیکن ہم ایک ڈیڑھ ماہ میں ہی شادی کر دیں گے انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا
کیا مطلب ہے کیا آپ نے اپنی بیٹی سے نہیں پوچھا شادی کے بارے میں ہو سکتا ہے وہ بھی شادی نہ کرنا چاہتی ہو۔اور اسے دولہا پسند بھی ہے یا نہیں یا بس ایسے ہی آپ اسے زبردستی ۔۔۔۔
نہ بیٹا سائیں زبردستی سے کچھ نہیں ہوتا اپنی بیٹیوں کی شادی ہم وہاں کرتے ہیں جہاں ہمیں مناسب لگے اور ویسے بھی لڑکا کوئی غیر نہیں ہے گھر کا ہی ہے
پر ہمیں یقین ہے زرنش کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ہمیں اپنی بیٹیوں پر پورا اعتبار ہے وہ کوئی اعتراض نہیں کرے گی اور تم جلدی واپس نہیں جانے والی بلکہ اب تو تمہیں واپس جانے نہیں دیں گے انہوں نے مسکراتے ہوئے بہت مان سے کہا تو وہ مسکرا دی
اس وقت وہ کوئی بحث نہیں چاہتی تھی کیونکہ اسے یقین تھا جب وہ دھماکہ کرے گی تب انہیں اسے واپس بھیجنے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا
°°°°°°
زرنش ذاوش ثانیہ یہاں تک کہ ثنا بھی دروازے پر کھڑی اسے ویلکم کرنے کے لئے اس کا انتظار کر رہی تھی
آپ تو یہاں نہیں آنے والی تھی ادی سائیں بلکہ آپ کو تو کوئی شوق نہیں تھا اس کو دیکھنے کا پھر آپ یہاں کیا کر رہی ہیں
ہاں میری جان مجھے یہاں آنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن میں نے سوچا میں بھی تو دیکھوں سننے میں آیا ہے کہ سمرہ بہت خوبصورت ہوا کرتی تھی
مجھے دیکھنا ہے ان کی بیٹی کس کھیت کی مولی ہے اور یہ بھی کہ میرے لیے کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی
ادی آپ کتنی عجیب قسم کی باتیں کرتی ہے وہ عمر میں مجھ سے بھی چھوٹی ہے وہ آپ کے لئے کیا خطرناک ثابت ہو گی زرنش نے مسکراتے ہوئے کہا
تم میرے خطرے کو چھوڑو اپنے خطرے کے بارے میں سوچو وہ سامنے دیکھو کون آرہا ہے اس نے ایک نظر گاڑی سے اترتے سنان کی جانب اشارہ کیا تو زرنش فوراً اپنے سر پر دوپٹہ ٹھیک کرنے لگیجو کہ پہلے ہی بالکل ٹھیک تھا
کہنے کو تو ان کے رشتے کی بات ابھی صرف گھر والوں کے بیچ میں ہی تھی لیکن ثنا کو تو پورے گھر کی خبر ہوتی تھی اس نے ہی اسے یہ بتایا تھا کہ گھر میں اس کی شادی کی باتیں چل رہی ہیں اور وہ لوگ سنان کے ساتھ اس کی شادی کا ارادہ رکھتے ہیں
آج تک سنان اس گھر میں صرف اس کے تایا کا ہی بیٹا تھا لیکن اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ا سے بہت عزیز ہوتا جا رہا تھا نہ جانے سنان کی زندگی میں بھی وہ اتنی اہمیت رکھتی تھی یا نہیں لیکن اسے اپنے ماں باپ کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں تھا
°°°°°°
تایا جان کی گاڑی رکتے دیکھ کر سنان وہیں رک گیا اس کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ تھی اتنے سالوں کے بعد اپنی کزن کو ویلکم کرتے اسے بھی بہت اچھا لگ رہا تھا
گاڑی سے نکلتے ہوئے نور کو دیکھنے کے لئے وہ سب لوگ ہی بے چین تھے جب کہ ثنا یہ دیکھ رہی تھی کہ وہ کس طرح کی لڑکی ہوگی لیکن اس کی سوچ کے برخلاف اس نے سادہ قمیض شلوار پہنی ہوئی تھی ساتھ ایک دوپٹہ بھی تھا جو اس وقت صرف کندھے پر موجود تھا
واؤ یار مجھے تو لگا تھا یہ پوری ماڈرن ہوگی شارٹ سکرٹ پہن کر آئے گی لیکن یہ تو بہت ڈیفرینٹ ہے زرنش نے سب سے پہلے لب کشائی کی ۔
سچ کہوں میں بھی یہی دیکھنے کے لیے آئی تھی کہ آخر یہ کس طرح سے آئے گی لیکن میری سوچ یہاں تک نہیں جاتی تھی کیونکہ سمرہ اس سے بہت الگ تھی لیکن کپڑوں سے کچھ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اماں سائیں ان کے آگے کھڑی بولی۔
وہ جو کب سے اپنی سرگوشیاں کرنے میں مصروف تھی اماں سائیں کی آواز سن کر الرٹ ہو گئی یقینا انہوں نے ثناء کی ساری باتیں سنی ہوں گی
اس سوچ کے آتے ہی ثنا پریشان ہوگی
کوئی بات نہیں پھر بھی وہ اس کے دل کا حال جانتی تھیں۔ انہیں بہت اچھے سے پتا تھا ثنا کے دل میں دارم سائیں کے لئے کیا ہے
اور اسے دارم سائیں کے لیے پسند کرنے والی بھی تو وہی تھیں ۔اب اتنی آسانی سے انہیں اپنے بیٹے کے لیے کوئی اور لڑکی تو پسند آنی نہیں تھی چاہے اس کے ساتھ گہرا تعلق ہی کیوں نہ ہو
ارے نجمہ تم وہاں کھڑی کیا کر رہی ہو بچی پہلی بار آئی ہے آو ملو اس سے۔ہمارے گھر کی بیٹی واپس آئی ہے گاڑی سے نکلتے تایا سائیں نے ذرا سخت مگر میٹھے لہجے میں اپنی بیوی کو مخاطب کیا تو وہ جیسے ان کے اشارے کو سمجھتے ہوئے تیزی سے مسکراتی حویلی کے دروازے تک آئی تھیں
اور ان کے پیچھے ہی تینوں لڑکیاں بھی آگے بڑھی تھی جبکہ ثناء کو اس سے ملنے میں کوئی دلچسپی نہ تھی
اس کی خوبصورتی بے مثال تھی لیکن اس میں بھی کوئی شک نہ تھا کہ ثنا اس سے زیادہ حسین تھی ۔وہ اپنے حسن سے دارم سائیں کو امپریس نہیں کر سکتی تھی اور ثنا کو اسی بات کی بے حد خوشی تھی
وہ نجمہ تائی کو سلام کرتے ہوئے زرین تائی سے ملی اور ہمنا سے جن کا تعارف انہوں نے خود ہی اپنے نام سے کرایا تھا لیکن زاوش کے چاچی سائیں کہنے پر وہ مسکرائی
سنان نے بہت شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
جب کہ سب سے ملاقات کے بعد وہ بچیاں آپس میں ہی مصروف ہوگئی تھی اسی لئے سب لوگ حویلی کے اندر چلے گئے
ہائے میرا نام زاوش ہے یہ ثانیہ ہے اور یہ زریش ادی اور ثنا ادی۔۔ آپ وہاں کیا کررہی ہیں ثنا ادی یہاں آئیں ہمارے پاس زاوش جو بڑے مزے سے تعارف کروا رہی تھی ثنا کو نہ پا کر اُسے دیکھنے لگی ۔
مل لیا میں نے اور دیکھ بھی لیا وہ ایک نظر میں سر سے پیر تک اسے دیکھتی مسکراتے ہوئے اندر چلی گئی نہ جانے کیوں اس کا یہ انداز نور کو بے حد برا لگا تھا
°°°